پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 56

پورے ملک سے انقلابیوں کے پیغامات، ٹیلی گرامز اور حمایت نے پاوہ کی عوام کو جوش دلایا اور شاہ کی حکومت کے خلاف اسلامی تحریک کو جاری رکھنے میں ان کے اتحاد کا باعث بنے اور پاوہ کا نام مشہور ہوگیا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 55

 بعد میں پتا چلا کہ پاوہ کے کچھ عہدیداروں کی دعوت پر سالارجاف کو اس ریلی کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس نے بھی پاوہ کے کچھ باسیوں سے اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے ہاتھ آئے موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اس ریلی میں شرکت کرکے ایک جانب وہ اپنے پاوہ کے مخالفین کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا اور دوسری جانب وہ تہران کے حکام کی نظروں میں نام کمانا چاہتا تھا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 55

ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ سب اپنے ساتھ کھانا لائے ہوئے تھے اور ایک کونے میں بیٹھ کر کھانے میں مشغول تھے کہ اچانک درہ نیشہ اور آس پاس کی پہاڑیوں سے دھواں اٹھنے لگا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 54

مظاہرین، پیر محمد کے مقبرے پر آگئے جو مظاہرے کی جگہ سے قریب دو کلومیٹر نیچے واقع تھا۔ ہم نے دو قابل اعتماد لوگوں کو میرآباد کے راستے میں انتظار کر رہے میئر صمدی اور ان کی ٹیم کے پاس بھیجا تاکہ وہ مظاہرین کے مطالبات ان تک پہنچا سکیں

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 53

ملا عبدالرحمٰن نے اپنی تقریر میں بہت واضح طور پر مرحوم سید قطب کی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بہت سخت نکات بیان کیے اور اسلامی زندگی کی تجدید اور اسلامی معاشرے کے قیام پر زور دیا۔ ان کی انقلابی تقریر کو پذیرائی ملی۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 52

پاوہ کے چھوٹے سے شہر نے ان دو مقابلہ کرنے والوں کا مہمان کے طور پر استقبال کیا اور ہمدان سے تعلق رکھنے والے حجت الاسلام عندلیب زادہ ہمدانی اور شہر ابہر کے ایک تاجر جناب یحییٰ قزوینی کی موجودگی، پاوہ کے باسیوں کی بیداری اور آگہی کا باعث بنی

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 51

پاوہ کے مدرسۂ قرآن کی تأسیس(حصہ سوم) اس رسم کا تعلق ایرانیوں کی قدیمی ثقافت سے تھا۔ کُرد قوم خود کو سب سے زیادہ قدیمی ایرانی قوم سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود وہ ایران کی قدیمی ثقافت کے تحفظ کے قائل تھے، اسلامی طور طریقوں کے تحفظ کے اور وہ ان کاموں کو اسلامی ثقافت کے مطابق انجام دیتے تھے۔ البتہ دیہاتوں میں نوروز کے پروگرام میں افراط فطری تھا اور ایک حد تک انہیں حق بھی تھا؛ کیونکہ وہ لوگ عید کے صرف خوشی کے پہلو کو دیکھتے تھے اور ان کے ذہنوں میں تصور یہ تھا کہ...

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 50

ہم، عوام کے رسم و رواج پر عمل کرتے تھے اور خوش تھے۔ رسم یہ تھی کہ گزشتہ لوگوں کی رسم و رواج کے مطابق گاؤں کے جوان چھوٹی چھوٹی منظم ٹولیوں میں، گاؤں کے ایک ایک گھر جاتے تھے اور بہار کے آنے کی خوشخبری دیتے تھے اور لوگوں سے انڈوں، مٹھائیوں یا کبھی پیسوں کے انعام اور تحائف لیتے تھے اور تحفہ لینے سے پہلے بلند آواز سے ایک مختصر نغمہ سناتے تھے

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 49

جب میں پاوہ لوٹا تو میرے وہی طالب علمی کے زمانے کے دوست زبردستی لازمی ملٹری سروس کے لیے گئے ہوئے تھے یا لازمی ملٹری سروس سے لوٹ آئے تھے یا ان کی لازمی ملٹری سروس ختم ہونے والے تھی۔ ان جوان مولاناؤں کی لازمی ملٹری سروس ختم ہونے اور ان کے واپس آنے سے ہمیں ایک سنہری موقع ملا اور سات جوان مولاناؤں کے ساتھ ہم نے ’مدرسۂ قرآن‘ کے نام سے ایک ثقافتی مرکز کی بنیاد رکھی

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 48

سالوں پہلے سے ہی اس علاقے کے اکثر رہائشیوں نے سرحدی اور قبائلی زندگی کے تقاضے کی وجہ سے اپنی حفاظت کے لیے کسی نہ کسی قسم کے اسلحے کا انتظام کر رکھا تھا۔ کچھ کے پاس ہینڈ گنز تھیں اور کچھ کے پاس شکاری بندوقیں اور گزشتہ سالوں کے دوران کئی بار مختلف طریقوں سے انہوں نے اپنا اسلحہ جمع کرادیا تھا یا اسے رکھنے کا لائسنس حاصل کرلیا تھا
1
...
 

میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا

عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔