علی بن ابی طالب (ع) ڈویژن کی 'کربلا بٹالین' کے کمانڈر علی اصغر خانی کے واقعات

(شہید مہدی زین الدین کے بارے میں)

انتخاب: سائیٹ تاریخ شفاہی
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-07-14


"۔۔میں تمہاری بٹالین کو اچھی طرح جانتا ہوں۔"

میں نے حیرت سے دیکھا اور پوچھا: "ہماری بٹالین کو؟ کیسے؟ کہاں سے؟" انہوں نے جواب نہ دیا۔ اس بار میں نے تجسس کے مارے اپنا سوال دہرایا: "آقا مہدی! آپ کربلا بٹالین کو کیسے جانتے ہیں؟" وہ اب بھی جواب دینے سے کترائے اور صرف ایک مسکراہٹ پر اکتفا کیا۔ بات آئی گئی ہوگئی، یہاں تک کہ 'والفجر 4' آپریشن کا وقت آگیا۔ انہوں نے نقشے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "خانی! یہ ٹیلہ دیکھو، تمہیں اس بلندی پر جانا ہوگا۔" یہ 'کانی مانگا'[1] کے ساتھ والی ایک پہاڑی تھی جسے لشکر 27 نے فتح کرنا تھا۔ میں کام کی سختی کو جانتا تھا۔ اگر کانی مانگا کا علاقہ فتح نہ ہوتا تو ہم دشمن کی زد میں رہتے۔ میں نے کہا: "میں انکار نہیں کرنا چاہتا، لیکن میرے خیال میں یہ مشن ہماری بٹالین کے لیے بہت بھاری ہے۔ یہ نہیں ہو سکے گا..." انہوں نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بھانپ لیا اور صرف ایک لفظ کہا: "نہیں۔" پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "تم کس بات سے پریشان ہو؟ میں تمہاری بٹالین کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم یہ کر سکتے ہو۔" میں اسی موقع کی تلاش میں تھا کہ اس سوال کا جواب لوں جو عرصے سے میرے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ میں نے دیر نہیں کی اور کہا: "یہ بات آپ نے پہلے بھی کہی تھی، لیکن آخر آپ میری بٹالین کو مجھ سے بہتر کیسے جانتے ہیں؟" انہوں نے پلکیں جھپکائیں اور کہا: "میں نے یہ نہیں کہا کہ تم سے بہتر جانتا ہوں، لیکن جانتا ضرور ہوں۔ میں کبھی کبھار ٹوپی اوڑھ کر، بھیس بدل کر بٹالینز میں جاتا ہوں۔ وہاں کی خبر لیتا ہوں اور واپس آجاتا ہوں۔" میری شرارت ایک لمحے کے لیے جاگ اٹھی۔ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا: "یعنی بٹالین کمانڈر کی اجازت کے بغیر؟" انہوں نے میری طرف دیکھا اور مذاقاً کہا: "بھئی، آخر میں ڈویژن کا کمانڈر ہوں۔ کیا مجھے معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ بٹالینز میں کیا ہو رہا ہے؟" پھر سنجیدہ ہو کر کہنے لگے: "میں نے تمہارے جوانوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کی تربیت بھی اچھی ہے اور ان کا مورل بھی بلند ہے۔" میں پوچھنا چاہتا تھا کہ انہیں یہ کیسے معلوم ہوا، تو انہوں نے خود ہی جواب دیا: "جن ایک دو راتوں میں میں نے تمہاری بٹالین کا دورہ کیا، میں نے دیکھا کہ ان میں نمازِ شب پڑھنے والے بہت زیادہ ہیں۔ تم اس مشن میں کامیاب ہو جاؤ گے۔"

میں بٹالین کو لے کر ٹیلے کی طرف چل پڑا۔ تین گھنٹے کی سخت لڑائی کے بعد ہم جیسے تیسے چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ 'علی بن ابی طالب (ع)' بٹالین نے ہمارے پہلو میں دشمن پر حملہ کیا تھا، لیکن بعثی فوج کے دباؤ کی وجہ سے وہ اوپر نہ آسکے اور پہاڑی کے دامن میں ہی رک گئے۔  27 ویں ڈویژن بھی کانی مانگا پر عراقیوں سے نبرد آزما تھی، وہ بھی پہاڑی کے بیچ میں ہی رک گئی۔ بلندی پر صرف ہم رہ گئے تھے اور ہر طرف سے ہم پر گولوں کی بارش ہو رہی تھی۔ طے یہ تھا کہ بٹالینز میں سے ایک، پہاڑی کے پیچھے والا راستہ کھولے گی تاکہ ہم تک اسلحہ پہنچ سکے۔ لیکن اس بٹالین کا کمانڈر شروع میں ہی شہید ہو گیا اور وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ ہمارا اسلحہ اور بارود ختم ہو رہا تھا، لیکن بعثی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ ہمیں ہر قیمت پر نیچے گرانا چاہتے تھے۔ وہ قد آور اور مضبوط جسم کے مالک تھے، اور اتنے قریب تھے کہ رات کے اندھیرے میں بھی ان کی نئی وردیاں اور ساز و سامان نظر آرہا تھا۔ وہ ابھی تازہ دم ہو کر علاقے میں آئے تھے۔ میں نے وائرلیس پر رابطہ کیا۔ آقا مہدی خود لائن پر تھے۔ جب میں نے اسلحہ اور مدد مانگی تو انہوں نے کہا: "مزاحمت کرو، میں بھیج رہا ہوں۔" محاصرہ تنگ سے تنگ تر ہوتا جا رہا تھا۔ جنگ اب ہینڈ گرنیڈز کی جنگ بن چکی تھی۔ وہ پھینکتے، ہم جواب دیتے۔ صبح ہوتے ہوتے گولہ باری کی شدت عروج پر پہنچ گئی۔ ایسا لگتا تھا جیسے عراقیوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے وہ ہم پر اور اس ٹیلے پر برسا کر رہیں گے۔ گولیاں اور مارٹر اس طرح برس رہے تھے کہ مجھے پانچ بار اپنی نماز توڑنی پڑی۔ سرما کی ہلکی دھوپ نے فضا کو روشن کر دیا تھا۔ دور سے دشمن کے ہیلی کاپٹروں کی آواز آرہی تھی۔ اس افراتفری میں بس اسی کی کمی تھی۔ اب ہم پر زمین سے بھی حملے ہو رہے تھے اور آسمان سے بھی۔ میں نے وائرلیس آپریٹر کے ہاتھ سے فون لیا اور التجائیہ لہجے میں اسلحہ اور مدد مانگی۔ آقا مہدی نے پھر وہی جواب دیا۔ میرا پارہ چڑھ گیا۔ میں اب خاموش نہ رہ سکا، جتنی ہمت تھی اپنی آواز میں سمیٹی اور چلا کر کہا: "یہ کیا صورتحال ہے؟ آپ ہماری مدد کو کیوں نہیں پہنچ رہے؟ آپ جوابی فائر کیوں نہیں کر رہے؟ لوگوں کے بچے کٹ مر رہے ہیں۔ کہاں گیا وہ اسلحہ؟ کہاں گئی وہ مدد؟" انہوں نے مجھے سکون سے اپنی بھڑاس نکالنے دی، پھر کہا، "بھائی، میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ آپ صبر سے کام لیں۔" ان کی آواز میں وہی ہمیشہ والا سکون تھا، لیکن اس میں شرمندگی بھی ملی ہوئی تھی۔ میں نے فون رکھا اور انتظار کرنے لگا۔ میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔ بسیجی جوان بہادری سے لڑ رہے تھے اور مظلومیت کے ساتھ گولیاں اور زخم کھا رہے تھے۔ شہیدوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ ہم پر شدید دباؤ تھا، لیکن نہ مدد آئی اور نہ اسلحہ۔ میں نے دوبارہ وائرلیس پر رابطہ کیا اور کہا: "ہم اب مزید یہاں نہیں ٹھہر سکتے۔" آقا مہدی خود بھی سمجھ چکے تھے کہ ٹیلے کا کام تمام ہو چکا ہے، انہوں نے مخالفت نہیں کی۔ کہا: "جیسا تم مناسب سمجھو، فیصلہ کرو۔" میں سمجھ گیا کہ وہ پیچھے ہٹنے پر راضی ہیں، لیکن وائرلیس پر کہنا نہیں چاہتے۔ میں نے دیر نہیں کی، جوانوں کی طرف رخ کیا اور کہا: "بیس افراد رکیں، باقی پیچھے ہٹ جائیں۔ زخمیوں کو جیسے بھی ہو، ساتھ لے جاؤ۔" آگ اولوں کی طرح ہمارے سروں پر برس رہی تھی۔ میں ان بیس افراد کو اس لیے روکنا چاہتا تھا تاکہ وہ دشمن کو مصروف رکھیں اور باقی نفری آسانی سے نیچے جا سکے، اور پھر وہ خود بھی آجائیں۔ میں ابھی انہیں ترتیب دے ہی رہا تھا کہ ایک گولی آئی اور وائرلیس آپریٹر کی گردن میں لگی، میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اسے اپنی طرف کھینچوں، لیکن اگلی گولی میرے بازو پر لگی اور دوسری طرف سے پار ہو گئی۔ زخم سے خون ابل رہا تھا۔ درد کی لہریں میرے سر سے پاؤں تک دوڑ رہی تھیں۔ میں نے درد کی پروا کیے بغیر جوانوں کے ساتھ پہاڑی سے نیچے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ میں تھکا ہوا اور نڈھال ہو چکا تھا، اور بہتے ہوئے خون نے مجھے مزید کمزور کر دیا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور میں زمین پر بیٹھ گیا۔ ایک امدادی کارکن (پیرامیڈک) آیا اور اس نے میرے بازو کو مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ مزید خون نہ بہے، پھر زخم پر پٹی کر کے میرا ہاتھ میرے گلے میں لٹکا دیا۔

میں واپس تو آ رہا تھا، لیکن وہ واپسی بھی کیا واپسی تھی! میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا۔ ان شہیدوں کے جسدِ خاکی میری آنکھوں کے سامنے تھے جو پہاڑی کی چوٹی پر ہی رہ گئے تھے۔ میں تیار تھا کہ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں لیکن کوئی لاش وہاں نہ رہے۔ میں اپنے شہر کے بارے میں سوچ رہا تھا، اپنی واپسی کے بارے میں، شہیدوں کے والدین کی منتظر آنکھوں اور سوالیہ نظروں کے بارے میں۔ میں انہیں کیا جواب دیتا؟ کس منہ سے کہتا کہ میں خود تو واپس آگیا ہوں لیکن آپ کے جگر گوشے وہیں رہ گئے ہیں، انہیں لانا ممکن نہ تھا۔ زخمیوں کو بھی ہم ہزار مصیبتوں کے ساتھ لے کر آئے۔ ابھی ہم اس پہاڑی سے نیچے ہی اترے تھے کہ سامنے دریا آگیا۔ ہمیں مجبوراً ایک اور بلندی چڑھنا پڑی، پھر دریا پار کر کے واپس اسی جگہ پہنچے جہاں سے ہم نے گزشتہ رات اپنا سفر شروع کیا تھا۔

مجھے بالکل احساس نہ ہوا کہ ہم کب پہنچے۔ میں نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا، سفید پٹی خون سے سرخ ہو چکی تھی۔ دور سے مجھے آقا مہدی نظر آئے۔ میرا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ ان کے پاس جاؤں۔ میں نے سوچا کہ ان کے پاس سے ایسے گزر جاؤں جیسے میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں۔ میں ان سے ناراض بھی تھا اور شرمندہ بھی۔ وائرلیس پر میں نے ان سے بدتمیزی کی تھی، چلایا تھا اور نہ جانے کیا کیا کہہ دیا تھا۔۔۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا، میں خود کو روک نہ پایا۔ میں جیسے ہی قریب پہنچا، تو دیکھا کہ وہ جیسے میرا ہی انتظار کر رہے تھے تاکہ مجھے زندہ دیکھ سکیں۔ انہوں نے اپنی ساری تھکن اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لی جو ان کے لبوں پر سج گئی تھی۔ ان کے چہرے پر گرد و غبار کی ایک تہہ جمی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی تھکی ہوئی، بے خواب لیکن محبت سے بھرپور آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے شرم کے مارے اپنی نظریں زمین کی طرف جھکا لیں۔ انہوں نے بڑے پیار سے مجھے گلے لگا لیا، میری کمر تھپتھپائی اور میرے ماتھے کو چوما۔ میں آج بھی اس بوسے کی تپش محسوس کرتا ہوں۔ انہوں نے ایک شفیق باپ کے لہجے میں کہا: "شاباش! تم نے بہت اچھی مزاحمت کی۔ میں تم س بہت راضی ہوں۔" میں نے اپنا سر اٹھایا، میری نظریں دوبارہ ان کی نظروں سے ملیں؛ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔[2]

 

[1] عراق کے شہر 'پنجوین' پر مسلط بلندیاں۔

[2] قربانی، مہدی؛ "تنہا زیرِ باراں: شہید مہدی زین الدین کی زندگی کی داستان"، قم، انتشارات حماسہ یاراں، اشاعت دوم،2018، ص 218۔

 


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 2



http://oral-history.ir/?page=post&id=13372