پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 60
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-4-8
شاہی حکومت کے زوال کی خبر
11 فروری(22 بھمن) کو حضرت عبداللہ مسجد کے برابر واقع درہ باسام گراؤنڈ میں ہمارا ایک بڑا اجتماع تھا۔ گراؤنڈ کے ساتھ صدیق تیموری کا ڈمپر ٹرک پارک تھا۔ میں اس کے اوپر چڑھ کر اس کے تاج پر جا کر کھڑا ہوگیا اور میں نے لاؤڈ اسپیکر پر بلند آواز سے اجتماع سے خطاب کیا۔ میں نے عوام کے سامنے شاہ کی واپسی کی افواہوں کا ذکر کیا اور واضح الفاظ میں اعلان کیا: ’’وہ ہمیشہ کے لیے ملک چھوڑ کر جا چکا ہے اور اگر وہ واپس آیا بھی تو عدالتی کاروائی کے لیے آئے گا نہ اپنی حکومت جاری رکھنے کے لیے۔‘‘
میرے بعد، کاوہ بہرامی صاحب نے پاوہ کی پولیس اور جینڈرمیری کے خلاف سخت تقریر کی اور عوام کی طرف سے پولیس اور جینڈرمیری کے اہلکاروں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی اور اعلان کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم، ان لوگوں کے ساتھ انقلابی طریقے سے نمٹیں گے۔
درہ باسام گراؤنڈ کا اجتماع اختتام پذیر ہوا اور دوسرے شہروں بالخصوص تہران کے حالات سے بے خبر ہم اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ طے پایا کہ ہم اگلے دن 12 فروری(23 بھمن) کے لیے کوئی دوسرا پروگرام رکھیں۔
ادارۂ ساواک جو گورنر آفس کے برابر میں واقع تھا، انہوں نے اپنا سامان سمیٹ کر جاچکے تھے اور جینڈرمیری نے بیس کے علاوہ اپنے کچھ اہلکاروں کو اس عمارت میں بھی تعینات کردیا تھا۔ شاہ کے ایجنٹوں کی گھبراہٹ ہماری حوصلے بلند کر رہی تھی۔
11 فروری(22 بھمن) کی شام، میں نوریاب لوٹ آیا اور غروب آفتاب کے قریب، محمد ولدبیگی صاحب خوش سے چہکتے ہوئے ہمارے گھر آئے اور انہوں نے مجھے تاریخ کی سب سے اچھی خبر سنائی اور کہا الحمد للہ انقلاب کامیاب ہوگیا۔ محمد ولدبیگی میرے ہم جماعت اور دیرینہ ساتھی تھے۔ بندرعباس میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اورامانات لوٹ آئے تھے اور ٹیچر بن گئے تھے اور ان دنوں وہ جوانرود میں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ کبھی کبھار وہ پاوہ آتے تھے اور پاوہ کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ ہم محمد ولدبیگی کے ساتھ گاؤں کی اکلوتی گاڑی پیکان پک اپ ٹرک میں سوار ہوکر پاوہ کی پانچ رکنی فیصلہ ساز کمیٹی کے سربراہ کمال زردشتیان صاحب کے گھر چلے گئے۔ زردشتیان صاحب نے محمد ولدبیگی کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب کامیاب ہوچکا ہے اور اب ٹیلی ویژن ہمارے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور کچھ گھنٹوں سے اس پر مسلسل انقلابی ترانے نشر کیے جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بعد شہر کے حالات اور عوام کی ذمہ داریوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور ہم نے بتایا کہ ملک کے دیگر علاقوں کے برعکس پہلوی حکومت کے اہلکار ابھی تک عوام کے ساتھ ملحق نہیں ہوئے ہیں۔ کل ہمیں پولیس ہیڈکوارٹر اور جینڈرمیری کے دفتر جانا ہوگا اور ان پر اتمام حجت کرنا ہوگا۔
12 فروری(23 بھمن) کی صبح، لوگوں کی بڑی تعداد درہ باسام گراؤنڈ میں جمع ہونے کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب بڑھی اور اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ پولیس افسران اور اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ شروع کردی۔ ہمارے درمیان بھی کچھ لوگوں کے پاس اسلحہ تھا اور وہ پولیس اہلکاروں پر جوابی فائرنگ کر رہے تھے۔ لوگ خوفزدہ ہو کر منتشر ہوگئے۔ شاہ کے کارندوں نے کچھ افراد کو زخمی اور اسکندر بہرامی نامی ایک شخص کو شہید کردیا تھا۔ بہرامی کی شہادت اتنی دردناک اور ظالمانہ تھی کہ اس سے پولیس اہلکاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ وہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے۔ اس وقت انقلابی لوگ، پولیس ہیڈکوارٹر کی پچھلی دیوار میں سوراخ کرکے عمارت میں داخل ہوگئے اور تمام اہلکار ہٹھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔ پولیس ہیڈکوارٹر کی عمارت پر قبضے سے پہلے، شدید فائرنگ کے تبادلے کے باعث ہم بے گناہ عوام کے زیادہ جانے نقصان کے لیے فکرمند تھے۔ پولیس ہیڈکوارٹر کے حادثے اور اس پر قبضے کے بعد عوامی فورسز اور ریلی کے شرکاء کو ادارۂ ساواک کی جگہ پر موجود جینڈرمیری کے دفتر پر قبضے کا خیال آیا، لیکن عوام کے ساواک کی عمارت، جینڈرمیری کے دفتر پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے فوراً اعلان کردیا کہ ہم انقلابیوں کے آگے ہتھیار ڈال رہے ہیں، آپ لوگ جیسا کہیں گے ہم ویسا ہی کریں گے۔ انہوں نے ہم سے درخواست کہ عوامی املاک کے تحفظ کی خاطر ہم لوگ عمارت کے اندر داخل نہ ہوں۔
عوام اتنے جوش و خروش سے آگے بڑھ رہے تھے کہ وہ اس طرح کی باتیں سننے کو تیار نہیں تھے اور پورا ہجوم کھڑکیوں اور دروازوں سے عمارت میں داخل ہوگیا اور انہوں نے عمارت کے کھڑکیوں، دروازوں اور دیواروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بدقسمتی سے وہاں موجود تمام دستاویزات اور ریکارڈ کو بھی تباہ کردیا۔ عین ممکن ہے کہ جن لوگوں کے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کا ریکارڈ موجود تھا وہ اس ہجوم میں آگے نکل گئے ہوں تاکہ اپنے برے تعاون کے شواہد مٹا سکیں اور اپنی شناخت کو افشا ہونے سے بچا سکیں۔ پولیس ہیڈکوارٹر اور جینڈرمیری کے دفتر پر قبضے کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود عوام کے ہاتھ لگا۔
صارفین کی تعداد: 109
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
