ایک ادھوری روداد (روایتِ ناتمام)
محیا حافظی
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ
2026-07-15
"انتشاراتِ ایران" نے سید حمید تقویٰ فر کی یادداشتوں کو "روایتِ ناتمام" (ایک ادھوری روداد) کے عنوان سے ۲۰۲۲ میں شائع کیا۔ یہ کتاب ۵۰۰ نسخوں پر مشتمل ہے، جس کی تدوین سمیہ عظیمی ستودہ کاشانی نے کی ہے اور انٹرویوز بیزاد شیخی نے لیے ہیں۔ دفاعِ مقدس کے اس عظیم شہیدِ سردار کی زندگی کے یہ یادگار واقعات ۳۲۸ صفحات پر محیط ہیں اور اس کی قیمت ۹۸ ہزار تومان مقرر کی گئی ہے۔
کتاب پر پہلی نظر ڈالتے ہوئے اس کی جلد، صفحات کا ہلکا زرد رنگ اور گرافیکی ڈیزائن توجہ طلب ہے، جو کتاب کے عنوان کی عکاسی کرتا ہے۔
کتاب کی مختصر فہرست میں ناشر کا پیش لفظ، مدیر کی تحریر، گفتگو کے ۷ سیشنز، ضمیمہ، تصاویر کا البم اور اعلانات کی فہرست شامل ہے۔
ناشر نے مقدمے میں کتاب کے نام کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انٹرویوز کا سلسلہ "جبهہ مقاومت" میں راوی کی شہادت کے ساتھ ہی ادھورا رہ گیا، لیکن یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان ادھوری یادوں کو بھی ریکارڈ کیا جائے اور شائع کیا جائے۔ تاہم، سردار تقویٰ فر کی زندگی کی مکمل روداد "سرزمینِ بے فصل" کے نام سے ۲۰۲۰ میں شائع ہو چکی ہے، جسے سمیہ عظیمی ستودہ کاشانی نے لکھا ہے۔ فرق یہ ہے کہ "سرزمینِ بے فصل" میں پروین مرادی نے حمید تقویٰ فر کے ساتھ اپنی ۳۵ سالہ زندگی کے تجربات بیان کیے ہیں۔
بیزاد شیخی نے یہ انٹرویوز ۲۰۱۳ میں ریکارڈ کیے تھے، لیکن یہ سلسلہ دسمبر ۲۰۱۴ میں حاج حمید کی شہادت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ ان گفتگوؤں میں راوی نے زیادہ تر اپنے بچپن، نوجوانی، تعلیم، زندگی کے حالات، شادی، انقلاب اور مسلط شدہ جنگ کے ابتدائی سالوں کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے "انجمن پیشکسوتانِ سپاس" کے ساتھ شہید مہدی زین الدین اور شہید اسماعیل دقایقی کے بارے میں جو یادیں شیئر کی تھیں، انہیں بھی کتاب کے ضمیمے میں شامل کیا گیا ہے۔
شہید تقویٰ فر، جو "ابومریم" کے نام سے مشہور تھے، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی 'قُدس فورس' کے 'رمضان کیمپ' میں انٹیلی جنس اور آپریشنز کے کمانڈر تھے۔ وہ عراق کے علاقے 'عزیز بلد' میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ وہ ۱۹۶۵ میں اہواز کے گاؤں 'ابو دبس' میں حضرت عباس (ع) کی منت (نذر) کے طور پر پیدا ہوئے۔ ان کے والدین نے بچپن میں ان کے کان چھدوا کر اس پر یہ لکھوایا تھا: "حضرت عباس کی نذر"۔
انقلاب سے قبل وہ مساجد میں سرگرمیوں اور امام خمینی (رح) کے اعلانات کی تقسیم میں مصروف تھے، اور انقلاب کے بعد انٹیلی جنس اور ثقافتی امور سنبھالے۔ ۱۹۷۹ میں انہوں نے اپنی خالہ زاد بہن سے شادی کی اور 'کارون' علاقے کے پولیس اسٹیشن کے انچارج مقرر ہوئے۔ نکاح کی تقریب اسی سپاه (IRGC) کے ہی مرکز میں منعقد ہوئی، جس میں علی شمخانی، حسین پناہی، صادق آهنگران اور صوبائی سپاه کے دیگر ساتھی شریک تھے۔ سید حمید اور ان کے ساتھی "خلق العرب" نامی گروہ کے خلاف جدوجہد میں مصروف تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ دشمن نے ایران کی سرزمین پر قدم رکھ دیا ہے تو انہوں نے فتح کا راستہ دشمن کی افواج کی درست شناخت (Intelligence) میں پایا۔ چند ہفتوں بعد، حسن باقری کی موجودگی میں اکتوبر ۱۹۸۰ میں انٹیلی جنس اور آپریشنز کے یونٹ کی تنظیم تیار کی گئی، جس میں سید حمید تقویٰ فر نے حسن باقری کے ساتھ مل کر 'حمیدیہ' اور 'سوسنگرد' کے سپاه یونٹس کے درمیان انٹیلی جنس کو مربوط کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ مہدی زین الدین نے کچھ عرصہ ان کے ساتھ رہ کر 'سوسنگرد' کے علاقے کی شناخت کی تاکہ وہاں مکمل دسترس حاصل کی جا سکے۔ آپریشن 'خیبر' میں ۱۱۴۰ عراقیوں کی اسیری، ایک بریگیڈ کی تباہی، ۱۰ ٹینکوں اور ۶۰ ڈمپرز پر قبضے جیسے کامیاب نتائج حاصل ہوئے؛ اس آپریشن میں ایران کا سب سے بڑا ہتھیار "آبی-خاکی" آپریشن تھا، جس کی تجویز راوی اور ان کے ساتھیوں نے دی تھی۔ راوی کی یادیں عراق کے دفاع اور سامرہ میں داعش کے خلاف جنگ تک جاری ہیں۔ عراق میں انہیں "ابومریم" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ "ساداتِ تلغری" سے تعلق رکھتے ہیں (تلغری وہ سادات ہیں جو شوشتر کے علاقے میں آباد ہیں اور عقیلی مسجد سلیمان کے قریب رہتے ہیں)۔ کتاب میں سوال و جواب کی صورت میں انہوں نے منافقین کی گرفتاری، اسمگلنگ کے خلاف جنگ اور دیگر واقعات بیان کیے ہیں۔ انہوں نے سپاه میں بھرتی کے طریقوں، سوسنگرد کے قبضے اور اس کی آزادی، اور 'نوژه' بغاوت کے خلاف اقدامات کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
۔"روایتِ ناتمام" اگرچہ ایک مختصر مجموعہ ہے، لیکن یہ دفاعِ مقدس کے دوران پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کردار کے بارے میں بہت مفید معلومات فراہم کرتا ہے۔ کاش یہ یادیں ادھوری نہ رہتیں!
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 12
http://oral-history.ir/?page=post&id=13383
