ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی
فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ
2026-05-16
مختلف فوجی کورسز کی تکمیل اور متعدد فنون میں مہارت حاصل کرنے کے بعد، میں نے ایک عسکری ماہر کی حیثیت سے کئی مشقوں اور آپریشنز میں حصہ لیا۔ انہی میں سے ایک واقعہ 1961 کا ہے، جب اصلاحات کے پہلے وزیر اور شاہ کے نمائندے انجنیئر ملک عابدی کو شیراز شہرسے فیروز آباد کے راستے میں قتل کر دیا گیا تو اس واقعے کے بعد شاہ نے علاقے میں فوجی مشقوں کا حکم دیا۔ اس مقصد کے لیے تہران سے فوج کے پیرا شوٹ یونٹس کی ایک ٹیم شیراز بھیجی گئی، جس میں مَیں بھی شامل تھا۔
شیراز شہر پہنچتے ہی مجھے حکم دیا گیا کہ میں "آفیسرز کلب" چلا جاؤں جبکہ باقی ٹیم 28 ویں رجمنٹ میں جائے گی۔ میں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم سب ایک ساتھ آفیسرز کلب میں قیام کرنا چاہتے ہیں۔ اس بار حکام نے مخالفت کی اور کہا کہ یہ حکم حکام بالا کی جانب سے ہے اور اس کی تعمیل لازمی ہے۔ میں نے سب کے ساتھ رہنے پر اصرار جاری رکھا، تو آخر کار انہوں نے کہا: "ٹھیک ہے، پھر تم سب کے سب 28 ویں رجمنٹ چلے جاؤ۔" (واضح رہے کہ 28 ویں رجمنٹ کی وہ جگہ پہلے اصطبل کے طور پر استعمال ہوتی تھی)۔
ہم نے تقریباً 10 سے 15 دن وہاں فوجی مشقوں کی ریہرسل کی، یہاں تک کہ شاہ اس ایریا میں پہنچا اور مشقوں کا آغاز ہوا۔ اس آپریشن کے دوران، میں نے "فوگیس" (Fougasse) کا مظاہرہ کیا جو دھماکہ خیز مواد اور تخریب کاری میں میری مہارت سے متعلق تھا۔ چونکہ کتاب کے زیادہ تر قارئین شاید "فوگیس" کے بارے میں نہیں جانتے، اس لیے میں تھوڑی وضاحت کرتا چلوں:
فوگیس آپریشن میں پیٹرول کو بڑے ڈرموں میں رکھا جاتا ہے اور اسے اس طرح دھماکے سے اڑایا جاتا ہے کہ آگ کے شعلے رنگین اور خوبصورت حلقوں کی صورت میں آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ یہ جتنا خوبصورت منظر ہوتا ہے، اتنا ہی خطرناک بھی ہے۔ اس مشق کے دوران میرا ہاتھ زخمی ہو گیا اور میری وردی کی آستین کا ایک حصہ بھی پھٹ گیا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جنگی مشق والے دن ہم افسران ایک قطار میں کھڑے تھے تاکہ شاہ ہماری سلامی لے۔ صف میں پہلے نمبر پر میجر خسروداد (جو بعد میں میجر جنرل بنے)، دوسرے نمبر پر میجر غفاری (جو بعد میں میجر جنرل بنے) اور تیسرے نمبر پر میں تھا۔ شاہ کے ساتھ جنرل آریانا (جو اس وقت تازہ تازہ میجر جنرل بنے تھے) اور بریگیڈیئر حجت کاشانی بھی تھے۔ جب شاہ میرے سامنے پہنچا تو پوچھا: "تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا؟" میں نے جواب دیا: "درخت سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہو گیا ہے۔" پھر اس نے میرے کام اور جنگی مشق میں میری ذمہ داری کے بارے میں پوچھا۔ میں نے جواب دیا: "آپ نے جو فوگیس آپریشن دیکھا، جو ایران میں پہلی بار ہوا ہے، وہ میرا کام تھا۔" شاہ مسکرایا اور کہا: "بہت اچھا آپریشن تھا، واقعی شاندار تھا۔" پھر اس نے اپنے ہمراہیوں کو حکم دیا کہ انعام کے طور پر مجھے دو امریکی وردیاں اور دو ماہ کی مکمل تنخواہ دی جائے۔ اس وقت میرا رینک سیکنڈ لیفٹیننٹ تھا۔
شاہ جب ہم سے تھوڑا دور ہوا، تو اس نے جنرل حجت کاشانی سے پوچھا: "ان پیرا شوٹرز کے کھانے پینے اور رہائش کی کیا صورت حال ہے؟" حجت کاشانی نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ یہ سب آفیسرز کلب میں مقیم ہیں اور ان کی بہت اچھی خاطر تواضع کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے شاہ کی خوشامد شروع کر دی۔ مجھ سے اب مزید رہا نہ گیا، میں نے ہاتھ اٹھایا اور کہا: "قربان! آپ سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔"
شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"
شاہ یہ سن کر اس قدر آگ بگولہ ہوا کہ اس نے سلامی کی تقریب وہیں ادھوری چھوڑ دی اور سیدھا اپنے جہاز کی طرف چلا گیا تاکہ تہران روانہ ہو سکے۔ ابھی شاہ نے جہاز کی سیڑھیوں پر قدم رکھا ہی تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ میرا فوجی بیلٹ، جس کے ساتھ میری پستول بندھی تھی، کھول دیا گیا۔ پھر میری قمیض اتار دی گئی۔ اس کے بعد چار پانچ مسلح اہلکار مجھے اسی بنیان کی حالت میں شیراز شہر کی "عادل آباد" جیل لے گئے، جو جنگی مشق کے ایریا سے 150 کلومیٹر دور تھی۔ وہ مجھے ایک کامیاب مشق کے میدان سے سیدھا جیل لے گئے، بغیر یہ پوچھے کہ اصل قصہ کیا تھا اور ہمارے ساتھ کیا بیت رہی تھی۔
میں نے دو تین ماہ شیراز کی عادل آباد جیل میں گزارے، یہاں تک کہ میرے ایک رشتہ دار کی مداخلت پر، جو ملٹری سروس کے محکمے کے سربراہ تھے، میں رہا ہوا اور تہران واپس آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد فوج میں ایک سرکلر (بخش نامہ) جاری کیا گیا جس میں سپاہی سے لے کر کمانڈر تک تمام اہلکاروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ: "جب بھی اعلیٰ حضرت آپ سے کوئی سوال پوچھیں، تو آپ کا جواب صرف "یس سر" یا "نو سر" تک محدود ہونا چاہیے۔ کسی کو بھی اضافی وضاحت دینے کا حق نہیں ہے۔" درحقیقت اس سرکلر کا مقصد یہ تھا کہ فوج کے اعلیٰ ترین افسر کے علاوہ کسی کو بھی شاہ سے بات کرنے یا حقیقت بتانے کی اجازت نہ رہے۔
میں اپنی نوجوانی سے ہی واقعی آرمی کی وردی کا دلدادہ تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ یہ مقدس لباس پہن کر میں اپنے وطن، دین اور اپنی قوم کی خدمت کر سکتا ہوں، آج بھی میری سوچ یہی ہے، اگرچہ عمر کافی گزر چکی ہے لیکن اس وردی سے میرا عشق آج بھی زندہ ہے اور اس شعبے میں رہ کر خدمت کرنے کے جذبے سے میں آج بھی سرشار ہوں۔ لیکن آج کے زمانے اور اس دور میں فرق زمین آسمان کا ہے؛ میں اس وقت یہ سمجھتا تھا کہ یہ فوجی وردی ایک مقدس لباس ہے جسے پہن کر انسان کو ایک قوم، ایک ملک کی حرمت اور اس کے لوگوں کی عزت و وقار کا دفاع کرنا چاہیے۔ شیراز شہر کی اس مشق اور شاہ کے ردِعمل سے پہلے تک میرے ذہن میں یہی تصور اور یقین راسخ تھا۔
میں فوج میں اپنے کام کو اس قدر قیمتی اور اہم سمجھتا تھا کہ جب شاہ نے میرے ہاتھ کے زخمی ہونے کی وجہ پوچھی، تو میں نے اسے اصل وجہ بتانا پسند نہ کی (یعنی یہ کہ دھماکہ خیز مواد نصب کرتے وقت میں زخمی ہوا تھا)۔ میں نے بس اتنا کہا کہ درخت سے گر کر چوٹ لگی ہے، یہاں تک کہ شاہ نے جو مجھے دو ماہ کی تنخواہ اور دو عدد امریکی وردیوں کا انعام دیا، میرے لیے اس کی ذرہ برابر بھی اہمیت نہ تھی، کیونکہ میں اپنا کام اپنے ملک اور عوام کے لیے کر رہا تھا۔ البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ انعام خود شاہ کے لیے بہت بڑی چیز تھا۔ اس نے "امریکی" کا لفظ اتنے فخر اور زور دے کر ادا کیا جیسے میرے لیے امریکی وردی پہننا بہت بڑی سعادت اور اعزاز کی بات ہو۔
شاہ کی اخلاقیات اور ذہنیت بڑی عجیب تھی۔ وہ تنقید سننے کا بالکل عادی نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے اردگرد موجود لوگ اسے مسلسل جھوٹ بول کر خوش رکھتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولنے پر کسی کو سزا نہیں دیتا تھا، لیکن سچ بولنے یا تنقید کرنے پر ضرور سزا دیتا تھا۔ جب اس نے سنا کہ جنرل آریانا نے ہماری رہائش اور کھانے کے بارے میں جھوٹ بولا ہے اور میں نے اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے، تو جھوٹے شخص کی گرفت کرنے کے بجائے اس نے تنقید کرنے والے کو(یعنی مجھے) جیل میں ڈال دیا۔ جیسا کہ میں نے بتایا، وہ میری بات سے اس قدر بپھر گیا کہ سلامی کی تقریب ادھوری چھوڑ کر جہاز میں بیٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔
خیر، اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ مجھے فوج کی ایک 'ڈوج' گاڑی میں ڈال کر جیل منتقل کر دیا گیا۔ کسی بھی دوسرے ملزم کی طرح میری بھی یہی توقع تھی کہ مجھ پر فردِ جرم عائد کی جائے گی اور مجھے بتایا جائے گا کہ میرا جرم کیا ہے، تاکہ میں اپنا دفاع کر سکوں۔ میں چاہتا تھا کہ ایک انسان ہونے کے ناطے مجھے انصاف کے تقاضوں کے مطابق اپنی صفائی دینے کا حق دیا جائے۔ لیکن نہ تو کسی نے میرے جرم کے بارے میں بات کی اور نہ ہی کوئی مجھ سے مخاطب ہوا۔ وہ 150 کلومیٹر کا پورا راستہ خاموشی میں کٹا۔
جب ہم جیل پہنچے، تو نہ مجھ پر تشدد ہوا اور نہ ہی پوچھ گچھ کی گئی۔ لیکن ان دو ماہ اور چند دنوں کے دوران، جو میں نے جیل میں گزارے، کسی سنتری یا تفتیشی اہل کار نے مجھ سے ایک لفظ نہ کہا۔ ایسا لگتا تھا جیسے میں کوئی کوڑھی ہوں جس سے سب کو دور رہنا چاہیے۔ مجھے پورے وقت کے لیے تین ضرب چار میٹر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہائی (Solitary confinement) میں رکھا گیا۔ ایک دن جب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، تو میں نے ایک کپتان سے جیل والوں کے اس رویے کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا: "کوئی مجھ سے بات کیوں نہیں کرتا؟ مجھے بتاتے کیوں نہیں کہ میرا جرم کیا ہے کہ مجھے یہاں لایا گیا ہے؟" اس کپتان نے ادھر ادھر دیکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کہا: "تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ تم نے کیا کیا ہے؟" میں نے لاعلمی میں سر ہلایا۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "یہاں جو بھی آتا ہے، اس کے کاغذات پر اس کا جرم لکھا ہوتا ہے۔ کسی کے لیے چوری، کسی کے لیے لڑائی جھگڑا، لیکن تمہارے کاغذ پر لکھا ہے: اعلیٰ حضرت کے قلبِ مبارک کو رنجیدہ کرنے کے جرم میں!"
یہ خبر میرے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھی۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ محض ایک حقیقت بیان کرنے پر "اعلیٰ حضرت" کا دل کیوں دکھ گیا۔ میں نے خود کو بہت حقیر اور مظلوم محسوس کیا۔ لیکن آج جب میں اس واقعے کے بارے میں سوچتا ہوں، تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں؛ کیونکہ وہی ذہنی جھٹکا میری زندگی پر اللہ کے عظیم احسانات میں سے ایک تھا۔ وہیں میں نے خود سے سوال کیا: "بھئی! تو فوج میں کیوں آیا تھا؟ تیرا مقصد کیا تھا؟ کیا یہ راستہ تیرے اس مقصد اور سوچ کے مطابق ہے؟"
اور میرے ذہن میں "نہیں" کے علاوہ کوئی جواب نہ آیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے اس وردی کے لیے میری محبت ختم ہو گئی۔ اب وہ لباس میرے لیے مقدس نہیں رہا تھا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ فوجی وردی صرف تب مقدس ہوتی ہے جب وہ خدا، دینِ خدا اور عوام کی خدمت میں ہو، نہ کہ کسی ایسے آمر کی خدمت میں جو اپنے اردگرد کی حقیقتوں کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہ رکھتا ہو۔
جیسا کہ میں نے ذکر کیا، اپنے ایک قریبی عزیز (جو ملٹری سروس کے محکمے کے سربراہ تھے) کی سفارش پر میں جیل سے رہا ہو گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں دوبارہ فوج میں واپس آیا، تو بہت سے لوگ مجھ سے کہنے لگے: "بھیا! تو نے اپنے ساتھ بہت برا کیا۔ اب تو تو جرنیل بننے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔" میں ہر بار مسکرا کر کہتا: "میرے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں"۔ کبھی کبھی جب میں زیادہ بے تکلف ہوتا تو کہہ دیتا: "مجھے توقع تھی کہ شاہِ مملکت سچائی بیان کرنے پر میری جرأت کی داد دیں گے، نہ یہ کہ محض تنقید کرنے کی پاداش میں مجھے جیل بھیج دیا جائے۔ آخر ایک بادشاہ کیوں کر ملکی مسائل سے اس قدر لاتعلق ہو سکتا ہے؟!میں نے سوچا تھا کہ وہ مجھ سے وضاحت طلب کریں گے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔" [1]
[1] مرتضیٰ میردار، "جدوجہد، علی تحیری کی زبانی" (مبارزہ به روایت علی تحیری)، ایڈیٹر: شیما آشتیانی، نشر ایران، 2023 (1402 ہجری شمسی)، صفحہ 29۔
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 4
http://oral-history.ir/?page=post&id=13282
