محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں کا ایک ٹکڑا
انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
مترجم: یوشع ظفر حیاتی
2026-1-13
سیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، میں نے کنکور میں شرکت کی اور تہران پولی ٹیکنیک یونیورسٹی(موجودہ امیر کبیر یونیورسٹی) میں مجھے کیمیکل اور پیٹرکیمیکل انجینئرنگ میں داخلہ مل گیا۔
ہمارے ڈپارٹمنٹ کے اندر ایک جورڈن نامی عمارت تھی کہ جس کے ایک چھوٹے سے کمرے میں متدین اسٹوڈنٹس نے نماز خانہ بنا رکھا تھا اور وہاں ظہر اور عصر کی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ اس چھوٹے سے نماز خانے میں نئے آنے والے متدین اسٹوڈنٹس، ہماری فیکلٹی کے پرانے اور متدین اسٹوڈنٹس سے آشنا ہوتے اور ان کے درمیان ایک روحانی رابطہ برقرار ہوتا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ شاہ کے زمانے میں، شہنشاہی رجیم کا امریکہ اور اسرائیل سے بہت مضبوط رابطہ تھا یہاں تک کہ شاہ کو خطے اور خلیج فارس میں امریکی جینڈر مری کہہ کر پکارا جاتا تھا اور ملک کے اندر امریکہ فوجی مشیروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان سب کے باوجود ایرانی قوم کے اندر فلسطین کے مظلوم عوام سے محبت اور غاصب اور مجرم صہیونی حکومت سے دشمنی اور نفرت کا احساس پایا جاتا تھا۔ ایسی حکومت جو فلسطین کے مظلوم عوام کی نسل کشی اور امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک سے یہودیوں کو لاکر فلسطین میں آباد کررہی تھی تاکہ ایک جعلی اور غاصب اسرائیلی ریاست تشکیل پاسکے۔ لیکن شاہ کی امریکہ نواز حکومت نے ایرانی قوم اور ملت کے عقائد اور نظریات کے برخلاف تہران میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح کردیا۔ خیابان ویلا پر کہ جسے انقلاب کے بعد خیابان شہید نجات اللہی کا نام دیا گیا العال ایئرلائن کا دفتر کھول دیا گیا اور خفیہ طور پر غاصب صہیونی حکومت سے سیاسی، معاشی، فوجی اور اطلاعاتی تعلقات کو فروغ دیا جانے لگا۔
اس زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا۔ شہید شیرودی اسٹیڈئم میں جسے اس زمانے میں امجدیہ اسٹیڈئم کہا جاتا تھا اسرائیل اور ایران کی فٹبال ٹیموں کے درمیان میچ رکھا گیا۔ اس میچ کو رکھنے کا مقصد نوجوانوں میں فٹبال کا رجحان تھا اور شاہی حکومت نے نوجوانوں میں صہیونیوں کا نفوذ بڑھانے کے لئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ فٹبال میچ رکھا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ میچ والے دن اسٹیڈئم میں تماش بینوں کے سروں کے اوپر بڑی تعداد میں ترتیب سے ایران اور اسرائیل کے پرچم لگائے گئے تھے۔
امجدیہ اسٹیڈئم میں مومن اور انقلابی نوجوانوں کی بھی ایک تعداد میچ دیکھنے پہنچے تھی۔ ہم بھی پولی ٹیکنیک یونیورسٹی سے متدین اسٹوڈنٹس کی ایک تعداد کو لے کر اسٹیڈئم پہنگ گئے۔ میچ شروع ہوا اور اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ایرانی ٹیم ایک اچھے مقابلے بعد اسرائیلی ٹیم سے دو ایک کے مقابلے سے جیت گئی۔ اسٹیڈئم میں موجود انقلابی اور مومن تماشائیوں نے فلسطین کے حق میں اور صہیونی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کردی۔ عوام اتنی جذباتی ہوچکی تھی کہ اسرائیلی اخبارات نے کچھ یوں خبر لگائی کہ امجدیہ کے جہنم میں اسرائیلی ٹیم میچ ہار گئی۔ میچ کے بعد انقلابیوں نے اسٹیڈئم کا چکر لگایا اور جچتے بھی اسرائیلی پرچم لگے تھے سب کو اتار کر آگ لگا دی۔ اسکے بعد فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف مظاہرہ شروع ہوگیا جو اسٹیڈئم سے نکل کر خیابان ویلا کی جانب رواں دواں ہوگیا۔ اس پورے راستے میں انقلابی نوجوانوں نے مختلف مقامات پر فلسطین کے دفاع اور اسرائیل کے خلاف جذباتی اور شعلہ بیاں تقریریں بھی کیں۔ جب یہ ریلی خیابان ویلا میں موجود اسرائیلی ائیر لائن العال کے دفتر پر پہنچی تو لوگوں نے اس پر پتھراؤ کردیا اور کوکٹل موٹولف پھینک کر آگ لگا دی۔ یہاں پر اچانک ساواک اور پولیس نے مظاہرین پر حملہ کرکے کئی ایک کو گرفتار کرلیا لیکن اکثر افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
صارفین کی تعداد: 6
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا
عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
