زبانی تاریخ کی وثاقت؛ امکان سے ضرورت تک

ڈاکٹر ابوالفضل حسن آبادی

ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-05-09


 مقدمہ

ہم عصر تاریخ میں "زبانی تاریخ" کو بطورِ ماخذ استعمال کرنا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ زبانی تاریخ پر کام کرنے والوں اور اسے بطورِ حوالہ استعمال کرنے والوں کے درمیان اس کی وثاقت پر بحث جاری رہتی ہے۔ عالمی سطح پر "زبانی تاریخ" کے معیارات اور IRIB (ایران کے نشریاتی ادارے) کے وضع کردہ اصول، دراصل انہی اعتراضات کا جواب دینے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ تحریری دستاویزات (سند شناسی) کے مطالعے اور "زبانی تاریخ" کے درمیان ایک دو طرفہ تعلق پایا جاتا ہے۔ دستاویزات کی پہچان میں "سند شناسی" کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ علم ہے جو دستاویز کی اصلیت اور اس کی ساکھ کی تصدیق کرتا ہے۔ کسی بھی دستاویز پر تحقیق کے لیے اس کے ظاہری اور متنی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔

دستاویز کے ظاہری مطالعے کی صلاحیت فراہم کرنے والے علم کو "سند شناسی" کہتے ہیں۔ یہ علم دستاویزات کے بننے کے عمل، ان کے اصولوں اور اندرونی و بیرونی ساخت کا تجزیہ کرتا ہے۔ ماہرِ تعلیم 'ہردے' (Herde) کے مطابق، "سند شناسی" دستاویزات کے مطالعے کا علم ہے،(Herde,2017:1)۔ اس علم کی حقیقت دستاویز کے اندرونی روابط کو تلاش کرنا ہے، جو اسے دستاویز کو سمجھنے اور اسے ترتیب دینے کا ایک قیمتی ذریعہ بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر وہاں جہاں دستاویز کی تخلیق پر ہمارا کنٹرول نہ ہو، وہاں یہ اندرونی نمونوں کی شناخت کے ذریعے دستاویز کے پیغام اور اس کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے مادی ڈھانچے سے اس کا تعلق واضح کرتا ہے۔(Duranti, 199,3/6)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم زبانی تاریخ کو معتبر اور موثق بنانے کے لیے "سند شناسی" کے اصولوں کا سہارا لے سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو اس کے اندرونی اور بیرونی اجزاء کون سے ہیں؟ زبانی تاریخ میں "اصلیت اور وثاقت" سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کے لیے کوئی خاص معیار مقرر کیا جا سکتا ہے؟ تحریری اور غیر تحریری دستاویزات میں وثاقت کا تصور مختلف ہوتا ہے۔ تحریری دستاویزات میں اس کا منبع، اسے تیار کرنے والا فرد، مقام، وقت اور علمی مواد اس کی اصلیت جانچنے کے لیے اہم ہوتے ہیں تاکہ جعل سازی اور دھوکہ دہی کا پتا لگایا جا سکے۔ (حسن آبادی، 2023: 112)

زبانی تاریخ میں اصلیت اور وثاقت کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہاں مواد کو معتبر بنانے میں وہ تمام مراحل شامل ہیں جن کے تحت انٹرویو کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے، اسے ترتیب دیا جاتا ہے، اسے محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر شائع کیا جاتا ہے۔ یہ عمل بعض جگہوں پر جانچ پڑتال کے قابل ہونے کے ساتھ ساتھ ملموس اور قابلِ مشاہدہ بھی ہے، جبکہ بعض دیگر جگہوں پر صرف جانچ پڑتال کے قابل ہوتا ہے۔ زبانی تاریخ کو ایک ایسے ڈھانچے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو مختلف معاشی، ثقافتی اور سماجی عناصر کے باہمی تعلق سے تشکیل پاتا ہے۔(کاظمی اور دیگر ہم قلم، 2021: 10) اس تشکیل میں اندرونی اور بیرونی عوامل اس کی ساکھ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

 زبانی تاریخ کو معتبر و موثق بنانے والے بیرونی عوامل

زبانی تاریخ میں بیرونی عوامل کو جانچ پڑتال کی صلاحیت رکھنے والے عناصر کی دستہ بندی میں قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ عوامل، زبانی تاریخ پر کام کرنے والے کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ اپنے پراجیکٹ کی درست تعریف کر کے پیدا ہونے والے مواد کی اصلیت اور ساکھ کو یقینی بنائے۔ ان مراحل میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:

- پراجیکٹ کا مقصد واضح کرنا۔

- موضوع کا انتخاب۔

- انٹرویو لینے والے (Interviewee) کا انتخاب اور اس کی درست تربیت۔

- انٹرویو دینے والے کا درست انتخاب اور اسے کام کی نوعیت سمجھانا۔

- انٹرویو کا طریقہ کار اور ریکارڈنگ کا اسلوب۔

- آڈیو/ویڈیو کو تحریر میں ڈھالنے (Transcription) کا طریقہ۔

- انٹرویو کو دوبارہ سن کر تصحیح کرنا۔

- آرکائیو میں محفوظ کرنے کے مراحل اور اشاعت کا طریقہ۔

ان میں سے ہر ایک مرحلے کے لیے مخصوص معیارات مقرر کیے جا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح کے معیارات میں پراجیکٹ کی تعریف اور انٹرویو کے طریقے جیسے اہم نکات پر توجہ دی گئی ہے۔ (حسن آبادی،2001)۔ دنیا بھر کے زبانی تاریخ کے مراکز کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ ہر مرکز نے اپنے فرائض کے مطابق تقریباً ایک جیسے معیارات وضع کیے ہیں۔ ان میں زیادہ تر توجہ انٹرویو لینے اور اسے آرکائیو میں محفوظ کرنے پر ہے، جبکہ پراجیکٹ کی بنیادی تعریف اور اس کی تدوین پر کم توجہ دی گئی ہے۔ ایران میں "قومی لائبریری" اور "آستان قدس رضوی" کے مراکز کے پاس زبانی تاریخ کے لیے مخصوص آرکائیول معیارات موجود ہیں۔ بعض اشاعتی مراکز (جیسے بنیادِ حفظِ آثار) نے ملک بھر میں یکساں مواد کی اشاعت کے لیے انٹرویو اور تدوین کے باقاعدہ دستور العمل جاری کیے ہیں (عزیزی، 2018)۔ ان تمام عوامل پر عمل کرنا انٹرویوز کو اصلیت عطا کرنے اور پیدا ہونے والے علمی مواد کو معتبر بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے، تاکہ زبانی تاریخ کے ذخیرے کو مزید علمی بنایا جا سکے۔

زبانی تاریخ کو معتبر و موثق بنانے والے اندرونی عوامل

زبانی تاریخ کے اندرونی عوامل ان عناصر پر مشتمل ہیں جن کی جانچ پڑتال کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ ان کا تعلق طے شدہ معیارات سے زیادہ راوی، انٹرویو لینے والے، پراجیکٹ شروع کروانے والے اور مدیر کی ان پوشیدہ خواہشات اور نیتوں سے ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتیں، مگر کام کے نتیجے پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔

زبانی تاریخ کا ایک اہم اندرونی عنصر "بیانیے کا تسلسل" ہے۔ زبانی تاریخ میں بیانیے کے اس تسلسل کو بڑھانا ایک "منصوبہ بندی" والا عمل ہے، کوئی اتفاقی بات نہیں۔ تسلسل سے مراد یہ ہے کہ راوی کے بیان میں وقت، سبب اور معنا میں باہم ربط پایا جائے، تاکہ راوی کا ذاتی تجربہ ایک منظم اور سمجھ میں آنے والے ڈھانچے کی صورت میں سامنے آ سکے۔ اس ربط کو مضبوط بنانے کے لیے انٹرویو اور تدوین دونوں مراحل میں بامقصد اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بیانیے کا مستحکم رہنا، واقعات کا باہمی ربط، ذہنی تصور اور زبانی بیان کے درمیان ہم آہنگی، اور معلومات دیتے وقت اپنی ممکنہ غلطیوں کے بارے میں راوی کا خود آگاہ ہونا، وہ عوامل ہیں جو زبانی تاریخ کے تسلسل اور وثاقت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

بیانیے کا تسلسل دراصل اس کے "مرکزی خیال" کی مضبوطی سے جنم لیتا ہے۔ اگر متن کا بنیادی پیغام یا اچھوتا خیال مختلف نشستوں میں ایک جیسا رہے، تو اس سے اندرونی ساکھ مضبوط ہوتی ہے۔ حافظے اور بیانیے کے تسلسل کے باہمی تعلق کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کی "سوانحی یادداشت" ایک منظم ڈھانچہ رکھتی ہے۔ انٹرویو لینے والے کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس فطری ڈھانچے کو دریافت کرے اور اسے تقویت دے، نہ کہ اس پر باہر سے اپنی مرضی کا کوئی نظم و ضبط تھوپنے کی کوشش کرے۔

زبانی تاریخ کو اندرونی طور پر معتبر بنانے کا ایک اور اہم ذریعہ معلومات کا بار بار دہرایا جانا اور دیگر تاریخی شواہد سے ان کی تصدیق ہونا ہے۔ یہ چیز اجتماعی پراجیکٹس اور حاصل شدہ معلومات کے دیگر حقائق کے ساتھ تقابل سے حاصل ہوتی ہے۔ "سند شناسی" (دستاویزات کے مطالعے) کی اصطلاح میں "ڈھانچے میں استحکام" کا مطلب یہ ہے کہ مختلف انٹرویوز میں زبانی تاریخ کا مواد بنیادی طور پر تبدیل نہ ہو۔ یہ استحکام ظاہر کرتا ہے کہ راوی کا بیان وقتی طور پر ذہن کی اختراع نہیں ہے، بلکہ یہ اس کے "آرکائیول حافظے" کا حصہ ہے جس میں اس نے اپنی شناخت بنانے والی یادوں کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ یہ خودکار تنظیم سازی، باطنی استحکام کی ایک بڑی علامت ہے۔

راوی کا "واقعہ دیکھنا" اور اس کے "ذہنی تخیل" کے درمیان فرق وہ اہم نکتہ ہے جس پر انٹرویو لینے والے کو ابہت حساس ہونا چاہیے۔ اس مسئلے کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے: کیا راوی "دیکھنے" اور "اندازہ لگانے" کے درمیان کوئی فرق کر رہا ہے؟ کیا وہ واقعات بیان کرتے وقت "حقیقت" اور "سچائی" کے درمیان فرق کر رہا ہے؟ کیا انٹرویو دینے والا محض واقعہ سنانے اور اس پر اپنی ذہنی تشریح پیش کرنے میں فرق رکھ رہا ہے؟ درحقیقت، کبھی کبھی راوی کی فراہم کردہ معلومات میں اصل واقعے اور اس کے ذہن کی تراشی ہوئی تشریح کے درمیان فرق کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ راوی لاشعوری طور پر اپنے رجحانات، پسند ناپسند اور خاندانی پس منظر سے متاثر ہوتا ہے۔ انٹرویو لینے والے کو اس حوالے سے مسلسل ہوشیار رہنا چاہیے۔(قنواتی، 2021: 124-122)

اگر ہم زبانی تاریخ کے اندرونی عوامل اور سند شناسی (دستاویزات کے مطالعے) کے درمیان ایک باقاعدہ تقابل کرنا چاہیں تو مندرجہ ذیل نکات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:

سند شناسی : متن کی اندرونی تنقید ،   منطقی ربط اور تسلسل،  اسلوب اور لہجے کا جائزہ ، رپورٹ اور تشریح میں فرق ۔

زبانی تاریخ:بیانیے کی ساخت کا تجزیہ،  زمانی اور تجرباتی ربط، حافظے کے نمونوں کا تجزیہ،مشاہدے اور ذہنی تخیل میں فرق ۔

یہ تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ زبانی تاریخ میں "اندرونی وثاقت" کا تصور وہی ہے جو سند شناسی میں "اندرونی تنقید" کا ہے۔ یہ وثاقت بیرونی دستاویزات سے مطابقت کے بجائے بیانیے کے تسلسل، ڈھانچے کے استحکام، تجرباتی منطق، مشاہدے اور تشریح کے فرق، حافظے کی ترتیب اور احساسات و جذبات کی ہم آہنگی پر استوار ہوتی ہے۔ لہٰذا، زبانی تاریخ کو ایک"زندہ دستاویز" قرار دیا جا سکتا ہے جس پر تحریری متن کی طرح اندرونی تنقید کے اصول لاگو ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ زبانی تاریخ میں معتبریت کا مسئلہ حافظے کی نفی کرنا نہیں، بلکہ اس کا ایک منظم تجزیہ کرنا ہے؛ ایسا تجزیہ جو تاریخی مطالعے میں "ذاتی تجربات و مشاہدات"  کے علمی استعمال کو ممکن بناتا ہے۔

 نتیجہ:

زبانی تاریخ میں اصلیت اور وثاقت دراصل اس کے اندرونی اور بیرونی عوامل کی درست وضاحت اور ان کے باہمی تعلق کا نتیجہ ہے۔ اندرونی وثاقت کے لیے بیانیے کے ربط، انٹرویو کے منطقی ڈھانچے اور راوی کے تجربے کی درست عکاسی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس فریم ورک میں زبانی تاریخ محض ایک "ذاتی یادداشت" نہیں رہتی، بلکہ ایک قسم کی "زندہ دستاویز" بن جاتی ہے جس پر تاریخی متون کی طرح اندرونی تنقید ضروری ہے۔

اندرونی تنقید میں بیانیے کے تسلسل پر خاص توجہ دی جاتی ہے، جو راوی کے حافظے، انٹرویو لینے والے کی مہارت اور علمی تدوین کے طریقہ کار کا مشترکہ نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کا مقصد راوی کی بکھری ہوئی یادوں کو اس کے اصل تجربے میں تحریف کیے بغیر ایک "منظم تاریخی بیانیے" میں تبدیل کرنا ہے۔ بیرونی عوامل میں پراجیکٹ کے مختلف پہلوؤں کو ایک ڈھانچے میں لانے پر زور دیا جاتا ہے تاکہ معیاری انٹرویوز کے لیے موزوں بنیاد فراہم ہو سکے۔ مختصر یہ کہ زبانی تاریخ کو معتبر بنانا اس کے اندرونی اور بیرونی اجزاء کے باہمی تعامل کا مرہونِ منت ہے، تاکہ ایک شفاف اور مستند تاریخی متن حاصل کیا جا سکے۔

منابع:

۱۔ حسن‌آبادی، ابوالفضل (2006)تاریخ شفاهی در ایران، مشهد: سازمان کتابخانه‌ها، موزه‌ها و مرکز اسناد آستان قدس رضوی.

۲۔ حسن‌آبادی، ابوالفضل (2023) درآمدی بر سندشناسی و سندپژوهی در منابع آرشیوی، تهران: سمت.

۳۔ عزیزی، غلامرضا (2018) شیوه‌نامه بازخوانی، بازنویسی و انتشار اسناد دفاع مقدس، تهران: بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش‌های دفاع مقدس.

۴۔ قنواتی، مهدی (2021) اعتباریابی داده‌های تاریخ شفاهی، تاریخ‌نامه انقلاب، سال 5، موسم بہار و گرما.

۵۔ کاظمی، محسن، نورائی، مرتضی، شعبانی صمغ‌آبادی، رضا (2021) تحلیل و تبیین دامنه و رویکردهای مختلف در تاریخ شفاهی، پژوهش‌های تاریخی، سال سیزدهم، شماره 3، موسم خزاں

6. Herde, Peter (2017) "Diplomatics" Encyclopædia Britannica, inc, https://www.britannica.com/topic/diplomatics, September 29, 2019.

7. Duranti, Luciana (1991) Diplomatics: New Uses for an Old Science, Part V, Archivaria 32, Summer


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 7



http://oral-history.ir/?page=post&id=13266