ہمارے ملک میں مختلف اسباب، جن میں انقلاب اور جنگ (ایران-عراق) شامل ہیں، کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں میں مختلف بیانیوں (روایتوں) کی تخلیق میں اضافہ ہوا ہے۔ اس امر نے زبانی تاریخ کی اہمیت کو ہمارے معاشرے میں دو چنداں کردیا ہے۔
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
پہلے لوگ اس توہین پر احتجاج کے ارادے سے درہ باسام گراؤنڈ میں جمع ہوئے۔ سب لوگ اپنی سیاسی اور قومی وابستگیوں کو چھوڑ کر میدان میں اتر آئے تھے۔ پاوہ کے درویش، لوگوں کے آگے آگے دف بجا رہے تھے اور ترانوں اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے لوگوں کو ایک عجیب جوش دلا رہے تھے
یہ پانچوں کمانڈر 29 ستمبر 1981 (7 مهر 1360) کو اس وقت شہید ہوئے جب ان کا C-130 طیارہ مہرآباد ہوائی اڈے سے 17 میل دور تھا۔ حادثہ طیارے کے چاروں انجنوں کا بیک وقت بند ہو جانا تھا۔ پائلٹ کی طیارے کو زمین پر اتارنے کی کوشش ناکام رہی
چھاؤنی میں موجود تمام فوجیوں نے "اسلامی جمہوریہ، ہاں" والا پرچہ ڈبے میں ڈالا۔ یہ بات میں نے چھاؤنی کے کھانے کے ہال میں دوسرے ساتھیوں سے سنی۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ووٹنگ ختم ہوئی اور ہیلی کاپٹر اُڑ گیا۔
کچھ عرصے بعد، انہیں ’’دہقان اور کسان کا اتحاد‘‘ نامی ایک دفتر کے قیام میں امید کی ایک کرن نظر آئی جس میں اکثر افراد، ضلع جوانرود اور روانسر کے جوان تھے اور وہ لوگ ہورامان کے دہقانوں کے نام سے دن رات تشہیر میں مشغول رہتے تھے
مقدس دفاع (ایران-عراق جنگ، 1980-1988) کی یادیں محض تاریخی روایتیں نہیں ہیں۔ وہ طاقت ور ثقافتی، تربیتی اور تعلیمی اوزار ہیں جو نئی نسل کو جنگ کی حقیقتوں، قومی شناخت اور انسانی اقدار سے روشناس کرا سکتے ہیں
شیخ عزالدین کا کوئی انقلابی ماضی نہیں تھا اور وہ صرف مہاباد کے امام جمعہ تھے جو ایک طرح سے شاہ کے مقرر کردہ کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ دوسری طرف ان کے بھائی سید جلال حسینی صاحب، ایک قابل اور غیرت مند عالم دین تھے جنہوں نے پہلوی حکومت کے خلاف واضح اور انقلابی موقف اختیار کر رکھا تھا
ادارۂ ساواک جو گورنر آفس کے برابر میں واقع تھا، انہوں نے اپنا سامان سمیٹ کر جاچکے تھے اور جینڈرمیری نے بیس کے علاوہ اپنے کچھ اہلکاروں کو اس عمارت میں بھی تعینات کردیا تھا۔ شاہ کے ایجنٹوں کی گھبراہٹ ہماری حوصلے بلند کر رہی تھی۔
شاہ کے فرار ہونے سے چند دن قبل، حکومت کے کارندوں نے انقلاب کا ساتھ دینے میں عوام کا حوصلہ پست کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کچھ مسلح کاروائیاں بھی کی تھیں۔ جینڈرمیری اور پولیس اہلکار صرف اپنی عمارتوں اور تھانوں کی حفاظت کر رہے تھے اور انہیں شہر کے اندرونی علاقے اور گرد و نواح کی سڑکوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔