کاکِ خاک (خاک کا بھائی)

 محیا حافظی

ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-07-15


کتاب "کاکِ خاک" کردستان کی محاذوں کے کمانڈروں میں سے ایک کمانڈر، محمد رضا حبیب زادہ احمدی (حاج حبیب) کی روداد ہے، جسے "انتشاراتِ سرو سرخ"[1] نے ۲۰۲۱ میں شائع کیا۔ یہ کتاب پانچ سو ستر نسخوں پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت ایک لاکھ بیس ہزار تومان مقرر کی گئی ہے۔

کتاب کی تدوین فاطمہ قنبری نے کی ہے اور انٹرویوز کے مرحلے میں حسین زحمت کش نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ کتاب کے سرورق کا رنگ مٹیالے (خاکی) رنگ کا ہے، جس پر جوان حج حبیب کی وردی میں ایک تصویر ہے جس میں وہ سپاه (IRGC) کی ایک ٹویوٹا گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے ہیں۔

"کاکِ خاک" تین ابواب پر مشتمل ہے، جس کے ساتھ آخری باب میں حج حبیب کے اختتامی کلمات شامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں دو ضمیمے دیے گئے ہیں؛ پہلے ضمیمے میں کردستان کے شہدا کے نام اور معلومات ہیں اور دوسرے ضمیمے میں اس کمانڈر کے متعلقہ دستاویزات اور تصاویر شامل ہیں۔

 

پہلا باب:

لفظ "کاک" کا مطلب "بھائی" ہے اور "خاک" سے مراد شہدا کی خاک ہے۔ کتاب کا پہلا باب راوی کے بچپن اور نوجوانی کی یادوں پر مبنی ہے جو ان کے آبائی شہر 'بابلسر' میں گزری۔ وہ ۱۹۶۷ میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور اپنے والدین کی دوسری اولاد تھے۔ ان کے تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ اس باب میں بچپن کے کھیلوں، دادی اماں کی یادوں سے لے کر محرم الحرام، عیدِ نوروز اور اسکول کے دنوں کا تذکرہ ہے۔ پہلے باب کا اختتام اسکول میں ولی عہد کی سالگرہ کے جشن کی یاد سے ہوتا ہے۔

 

دوسرا باب :

دوسرے باب میں انقلاب سے قبل کے حالات اور محمد رضا کے ابتدائی تعلیمی دور کا ذکر ہے۔ راوی کی رہائش تبدیل ہوتی ہے اور اسکول جاتے ہوئے یونیورسٹی کے سامنے ہونے والے واقعات ان کے اندر تجسس پیدا کرتے ہیں۔ وہ طلبہ کے دھرنوں اور ہڑتالوں کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ۱۹۷۷ کے بعد سے یہ مناظر مسلسل دہرائے جا رہے تھے۔ ان کے ماموں سید حسین ذبیح پور، جو حکومتِ پہلوی کے خلاف جدوجہد کا تجربہ رکھتے تھے، گاؤں میں امام (رح) کی کتابیں تقسیم کرتے تھے۔ ماموں نے محمد رضا کے تجسس کو بھانپ کر انہیں "قیامِ خونینِ امام" نامی رسالہ پڑھنے کے لیے دیا۔ دوسری طرف، انہوں نے اتفاقاً اپنے استاد کی میز پر امام (رح) کا ایک اعلان دیکھا؛ اس حصے میں راوی کی یادیں، اعلانات کی تقسیم اور "ساواک" (SavaK) کے ہاتھوں گرفتاری تک جاری رہتی ہیں۔

وہ ۱۰ سالہ بچہ، جو ایک اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت کی سفارش پر رہا ہوا تھا، بعد میں احتجاجی مارچوں میں حصہ لینے لگا۔ پھر انقلاب کے بعد کے واقعات مذکور ہیں۔ راوی بتاتا ہے کہ اگرچہ وہ مڈل اسکول میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن پھر بھی انہوں نے تبلیغی اور انقلابی سرگرمیوں کو جاری رکھا اور "بسیج" کے رکن بن گئے۔

 

تیسرا باب:

یہ باب ۱۹۸۰  میں کردستان کے "محمد رسول اللہ (ص)" ٹریننگ کیمپ میں داخلے کی یادوں سے شروع ہوتا ہے۔ راوی کے بقول، ان کی زندگی میں بہت اچھے لوگ آئے؛ جب وہ کیمپ کے دروازے پر بیٹھے تھے تو ایک مہربان شخص نے انہیں ٹریننگ کیمپ سے متعارف کروایا: "کردستان کے سپاه کمانڈر، محمد بروجردی نے مجھے براہِ راست ان سے متعارف کروایا تھا اور میں اس وقت تک اپنے نجات دہندہ کے نام سے بے خبر تھا" (صفحہ ۱۴۶)۔

تربیت کے دور کے اختتام کے بعد، جنگ کے ابتدائی ایام میں محمد رضا 'مریوان' کی سپاه یونٹ میں چلے گئے، جہاں اس وقت حاج احمد متوسلیان کمانڈر تھے۔ آگے چل کر وہ مختلف آپریشنز، دوستوں کی شہادت اور اپنی شادی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ پھر وہ اس حادثے کی تفصیل بیان کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی ٹانگ کٹ گئی۔ یہ حصہ کتاب کے پچھلے سرورق (Back Cover) پر بھی دیا گیا ہے۔ مریوان میں بمباری کے دوران وہ جناب شیروانی کے ساتھ گاڑی میں تھے... "مجھ میں گاڑی سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں تھی، جناب شیروانی آئے، مجھے گود میں اٹھایا اور باہر لے گئے۔ بظاہر وہ بمباری سے پہلے وضو کر رہے تھے اور اپنے بسیجی رومال سے چہرے کا پانی خشک کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے وہی رومال میری ران پر مضبوطی سے باندھا اور کہا: 'آج سے یہ رومال آپ کا پوا'۔ میں نے نیچے دیکھا تو  معلوم ہوا کہ بم کے  شیل نے میری بائیں ٹخنے کے نیچے کے حصے کو ختم کر دیا تھا..."(صفحہ ۴۱۷)۔

آخری باب تین صفحات پر مشتمل ہے جس میں مازندران واپسی اور گورنمنٹ کے دفتر (استانداری) کے ساتھ تعاون کا ذکر ہے۔ یہ یادوں سے بھری کتاب کردستان کے شہدا کے ناموں اور حاج حبیب کی تصاویر کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہے۔ تبصرہ نگار کے مطابق، چونکہ یہ کتاب "زبانی تاریخ" (Oral History) کے عنوان سے ہے، اس لیے اس میں تدوین کنندہ کا ایک جامع مقدمہ اور ایک جامع فہرست (Index) — جس میں آپریشنز اور مقامات کے نام ہوں — موجود نہیں ہے، تاہم اس کی تدوین اور بیان کرنے کے انداز پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ تبصرہ نگار کا خیال ہے کہ تدوین کنندہ کو ایک مختصر مقدمے میں انٹرویوز کے وقت، نشستوں کی تعداد اور کل گھنٹوں کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔

 

[1] انتشارات سرو سرخ وابسته به اداره کل حفظ آثار و نشر ارزش‌های دفاع مقدس استان مازندران


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 21



http://oral-history.ir/?page=post&id=13380