سال 57 کے خونی اتوار کے بعد، شہر مشہد کی دو رپوٹوں کی تکرار

غلام رضا آذری خاکستر
مترجم: سیدہ افشین زہرا

2015-09-06


مشہد میں 9 اور 10 دی ماہ، سال 1357 کے واقعات دیکھنے کے بعد، ہم ایسے واقعات کے گواہ ہیں، جو کہ کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں مشہد کے انقلابیوں کی ایک مہم دی ماہ57 میں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے، ہفتے اور اتوار کو لوگوں کا قتل عام، پہلوی حکومت کا اس شہر میں آخری حربہ ہے اب تک مختلف دستاویزات اور رپوٹس اس واقعے کے بارے میں درج اور شایع ہوئی ہیں بالخصوص آغا شاکری(1) کی ڈیلی رپورٹس" مشہد کے عوام کا اسلامی انقلاب" کے عنوان سے خاص اہمیت کی حامل ہیں، ان رپورٹس میں وہ مشہد میں دی کے مہینے کی دو رپورٹس کا تعارف اور تحلیل کرتے ہیں۔ پہلی رپورٹ مشہد کا خونی اتوار ایک صحافی کے نقطہ نظر سے جبکہ دوسری رپورٹ، مشہد کے شہری حکام میں سے ایک کے مشاہدات پر مبنی ہے۔

 

9 اور 10 دی ماہ کے واقعات ایک صحافی کے قلم سے

سید اسماعیل، صحافی بلکہ ایک استاد، دی ماہ کے واقعات کے چشم دید گواہوں میں سے ہیں۔ وہ سال 1296 شمسی میں پیدا ہوئے اور اخبار سیاہ و سفید کے مدیر اور انچارج رہے۔ سابقہ لکھاری ہونا اور انقلاب کے واقعات پر آپکی دور رس نگاہ، اس بات کا سبب بنی کہ آپ نے مشہد کے واقعات پر قلم اٹھایا جو کہ 57 کے دی ماہ کی 21 تاریخ کے بعد سے بتدریج" آفتاب شرق" اخبار میں ابن احمدکے قلمی نام سے شا‌ئع ہوتے رہے(2) وہ 9 اور 10 دی ماہ کے واقعات کے بارے میں لکھتے ہیں: دی ماہ کی 9 تاریخ کو تمام چھوٹے، بڑے شہروں سے بدامنی اور حکومتی افسران کے زدو کوب کی خبریں بالخصوص گناباد، سبزوار، اور کاشمر سے مشہد پہنچ رہی ہیں، آج ظہر کے وقت سے جو فائرنگ شروع ہوئی تو 11:30 تک جاری و ساری ہے، اللہ و اکبر کی صدائیں مذہبی اور ملی یکجہتی کی علامت ہیں اور یہ صدائیں ہر رات 9 سے 9:30 تک شہر میں گونجتی ہیں تھوڑا بہت سکون بھی ان دو دنوں میں میسر نہیں آیا ہے۔

 10 دی1357کو میں نےخود اپنی رپورٹ کو مکمل کرنے کی غرض سے، جلے ہوئے علاقوں کا دورہ کیا، صبح کے 10 بجے دوبارہ فائرنگ کی آوازیں مسلسل ہر جانب سے سنائی دے رہی ہیں، میں اس وقت گھر سے باہر ہوں ،عوام اور کچھ انہی کے جیسے لوگوں نے، قبضہ کرنے کی غرض سے، شہری دفاع کے دفتر پر جو کہ باغ نادری کے سامنے ہے دھاوا بول دیا ہے، اور یزدگردی فوجیوں کے لئے صرف یہی بہانہ کافی تھا کہجس پر انہوں نے (3) نہتے عوام پر فائر کھول دئیے ہیں، حتی وہ لوگ کہ جنھوں نے آغا شیرازی کے گھر میں(4) پناہ لی وہ بھی فوجیوں سے بچ نہ پائے۔ کہا جاتا ہے کہ 14 افراد جو کہ آغا شیرازی کے گھر میں داخل ہوکئے تھے ان کو بھی گولیاں مار دی گئیں، نادر کا مقبرہ، جس میں چند لوگوں نے پناہ لی فوجیوں کے حملے کا نشانہ بن گیا اور نادر کے میوزیم کا کچھ حصہ بھی تباہ ہوگیا۔(5)

خبروں میں آیا ہے کہ گذشتہ روز ایک فوجی طیارہ، کچھ سبز ٹوپی والے، فخر خسرو، فوجیوں کو لیکر آیا(6) یہ لوگ، آیت اللہ شریعتمداری کے گھر قم، میں حملے کے بعد اب مشھد آئے ہیں تاکہ ساواک کے اہلکاروں کی مدد سے سادہ لباس میں فوجیوں کی گاڑیوں کی حفاظت کریں اور لوگوں پر فائرنگ کریں تاکہ یزدگزدی، لوگوں کے قتل عام کے کام کو بہ خوبی انجام دے سکیں۔

اسکے علاوہ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ فوجی حملہ آوروں کا یہ بھی ارادہ ہے کہ آیت اللہ عظام اور مراجع تقلید کے گھروں پر حملے کرکے شہر مشھد سے کلی طور پر مظاہروں کو ختم کر دیں، مگر خوش قسمتی سے‌‌مذھبی پیشواوں کی بیداری نے ان کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نـہ ہونے دیا۔ جیسےبھی ہوا میں نے خود کو 11 بجے گھر پہنچایا۔ فوجیوں نے سب گلیوں اور سڑکوں پر اندھا دھند فا‌‌ئر کھول رکھے تھے اور جو بھی باہر آتا وہ اسکا نشانہ بن جاتا۔ نہتے عوام گھروں میں محصور ہوگئے تھے۔6 

کچھ لوگ کہ جن میں سے تین ڈاک اور ٹیلیگراف کے ملازم تھے میرے گھر میں پناہ لۓ ہوے تھے جنھوں نے اپنے زندہ ہونے کی خبر ٹیلیفون کے ذریعے اپنے گھر والوں اور رشتےداروں کو دی تھی۔ تین لوگ جو کہ میرے نزدیکی تھے پچھلی گلیوں سے نکلے مگر وہ تین لوگ جو مجبور تھے کہ اپنے گھروں تک جانے کیلے فوجی پٹرولنگ والی گلیوں سے گذریں میرے گھر میں ہی محصور تھے اور اس ڈر سے کہ کہیں مارے نہ جا‍‌ئیں‌ ‌میں نے ان کو باہر نہ جانے دیا۔ روٹی اور پنیر جو گھر میں رکھا تھا وہی ان کو پیش کیا۔ چار بجے تک ان میں سے ایک کا بھائی جوکہ ڈاکٹر تھا ایمبولنس لے کر ہمارے کھر آیا اور تینوں لوگوں کو بیمار ظاہر کرکے ساتھ لے گیا اور ان کے گھروں تک پہنچایا۔ اس تاریک روز میں دوہزار افراد کے جانی نقصان کی خبر دی گئی۔ ریڈیو لندن نے چند سو افراد کا کہہ کرہی اکتفا کرلیا جبکہ حکومت نے ترسٹھ افراد اور بعد میں ایک سو نو جانی نقصان کی اطلاع دی۔ البتہ یہ وہ اعدادوشمارتھے جو اسپتالوں نے دیئے گئے تھے مگر گلیوں میں مرنے والے افراد کو فوجی گاڑیوں اور ٹرکوں میں لاد کرلے جارہے تھے اور ان لاشوں کو براہ راست بھشت رضا میں منتقل کیا جارہا تھا۔ اگر ا‍‌‎‌س دوہزار کے اعداد و شمار کو قبول نہ کریں اور صرف ریڈیو لندن کہ جس کا صحافی عینی شاہد کے طور پراپنی خبر میں غلط اعدادشمار بتارہا تھا یقین کرلیں پھر بھی شہرمشھد کیلئے یہ اعداد و شمار بہت ذیادہ تھے۔ ایک سال کے خونی فسادات میں لوگوں کا قتل عام اس وحشیانہ طرز پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ ہر چند کہ رپورٹ ڈیلی رپورٹ کے طور پرلکھی گئی ہے مگر اس رپورٹ کے بعض موارد میں دوسری رپورٹس کے ماخذ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بلکل دقیق اور درست معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں کیونکہ یہ سب صحافتی مواد پر مبنی ہے اور دوسری بات یہ مختلف اعداد و شمار باعث ہوتے ہیں کہ پڑہنے والا شک و تردید کا شکار ہو جائے کیونکہ خود رپورٹر کیلئے بھی واضح نہیں تھا کہ نادری باغ کےسامنے دھاوا بولنے والے سب افراد انقلابی تھے یا ان میں کچھ اور لوگ بھی شامل تھے یہی وجہ ہے کہ رپورٹر نے" عوام اور ان کے جیسے کچھ لوگ" کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔

 

 دی ماہ، مشھد کے واقعات کے متعلق فائر بریگیڈ کے چیف کی رپورٹ:

سید احمد شجاعی، انقلاب اسلامی کی کامیابی تک، مشھد کے فائر بریگیڈ کے سربراہ کے عہدے پر تعیینات رہے، انہوں نے مشھد میں جلا‌ؤ گھیراؤ کے واقعات اور آگ کی روک تھام کیلئے خدمات انجام دیں، دی ماہ کے خونی حادثے کے دو دن بعد ساواک کے اہلکاروں نے آدھی رات کو مرحوم شجاعی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور ان کو انقلابیوں کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کے جرم کے بہانے،گرفتار کر کے لے گئے۔ فوجیوں کے حملے کو ان کے اہل خانہ ایسے بیان کرتے ہیں، کہ رات کے تقریبا بارہ بجے تھے کہ ناگہاں، حکومتی فوجیوں کی خاصی تعداد، اپنے خاص فوجی لباس میں گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئی وہ سب مسلح تھے، ہمارے والد کے ہاتھوں اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر ساتھ لے گئے، دو تین دن تک گرفتار رکھا اور ان پر رائفلوں کی بٹوں سے کمر پر تشدد کرتے  اور برا سلوک کرتے رہے۔

میرے والد سوچتے کہ مشھد کے موجودہ حالات کے مطابق یہ مجھے گولی مار دیں گے، مگر ان کی آزادی اور رہائی کےلئے، فائر بریگیڈ کے افسران اور اہلکاروں کی ہڑتال کے باعث، حکومت نے ان کو رہا کر دیا۔ حکومتی فوجیوں اور اہلکاروں کا، ان کے ساتھ برتاؤ کا احوال، ان کی اس رپورٹ میں بھی آیا ہے،  یہاں پر رائٹر کا اس سلوک کی طرف اشارہ نہ کرنا یا ان تفیش کاروں کے نام اور جگہ، حراست کا جائے وقوع، بیان نہ کرنا شاید اس وجہ سے بہی ہو کہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی یا بیان نہ کرنے کی ایک وجہ اس زمانے کے حالات بھی ہو سکتے ہیں۔

گرچہ اس دستاویز میں کوئی تاریخ مشخص نہیں ہے مگر دو تاریخوں کو بیان کرنے کی وجہ سے، کہ جنمیں ایک گرفتاری کی تاریخ12 /10/1357 ہے اور دوسری 13دی 1357 ہے جو کہ تفتیش کے دن، لیٹر ہیڈ کی سند اور اسکے متن سے ظاہر ہوتی ہے، ان تاریخوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ، 1357 سال کے آخر یا 1358 سال کے شروع یعنی انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد لکھی گئی ہے، اس رپورٹ کا متن اور مواد پانچ صفحوں اورآٹھ اساسی سوالوں پر مبنی ہے۔ جو کہ اس وقت مشھد کے ساواک نے فائر بریگیڈ کے چیف سے کئے تھے۔ وہ رپورٹ جو کہ تفتیش کاروں تک پہنچی ہے اس کے مطابق، فائر بریگیڈ نے دی ماہ کے مشھد کے واقعات میں اپنے فرائض سے کوتاہی برتی ہے اس وجہ سے فائر بریگیڈ کے اس چیف کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ ان عوامل کے بارے میں ان سے پوچھ گچھ کی جاسکے۔

دیئے گئے جوابوں کی قاطعیت سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ رپورٹ انقلاب کے بعد لکھی گئی ہے، دی کے مہینے میں مشھد کے واقعات اور بالخصوص آتش سوزی کے واقعات جن میں سب سے اہم فوجیوں کی دکانوں میں آتش زدگی کا واقعہ اور مشھد کی جیل میں قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کی شکایت، اس رپورٹ کا اہم مواد ہیں۔

اس رپورٹ میں کچھ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ:12/10/1357کو صبح ایک بجے، کچھ فوجی میرے گھر کی دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوغئے اور گھر کی تلاشی لینے کے بعد مجھے گرفتار کر کے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ صبح تک بند رکھا پھر اسی طرح آنکھوں پر پٹی باندھے باندھے تفتیش کے مقام پر لے گئے،

 مندرجہ ذیل سوال و جواب ہوئے(4 بجے بعد از ظہر بتاریخ13/10/1357)

سوال 1: اس بات کو واضح کریں کہ کیا فائر بریگیڈ کا سازو سامان عوامی استعمال کیلئے ہے، کیونکہ اسی سازو سامان سے ہمارے ایک کمیشنڈ افسر کو شاہ بدار چوک پر پھانسی پر لٹکایا گیا؟

جواب: اجازت چاھتا ہوں کہ اس جواب سے پہلے کچھ منٹوں کیلئے گفتگو کر سکوں؟ کہ اجازت ملی، لہذا ابتدا میں کچھ ایسے وضاحت کی کہ فوجی حکومت کی طرف سے مشھد کے فوجی فرمانروا نے ایسا کام کیا ہے کہ فائر بریگیڈ کا آفس اور محکمہ جو ہر وقت اچھے اور سچے لوگوں کی خدمت پر مامور تھا ان کے حکم پر  عوام پر رنگ والا پانی پھینکنے پر مامور ہوا، یہ عمل باعث بنا کہ لوگ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں سے بدظن ہو گئے اور انہوں نے اہلکاروں پر حملہ کیا، گاڑی کو نقصان پہنچایا اور اہلکاروں کو زخمی کر دیا اور اسی طرح میرے اہل خانہ اور دوسرے اہلکاروں، ڈ رائیوروں ور افسران کو بھی دھمکیاں بھی ملیں، جسکے نتیجے میں تمام اہلکاروں اور ڈرائیوروں نے ایک خط لکھا کہ ہم لوگوں پر رنگ والا پانی نہیں پھینک سکتے اسکے بعد فوجی فرمانروا کے حکم کے مطابق اور شھر کے گورنر کی اجازت سے، ہر گاڑی پر چار فوجیوں کو ہماری حفاظت کے لئے تعیینات بھی کیا گیا لوگوں نے اسی پہلے روز گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے تھے اور پائپ اور دوسرا سازو سامان بھی ساتھ لے گئے تھے جس نقصان کو پورا کرنے کیلئے صفحہ نمبر 2 پر درخواست بھی دی گئ ہے۔ ایک گاڑی جو خود فوجی فرمانروا کے استعمال میں تھی اسکے بھی پمپ اور سارے شیشے توڑ دیئے گئے تھے اور اسطرح نقصان پہنچایا گیا کہ وہ قابل استعمال نہیں رہی اور انکی خواہش پر صحیح گاڑی انکو مہیا کرکے خراب والی ہم دفتر لے آئے تھے اب تقریبا 24 سال ہو گئے ہیں کہ میں نے اور فائربریگیڈ نے فوجیوں اور سپاہیوں کے ساتھ، دوستانہ تعلقات برقرار کئے ہوئے ہیں، کئی افسروں کی ٹریننگ کرچکا ہوں اور انکے مراسم میں ان سے یکجہتی کا اظہار کرچکا ہوں، مکر اب افسوس ہے کہ ان سب کو بھلا دیا گیا ہے اور آج ایک جھوٹی سازش اور اطلاع پر مجھے یہاں لایا کیا ہے۔ اس کے بعد میں نے سوال کا جواب دینا شروع کیا۔

پہلے سوال کا جواب: ایک رات جب چند محرک لوگ فوجی گاڑیوں ٹینکوں فوجیوں کی دکانوں سینما گھروں، ایران اور انگلستان کے ثقافتی رابطوں، ایران اور امریکہ کے ثقافتی ذریعوں(9) پیپسی کولا کی صنعتوں اور فیکٹریوں اور تھانوں کو آگ لگا چکے تھے، ہم فائربریگیڈ والے اپنی تمام قوت سے، جبکہ لوگوں کو ہم سے کوئی سروکار نہ تھا اپنی خدمات کی انجام دہی میں مصروف تھے۔ خاص طور پر اس وقت جب ثقافتی سینما کا بالای حصہ بالکل جل چکا تھا اور ہمیں سیڑہیوں والی گاڑی کی ضرورت تھی جو کہ منکوائی گئی تھی۔ اطلاع کے مطابق عین اسی وقت کہ جب وہ گاڑی سینما ہاؤس کی طرف آرہی تھی چند ہزار لوگوں نے جو کلہاڑی، ڈنڈوں سے لیس تھے گاڑی کو روک لیا اور اور اسکو ہدایت چوک لے گئے ایک شخص گاڑی کے اوپر چڑھ گیا اوررسی کو اوپر باندھ کر،گاڑی کو چھوڑ دیا کہ ہم سجھے کہ وہ مجسمے سے اس لاش کو اتارنے کی کوشش کررہے ہیں اب آپ بتائیں کہ ایسے حالات میں ایک ڈرا‌ئیور بھلا کر بھی کیا سکتا ہے جبکہ وہ مسلح بھی تھےاور اپنے مقصد کو مزید واضح کرتا چلوں کہ کسطرح اس لشکر نے ٹینکر کو گھیرا اور ڈرائیور اور اہلکار نے(ص3) ان کو روکا گرفتار کیا حتی کہ بعض کو کچل دیا مگر کیا پھر بھی انہوں نے آگ نہیں لگائی؟۔۔۔۔ ان تمام واقعات کے بعد میرا عقیدہ ہے کہ کسی بھی طرح ‌فائربریگیڈ کے ڈرائیوروں پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔۔۔ اب آپ کا فیصلہ کیا کہتا ہے نہیں معلوم ۔۔۔۔

سوال نمبر2: ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں و دکانوں کوآگ لگادی گئی اور آپ نے اس پر قابو نہ پایا، کیوں؟

جواب:شاید تقریبا دس ہزار لوگ اس جلاؤ گھیراؤ میں شامل تھے کہ ان میں سے بعض کلہاڑی ڈنڈے اور پتھروں سے مسلح تھے۔ اگر ہم اس آگ کو بجھانے کیلئے کوئی چھوٹا سا اقدام بھی کرتے تو وہ ہمیں مار ڈالتے، اس میں لوگوں کا دفاع کہاں سے آگیا یہ تو ہم نے اپنا دفاع کیا، اور اگر آپ کے فوجیوں کی طرف سے کوئی پیش رفت ہوتی توہم بھی انکا ساتھ دیتے اور آگ بجھاتے مگر وہاں تو کوئی ایک فوجی بھی موجود نہ تھا لہذا ہمارے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

سوال نمبر 3: اطلاع آئی ہے کہ، ان حملہ کرنے والوں نے جو اسلحہ لوٹا وہ آپ کے پاس ہے۔۔۔ وہ کہاں ہے؟

جواب: ان حالات میں، کہ ہزاروں لوگ آگ لگانے اور سامان لوٹنے میں مشغول تھے اور ہر شخص کجھ نہ کچھ سامان اٹھائے ہوئے تھا یا آگ لگا رہا تھا میری کیا مجال تھی کہ ان سب کے درمیان لوگوں سے اسلحہ لیتا، مگر صرف آگاہی کے آفس کا ایک اسلحہ( کمرشکن) دیکھا جو ایک جوان اٹھائے لے جارہا تھا، میں نے آواز دی کہ کہاں لے کر جارہے ہو؟ بولا جارہا ہوں کہ فوجیوں کو واپس کردوں، میں نے پوچھا تمھارا نام کیا ہے، بولا میرا نام حسین زادہ ہے اور میں ایک استاد ہوں، مگر اس کے بعد میں نے اس کے بارے میں بہت پوچھا مگر وہ نہ مل سکا، لہذا میرے پاس کوئی اسلحہ نہیں ۔

سوال نمبر4:تم نے کس طرح یکجہتی کا اعلان کیا؟

جواب: ہم سارے اہلکار بیمہ شدہ ہیں اور یہ یکجہتی ہم نے تحریری طور پر قبول کی ہے اور دستخط کئے ہیں اور یہ میں آپ افسر کے توسط سے محترم گورنر صاحب تک پہچانا چاہتا ہوں کہ یہ کام تو سارے محکموں نے خواہ وہ صوبے کے ہوں یا شھر کے، تیل کی صنعتیں ہوں یا بجلی کے ادارے۔۔۔۔ ان سب کے علاوہ بھی ان اداروں نے اس شھر کے ساتھ ایک روحانی اور قلبی یکجہتی کا اعلان کیا ہے اور اکر ہم یہ کام نہ کرتے تو نہ ہمارے اہلکار زندہ رہتے، نہ انکے بیوی بچے، نہ میں اور نہ ہماری فائر بریگیڈ کر گاڑیاں، فائر بریگیڈ(4) نے وہ رنگ والا پانی جو پھینکا تھا اس دن کے بعد ہم لوگوں کی دھمکیوں کا نشانہ بن رہے تھے تو پھر کیسے یہ اعلان نہ کرتے۔

سوال نمبر 5: کیا فائر بریگیڈ کی ڈیوائس سے، مائیک پر حکومت کے حلاف نعرے  لگائے گئے؟

جواب: جی صحیح ہے میں نے خود یہ خبر دوسرے روز سنی، رپورٹ بھی دی مگر وہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ تین لوگ قیدی تھے جن کو گولیاں لگ گئیں تھیں، اور جیل کے افسران کے حکم کے مطابق اور آیت اللہ شیرازی و آیت اللہ قمی کے حکم پر وہ ایمرجنسی میں اسپتال منتقل کئے جارہے تھے کہ راستے میں چند ہزار لوگوں نے گاڑی کو روک لیا اور کہا نعرے لگا‎ؤ وہ سارے مظاہرین مسلح تھے لہذا ہمارے اہلکار اپنی اور زخمیوں کی جان بچانے کیلئے مجبور تھے، کہ نعرے لگاتے اور مچھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر وہ ڈیوائس سے نعرے نہ لگاتے تو وہ سب ، ان ہزاروں لوگوں کے مجمع میں مارے جاتے۔

سوال نمبر6: جیل کی آگ(11) کے بارے میں جو کہ دروازے کے پیچھے سے قیدیوں نے لگائی تھی اور افسران کے ذریعے فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی تھی کہ آگ بجھائیں مگر فائر بریگیڈ کا جواب تھا کہ انتظار فرمائیں اگر آیت اللہ شیرازی یا آیت اللہ قمی کی طرف سے حکم آئے گا تو کام ہوگا۔۔۔ یہ کیا معاملہ ہے؟

جواب: درست ہے کہ بالکل یہ جواب دیا گیا تھا لیکن بات کرنے والے نے واضح نہیں کیا کہ اس انکار کے پیچھے کیا علت اور دلیل ہے کیونکہ یہ حکم میں نے خود صادر کیا تھا کہ اگر علما یا ان کے نمایندوں کی طرف سے کوئی تعاون اور مدد کو نہ آئے تو نہ جانا۔۔۔ کیونکہ مظاہرین شاہ چوک سے جیل تک کے راستوں میں موجود ہیں اور قیدی تم لوگوں کو مار دیں گے مگر یہ کہ ان عوام کا کوئی نمایندہ یا علما آئیں یا حکم دیں، اس کے علاوہ یہ آپریشن کسی صورت مکمل نہیں ہوسکتا اس دلیل کے تحت حکم دیا گیا تھا کہ ان کے علما آئیں یا حکم دیں اور خود فائربریگیڈ کو جیل تک پہنچائیں(صفحہ نمبر 5)

سوال نمبر7: آپ اور آپ کے اہلکاروں نے مظاہروں میں شرکت کی اور فوج اور حکومت  کے خلاف نعرے بھی لگائے؟

جواب: جی ہم بھی اس صوبے کا ایک حصہ ہیں اور مختلف گورنروں صنعتوں اور تیل اور گیس ، صحت اور تندرستی، برق کے اداروں، اور پانی کے محکموں کی طرح، ہم بھی اس مظاہرے میں شامل تھے اور نعروں کی بات ہے تو میرا عقیدہ ہے کہ ماضی میں فوجیوں نے جو سلوک روا رکہا تھا وہ اسکا نتیجہ تھے کہ ٹینک بچوں کے کھلونوں کی مانند تھے کہ ایک دن تو میں نے خود دیکھا کہ ایک بچہ ٹینک پر کھیل رہا تھا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کر رہا تھا، لہذا ان فوجیوں کی کو‌ئی وقعت ہی نہ تھی اور ایک واقعہ کہ مجھے شرم آرہی ہے کہ بیان کروں کہ ایک دن فوجیوں نے عوام پر فائرنگ کی اور مظاہرین کو گولیاں لگیں تو کیا فوجیوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ بغیر آرڈرز کے اپنی طاقت کا اظہارکریں؟۔۔۔

سوال نمبر8: جسطرح کہ اطلاع ملی ہے کہ کچھ کمیشنڈ افراد کوفائر بریگیڈ میں ملازمت دی گئی تھی مگر تم نے ان کو نکال دیا؟ کیوں؟

جواب:اس دن جب لوگ مظاہرے کر رہے تھے اور جہاں بھی کوئی ساواکی افسر یا اہلکارملتا  یا جس کے بارے میں بھی شک ہوتا اس کو قتل کر رہے تھے۔ جبکہ زیادہ تر لوگ شاہ چوک اور خواجہ ربیع والی سڑک پر تھے۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر ان کو شک ہوجاتا کہ آپ کے افراد ہمارے محکمے میں ہیں تو وہ فائربریگیڈ کے دفتر کو ہی آگ لگادیتے اس وجہ سے میں نے ان اہلکاروں کو نام لیکر طلب کیا اور سارا معاملہ بتاکر ملازمت سے نکال دیا اور انہوں نے بھی اسکو قبول کیا تو کیا لوگوں کی جان کی حفاظت کرنا گناہ ہے، گرچہ وہ سب بہت اچھے تھے مگر اب مجھے ان کے نام یاد نہیں۔

چیف آف فائر بریگیڈ شجاعی

 

وہ چیز جو سبب بنی ہے کہ یہ دو رپورٹیں تحقیق کے لئے چنی جائیں دراصل وہ موضوع ہے جو  محترم استاد نے بھی بیان کی ہیں اور فائربریگیڈ کے سربراہ نے بھی۔ جسطرح یہ جملہ کہ " کل ایک فوجی طیارہ ہری ٹوپیوں والے فوجیوں کو لیکر مشھد آیا" اس بات کا عکاس ہیں کہ  9 اور10 دی ماہ کے واقعات کے بعد یہ واقعات ختم نہیں ہوجاتے کہ ہم خود بہت سارے انقلابیوں اور مشھدیوں کی گرفتاری کے گواہ ہیں وہ فوجی جو آدھی رات کو فائر بریگیڈ کے سربراہ کے گھر میں ان کو گرفتار کرنے داخل ہوئے اسکی واضح مثال ہیں۔

انقلاب اسلامی کی یہ رپورٹیں جو باقی رہ گئی ہیں ان کو پڑھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دی ماہ 1357 میں شھر مشھد میں کوئی امن نہ تھا حالات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ سپھید عزیزی، خراسان کا گورنر استعفی دے دیتا ہے اس کے علاوہ اس دی ماہ کے دیگر واقعات کو مندرجہ ذیل تحریر کیا گیا ہے:

سیاسی قیدیوں کی رہائی 20 دی ماہ(12)،

 با پردہ مظاہرین کے مظہرے اور ریلی پردہ اور حجاب اتارنے کے خلاف(13)،

اسمبلی کے نمائندوں کا تذکر، اسمبلی میں خونی واقعہ پر(14) اور مختلف ریلیاں اور عظیم مظاہرے اس ماہ میں ہیں۔

               


حوالہ: سائٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 2067



http://oral-history.ir/?page=post&id=5632