ماموستا 64
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-05-07
اسلامی جمہوریہ ایران کا آغاز
یہ امر کسی سے پوشیدہ تھا کہ دوسرے شہروں کی طرح پاوہ میں بھی انقلاب، اسلام کے نام پر برپا ہوا تھا اور سارے مسلمان ایک مذہبی حکومت کی تشکیل کے خواہاں تھے جس کے سائے میں لوگوں کے دین کو بھی تحفظ ملے۔ اس تحریک کے قائد پر عوام کی اکثریت کے اعتماد کے ساتھ، تجویز کردہ تمام ناموں جیسے اسلامی جمہوریہ، اسلامی حکومت، اسلامی ڈیموکریٹک جمہوریہ اور جمہوریہ میں سے، اکثر عوام کی رائے وہی تھی جو اسلامی جمہوریہ کے بانی کی رائے تھی؛ اسلامی جمہوریہ، نہ ایک لفظ کم، نہ ایک لفظ زیادہ۔
طے پایا کہ 1 اپریل 1979 کو عوام، اسلامی جمہوریہ کے ریفرنڈم میں ’’ہاں یا نہ‘‘ کی ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔ اس سال کی نوروز کی تعطیلات، عوام کو اسلامی جمہوریہ کے ریفرنڈم میں شرکت کی دعوت دینے کا بہترین موقع تھیں۔ پاوہ میں ایرانی اور اسلامی جمہویہ کے حامی ہونے کی حیثیت سے ہم نے بھی آمادگی کا اظہار کردیا۔ پاوہ کے ساتھ ساتھ اورامانات اور پاوہ کے تمام شہروں اور بڑے دیہاتوں میں’’جمعیت طرفداران حکومت قرآن‘‘ اور مدرسۂ قرآن کے دفاتر قائم ہوچکے تھے اور عوام کو ووٹنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار کرنے میں مصروف عمل تھے۔ ہم نے ازگلہ، ثلاث باباجانی، جوانرود، روانسر، نودشہ، باینگان جیسے شہروں اور تمام دیہاتوں میں علماء اور بااثر افراد کو بھیجا۔ شمالی کُردستان میں چلائی جانے والی مہم کے مقابلے میں کہ جہاں پارٹیوں کے قائدین نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا تھا، ہماری مہم، عوام کی آگہی اور مسلح پارٹیوں کی مہم کے کمزور پڑ جانے کا باعث بنی۔
28 مارچ 1979 کو شیخ عزالدین حسینی نے ایک اعلامیے کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کا مفہوم ہمارے لیے واضح نہیں ہے اور انہوں نے کُردستان کی عوام سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس تفرقہ انگیز اعلامیے کے جوابی اقدام اور مقابلے کے لیے، جمعیت طرفداران حکومت قرآن کے ہم پانچ اراکین ایک پیکان گاڑی میں سوار ہوکر مفتی زادہ صاحب سے ملاقات کے لیے سنندج چلے گئے تھے۔ مفتی زادہ صاحب، انقلابی ماضی رکھنے والے، اسلامی جمہوریہ کے ووٹ کے حامی ایک مشہور کُرد روحانی شخصیت تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ بدقسمتی سے اس طرح کی تشہیر سے ہمارے علاقے کی عوام میں انتخابات میں شرکت کے رجحان میں کمی آئی ہے اور آپ کو ہماری مدد کرنی ہوگی۔ مفتی زادہ صاحب نے ہم سے کوئی حل طلب کیا اور ہم نے ان کی جانب سے ایک وضاحتی اعلامیے جاری کرنے کو اس مسئلے کا حل قرار دیا۔
مفتی زادہ صاحب نے اسلامی جمہوریہ کی حمایت میں ایک اعلامیہ جاری کردیا اور کُردستان کی عوام سے مکمل یکجہتی کے ساتھ ’’ہاں‘‘ کا ووٹ دینے کا مطالبہ کیا۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے کے علاوہ اس اعلامیے کی ہزار کاپیاں کرائی گئیں۔ اس دن شام کو ہم پاوہ لوٹ آئے اور اگلے دن ہم نے اس اعلامیے کی کاپیاں پاوہ اور اورامانات، جوانرود اور روانسر کے تمام دیہاتوں میں تقسیم کردیں۔
ہمیں لگ رہا تھا کہ انتخابات، وقار کا معاملہ ہے۔ ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ دن رات اور انتخابی مہم کے آخری گھنٹوں تک پاوہ کاؤنٹی کے کونے کونے میں
عوام کے لیے اسلامی جمہوریہ حکومت کے فوائد کی تشہیر میں مشغول رہے۔ ہم جہاں کہیں بھی تقریر کرتے تھے تو وہاں احمد صاحب کا اعلامیہ ہماری تقریر کا ضمیمہ ہوتا تھا۔
29 مارچ کے روز ہم، پندرہ جوان علماء کے ساتھ روانسر سے پاوہ کے راستے میں واقع مراد آباد گاؤں گئے۔ ہم نے علماء اور طلاب کے ساتھ ساتھ عوام کو دینی مدرسے میں جمع کیا اور ماموستا شیخ محمد سعید نقشبندی صاحب کی موجودگی میں ان سے اسلامی جمہوریہ کو ووٹ دینے کا وعدہ لیا۔ ماموستا شیخ محمد سعید، ایک متقی اور علاقے میں اثر و رسوخ رکھنے والے عالم دین تھے۔ ہم نے مراد آباد میں رات گزاری اور اگلی صبح روانسر واپسی کے راستے میں ہماری ملاقات روانسر کے باسیوں کے بھیجے ہوئے ایک گروہ سے ہوئی۔ ہم بدر آباد گاؤں کے کنارے رک گئے اور ہم نے اس نوجوان کی باتیں سنیں جو خود کو روانسر کی شوریٰ کا نمائندہ کہہ رہا تھا۔ اس کی باتیں، دھمکی آمیز پیغام کی حامل تھیں۔ وہ کہہ رہا تھا: ’’آپ لوگوں کو روانسر میں قدم رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے، مگر یہ کہ آپ لوگوں کا زندگی سے دل بھر چکا ہو۔!‘‘
وہ لوگ ہمارے کلام کی طاقت اور تاثیر سے واقف تھے اور انہوں نے کہا کہ یہ روانسر کی شوریٰ کا فیصلہ ہے۔ ہم انتخابات میں شرکت نہیں کریں گے اور ہمیں آپ کی تشہیر کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے جانے پر اصرار کا فائدہ ہوا اور نوجوان کی ضد میں کمی آئی اور اس نے کہا: ’’اگر آپ لوگ آنے پر اصرار کر رہے تو آپ میں سے صرف دو لوگ شہر میں داخل ہوسکتے ہیں۔‘‘
بائیں بازو کے گروہ وہاں مضبوط تھے۔ ہم نے موقع کو غنیمت جانا اور ان سے بحث کیے بغیر، ماموستا ملا عمر ولدبیگی اور ماموستا ملا محمود فتاحی جو دوسروں سے عمر میں بڑے اور محتاط تھے، کو روانسر کی جامع مسجد بھیج دیا تاکہ وہ عوام کو انتخابات میں شرکت کی دعوت دیں اور ہم باقی لوگ پاوہ لوٹ آئے۔
ڈیموکریٹک پارٹی اور بائیں بازو کے گروہوں کی تمام تر کوشش یہ تھی کہ وہ کُردستان میں انتخابات نہ ہونے دیں یا انتخابات میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کو کم سے کم کرسکیں اور اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ ووٹنگ سے ایک دن پہلے، نوریاب گاؤں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کا نعرہ لگانے والے مسلح گروہوں نے اسلامی جمہوریہ کے حامی آٹھ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور انہیں نوریاب کے ارد گرد کے پہاڑوں میں لے گئے تھے اور انہوں نے اعلان کردیا تھا کہ اگر پاوہ کی عوام نے انتخابات میں حصہ لیا تو ہم یرغمالیوں کو مار ڈالیں گے اور صحیح وقت آنے پر انتخابات میں حصہ لینے والوں سے بھی نمٹیں گے اور اگر کسی بھی مسجد یا اسکول میں بیلٹ باکس نظر آیا تو ہم اسے نذر آتش کردیں گے۔ اگرچہ انہوں نے پانچ چھ گھنٹے بعد ان یرغمالیوں کو رہا کردیا، لیکن اس کے باوجود وہ لوگ انتخابات میں لوگوں کی شرکت کو کم کرنے کے لیے خوف و ہراس پھیلانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
صارفین کی تعداد: 8
http://oral-history.ir/?page=post&id=13259
