پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 63

پہلے لوگ اس توہین پر احتجاج کے ارادے سے درہ باسام گراؤنڈ میں جمع ہوئے۔ سب لوگ اپنی سیاسی اور قومی وابستگیوں کو چھوڑ کر میدان میں اتر آئے تھے۔ پاوہ کے درویش، لوگوں کے آگے آگے دف بجا رہے تھے اور ترانوں اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے لوگوں کو ایک عجیب جوش دلا رہے تھے

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 62

کچھ عرصے بعد، انہیں ’’دہقان اور کسان کا اتحاد‘‘ نامی ایک دفتر کے قیام میں امید کی ایک کرن نظر آئی جس میں اکثر افراد، ضلع جوانرود اور روانسر کے جوان تھے اور وہ لوگ ہورامان کے دہقانوں کے نام سے دن رات تشہیر میں مشغول رہتے تھے

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 61

شیخ عزالدین کا کوئی انقلابی ماضی نہیں تھا اور وہ صرف مہاباد کے امام جمعہ تھے جو ایک طرح سے شاہ کے مقرر کردہ کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ دوسری طرف ان کے بھائی سید جلال حسینی صاحب، ایک قابل اور غیرت مند عالم دین تھے جنہوں نے پہلوی حکومت کے خلاف واضح اور انقلابی موقف اختیار کر رکھا تھا

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 60

ادارۂ ساواک جو گورنر آفس کے برابر میں واقع تھا، انہوں نے اپنا سامان سمیٹ کر جاچکے تھے اور جینڈرمیری نے بیس کے علاوہ اپنے کچھ اہلکاروں کو اس عمارت میں بھی تعینات کردیا تھا۔ شاہ کے ایجنٹوں کی گھبراہٹ ہماری حوصلے بلند کر رہی تھی۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 59

شاہ کے فرار ہونے سے چند دن قبل، حکومت کے کارندوں نے انقلاب کا ساتھ دینے میں عوام کا حوصلہ پست کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کچھ مسلح کاروائیاں بھی کی تھیں۔ جینڈرمیری اور پولیس اہلکار صرف اپنی عمارتوں اور تھانوں کی حفاظت کر رہے تھے اور انہیں شہر کے اندرونی علاقے اور گرد و نواح کی سڑکوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 58

مفتی زادہ صاحب نے ایک خوبصورت اور پرجوش خط میں ان سے یوں خطاب کیا: ’’بھائیو! اس وقت توحید کا نعرہ، طاغوت اور طاغوتیوں کے دل دہلا رہا ہے، آپ لوگوں کو حسینی نسبت اور شہرت کے باعث زیبا ہے کہ یزید اور بت ساز اور تفرقہ ڈالنے والے یزیدیوں پر ٹوٹ پڑیں اور توحید پرستوں کی صف میں جان نثار کریں۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 57

پاوہ میں اس عظیم ریلی کو انجام دینے کے لیے فیصلہ لینے والی پانچ رکنی کمیٹی، دو مولاناؤں(حقیر اور ملا ناصر سبحانی)، پاوہ کے دو اساتذہ(کمال زردشتیان اور سید راغب احمدی صاحب) اور مسعود سابقی نامی ایک یونیورسٹی طالب علم پر مشتمل تھی۔ ریلی سے ایک دن پہلے، ہم نے فیصلہ کیا کہ ’حضرت عبداللہ‘ مسجد پر اکٹھا ہو کر ٹھیک صبح دس بجے ریلی شروع کی جائے اور مولوی چورنگی اور ’سابقی‘ مسجد پر اس کا اختتام کیا جائے۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 56

پورے ملک سے انقلابیوں کے پیغامات، ٹیلی گرامز اور حمایت نے پاوہ کی عوام کو جوش دلایا اور شاہ کی حکومت کے خلاف اسلامی تحریک کو جاری رکھنے میں ان کے اتحاد کا باعث بنے اور پاوہ کا نام مشہور ہوگیا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 55

ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ سب اپنے ساتھ کھانا لائے ہوئے تھے اور ایک کونے میں بیٹھ کر کھانے میں مشغول تھے کہ اچانک درہ نیشہ اور آس پاس کی پہاڑیوں سے دھواں اٹھنے لگا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 54

مظاہرین، پیر محمد کے مقبرے پر آگئے جو مظاہرے کی جگہ سے قریب دو کلومیٹر نیچے واقع تھا۔ ہم نے دو قابل اعتماد لوگوں کو میرآباد کے راستے میں انتظار کر رہے میئر صمدی اور ان کی ٹیم کے پاس بھیجا تاکہ وہ مظاہرین کے مطالبات ان تک پہنچا سکیں
1
...
 

تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز

یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔