ریفرنڈم کے ایام، بارود کی بدبو سے بھری ہوئی بہاریں

انتخاب: محیا حافظی
ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2026-4-22


اس سال نوروز پر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نہیں تھا۔ البتہ مجھے اس کا زیادہ دکھ بھی نہیں تھا۔ پہلی بات تو یہ کہ میں ایک فوجی تھا اور اپنی ڈیوٹیوں میں مصروف تھا۔ دوسری بات یہ کہ صرف میں ہی اپنے گھر والوں سے دور نہیں تھا، میرے ساتھی بھی میرے جیسے ہی حالت میں تھے۔

ہم نے سن 1979 کے نوروز کے سرد اور بے روح دن گزارے۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ اس سال ہماری عید مہاباد کی چھاؤنی میں گزری، بس اپنے گھر والوں کی یاد میں۔

فروردین 1979 کے چند دن گزرے تھے کہ بٹالین کمانڈر کی طرف سے اعلان ہوا کہ ریفرنڈم کرایا جانے والا ہے۔ یہ ریفرنڈم نوزائیدہ اسلامی جمہوریہ حکومت کو "ہاں" یا "نہیں" کہنے کے لیے تھا۔ ووٹ ڈالنے کے لیے ہمارے پاس ایک ہیلی کاپٹر آیا اور چھاؤنی کے میدان میں اُتر گیا۔ سب لوگ گروہوں کی صورت میں جا رہے تھے اور اپنی ووٹ ڈبے میں ڈال رہے تھے۔ ووٹنگ کے اہلکار ممکنہ انقلابی حملے سے ڈر رہے تھے، اس لیے وہ بہت جلدی کر رہے تھے کہ ووٹنگ جلد ختم ہو اور وہ اڑ کر وہاں سے چلے جائیں۔

وہ دو طرح کے ووٹنگ پیپر لائے تھے۔ ایک پر لکھا تھا: "اسلامی جمہوریہ، ہاں" اور دوسرے پر صرف "نہیں"۔

چھاؤنی میں موجود تمام فوجیوں نے "اسلامی جمہوریہ، ہاں" والا پرچہ ڈبے میں ڈالا۔ یہ بات میں نے چھاؤنی کے کھانے کے ہال میں دوسرے ساتھیوں سے سنی۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ووٹنگ ختم ہوئی اور ہیلی کاپٹر اُڑ گیا۔

اُسی رات شہر کی طرف سے تیز فائرنگ کی آوازیں آئیں، جو مسلح جھڑپ کی خبر دے رہی تھیں۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں شہربانی (پولیس) کا ایک اہلکار شہید ہو گیا۔ انہوں نے اس کی لاش چھاؤنی کے قریب پھینک دی اور فرار ہو گئے۔ اسی وجہ سے اگلے دن سے شہربانی کے اہلکار شہر میں نظر نہیں آئے۔

رات کے وقت شہر اور اس کے چوراہے ان لوگوں کے قبضے میں رہتے تھے جو قاسم لو کی جمہوری پارٹی کے ارکان تھے اور نام نہاد کردی لباس پہنتے تھے۔



 
صارفین کی تعداد: 85


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (3 + 6) :
 

تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز

یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔