(شعبان کے مہینے میں اٹھنے والی تحریک) علی تحیری کی زبانی

انتفاضہ شعبانیہ

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-07-14


عراق کی جغرافیائی سرحدیں چھ ممالک سے ملتی ہیں: ایران، سعودی عرب، ترکی، شام، اردن اور کویت۔ ان میں سے چار عرب اور دو غیر عرب ممالک ہیں۔ اس مخصوص دور میں، اردن کے علاوہ تقریباً تمام ہمسایہ ممالک کے عراقی حکومت کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہ تھے۔ اس دوران، چونکہ ایران، ترکی اور شام عراقی پناہ گزینوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ بنے ہوئے تھے—بالخصوص ایران، جس کے قیام کرنے والے مجاہدین کے ساتھ گہرے مذہبی اور جذباتی رشتے تھے اور جو عراقی حزبِ مخالف کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا—اس لیے ایران نے انتفاضہ کی خبروں اور عراقی عوام کی وحشیانہ سرکوبی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس دعوے کی سب سے بڑی دلیل ایرانی میڈیا میں انتفاضہ کی خبروں کی وسیع پیمانے پر کوریج ہے۔ روزنامہ 'کیہان' کے خبر نگار محمدیاعلی اور عکاس قدیر چین جو، یا روزنامہ 'جمہوری اسلامی' کے بیباک صحافی حسن خامہ یار کی رپورٹیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو جنگ کی خبروں کی کوریج کے لیے دیگر صحافیوں اور عکاسوں کے ہمراہ عراق گئے تھے اور ان کی تحریریں اس دور کے اخبارات کی زینت بنیں۔

کچھ صحافیوں نے عراق سے واپسی پر اپنے مشاہدات، اتحادی افواج کی جنگی حقیقتوں اور صدام کی فوج کے ہاتھوں عوامی تحریک کے بے رحمانہ کچلے  جانے کے واقعات کو پریس کانفرنسوں اور تصویری نمائشوں کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا۔ ان صحافیوں نے اپنے سفرناموں اور یاداشتوں میں عوامی انٹرویوز اور رپورٹوں کو یکجا کیا، جو اس دور کی سچی تصویر پیش کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ساتھ ہی شام اور ترکی کے ذرائع ابلاغ نے بھی عراقی عوام پر ہونے والے ظلم و ستم سے عالمی رائے عامہ کو آگاہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

درج ذیل اقتباس روزنامہ 'جمہوری اسلامی' کے نامہ نگار کی اس مفصل رپورٹ کا خلاصہ ہے جو انہوں نے ہمیں فراہم کی:

"میں نے عراقی وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں کی نظروں سے بچ کر جب عام لوگوں سے گفتگو کی، تو مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ صدام حکومت کے ظلم و ستم سے شدید تنگ آ چکے ہیں۔ بغداد، کاظمین، نجف، کوفہ اور سامرا کے گلی کوچوں میں جب لوگوں کو معلوم ہوتا کہ ہم ایرانی صحافی ہیں، تو وہ گرمجوشی سے ہمارا خیرمقدم کرتے اور اہلکاروں کی نظریں بچا کر صدام کے اقدامات اور موجودہ صورتحال پر اپنی گہری ناراضگی کا اظہار کرتے۔

اس مشن کے دوران ہم نے جنگی واقعات، کویت میں عراقی فوج کی عبرتناک شکست اور عوامی انتفاضہ کی زیادہ تر خبریں عوامی ذرائع سے ہی حاصل کیں۔ نجف اشرف کے سفر کے دوران جب ہم بابل کے صوبے سے گزرے—جہاں بغداد-بصرہ ہائی وے کا ایک حصہ واقع ہے—تو ہم نے دیکھا کہ کویت کے میدانِ جنگ سے فرار ہونے والے عراقی فوجیوں اور جنگی ساز و سامان سے لدے ٹرکوں کی طویل قطاریں ایک شکست خوردہ لشکر کی طرح سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑی تھیں۔

ایک مرتبہ میں نے وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں کو بتائے بغیر، ایک گمنام مسافر کی حیثیت سے ٹیکسی کے ذریعے بغداد سے کربلا جانے کا فیصلہ کیا۔ ٹیکسی میں فوج کے تین افسر بھی سوار ہوئے۔ وہ افسران پورے راستے صدام کو سخت برا بھلا کہتے رہے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا: "آخر اس کم بخت نے یہ کیا کیا؟ (اشارہ کویت پر قبضے کی طرف تھا) کیا ایران کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ کافی نہیں تھی کہ اب کویت پر قبضہ کر لیا؟" دوسرے افسر نے جواب دیا: "صدام کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے، وہ اب چند دنوں کا مہمان ہے"۔

ٹیکسی ڈرائیور نے افسران سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں اگلا اقتدار کس کا ہوگا؟ ایک افسر نے کہا کہ ممکن ہے عراق میں دوبارہ بادشاہت قائم ہو جائے اور سابق وزیراعظم صالح جبر کا بیٹا "سعد" اقتدار سنبھالے۔ دوسرے افسر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا: "مجھے نہیں لگتا ایسا ہوگا۔ جنوب سے جو خبریں آ رہی ہیں، ان کے مطابق عوام اور قبائل سید محمد باقر حکیم کی حمایت کر رہے ہیں۔ جنوب اور شمال میں اٹھنے والے  لوگ سید حکیم کی تصاویر ہاتھوں میں تھامے اسلامی نعرے لگا  رہے ہیں"۔

فوجی افسران کی گفتگو سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ "شہیدِ محراب" آیت اللہ سید محمد باقر حکیم اپنے ملک سے دور ہونے کے باوجود عراق کے تمام طبقات میں ایک جانی پہچانی اور ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ اور حقیقت بھی یہی تھی۔ جب امریکیوں نے عراقی عوام کے انقلابی نعرے اور مطالبات سنے، تو وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئے کہ کہیں عراق کے حالات ان کے ہاتھ سے نہ نکل جائیں یا وہاں ایران کی طرز پر کوئی "اسلامی جمہوریہ"قائم نہ ہو جائے جو ایران کا اتحادی بن سکے۔ اسی خوف کے پیشِ نظر انہوں نے صدام کو اس عوامی انتفاضہ کو کچلنے کا گرین سگنل  دے دیا۔ امریکہ سے ہری جھنڈی ملتے ہی عراقی صدارتی گارڈز (ریپبلکن گارڈز) نے بھاری ہتھیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نہتے عوام کا بے رحمانہ قتل عام کیا..."

اس سفر کے دوران بعض عرب صحافیوں نے ایرانی صحافیوں سے گفتگو میں یہ سوال بھی کیا کہ ایران، امریکہ اور عراق کی جنگ میں امریکہ کے مقابلے میں (عراق کا) دفاع کیوں نہیں کر رہا" علاوہ ازیں، یہ سوال کہ ایران ایسی صورتحال میں آیت اللہ حکیم کی حمایت کیوں کر رہا ہے جب عراق پر امریکہ کی فوجی جارحیت جاری ہے؟ ان سوالات اور اعتراضات کے جواب میں میں نے کہا کہ کویت پر قبضے کے معاملے میں عراقی حکومت امریکی فریب کا شکار ہوئی تھی۔ کویت پر حملہ ایک ایسا جال تھا جس میں امریکیوں نے صدام حکومت کو پھنسایا تھا۔ کویت کی آزادی کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ صدام حکومت نے امریکہ کے سامنے سفید جھنڈا لہرا دیا (ہتھیار ڈال دیے)۔ امریکی حملوں میں عراق کی بجلی و پانی کی تنصیبات، مواصلاتی نظام، ٹیلی فون ایکسچینج، پل اور فوجی چھاؤنیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں۔

بغداد میں موجود عراقی حکام، جو کویت کی سرحدی چوکی 'صفوان' پر امریکی فوجی کمانڈروں سے مذاکرات کر رہے تھے، اپنے ہی فوجی کمانڈروں سے رابطے کے لیے مجبور تھے کہ رات کے وقت غیر ملکی صحافیوں کی ملاقات گاہ " الرشید ہوٹل" میں آئیں اور وہاں فلسطینی نیوز ایجنسی (وفا) کے سیٹلائٹ فون کے ذریعے مذاکرات کے نتائج معلوم کریں۔ میں نے یہ جاننے کے لیے کہ ان کے درمیان کیا ہو رہا ہے اور کن موضوعات پر بحث جاری ہے، ان عراقی حکام کے قریب رہنے کی کوشش کی جن میں سے ایک اقوامِ متحدہ میں عراق کے سابق مستقل مندوب تھے۔ عراقی حکام اور صفوان میں موجود فوجی کمانڈروں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے میرے لیے یہ بات یقینی ہو گئی کہ امریکیوں نے بعثی حکومت کو گرین سگنل دے دیا ہے کہ وہ عوامی انتفاضہ (قیام) کو سختی سے کچل دے، اور پھر ایسا ہی ہوا۔۔۔

ان دنوں ہم جہاں بھی جاتے، آیت اللہ سید محمد باقر حکیم کا نام اور ذکر زبان زد عام تھا۔ عوامی قیام کو ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ عراق کی وزارتِ اطلاعات نے غیر ملکی صحافیوں سے کہا کہ وہ جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔ جب ہم نے اس کی وجہ پوچھی تو ایک گائیڈ نے مجھ سے کہا: "حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور عراقی حکومت آپ کی جان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی"۔ میں نے فوری طور پر ایران واپسی کا فیصلہ کیا۔

واپسی پر جب ہم 'خانقین' شہر کے قریب پہنچے تو شہر کے داخلی راستے کی مرکزی سڑک اور فوجی گورنر ہاؤس کے اطراف میں کئی ٹینک تعینات تھے۔ فضا میں ایک ہیلی کاپٹر گشت کر رہا تھا اور شہر کی صورتحال غیر معمولی تھی۔ میں نے ایک سیکورٹی اہلکار سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے اور شہر میں کیا چل رہا ہے؟ اس نے تند و تیز لہجے میں جواب دیا: "کیا نہیں ہوا ہے؟ ٹھہریں، میں ابھی چند منٹوں میں آپ کو دکھاتا ہوں"۔ جب ہم خانقین میں داخل ہوئے تو وہ "بھوتوں کے شہر" کا منظر پیش کر رہا تھا۔ شہر میں کوئی جاندار حرکت کرتا دکھائی نہیں دے رہا تھا، بس ان لوگوں کی لاشیں سڑکوں اور چوکوں میں بکھری پڑی تھیں جنہوں نے ایک دن پہلے بعثی حکومت کے خلاف قیام کیا تھا۔ مقتولین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں کچرا اٹھانے والے ٹرکوں کے ذریعے جمع کیا جا رہا تھا اور ان کے ہاتھ پاؤں ٹرکوں سے باہر لٹک رہے تھے۔ وہ سیکورٹی افسر جو ہمیں یہ دلخراش مناظر دکھا رہا تھا، اس عوامی قیام اور حکومت کے خلاف بغاوت کا ذمہ دار آیت اللہ سید محمد باقر حکیم کو قرار دے رہا تھا۔"[1]

 

[1] میردار، مرتضی؛ "جدوجہد، علی تحیری کی زبانی" (مبارزہ بہ روایت علی تحیری)، ایڈیٹر: شیما آشتیانی، نشر ایران، 2023ء، ص 270۔


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 2



http://oral-history.ir/?page=post&id=13370