کتاب "عرشہ" پر ایک تنقیدی نظر

غلام رضا عزیزی

(ریٹائرڈ فیکلٹی ممبر، انسٹی ٹیوٹ آف ڈاکومنٹیشن، اور زبانی تاریخ کے محقق)

ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-07-15


کتاب کا تعارف:

عنوان:عرشہ تا عرش (جہاز کے عرشے سے عرش تک): دفاعِ مقدس میں بحریہ کی خدمات

 مصنف: ڈاکٹر مجید نجف پور

اشاعت: مرکزِ اسنادِ انقلابِ اسلامی، تہران

پہلی اشاعت: 2024،  296 صفحات

 

کتاب "عرشہ تا عرش"[1] آٹھ سالہ دفاعِ مقدس (ایران-عراق جنگ) کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ (آجا) کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایک نسبتاً نیا نقطہ نظر پیش کرتی ہے، جسے "فروستِ تاریخِ شفاہی" (زبانی تاریخ کے ادارے) کے ذریعے شائع کیا گیا ہے۔ محترم مصنف نے اس کتاب کی تالیف کے لیے نہ صرف لائبریری ریسرچ کا سہارا لیا ہے، بلکہ دستاویزی تحقیقات (متعلقہ آرکائیوز کے مراکز سے رجوع اور اسناد کا انتخاب) اور میدانی تحقیق (عینی شاہدین کے ساتھ زبانی تاریخ کے انٹرویوز) کا بھی بھرپور استعمال کیا ہے۔ اس طرح مصنف نے کتاب کے بنیادی ابواب میں عینی شاہدین اور واقعات کے فعال کرداروں کے انٹرویوز کے ذریعے بحریہ کے کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے لیے وہ "عسکری زبانی تاریخ" کے طریقہ کار کے قریب رہے ہیں۔

عسکری زبانی تاریخ کیا ہے؟

عسکری زبانی تاریخ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے مسلح افواج کے ارکان (چاہے وہ جنگی دستے ہوں یا معاون دستے، اور چاہے وہ کسی بھی رینک یا عہدے پر ہوں) کے تجربات، نظریات اور روایات کو محفوظ اور دستاویزی شکل دی جاتی ہے۔ یہ کام فعال انٹرویوز کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ عملی تجربات، عسکری فیصلے سازی، میدانِ جنگ اور فرنٹ کے پیچھے کی روزمرہ زندگی، اور عسکری سرگرمیوں کے سماجی و سیاسی اثرات کو سمجھا جا سکے۔ ان انٹرویوز کو دیگر تاریخی ذرائع کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔ عسکری دستاویزات کے برعکس، زبانی تاریخ افراد کے ذاتی مشاہدات اور تجربات پر متمرکز ہوتی ہے اور اس میں دیکھی اور سنی گئی باتوں کا ایک وسیع دائرہ شامل ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر، عسکری زبانی تاریخ کے انٹرویوز پانچ طرح کے ہوتے ہیں: آپریشنل[2] ، موضوعاتی[3]، سوانحی[4]، ریٹائرمنٹ کے وقت کے انٹرویوز[5]، اور آپریشن کے بعد کے انٹرویوز[6]۔ دفاعِ مقدس کے حوالے سے ان میں سے تین گروپس زیادہ نمایاں ہیں:

۱. آپریشنل انٹرویوز: ان کی خاصیت یہ ہے کہ انٹرویو جنگ کے دوران اور موقع پر لائیو یعنی براہ راست لیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں دفاعِ مقدس کے راویوں کی سرگرمیوں کو آپریشنل انٹرویوز کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

 

۲. سوانحی (Biographical) انٹرویوز: یہ دوسرا بڑا گروپ ہے جس میں فوجیوں(فوج، پاسدارانِ انقلاب اور بسیج، قطع نظر کے عہدے اور دستے کے) کے ساتھ مفصل اور گہرے انٹرویوز کیے جاتے ہیں، جو عام طور پر ان کی پیدائش سے لے کر حال تک کے عرصے کا احاطہ کرتے ہیں۔ تاہم، ان انٹرویوز کا زیادہ تر حصہ دفاعِ مقدس کے دوران ان کی سرگرمیوں اور مشاہدات کے لیے مختص ہوتا ہے۔

۳. موضوعاتی انٹرویوز: دفاعِ مقدس کے موضوعاتی انٹرویوز، گزشتہ دو اقسام کے برعکس (جو فرد محور تھے)، غالباً گروپ انٹرویوز کی شکل میں ہوتے ہیں جہاں ایک مخصوص موضوع پر کئی افراد سے گفتگو کی جاتی ہے۔[7]

 

کتاب کا تعارف:

تو واپس چلتے ہیں کتاب "عرشہ تا عرش" کی طرف؛ یہ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے:

۱. انقلابِ اسلامی کی فتح تک ایرانی بحریہ کی تاریخ۔

۲. ایران اور عراق کے درمیان سرحدی تنازعات کا پس منظر۔

۳. "بے دھواں آگ" (ایک استعارہ)۔

۴. خرم شہر سے خونین شہر تک۔

۵. بحریہ اور آپریشن 'اشکان'، 'شہید صفری' اور 'مروار سے'۔

۶. آپریشن 'کاروان'۔

پہلے تین ابواب اصل بحث میں داخل ہونے کے لیے ایک مقدمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کتاب کی تکمیل تصاویر اور کتابیات (Bibliography) سے ہوئی ہے۔[8]

محترم مصنف نے کتاب کے آخری چار ابواب میں (جن میں ہر باب ایک آپریشن پر مبنی ہے جس میں بحریہ نے کردار ادا کیا) کسی حد تک "موضوعاتی زبانی تاریخ" کے انداز کو اپنایا ہے، لیکن کتاب کی حتمی ترتیب اور تدوین کے لیے ایک مختلف راستہ منتخب کیا ہے۔

دراصل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کئی مقامات پر مصنف کا قلم ایک "زبانی مورخ" کے بجائے "داستان گوئی"، "رعنائی و ظرافت" اور "انشائیہ نگاری" کے رنگ میں رنگ گیا ہے، اور ان کا انداز "تاریخی ناول نگاروں" کے لہجے کے قریب ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر:

- "جہاز کے تمام عملے نے لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں اور وہ اپنے اپنے مقررہ مقامات پر موجود تھے۔ کپتان سٹیئرنگ کے پیچھے، دیدبان کمانڈنگ برج کے دائیں جانب، ریڈار آپریٹر ریڈار کے پیچھے... سب کے سب 'اٹنشن' اور آمادہ باش کی حالت میں جہاز کے عرشے پر کھڑے تھے، یہاں تک کہ جہاز بندرگاہ سے روانہ ہوا۔ عملہ جہاز سے ہاتھ ہلا کر بندرگاہ پر موجود ساتھیوں کو الوداع کہہ رہا تھا؛ گویا 'پیکان' کی یہ روانگی اور خلیج فارس کی وسعتوں کی طرف سفر اس بار ایک الگ ہی معنی رکھتا تھا۔ پیکان نامی یہ عسکری بحری جہازبوشہر کی بندرگاہ کا چکر کاٹ کر خلیج فارس کے پانیوں میں داخل ہوا، جہاز کی رسمی حالت فوراً آپریشنل حالت میں بدل گئی اور تمام عملہ کے تمام افراد نے  عرشہ چھوڑ کر اپنی اپنی آپریشنل پوزیشن  سنبھال لی۔" (صفحہ ۱۶۲-۱۶۳)

- "فتح کے ان عروج بھرے لمحات میں، جب دشمن کو شکست دے دی ..."۔

"بعثی فوج کی شکست اور جیٹی الامیہ (بندرگاہ) کی فتح: جہاز کے ایک ملاح نے اپنے بستے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا سہ رنگی پرچم نکالا اور تیزی سے بندرگاہ کے ٹاور کی جانب دوڑا۔ اس نے گرد و پیش کی پروا کیے بغیر ٹاور کی چار سو سیڑھیاں چڑھ کر اس کے بلند ترین مقام پر پہنچا اور وہاں موجود اینٹینا کی تاروں کے سہارے پرچم کو مضبوطی سے باندھ کر لہرا دیا۔" (صفحہ 167)

 اور اسی طرح کی دیگر مثالیں۔

بذاتِ خود اس طرح کی زبان و بیان اور لہجے کا انتخاب، اور زبانی تاریخ کی تحریر میں ادبی محاسن کا استعمال شاید غلط نہ لگے؛ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر اس چیز نے کتاب کے متن کو ادبی اور تاریخی، دونوں لحاظ سے نقصان پہنچایا ہے۔ مثال کے طور پر:

"پہلے باب میں لائبریری ریسرچ اور اسناد و مدارک کی موجودگی اور اسناد کی بار بار اشاعت اور مختلف تحقیقی مراکز میں ان تک آسان رسائی اور لائبریری مطالعہ کو استعمال کرتے ہوئے، ہخامنشی سلطنت میں بحریہ کی پہلی تنظیم سازی کے تاریخی پس منظر سے لے کر انقلابِ اسلامی کی کامیابی تک کی نگارش کی گئی ہے" (ص ۱۳)۔

شاید محترم مصنف کا مقصد یہ تھا: "پہلے باب میں لائبریری ریسرچ اور اسناد و مدارک کی مدد سے، ہخامنشی سلطنت سے لے کر انقلابِ اسلامی کی کامیابی تک، ایرانی بحریہ کی تنظیم سازی کا تاریخی پس منظر تحریر کیا گیا ہے"۔

"جنگی کمانڈروں کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے عراقی آئل ٹرمینلز کو نشانہ بنانے کے لیے جمہوریہ اسلامی کی بحریہ کی فوجی کارروائیوں کی پہلی حکمتِ عملی میں، پہلا مرحلہ 'اشکان' کے عنوان سے اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کی تین جنگی کشتیوں جوشن، گردونہ اور پیکان کے ذریعے عراقی آئل ٹرمینلز پر 30 اکتوبر 1980 کو حملہ کیا گیا" (ص ۱۵۶-۱۵۷)۔

ایک دو فعل  کا حذف ہونا، حروفِ جارہ  اور وقفہ  کا درست استعمال نہ کرنا، جملہ سازی میں 'توسط' (کے ذریعے) کا غیر فطری استعمال، اور آخر میں غیر متعلقہ فعل نے جملے کی صحیح قرأت اور دقیق مفہوم کو "قاری کے رحم و کرم" پر چھوڑ دیا ہے۔ غالباً محترم مصنف کی مراد یہ تھی کہ: "اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کا پہلا فوجی آپریشن جو جنگی کمانڈروں کے احکامات کی روشنی میں انجام پایا، عراقی آئل ٹرمینلز کو نشانہ بنانا تھا۔ اس آپریشن کے پہلے مرحلے میں، جسے 'اشکان' کا نام دیا گیا، تین جنگی کشتیوں جوشن، گردونہ اور پیکان نے 30 اکتوبر 1980  کوعراقی آئل ٹرمینلز پر حملہ کیا"۔

 "لیکن اسلامی افواج نے سپاہ، فوج اور عوامی بسیج کے مشترکہ اتحاد میں افتخا ر آفرین آپریشنز اور ثامن الائمہ، فتح المبین کے فاتحین کے بعد..." (ص ۱۹۲)۔

'افتخار آفرین'  اور 'فاتحین'  کی تعبیر یہاں غیر موزوں ہے؛ 'فاتحین' یہاں 'آپریشنز' کی صفت کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتا۔ بہتر یہ تھا کہ اسے یوں لکھا جاتا: "...ثامن الائمہ اور فتح المبین جیسے فخر آفرین آپریشنز کے بعد..."۔

لیکن اگر 'فاتحین' کا اشارہ 'سپاہ، فوج اور عوامی بسیج' کی طرف تھا، تو اسے 'واؤ عطف' کے ذریعے 'افتخار آفرین' سے نہیں جوڑنا چاہیے تھا۔ اس صورت میں جملہ یوں ہونا چاہیے تھا: "لیکن اسلامی افواج نے سپاہ، فوج اور عوامی بسیج کے مشترکہ اتحاد میں، جو ثامن الائمہ اور فتح المبین جیسے فخر آفرین آپریشنز کے فاتحین تھے..."۔

 "منصوبہ بندی کے تمام مراحل پر عمل درآمد ممکن نہیں تھا لیکن مندرجہ ذیل چار اہم مراحل میں منصوبہ بندی کی گئی" (ص ۱۹۳)؛ جملے کے آغاز کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ 'منصوبہ بندی کی گئی'  غلطی سے 'انجام دیا گیا'  کی جگہ استعمال ہوا ہے۔

 "میدانِ جنگ میں عراقی فوجیوں کی مزاحمت اور لڑنے کے طریقوں، قیدیوں اور پناہ گزینوں کے اعترافات اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع سے ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے" (ص ۱۹۹)۔ غالباً جملے کا مقصد یہ ہے: "عراقی قیدیوں اور پناہ گزینوں کے اعترافات اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع سے، میدانِ جنگ میں عراقی فوجیوں کی مزاحمت اور لڑنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں"۔

 "انہوں نے 'نصرکیمپ' کے خلاف بھی بھاری حملے اور جوابی حملے کیے جو نہ صرف بے نتیجہ رہے بلکہ دشمن کے یونٹوں کو بھی بہت نقصان پہنچا" (ص ۱۹۶)۔ چونکہ پچھلے جملے کا فاعل بعثی فوج کے دستے ہیں، اس لیے 'دشمن کے یونٹ' کی عبارت سے قاری کو یہ مغالطہ ہو سکتا ہے کہ شاید 'اسلام کی فوج' کے دستوں کو نقصان پہنچا۔ اس لیے بہتر تھا کہ یوں لکھا جاتا: "...بلکہ بعثی دشمن کے یونٹوں کو بھی بہت نقصان پہنچا"۔

اس کتاب کے طرزِ تحریر نے ایسی ترکیبیں پیدا کر دی ہیں جو معنوی یا تاریخی نقطہ نظر سے قابلِ غور ہیں۔ مثلاً:

 "...را شعلہ ورتر شد" (ص ۱۳)؛ یعنی "کو مزید شعلہ ور ہوا" (جو گرامر کی رو سے غلط ہے)، اس کی جگہ ہونا چاہیے تھا: "...را شعلہ ورتر کرد" (کو مزید شعلہ ور کر دیا)۔

 "کشتی کے دھماکے کی آواز اور اس کے گولہ بارود کے پھٹنے نے علاقے کی فضا کو روشن کر دیا" (ص ۱۶۹)۔ دھماکے کی آواز نے روشن کر دیا؟؟ غالباً مقصد یہ تھا: "دھماکے کی آواز... سے علاقہ گونج اٹھا" یا "دھماکے کی روشنی نے علاقے کو منور کر دیا"۔

 "ایک غیرت مند قوم کی داستان (حماسہ)، جن کے فخر کا شعر (شعرِ فخر) شجاعت، بہادری اور شہادت کی عظیم مثنوی میں موجیں مار رہا ہے" (ص ۱۸۷)۔ یہاں 'شعرِ فخر' (فخر کا شعر) غالباً 'شعرِ فاخر' (عمدہ/اعلیٰ شعر) کی جگہ استعمال ہوا ہے۔

"خدا پر توکل سے پیدا ہونے والا غرور (تکبر)... امید اور جوش کی کرن..." (ص ۱۶۸)۔ غرور؟ وہ بھی خدا پر توکل سے پیدا ہونے والا؟ (یہاں 'فخر' یا 'اعزاز' ہونا چاہیے تھا، کیونکہ توکل سے عاجزی پیدا ہوتی ہے، غرور نہیں)۔

 "...لیکن اس فاتحِ قادسیہ نے کبھی ایسی ذلت آمیز شکست کا تصور نہ کیا تھا..." (ص ۱۹۳)۔ فاتحِ قادسیہ!!! کیا صدام کو 'فاتحِ قادسیہ' کہنا درست ہے؟ (یہ وہ لقب تھا جو صدام نے خود کو دے رکھا تھا، ایک مورخ کو اسے طنزیہ یا وضاحتی طور پر لکھنا چاہیے تھا)۔

"...آپریشن بیت المقدس کے دیگر مراحل پر عمل درآمد کو شاید... آپریشن بیت المقدس کے منصوبے کے تسلسل میں شمار کیا جا سکتا ہے" (ص ۱۹۴)۔

"جہازوں کی خوریوں (Inlets) میں نو گھنٹے کی رات کی پرواز کا عمل..." (ص ۱۹۱)؛ [یہاں ترتیب غلط ہے]، درست عبارت یہ ہونی چاہیے تھی: "خوریوں میں جہازوں کی نو گھنٹے کی رات کی پرواز کا عمل..."

یہ بات دو بار بیان کی گئی ہے کہ آپریشن 'ثامن الائمہ' کی نام زدگی فوج کی تجویز پر تھی، اور ان دونوں کے درمیان ایک بار یہ بھی کہا گیا کہ "اس آپریشن کی نام زدگی فوج کی تجویز پر تھی جس پر سپاہ (IRGC) نے کوئی اعتراض نہیں کیا" (ص ۱۹۰)۔ سپاہ کے عدم اعتراض پر اس قدر زور دینے میں کیا چھپا ہوا مفہوم ہے؟ کیا انٹرویوز میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ سپاہ نے کسی دوسرے آپریشن کی نام زدگی پر اعتراض کیا تھا؟

کتاب کی طرزِ تحریر کی وجہ سے بعض اوقات مآخذ (sources) کا حوالہ اور ان کا استعمال تاریخ کی تحقیق کے طریقہ کار کے مطابق نہیں رہا۔

صفحات ۱۵۳ سے ۱۵۶ تک موجود مواد کے مآخذ (sources) واضح نہیں کیے گئے ہیں۔

 صفحہ ۱۷۹ کا فٹ نوٹ بتاتا ہے کہ صفحہ ۱۷۲ سے ۱۷۹ تک کا مواد، جس میں عسکری کشتی پیکان کے ڈوبنے کا واقعہ ہے، "آپریشن مروارید میں زندہ بچ جانے والے کمانڈوز (ناصر سرنوشت، کیوان شکوہ، ضرغامی، عیسیٰ حسینی بائی) کی یادوں کا خلاصہ" ہے۔ کیا ایک تاریخی تحقیق میں اس طرح کا حوالہ دینا مناسب ہے؟ کیا یہ اسے ایک تاریخی ناول کے قریب نہیں لے جاتا؟

"ان ہنگاموں کو روکنا جو بعض اوقات ملک کے بعض علاقوں میں ضروری اشیائے ضرورت کی کمی کی وجہ سے پیش آتے تھے" (ص ۲۳۴)۔ کون سے ہنگامے؟ کون سی اشیاء؟ ملک کے کن علاقوں میں؟ اور کس وقت؟ 'بعضاً' اور 'بعض' جیسے مبہم الفاظ کا استعمال ایک تاریخی تحقیق کے شایانِ شان نہیں ہے (کیونکہ تاریخ میں ٹھیک وقت اور جگہ کا ذکر ضروری ہوتا ہے)۔

"...یہ خاص پیچیدگیوں پر مشتمل تھا اور ہر جہاز براہ راست بندرگاہ امام (رہ) سے بندرگاہ چویبده تک اور پھر واپسی کا دو چکر (round trip) تقریباً ۱۲ گھنٹے کی پرواز کے ساتھ رات میں انجام دے" (ص ۱۹۱)؛ یہ جملہ نامکمل ہے۔ چونکہ یہ مواد کتاب 'حصر شکنان' (محاصرہ توڑنے والے) کے صفحہ ۱۷۵ سے براہ راست اقتباس تھا، اس لیے میں نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور معلوم ہوا کہ اس اقتباس میں سے 'باید' (چاہیے/تھا) اور 'ہر' (each) کے الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں، جس سے جملہ نامکمل ہو گیا ہے۔[9]  اصل جملہ بغیر کسی حذف کے یوں تھا: "...یہ خاص پیچیدگیوں پر مشتمل تھا اور ہر جہاز کو براہ راست بند رگاہ امام (رہ) سے بندرگاہ چویبده اور پھر واپسی کا دو چکر ہر رات تقریباً ۱۲ گھنٹے کی پرواز کے ساتھ کرنا چاہیے تھا"

● "معاون جہان آرا، جن کا نام اب مجھے یاد نہیں آ رہا..." (ص ۱۴۴)؛ اسے 'گویا  نہیں کیا گیا (یعنی زبانی انٹرویو کی اس غیر ضروری بات کو تحریر سے حذف نہیں کیا گیا، جو کہ زبانی تاریخ کی تدوین کا قاعدہ ہے)۔

 

متن میں 'فاصلہ کاری'  کی عدم رعایت درج ذیل دو صورتوں میں دیکھی گئی:

۱۔ فاصلہ کاری (Spacing) کی غلطیاں:

متن میں درج ذیل مقامات پر 'نیم-فاصلہ' (Half-space) اور 'فاصلے' کا درست استعمال نہیں کیا گیا:

نیم-فاصلے کی کمی: شمال شرقی (ص ۱۱۴)، پلیس راہ، دیزل آباد (ص ۱۱۹)، شمال مغربی (ص ۱۲۰)، بمب باران (ص ۱۲۳)، پادگان ہا (ص ۱۰۷، فٹ نوٹ)۔

فاصلے کی کمی (الفاظ کا آپس میں جڑ جانا): مراکزحساس (ص ۱۰۷، فٹ نوٹ)

۲۔ دیگر تحریری اور املا کی غلطیاں:

کتاب میں درج تحریری غلطیاں بھی پائی گئیں:

- "بیان حوادث و اتفاقاتی می‌پردازیم" (ص ۱۵)؛ یہاں درست عبارت ہونی چاہیے تھی: "بیان حوادث و اتفاقات می‌پردازیم" (واقعات بیان کرتے ہیں)۔

- "شکست‌شدن حصر" (ص ۱۹۱)؛ درست املا "شکسته‌شدن حصر" (محاصرے کا ٹوٹنا) ہے۔

- "پیش روی" (ص ۱۱۳)؛ یہاں یہ ایک لفظ کے طور پر "پیشروی" (پیش قدمی) ہونا چاہیے تھا۔

- "روز نیروی دریای" (ص ۱۶۲)؛ یہاں "روز نیروی دریایی" (بحریہ کا دن) ہونا چاہیے تھا۔

- "دارو درمان" (ص ۱۰۵)؛ درست عبارت "دارو و درمان" (دوائی اور علاج) ہے۔

- "درب در منزلی" (ص ۱۰۹)؛ یہاں "دمِ دربِ منزلی" یا "دمِ درِ منزلی" (گھر کے دروازے پر) ہونا چاہیے تھا۔

- "پاربار" (ص ۱۲)؛ درست لفظ "پُر بار" (بھاری/بوجھل) ہے۔

- "برخی ناطق" (ص ۱۹۲)؛ یہاں "برخی مناطق" (بعض علاقے) ہونا چاہیے تھا۔

- "فرید آگه دل ۱۲" (ص ۲۲۲)؛ یہاں '۱۲' کی جگہ '۱' ہونا چاہیے تھا۔

- "مصاحبه با نگارنده با دریادار دوم" (ص ۱۸۲، فٹ نوٹ)؛ [جملے کی ساخت درست نہیں ہے]۔

- "بروی" (ص ۱۶۶)؛ یہاں "به روی" (کے اوپر) ہونا چاہیے تھا۔

- پوری کتاب میں 'کسرہ اضافت' (دو لفظوں کو جوڑنے والی علامت) کی جگہ 'یا'ء' کو الگ لکھ کر استعمال کیا گیا ہے، جو کہ درست محسوس نہیں ہوتا۔

۳۔ دستوری اور گرامر کی غلطیاں:

اوپر بیان کردہ مثالوں کے علاوہ، درج ذیل گرامٹیکل غلطیاں بھی سامنے آئیں:

- اندازِ بیان میں تضاد: مقدمے کی زبان کبھی 'تیسرا شخص واحد معلوم' (مثلاً: وہ لکھتا ہے/قلم می‌زند) ہے، کبھی 'تیسرا شخص واحد مجہول' (مثلاً: تحریر کیا گیا ہے/پرداخته شده است) اور کبھی 'اول شخص جمع' (مثلاً: ہم بحث کرتے ہیں/می‌پردازیم) میں بدل جاتی ہے۔

- الفاظ کی غلط ترتیب: "خرم شہر کو عراق کی زمین میں ضم کرنے کا دعویدار اعلان کر رہا تھا" (ص ۶۰)؛ یہاں عبارت ہونی چاہیے تھی: "خرم شہر کو عراق کی زمین میں ضم کرنے کا دعویٰ کیا" یا پھر "اسے خرم شہر کو عراق میں ضم کرنے کا دعویٰ تھا"۔

دستوری اور جملوں کی غلطیاں:

- "با توجہ استقرار ادوات" (ص ۱۶۰)؛ اس کی جگہ "با توجہ بہ استقرار ادوات" ہونا چاہیے تھا۔ (یعنی 'بہ' کی کمی ہے)۔

- "...نابودی این اسکله‌ها باور نداشت" (ص ۱۶۱)؛ اس کی جگہ "...نابودی این اسکله‌ها "را" باور نداشت" ہونا چاہیے تھا۔ (مفعول کی علامت 'را' غائب ہے)۔

- "تکاوران یک به یک پیاده شده ... خود را مخفی کرد" (ص ۱۶۴)؛ چونکہ 'تکاوران' جمع ہے، اس لیے فعل 'مخفی "کردند" ہونا چاہیے تھا۔

- "یکی از ناوچه‌های جنگی را .... به ما ملحق شود" (ص ۱۶۶)؛ اس جملے میں لفظ "را" اضافی ہے۔

- "سطح مکان درگیری پُر کرده است" (ص ۱۷۵)؛ اس کی جگہ "سطح مکان درگیری "را" پُر کرده است" ہونا چاہیے تھا۔

- "پوشش لازم برای اختفا را دارا بود" (ص ۱۸۸)؛ اس کی جگہ "پوشش لازم را برای اختفا دارا بود" زیادہ بہتر ترتیب ہے۔

- ص ۲۲۳-۲۲۴ پر ایک طویل جملہ ہے جس کی ترتیب بہت الجھی ہوئی ہے؛ اسے سادہ اور درست کر کے یوں ہونا چاہیے تھا: "مجھے حکم دیا گیا کہ ایک معاون جہاز کو، جو تقریباً دو سال سے بوشہر کی بندرگاہ پر کھڑا تھا، دوستوں کی مدد اور ہر ممکن کوشش سے دوبارہ فعال کریں"۔

- "پاره شد و آتش‌سوزی مهیبی رخ داده بود و خساراتی را به اسکله ون اوچه وارد کرد" (ص ۲۲۵)؛ یہاں افعال (verbs) کی ترتیب ٹھیک نہیں ہے۔ زیادہ رواں جملہ یوں ہوگا: "...پھٹا، ہولناک آگ لگی اور ون اوچے کی بندرگاہ کو نقصان پہنچا"۔

ان مثالوں کے علاوہ بھی کئی جگہوں پر اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ کتاب کا معیار بہتر ہو سکے۔

 

کتاب کے ڈھانچے پر دیگر مشاہدات:

- تکرار: صفحہ ۲۹ کا دوسرا پیراگراف، دراصل تیسرے پیراگراف ہی کی دوبارہ تحریر ہے، جو کہ محض تکرار ہے۔

- ادھورا جملہ: صفحہ ۱۹۰ پر ایک جملہ بظاہر شروع سے کٹا ہوا لگتا ہے: "علاقے کی سطح پر بڑے اور پیچیدہ آپریشنز تھے اور ان کا نتیجہ..."۔

- تصاویر کے حوالے: تصویروں والے حصے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تصویریں کہاں سے لی گئی ہیں۔ صرف ص ۲۶۰ پر ایک تصویر پر انٹرنیٹ کا نشان موجود ہے۔

- مبہم لفظ: صفحہ ۲۶۳ پر تصویر کے نیچے لکھا ہے: "مزاحمت اور "چہار رو" کے دنوں میں"۔ یہ لفظ 'چہار رو' سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا ہے۔

- حوالہ جات کی غلطی: حوالہ نمبر ۱۸ الگ نہیں ہے، بلکہ وہ حوالہ نمبر ۱۷ کا ہی بقیہ حصہ ہے جو غلطی سے اگلی لائن میں چلا گیا ہے۔

آخری بات:

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ کتاب کی مجموعی ساخت مناسب ہے۔ ابواب کی تقسیم متن کے مطابق اور اچھی ہے۔ کتاب کی ظاہری خصوصیات مثلاً: خطاطی (calligraphy)، حروف کی ترتیب (typesetting)، صفحہ آرائش، تصاویر، اور سرورق (cover design) بہترین ہیں، اور کتاب کا سائز اس کے مواد کے مطابق ہے، نیز چھپائی اور جلد سازی (binding) کی کوالٹی بھی بہت اچھی ہے۔

شاید عنوان "از عرشہ تا عرش" (عرشے سے عرش تک) زیادہ موزوں ہوتا؛ اگرچہ "از" (سے) کا مفہوم کسی حد تک "تا" (تک) میں چھپا ہوا ہے۔

 

[1] شاید عنوان "از عرشہ تا عرش" (عرشے سے عرش تک) زیادہ موزوں ہوتا؛ اگرچہ "از" (سے) کا مفہوم کسی حد تک "تا" (تک) میں چھپا ہوا ہے۔

 

[2]  اس قسم کے انٹرویوز میدانِ جنگ میں اور لائیو (براہ راست) کیے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ انٹرویوز واقعات کے رونما ہونے کے دوران ہی کیے جاتے ہیں، اس لیے یہ ایسی تفصیلات اور باریکیاں فراہم کرتے ہیں جو اکثر ان انٹرویوز میں نہیں ملتیں جو واقعات کے کئی سال بعد کیے جاتے ہیں۔

[3]  یہ 'زبانی تاریخِ عملیاتی' کی ایک قسم ہے، لیکن یہ جنگ اور لڑائی کے بجائے ٹیکنالوجیز، نظریات (doctrines)، طریقوں یا نقطہ نظر میں جدت پر مرکوز ہوتی ہے۔

[4]  ایک گہرا اور مفصل انٹرویو جو انٹرویو دینے والے کی پوری زندگی، بالخصوص اس کی پیشہ ورانہ زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔

[5] یہ انٹرویوز اعلیٰ حکام کی ملازمت کے اختتام پر کیے جاتے ہیں، اور بنیادی طور پر کلیدی عہدوں پر فائز عسکریت پسندوں کے تجربات پر مرکوز ہوتے ہیں۔

[6] اس قسم کے انٹرویوز جنگ، فوجی آپریشن یا کسی اہم عسکری واقعے کے بعد کیے جاتے ہیں، جب اہم تفصیلات ابھی ذہن میں واضح طور پر موجود ہوتی ہیں۔

[7] چونکہ دفاعِ مقدس کی زبانی تاریخ کے بہت سے انٹرویوز ابھی شائع نہیں ہوئے، اس لیے ممکن ہے کہ ان انٹرویوز میں دیگر نقطہ نظر بھی نظر آئیں (مثلاً 'آپریشن کے بعد' کا نقطہ نظر، جیسے بارہ روزہ جنگ کی زبانی تاریخ)، جن کا اس تقسیم میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ عسکری زبانی تاریخ کے بارے میں مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: عزیزی، غلام رضا (۱۴۰۴)۔ "عسکری زبانی تاریخ کا تعارف اور دفاعِ مقدس میں اس کے نقطہ نظر"، ثقافت پائیداری، شمارہ ۱۶، صفحات ۷۲-۷۷۔

[8] کتاب کے مآخذ (References) میں کم از کم درج ذیل تین تصانیف کی کمی محسوس ہوتی ہے:

- طاہری، شہاب الدین؛ معصومی، سید امیر (۱۳۷۳): "مروارید (موتی): ناوچے پیکان کی داستان"۔ تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج، ادارہ عقیدتی سیاسی۔ یہ کتاب ناخدا یکم شہاب الدین طاہری کے حوالے سے آپریشن 'اشکان' اور البکر و الامیہ کے ٹرمینلز پر حملوں کی تفصیل ہے، جو تقریباً تین دہائی پہلے لکھی گئی تھی؛ اس لحاظ سے اس میں دی گئی معلومات کتاب "عرشہ تا عرش" کے انٹرویوز کے مقابلے میں واقعے کے وقت کے زیادہ قریب ہیں۔

- بخشی، محمد علی۔ (۱۳۷۴)۔ "سرود مردانِ دریا: خاطرات رزمندگان نیروی دریایی ارتش جمهوری اسلامی ایران" (سمندری مردوں کا ترانہ: ارتش جمہوریہ اسلامی ایران کی بحری فوج کے مجاہدین کی یادیں)۔ تہران: ارتش جمہوریہ اسلامی ایران، ادارہ عقیدتی سیاسی، معاونت تبلیغات و تعلقات عامہ۔ یہ کتاب بحری فوج کے دس مجاہدین کی یادوں کا مجموعہ ہے، جس میں سے ایک یادداشت "در جستجوی مروارید" (موتی کی تلاش میں)، کتاب "عرشہ تا عرش" کے موضوع سے متعلق ہے

- ادارہ عقیدتی سیاسی ارتش جمہوریہ اسلامی ایران (سیاسی دفتر)۔ (۱۳۷۵)۔ "بچه‌های دانشکده: خاطرات رزمندگان ارتش جمهوری اسلامی ایران" (کالج کے جوان: ارتش جمہوریہ اسلامی ایران کے مجاہدین کی یادیں)۔ تہران: ارتش جمہوریہ اسلامی ایران، معاونت تبلیغات و تعلقات عامہ، ادارہ عقیدتی سیاسی۔ یہ کتاب اکتوبر ۱۹۸۰ء (مہر ۱۳۵۹) میں خرم شہر بھیجے گئے فوجی کالج کے طلباء کی یادوں اور ان میں سے چند کی شہادت کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں شامل تین یادداشتیں "بچه‌های دریا" (سمندر کے بچے)، "آمادہ باش" (تیار رہو) اور "زنگ خطر" (خطرہ کی گھنٹی) 'آپریشن مروارید'، 'پیکان' نامی بحری جہاز کے ڈوبنے اور عراقی جہاز 'اوزہ' پر ہونے والے حملوں سے متعلق ہیں۔

[9] علی-القاعدہ: براہِ راست اقتباس (Direct Quote) میں پیغام کا کوئی بھی حصہ حذف نہیں ہونا چاہیے، اور اگر کچھ حذف کیا جائے تو قاری کو اس سے آگاہ کیا جانا چاہیے؛ مثلاً نقطہ چین (...) لگا کر۔


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 3



http://oral-history.ir/?page=post&id=13379