ماموستا 67
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-05-16
کاک احمد مفتی زادہ صاحب اور ماموستا شیخ جلال حسینی کا پاوہ کا دورہ
(دوسرا حصہ)
کُردستان ڈیموکریٹک پارٹی کا دفتر، پیٹرول پمپ کے سامنے الیاسی صاحب کے گھر میں واقع تھا۔ پہلے وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر گئے۔ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر کے دروازے تک ان کے ساتھ گیا لیکن دفتر کے اندر نہیں گیا۔ اگرچہ دفتر کے باہر پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ میری سلام دعا تھی اور کبھی کبھار ہم سیاسی امور پر گفتگو بھی کرتے تھے، لیکن ہمارا ایک دوسرے کے دفتر میں آنا جانا نہیں تھا۔ ماموستا شیخ جلال صاحب کا مجھے دفتر کے اندر لے جانے کا اصرار بے سود تھا۔ میں قریب آدھے گھنٹے تک دروازے کے پاس ان کا منتظر رہا یہاں تک کہ ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنان کے ساتھ ملاقات ختم ہوئی اور اس کے بعد ہم ساتھ میں آستانۂ خالصی کے پیچھے، شریفی صاحب کے گھر میں واقع مدرسۂ قرآن کے دفتر گئے۔ مدرسۂ قرآن جس کا نام تبدیل ہو کر جمعیت طرفداران حکومت قرآن ہوچکا تھا، اس کے بیس سے زیادہ سرگرم کارکن دفتر میں شیخ صاحب کی آمد کے منتظر تھے۔ ہم نے ایک بڑے پردے پر ایک نعرہ لکھ کر دفتر میں لگایا ہوا تھا، جو لوگوں کے دفتر کے اندر داخل ہوتے ہی ان کی توجہ کا مرکز بن جاتا تھا: ’’خدا ایک، رہنما ایک، وطن ایک۔‘‘
جیسے ہی شیخ صاحب نے ہمارے دفتر میں قدم رکھا، ان کی نظر اس نعرے پر پڑی تو انہوں نے غصے سے کہا: ’’کس نے کہا خدا ایک ہے؟ کس نے کہا کہ رہنما اور وطن ایک ہے؟‘‘
میں نے بہت آرام سے کہا: ’’ماموستا یعنی ایک سے زیادہ خدا، وطن اور رہنما ہیں؟!‘‘
انہوں نے کہا: ’’کسی بھی طرح سے ہمارا اور عجمیوں کا خدا اور وطن ایک نہیں ہے۔‘‘
افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے کچھ اور بھی کہا، لیکن چونکہ وہ میرے استاد تھے، اس لیے میں اس بات کو بیان کرنے سے اجتناب کر رہا ہوں۔ جب ماموستا شیخ جلال حسینی ہمارے دفتر میں داخل ہوئے تو جس طرح ہماری جمعیت میں سے کوئی بھی رکن، ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر میں داخل نہیں ہوا تھا، ان کی پارٹی کا بھی کوئی کارکن ان کے ساتھ اندر داخل نہیں ہوا۔ پاوہ شہر کے حامیوں اور حریفوں سے ملاقات اپنے اختتام کو پہنچی۔ وہ مریوان جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے رخصت ہوتے وقت کہا: ’’ملا قادر! میں مریوان جاتے ہوئے، نوسود سے ہوتے ہوئے جانا چاہتا ہوں۔‘‘
وہ نوسود میں تقریر کے بعد، دالانی سے ہوتے ہوئے، دزلی اور وہاں سے مریوان کے لیے روانہ ہونا چاہتے تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ پاوہ کے خارجی راستے یعنی نوریاب گاؤں تک ان کے ساتھ جاؤں گا۔ میں نے انہیں نوریاب میں ہمارے گھر میں ٹھہرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا: ’’میں نہیں رک سکتا، میں نے نوسود میں وعدہ کر رکھا ہے۔‘‘
میں نے کہا: ’’میں نوریاب تک آپ کی خدمت میں ہوں۔‘‘
وہ میری باتوں سے کچھ رنجیدہ ہوگئے اور کہنے لگے: ’’یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ تم اپنے گھر کے پاس مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور مجھے اکیلا کردو۔‘‘
میری حیا اور وفاداری نے مجھے ان کی بات ماننے پر مجبور کردیا اور میں کاؤنٹی کی سرحد تک ان کے ساتھ جانے پر مجبور ہوگیا۔ غروب آفتاب کے قریب ہم نوسود کے لیے روانہ ہوئے۔ نوسود کے راستے میں، ہم کُمَدرہ[1] گاؤں سے گزر رہے تھے کہ ہمارا سامنا عراقی کُردستان میہنی اتحاد کے کمیونسٹ دھڑے کے گوریلا جنگجوؤں کے ایک گروہ سے ہوا، جو پاوہ جا رہے تھے۔ ماموستا صاحب شاید پہلے ہی سے آمادہ تھے، وہ گاڑی سے اترے اور انہوں نے ایک ایک کر کے ان سب سے ہاتھ ملایا اور گرم جوشی سے ان کے بوسے لیے۔ میں جانتا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ گوریلا جنگجوؤں کے چہرے، حلیہ اور مونچھیں بتا رہی ہیں کہ وہ کمیونسٹ ہیں۔ گاڑی میں واپس بیٹھتے وقت میں ان کے اس عمل سے ناراض ہوا اور میں نے حیرت سے ان سے کہا: ’’آپ ایک مذہبی شخصیت ہیں۔ آپ نے ان کمیونسٹ لوگوں کی مونچھوں کا بوسہ کیوں لیا؟‘‘
ماموستا شیخ مسکرائے اور انہوں نے یہ کہہ کر کہ ’’پریشان مت ہو، ہمارا اور ان کا مقصد ایک ہی ہے۔‘‘، اس معاملے کی یوں وضاحت کی: ’’فی الحال کُردوں کے حقوق کا معاملے دوسرے تمام معاملات پر مقدم ہے۔‘‘
نماز عشاء کے قریب، ہم نوسود پہنچے۔ نوسود کے چھوٹے سے شہر کے باسی، احمد سلطان مسجد میں جمع تھے اور ہمیں دیکھتے ہی ہمارے استقبال کے لیے آگئے۔ شیخ جلال کے خطاب سے قبل، شیخ مختار نامی ایک نقشبندی شیخ آئے اور انہوں نے اسلامی جمہوریہ کے بانی کے خلاف ایک سخت تقریر کرکے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرکے، جلسے کے ماحول کو خراب کردیا؛ اس طرح سے کہ اکثر شرکاء ان کی تقریر پر برہم ہوئے۔ مجھ جیسے لوگ، اس جذباتی مجمع میں کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے۔ میں ماموستا کے برابر میں بیٹھا ہوا تھا اور میں صرف ماموستا سے ہی اپنی ناراضگی کا اظہار کرسکتا تھا: ’’جناب ماموستا، طے تھا کہ میں، دزلی کی سرحد تک آپ کے ساتھ چلوں گا۔ میں پاوہ میں آپ کی تقریر پر برہم تھا اور یہاں بھی آپ نے کچھ ایسا کردیا ہے کہ اب میں مزید آپ کے ساتھ آگے نہیں جاسکتا اور اس کے باوجود کہ استاد کی حیثیت سے آپ کا مجھ پر حق ہے، میں آپ سے رخصت ہو رہا ہوں۔‘‘
جناب ماموستا شیخ جلال کی تقریر شروع ہونے سے پہلے ہی، میں لوگوں کے بیچ سے اٹھا اور مسجد سے باہر نکل گیا۔ میں نے بڑی مشکل سے ٹیکسی کی اور نوریاب لوٹ آیا۔ پاوہ کاؤنٹی اور اورامانات کے علاقے میں اس آمد و رفت اور اسی طرح تمام تر خدشات کے باوجود، کاؤنٹی میں آزاد خیالی کا ایک اچھا ماحول تھا، کوئی بھی کسی دوسرے کے حق پر دست درازی نہیں کرتا تھا اور سبھی کو اپنے عقاید اور سیاسی رائے کے اظہار کی پوری آزادی تھی اور لوگ ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے اور لوگوں کی توہین کسی بھی طرح قابل برداشت نہیں تھی۔
ان دنوں، میں دن کے وقت پاوہ آجاتا تھا اور غروب آفتاب تک پاوہ میں رہتا تھا اور غروب آفتاب کے وقت اپنے پیدائشی علاقے، نوریاب گاؤں لوٹ جاتا تھا۔ میری پاس کوئی گاڑی بھی نہیں تھی، اور عام طور پر میں روزانہ یہ چند کلومیٹر پیدل ہی جانا آنا کرتا تھا۔ ایک دن میں شام کو اپنے گاؤں لوٹ رہا تھا۔ ہلال احمر چورنگی پر ایک جیپ میرے پاس آکر رکی۔ اس کا ڈرائیور، ڈیموکریٹک پارٹی کا رکن اور نوریاب گاؤں کا باسی، محمد امین نادری تھا اور اس کا گھر ہمارے گھر کے پاس تھا۔ اس نے کمر پر کارتوس بیلٹ باندھی ہوئی تھی اور وہ کلاشنکوف سے لیس ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور کچھ کہے بغیر اس نے زبان بے زبانی سے مجھے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کی پیشکش کی۔ پہلے میں نے اجتناب کیا لیکن اس کے کافی دیر تک رکے رہنے کو میں نے ایک طرح کا اصرار سمجھا اور میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ نوریاب گاؤں تک میرے اور اس کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے گھر کا راستہ لیا اور خدا حافظ کہے بغیر ہی ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ اس ملاقات سے کچھ عرصہ قبل، وہ میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھ سے گلا کیا تھا کہ: ’’ماموستا! مجھے آپ سے بہت امید تھی۔ آپ جاف(قبیلہ) ہیں۔ مجھے توقع تھی کہ آپ وراء یا شمشیر گاؤں میں جاف کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘
میرے پاس اس کے لیے بس یہی جواب تھا: ’’اس سے پہلے کہ میں کُرد زبان کے بارے میں سوچوں، میرے لیے اسلام اہم ہے۔ میں سب کا احترام کرتا ہوں؛ چاہے جاف ہو یا ہورامی۔ میں گاؤں کا امام جماعت اور امام جمعہ ہوں، جاف بھی میرا بھائی ہے اور ہورامی بھی۔‘‘
ڈیموکریٹک پارٹی کے اکثر کارکن مسلح ہونے کے علاوہ، آزادانہ طور پر شہر میں ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور سرعام، نوجوانوں کو فوجی تربیت کے لیے بھرتی کرنے اور انہیں مسلح کرنے میں لگے رہتے تھے۔ اسلحے اور گولہ بارود کی طرح، کتابوں اور رسالوں کا بازار بھی گرم تھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ، دوسرے گروہ بھی غیر یقینی صورتحال، حکومت اور اجتماعی قوت کے نہ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات کی ترویج کر رہے تھے اور کسانوں کی حمایت کا نعرہ لگا رہے تھے۔ ان تمام افراد ان تمام جماعتوں اور نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے ان تمام پرپیگنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لیے، مدرسۂ قرآن کے اراکین کی جانب سے ہم، دن رات علاقے کے واقعات پر نظر رکھتے تھے اور تقریب کے انعقاد، اعلامیوں اور رسالوں کی اشاعت کے ذریعے ان زہریلے پروپیگنڈوں کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
صارفین کی تعداد: 4
http://oral-history.ir/?page=post&id=13281
