پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 62

مصنف: علی رستمی

ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2026-4-20


جمعیت طرفداران حکومت قرآن

انقلاب اسلامی کی کامیابی کو ایک ماہ سے بھی کم وقت ہوا تھا۔ علمانی، ڈیموکریٹک اور کمیونسٹ یونین پارٹیاں، ’دہقانوں کا دفاع اور کُرد قوم کا دفاع‘ جیسے پرفیب نعروں اور ناموں کے ساتھ ظہور پذیر ہوئیں۔ ان کے رنگ برنگی جھنڈے اور نشانات تھے۔ ہر محلے میں ان لوگوں نے کچھ عمارتیں لے لی تھیں اور سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے تھے۔ وہ لوگ انقلابی افراد کو دھمکیاں دیتے تھے؛ لیکن ان دھمکیوں کے جواب میں ہم نے مدرسۂ قرآن کی سرگرمیوں کو وسعت دے دی تھی۔ چونکہ ہمیں جوانوں کے بائیں بازو کے گروہوں بالخصوص الحادی گروہوں کے جال میں پھنسنے کا خطرہ محسوس ہورہا تھا، اس لیے ہم نے 6 مارچ 1979، یعنی انقلاب کی کامیابی کے پہلے ہی مہینے میں ’’جمعیت طرفداران حکومت قرآن‘‘ نامی ایک آرگنائزیشن قائم کی اور اس کے مقاصد کو بیان کرکے ہم نے رکنیت سازی شروع کردی[1]۔ اس جمعیت کے اراکین، وہی مدرسۂ قرآن کے اراکین تھے۔ ہماری آرگنائزیشن کی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی کُردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے کارندوں نے ہمارے خلاف سرگرمیاں انجام دینا شروع کردیں، لیکن انہیں ان سرگرمیوں میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ پاوہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ناکامی کی ایک وجہ، عوامی ہونے کے تمام تر دعووں کے باوجود، ان کا پاوہ میں مدرسۂ قرآن سے مقابلہ کرنا تھا اور اس بار جب ان لوگوں نے اسی مدرسۂ قرآن کے شاگردوں سے ’’جمعیت طرفداران حکومت قرآن‘‘ کا نام سنا تو وہ لوگ اس آرگنائزیشن سے مقابلے کے میدان میں کود پڑے اور جوانوں کو اس کی رکنیت اختیار کرنے سے روکنے لگے۔ جو کوئی بھی اس جمعیت کی رکنیت اختیار کرنے کا ارادہ کرتا تھا تو وہ لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ ڈال دیتے تھے اور وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ جو کوئی بھی جمعیت قرآن کا حصہ بنے گا، اس کے قرآنی افکار اسے ڈیموکریٹک پارٹی اور اس سے بھی بدتر بائیں بازو کے گروہوں اور تنظیموں میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے شہر میں جگہ جگہ دیواروں پر لکھ دیا تھا کہ ’’عنقریب ڈیموکریٹک پارٹی پاوہ کے دفتر کا افتتاح کیا جائے گا‘‘ لیکن کئی ہفتوں تک وہ لوگ دفتر کے افتتاح اور سرگرمیاں شروع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے؛ کیونکہ وہ، مذہبی افراد کو اپنے خلاف دیکھ رہے تھے جو قرآن کا عَلم لیے میدان میں اتر چکے تھے۔ وہ لوگ جہاں کا بھی رخ کرتے تھے ان کے لیے دروازے بند ہوتے تھے۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے پاوہ میں ’خلق کُرد کا دفتر‘ قائم کیا اور وہ بھی لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ تھوڑا غور کرنے پر ہم نے دیکھا کہ کچھ معین اور گنتی کے لوگ ہیں جن کا ان گروہوں کی تشکیل میں مشترکہ طور پر کردار ہے۔ پاوہ میں موجود تنظیمیں جن کے حامیوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی، جانتی تھیں کہ ان میں سے بہت سے افراد اپنا نام بنانے کے لیے متعدد تنظیموں میں مشترکہ طور پر رکن بنے ہوئے تھے اور سرگرمیاں انجام دے رہے تھے۔

کچھ عرصے بعد، انہیں ’’دہقان اور کسان کا اتحاد‘‘ نامی ایک دفتر کے قیام میں امید کی ایک کرن نظر آئی جس میں اکثر افراد، ضلع جوانرود اور روانسر کے جوان تھے اور وہ لوگ ہورامان کے دہقانوں کے نام سے دن رات تشہیر میں مشغول رہتے تھے اور عوام کو دھوکہ دے رہے تھے۔ ان میں ہر سے ایک تحریک کی تاسیس اور دفاتر کا افتتاح درحقیقت بارود کا ایک ڈھیر تھا جو چنگاری کا انتظار کر رہا تھا تاکہ وہ لوگ، غریب قوم کو قربانی کا بکرا بنا سکیں۔

کمیونسٹ تنظیموں اور گروہوں کے ہنگامے کے برخلاف ہم نے ’’جمعیت طرفداران حکومت قرآن‘‘ کی تشکیل سے اپنے اہداف کا اعلان کیا کہ جو علاقے میں مسلمانوں کے اسلامی عقائد کا تحفظ، عوامی ثقافت اور قومیت کا دفاع، اور اسلامی عقائد اور اخلاق کے مخالف نوظہور مظاہر کا مقابلہ تھے۔ اس جمعیت میں رکنیت کی شرائط میں مسلمان ہونے کے علاوہ دوسری پارٹیوں میں عدم رکنیت تھی۔ اگرچہ ہمارے مخالفین، پرفریب اور کھوکھلے نعروں اور عام دھمکیوں کے ذریعے شہر کے جوانوں کی ایک تعداد کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، لیکن خدا کے لطف و کرم سے ہم اس حد تک کامیاب ہوگئے تھے کہ دس دن سے بھی کم عرصے میں شہر کے قریب آٹھ سو مردوں اور خواتین نے اس جمعیت میں شمولیت کے لیے رجسٹریشن کروا لی تھی۔

اس جمعیت میں بااثر اور فیصلے لینے والے چار لوگ تھے؛ تین مولانا؛ حقیر، ملا عبدالرحمن یعقوبی صاحب اور ملا ناصر سبحانی صاحب اور چوتھے ثقافتی کارکن علی محمد باباخاص[2]۔ ان اہم ترین فیصلوں میں سے ایک، ’النور‘ نامی ایک ماہ نامے کی اشاعت تھا جس کا پہلا شمارہ، مارچ 1979 کے وسط میں شائع ہوا اور بدقسمتی سے مالی مشکلات کے باعث، تین شماروں کے بعد ماہ نامے کی اشاعت کا کام رک گیا۔ اس رسالے میں ہم، انکشافی تجزیے پیش کر کے بائیں بازو کی جماعتوں کی حقیقت کو عوام پر آشکار کرتے تھے اور عوام کو بھلائی اور قرآن سے لگاو اور اعتقادی، سیاسی، اخلاقی اور اجتماعی میدانوں میں اترنے کی دعوت دیتے تھے۔

 

 


[1]  بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیرِ وَ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَ أُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُونَ

’’اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (سورۂ آل عمران آیت 104)

* جمعیت طرفداران حکومت قرآن کے اہداف و مقاصد اور روش:

1۔ ہمارا عقیدہ اور نظریہ، مقدس اور نجات بخش حقیقی اسلام ہے، کیونکہ ہماری نظر میں مسلمان صرف اسلامی طرز فکر اور طرز عمل کے ذریعے ہی دوسرے مسلمانوں کی مشکلات اور پریشانیوں کو حل کرسکتے ہیں۔

2۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر صورت میں، موجود حقیقتوں کا مقابلہ کیا جانا چاہیے تاکہ حقائق تک پہنچا جاسکے۔ اس لیے ہم اسلام کا چہرا بگاڑ کر پیش کرنے والوں اور ان تمام غیر اسلامی مکاتب فکر کا مقابلہ کریں گے کہ جو اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔

3۔ آیت ’وَ أَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبینَ‘ کے تحت قوموں کے حقوق اور مظلوم کُرد عوام سے متعلق قومی مظالم کے خاتمے کے لیے جدوجہد،(ہم پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میں خطرے کی گھنٹی بجائیں گے)۔

4۔ کسی ایک طبقے کی برتری سے پاک معاشرے تک پہچنے کے لیے تمام معاشرتی تفریق کا مقابلہ۔

5۔ ہر قسم کے استعمار، استحصال اور استبداد کا مقابلہ چاہے مغربی ہو یا مشرقی۔

6۔ الٰہی قوانین کے مطابق ہر سطح پر انفرادی اور اجتماعی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد۔

* شرائط رکنیت

1۔ ہر مخلص اور ذمہ دار مسلمان(مرد یا عورت) منشور کے مطابق رکن بن سکتا ہے۔

2۔ ہر رکن مذکورہ اصول و ضوابط کے اجراء کا پابند ہے۔

3۔ جو لوگ رکنیت اختیار کریں گے انہیں اسلام مخالف مکاتب فکر اور تنظیموں میں رکنیت کا حق نہیں ہوگا۔

4۔ اسلام کے حق میں ہر طرح کی تبلیغ یا آگاہی دینا اور حقائق کو روشن کرنا، شوریٰ کے با صلاحیت اراکین کا کام ہوگا تاکہ ہر کوئی اپنے آپ کو اسلام کے نمائندے کے طور پر متعارف نہ کروائے۔

5۔ اراکین، اسلام کے برحق نظام کی ترویج اور قیام کے لیے عملی طور پر اپنی جان اور مال سے جہاد کرنے کے پابند ہیں۔

’’جمعیت طرفداران حکومت قرآن‘‘

[2]  مرحوم علی محمد باباخاص(1954 پاوہ ۔ 1997 دیواندرہ) اپنی دنیوی تعلیم اور دینی معلومات کے علاوہ، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد، سپاہ پاسدارن کی کمانڈ کونسل کے رکن اور پیشمرگہ آرگنائزیشن کے کمانڈر بنے۔ سن 1980 میں باباخاص، حسن نیت کی انجمن کے مدمقابل پاوہ شہر کی پہلی انقلابی اور اسلامی کونسل کے ترجمان تھے۔ تیسری اسلامی مجلس شوریٰ میں پاوہ اور اورامانات کی نمائندگی کے علاوہ ہلال احمر کے سی ای او، پاوہ کے ناظم اور دیواندرہ کاؤنٹی کے کمشنر کے فرائض کی انجام دہی بھی مرحوم کے خدمات کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔



 
صارفین کی تعداد: 106


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (5 + 9) :
 

تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز

یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔