کتاب "شاہ است حسین" کا ایک جائزہ

"شاہ است حسین(ع)" علیرضا میرشکار کی دوسری کتاب ہے، جو سیستان بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مصنف ہیں۔ انہوں نے 2022 اور 2023 کے دوران پاکستانی زائرین کے ساتھ 90 گھنٹے کی انٹرویوز کرکے دو سالوں میں پچاس روایات قلمبند کی ہیں۔

میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا

عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 56

پورے ملک سے انقلابیوں کے پیغامات، ٹیلی گرامز اور حمایت نے پاوہ کی عوام کو جوش دلایا اور شاہ کی حکومت کے خلاف اسلامی تحریک کو جاری رکھنے میں ان کے اتحاد کا باعث بنے اور پاوہ کا نام مشہور ہوگیا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 55

 بعد میں پتا چلا کہ پاوہ کے کچھ عہدیداروں کی دعوت پر سالارجاف کو اس ریلی کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس نے بھی پاوہ کے کچھ باسیوں سے اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے ہاتھ آئے موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اس ریلی میں شرکت کرکے ایک جانب وہ اپنے پاوہ کے مخالفین کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا اور دوسری جانب وہ تہران کے حکام کی نظروں میں نام کمانا چاہتا تھا۔

محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں کا ایک ٹکڑا

جب یہ ریلی خیابان ویلا میں موجود اسرائیلی ائیر لائن العال کے دفتر پر پہنچی تو لوگوں نے اس پر پتھراؤ کردیا اور کوکٹل موٹولف پھینک کر آگ لگا دی۔ یہاں پر اچانک ساواک اور پولیس نے مظاہرین پر حملہ کرکے کئی ایک کو گرفتار کرلیا لیکن اکثر افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 55

ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ سب اپنے ساتھ کھانا لائے ہوئے تھے اور ایک کونے میں بیٹھ کر کھانے میں مشغول تھے کہ اچانک درہ نیشہ اور آس پاس کی پہاڑیوں سے دھواں اٹھنے لگا۔

سید ناصر حسینی کی قید کے دوران کی یادداشت

جب میں نے واپس حراستی مرکز جانا چاہا، تو ہاتھوں کے شدید درد کی وجہ سے مشکل سے عصا کے سہارے وہاں پہنچا۔ جب بجلی کے کیبل سے ہاتھوں پر ضرب لگتی، چھالے پڑ جاتے اور پھر کئی دنوں تک میں اپنے ہاتھ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ بغیر عصا کے ایک پاؤں پر کودتا اور خود کو حرکت دیتا۔

محرم آپریشن کا پہلا مرحلہ

ہمارے محاذ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر دشمن ایک گولی بھی ہمارے رزمندگان پر نہیں چلا سکا۔ ہمارے دستے فرنٹ لائن میں عراقیوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑے اور "یا حسینؑ" اور "یا زینبؑ" کے نعروں کے ساتھ انہیں تباہ کرتے ہوئے آگے بڑھے

فضائیہ کے ایک پائلٹ کی یادداشت

ہیلی کاپٹر کے سامنے چند پرندے تیزی سے گزر گئے، مگر میں بے پرواہ ہو کر عراقی ٹھکانوں پر حملے کے خیال میں ڈوبا رہا۔ نیچے دیکھا تو گاؤں والے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور بچے کھیل چھوڑ کر ہمیں ہاتھ ہلا رہے تھے۔ یہ سب مناظر مجھے مزید پُرعزم کر رہے تھے کہ بعثیوں کے خلاف سخت کارروائی کروں

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 54

مظاہرین، پیر محمد کے مقبرے پر آگئے جو مظاہرے کی جگہ سے قریب دو کلومیٹر نیچے واقع تھا۔ ہم نے دو قابل اعتماد لوگوں کو میرآباد کے راستے میں انتظار کر رہے میئر صمدی اور ان کی ٹیم کے پاس بھیجا تاکہ وہ مظاہرین کے مطالبات ان تک پہنچا سکیں

منافقین کے نیرنگ

جب عراقی پناہ گزین بنانے میں ناکام ہوئے تو انہوں نے منافقین سے مدد مانگی۔ منافقین، جنہوں نے اپنی زیادہ تر جنگی قوت "فروغ جاویدان" آپریشن میں کھو دی تھی اور نئے افراد کی ضرورت محسوس کر رہے تھے، صدام کی درخواست کو قبول کر لیا۔

شهید سید محمدعلی ‌جہاں آرا کی اہلیہ کی یادیں

یہ بات ایک بار محمد کی چچا زاد بہن کے گھر بھی ہوئی۔ اس نے کہا: "ہم پہلے تم سے زیادہ مل لیا کرتے تھے، لیکن شادی کے بعد ملاقات بھی نہیں ہوتی۔" اس بار محمد نے جواب دیا: "بھئی، جب میری بیوی ہی مجھ سے نہیں مل پاتی تو دوسرے لوگ کیسے ملیں گے!"
 

میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا

عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔