تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
حسن بهشتیپور
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی
2026-5-2
تقریبا جنوری 1988 تھا کہ مجھے تقریباً 150 دیگر قیدیوں کے ساتھ، "بد نظمی" کے الزام میں، تکریت کی اسارت گاہ نمبر 12 سے "اسارت گاہ نمبر 16" منتقل کر دیا گیا جو وہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ عراقیوں نے اس کا نام "قفص" رکھا تھا۔ یعنی پنجرہ۔ اور وہ سچ ہی کہتے تھے۔ تکریت کی اسارت گاہ نمبر 16 سب سے بڑھ کر ایک بڑے پنجرے سے مشابہت رکھتی تھی۔ پانچ ہینگر اور ایک ملحقہ جیل جو "ملحق" کہلاتی تھی۔ اس مجموعے میں 3500 سے زائد ایرانی قیدی رکھے گئے تھے جو اکثر 1988 کے بعد قید ہوئے تھے۔
وہ اسارت گاہ ہم سب کے لیے تلخ یادوں سے بھری ہوئی تھی۔ خاردار تاروں سے، گھر والوں کی یاد سے، اور عزیز ایران سے دوری کے افسوس سے یہ سب کے لیے ناگوار تھا۔ یہاں تک کہ سال کے آخری مہینے آ گئے اور آہستہ آہستہ موسم گرم ہونے لگا۔ بہار کی ہوا، بچھی ہوئی خاردار تاروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، ہوا کھلانے کے وقت ان کے درمیان سے گزرتی اور ہمارے چہروں سے ٹکراتی۔ ایسی ہوا جو یاد دلاتی تھی کہ نوروز قریب ہے۔ 1989 کا نوروز۔
تاریخ اور وقت کا چیلنج
نئے سال کے انعقاد کے لیے پہلا مسئلہ، سال تحویل کا صحیح وقت نہ جاننا تھا۔ نہ ہمارے پاس کوئی کلینڈر تھا اور نہ کوئی ایسا شخص جو سال تحویل کے وقت سے واقف ہو۔ وقت گزرنے کی ہمارے پاس واحد علامت عراقی اخبارات "الثورہ" اور "الجمہوریہ" تھے جو کبھی کبھار ہمیں مل جاتے تھے۔ ان پر عیسوی تاریخ دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ کل 20 مارچ ہے جو 29 اسفند کے برابر ہے، سال تحویل کا وقت ہے، لیکن اس کا صحیح وقت اب بھی معمہ تھا۔
چونکہ پچھلے سال ایران میں 1988 کا سال تحویل دوپہر کے قریب 1 بج کر 8 منٹ پر تھا، اس لیے میں سمجھ رہا تھا کہ اس سال بھی تقریباً 5 گھنٹے 49 منٹ بعد ہونا چاہیے۔ لیکن ایک دوست نے، جس کا ذہن بہت حساب کتاب کرنے والا اور دقیق تھا، بتایا: "نہیں! 1988 کا سال کبیسہ (لیپ ایئر) تھا اور اس سال پچھلے سال سے فاصلہ عام سالوں سے مختلف ہوتا ہے۔" اس کی بات نے میرے ذہن کو الجھا دیا۔ بعد میں جب آزاد ہوا اور گھر واپس آیا تو اپنے گھر والوں سے پہلے سوالات میں سے ایک یہی تھا اور وہ حیران ہوتے تھے کہ یہ بات میرے لیے اتنی اہم کیوں ہے۔ پچھلے سال کے تقویم سے دیکھا تو 1989 کا سال تحویل شام 6 بج کر 58 منٹ پر تھا۔
نئے کپڑوں کی جگہ صاف کپڑے
اس اسارت گاہ میں گھنٹے اور اوقات زیادہ تر معاہدہ کے مطابق تھے۔ ہم نے اپنے لیے ایک وقت مقرر کر لیا تھا۔ سب نے کوشش کی تھی کہ اسی تھوڑے سے پانی اور تھوڑے سے صابن سے اپنے کپڑے دھو لیں۔ ان تینوں سالوں میں زیادہ تر ہمارے پاس دو سے زیادہ کپڑے نہیں تھے: ایک پیلے رنگ کا، جو فوجی وردی جیسا تھا، اور دوسرا نیلگوں رنگ کا جوڑا (اوورال)۔ نئے کپڑوں کا تو سوال ہی نہیں تھا، لیکن کم از کم پرانے کپڑے صاف پہنے جا سکتے تھے۔
ایک سورہ کے وسعت کا ہفت سین
لیکن ہفت سین کی سجاوٹ کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ سبزہ، نہ سنجد، نہ سکہ اور نہ سنبل۔ وہ سجاوٹ جو اس اسارت گاہ میں ایران کی رنگت اور خوشبو لانے والی تھی، خالی تھی۔ یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا:
"آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
اسی لمحے میں سمجھ گیا کہ شناخت سبزے اور سنجد سے نہیں بنتی۔ وہ چیز جو ہمیں آپس میں جوڑتی ہے، وہ جڑیں ہیں جو کسی بھی ظاہری علامت سے زیادہ گہری ہیں۔ اسلامی ایرانی ثقافت نے صدیوں سے ایرانی شناخت کو تشکیل دیا ہے۔ وہ ہفت سین ہمارے لیے تدبیر اور مقاومت کی علامت تھا۔ ہم نے مل کر سورہ ناس پڑھی۔ ہمارا ہفت سین قدرت کی چیزوں سے نہیں بلکہ اللہ کے کلام سے بنا تھا۔
وہ دن یاد رکھنے والے ہیں، وہ زمانے یاد رکھنے والے ہیں
اس کے اگلے دن، یکم فروردین، عراقیوں کے لیے بھی ایک معروف دن تھا۔ کیونکہ عراق کے کرد برسوں سے "عید الربیع" مناتے تھے۔ اسی وجہ سے، رائد خلیل، کیمپ کے عراقی کمانڈر نے، ایران اور عراق کے درمیان اگست 1988 سے جنگ بندی کے بعد، اپنی نیک نیتی ظاہر کرنے کے لیے کچھ کھلا چھوڑ دیا۔ یکم فروردین کو اس نے قیدیوں کو اجازت دی کہ وہ ملحق اور سولنگ کے درمیان خاردار تاروں کو عبور کریں اور ایک دوسرے سے ملاقات کریں۔ اس طرح عید کی ملاقات کی روایت اسارت گاہ کے اندر بن گئی۔
شام ہوئی تو ایک دوست، جس کی آواز بہت اچھی تھی، نے استاد شجریان کے انداز میں حافظ کا شعر گنگنایا:
"روز وصل دوستداران یاد باد / یاد باد آن روزگاران یاد باد"
یہی پہلا شعر کافی تھا کہ سب کے حالات بدل گئے۔ جب اس کی آواز اس شعر پر پہنچی:
"گرچه یاران غافلند از کار ما / از من ایشان را هزاران یاد باد"
سب کے گلے بھر آئے۔ تھکے ہارے چہروں پر آنسو بہنے لگے۔ اب کسی نے مزید نہیں گایا۔ ضرورت نہیں تھی۔ وہی دو شعروں نے گھر کی، گلیوں کی، ایران کی شور شرابے والی سڑکوں کی، اور ماؤں کے رنگین دسترخوانوں کی اتنی واضح تصویر دلوں میں زندہ کر دی جیسے وطن کی تمام ندیاں اور باغات اسی لمحے تکریت کی خاردار تاروں کے درمیان سے بہہ نکلے۔
نوروز؛ ایرانی شناخت کو مقاومت سے جوڑنے والا تہوار
اس دن، نوروز منانے کا ہمارا اصرار محض ایک سادہ تقریب کا انعقاد نہیں تھا۔ یہ ایک طرح کی استقامت تھی۔ بعثی دشمن کے مقابلے میں ایرانی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش تھی، وہ بھی دشمن کی سرزمین کے اندر، اس اسارت گاہ میں جس کا علم ریڈ کراس کو بھی نہیں تھا۔ نوروز ہم سب کے لیے ایک زندہ رشتہ تھا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو دینی اور اسلامی عقائد سے زیادہ وابستہ نہیں تھے، ان کے لیے بھی اس دن کا خاص معنی رکھتا تھا، کیونکہ یہ عزیز ایران کی یاد دلاتا تھا۔
ہم نے نوروز منا کر، اپنے آپ کو بھی اور بعثی محافظوں کو بھی یہ دکھایا کہ ہم ابھی زندہ ہیں۔ ابھی ایرانی ہیں اور ابھی کل سے امید رکھتے ہیں۔
صارفین کی تعداد: 29
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
