پیرس کا سفر اور امام خمینی رح سے ملاقات

ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2021-06-05


طے یہ پایا کہ میں شورائے انقلاب میں شامل افراد کی لسٹ اور کچھ دیگر مطالب پیرس میں امام خمینی رح کی خدمت میں پہنچاوں، میں نے یہ ساری چیزیں سیمسونائیٹ کے بریف کیس میں جمع کرکے ساتھ لے جارہا تھا اور اگر مجھے پکڑ لیا جاتا اور تلاشی لی جاتی تو یہ ساری چیزیں انکے ہاتھ لگ جاتیں، اور شاید اس کا ایک ایک ورق ایک ایک کے لئے مجھے الگ الگ سزا دی جاتی، میں نے بریف کیس ہاتھ میں لیا اور نکل پڑا، خدا نے میری مدد کی، اچانک ایک شخص جو مجھے پہلے سے جانتا تھا آگے بڑھا اور مجھے سے حال احوال پوچھنے لگا اور بجائے اسکے کہ میں ایئرپورٹ پر حفاظتی مراحل طے کرتا اس نے مجھے ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے لئے بھیج دیا۔

اس صورتحال سے مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کسی نے میرے بریف کیس کی تلاشی نہیں لی البتہ میں آج تک اس شخص کو نہ پہچانتا۔ پہلے برطانیہ گیا اور وہاں سے اپنے بیٹے محمد کے ساتھ جو پہلے ہی سے وہاں وموجود تھا فرانس چلا گیا۔ جب پیرس پہنچا تو ہم بھی اسی گھر میں ٹہرے جو امام خمینی رح کے مہمانوں کے لئے کرائے پر لیا گیا تھا۔ وہاں گاڑیبھی موجود تھی جو مہمانوں کو نوفل لشاتو لانا لے جانا کرتی تھی۔ میں اس درائیور کو جانتا تھا جس کا نام سنائی تھا۔ میرے تہران والے اسکول کے پرنسپل رہ چکے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی فرانس آئے ہیں اور اب امام خمینی رح کے دفتر میں کام کررہے ہیں۔ جب نوفل لشاتو پہنچا تو جناب منتظری، سحابی اور ڈاکٹر یزدی وہاں پہلے سے موجود تھے اور ان میں سب سے زیادہ ڈاکٹر یزدی تھے جو مسلسل امام خمینی رح کے پاس آنا جانا کررہے تھے۔ میرے بعد جناب جلال الدین فارسی بھی تشریف لائے۔ جب امام خمینی رح کو ہمارے آنے کی اطلاع دی گئی تو امام خمینی رح سے عشاء کی نماز کے بعد ملاقات طے ہوئی، مقررہ وقت پر ہم امام خمینی رح کی خدمت میں حاضر ہوئے، احوال پرسی کے بعد میں نے شورائے انقلاب کے حوالے سے رپورٹ پیش کی اور ایران کے اندر جاری صورتحال سے امام خمینی رح کو آگاہ کیا۔ امام خمینی رح نے اسوقت تمام افراد کو کمرے سے باہر چلے جانے کا حکم دیا حتی حاج احمد آقا بھی کمرے سے نکل گئے۔

منبع: خاطرات آیت‌الله العظمی سیدعبدالکریم موسوی اردبیلی، تدوین علی درازی، تهران، سوره مهر، 1395، ص 270 و 271.

 


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 377



http://oral-history.ir/?page=post&id=9911