جنگ کے بعد شہر مشہد ایک زائر کی نگاہ سے
فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی
2026-07-15
حرم امام رضا علیہ السلام کے ایک صحن میں سب سے پہلی چیز جس نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کروائی، وہ ایک بزرگ تھے جو فرش پر بیٹھے دعا کی تلاوت کر رہے تھے اور ایران کا پرچم اپنے کندھے پر ٹکایا ہوا تھا۔ مسجد گوہرشاد تک پہنچتے پہنچتے، میں نے خواتین اور مردوں کو دیکھا جو اپنے ساتھ ایران اور حزب اللہ لبنان کے خوبصورت پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ کچھ بڑے اور کچھ چھوٹے؛ ان میں سے بعض پر شہید رہبر اور نئے رہبر کی تصاویر آویزاں تھیں۔ زائرین جو ان پرچموں کے ساتھ ایک صحن سے دوسرے صحن میں جاتے، حماسہ، دعا، مناجات، توسل اور زیارت کو ایک ساتھ ملا دیتے تھے۔
ان پرچموں نے صحنوں اور رواقوں کے ملکوتی ماحول کو ایک منفرد نکھار بخشا تھا اور وہ ہر جگہ موجود تھے جیسے شناخت کی رگیں ہوں: ایک نوجوان مرد کے کندھے پر جس نے اپنے بچے کو گود میں اٹھا رکھا تھا، ایک بوڑھی خاتون کی وہیل چیئر کے پیچھے، بچوں کے چھوٹے ہاتھوں میں اور بوڑھے اور جوان مردوں اور عورتوں کے کندھوں پر! حرم میں داخل ہونے کی محرابوں پر، شیخ طوسی کے بست کے قریب، میں ہر روز چھوٹے چھوٹے لڑکوں کو فوجی وردی میں دیکھتا تھا جو ایران اور عراق کے پرچموں کے ساتھ، زائرین کے جوتے صلوات اور امام زمانہ (عج) کے فرج کی نیت سے عاجزی کے ساتھ مفت پالش کرتے تھے۔
لیکن یہ کیفیت حرم کی حدود سے بھی آگے نکل گئی تھی۔ شہر کی سڑکوں پر، دور دراز گلیوں سے لے کر حرم تک جانے والے راستوں تک، شہید رہبر اور نئے رہبر کی تصاویر دکانوں کے شیشوں پر نصب تھیں۔ ان دکانوں کے کاروبار کا تنوع اور تعداد آنکھوں کو حیران کر دیتی تھی۔ موبائل کی دکانوں سے لے کر ورکشاپ، ریستوران، کتابوں کی دکان، سپر مارکیٹ تک۔ یہ مزاحمت صرف دکانوں کے ڈسپلے تک محدود نہیں تھی، بلکہ رات کو ایک اور شکل میں، یعنی چوکوں اور گلیوں میں، سڑکوں پر انتہائی پرجوش اجتماعات کی صورت میں نظر آتی تھی۔ مشہد کے لوگ، اگرچہ انہوں نے کبھی میزائیلوں کی خوفناک آواز اور امریکی جنگی طیاروں کی گرج نہیں سنی تھی اور نہ کبھی دھواں، آگ اور عمارتوں کے گرنے کا منظر دیکھا تھا، لیکن وہ جنگ میں ملوث شہروں کے لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ، قدم بہ قدم، جنگ بندی کے بعد بھی میدان میں موجود تھے۔ وہ سڑکوں کے دونوں اطراف اور راستے کے کناروں پر کھڑے ہو جاتے، حماسی سرود گاتے اور نعرے لگاتے۔
ان اجتماعات میں عراقی زائرین کی موجودگی بھی ایک الگ جلوہ رکھتی تھی۔ وہ چوکوں میں حاضر ہوتے، ایران، عراق اور حشدالشعبی کے پرچم لہراتے یا کاروں میں سڑکوں پر گھومتے اور عوامی اجتماع کو شوق سے دیکھتے۔
میرے لیے سب سے خوبصورت منظر میدان امام حسین علیہ السلام میں ایک عراقی مرد کا تھا جس نے دشداشہ پہن رکھا تھا۔ وہ ہجوم سے تھوڑا فاصلے پر کھڑا تھا اور ایران کا پرچم لہرا رہا تھا۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ اس کا دل، جسم اور روح اس جنگ میں ہمارے ساتھ ہے۔
میرے لیے جو ایک جنگی شہر سے آئی تھی، ان لوگوں کی موجودگی اور حمایت، حتیٰ کہ جنگ کے خاموشی کے دور میں بھی، ایک "دل کا سہارا" تھی۔ شاید ان کے اپنے خیال میں، یہ عمل محض وطن کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانا تھا۔ لیکن میرے لیے، یہ استقامت کے حقیقی معنی کا مشاہدہ تھا۔
میں نے مشہد کو اس حال میں ترک کیا کہ میرا دل بابالجواد کے قریب، حرم اور مسجد ملاحیدر کے قریب پر سکون اجتماعات کے درمیان ہی رہ گیا۔ وہاں جہاں حماسی نعروں کی آواز اتنی بلند ہے کہ اس کی گونج حرم تک اور ہمارے شہید رہبر کی شہادت کے ماتم کے اصل مالک تک پہنچتی ہے۔
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 17
http://oral-history.ir/?page=post&id=13395
