جنگ کے سائے میں بہار

تحریر: محیا حافظی

ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-05-07


گزشتہ برسوں میں، سالِ نو کے آغاز پر "بہاریہ"تحریر کرنا عموماً امید، طبیعت کی حیات نو اور زمانے کی تبدیلی کی نوید سے عبارت ہوتا تھا۔ بہار ہمیشہ کپکپاہٹ والے موسم سرما کے بعد زندگی کی واپسی اور سکون و اطمینان کی یاد دلاتی تھی۔ لیکن اس سال، مارچ کے اوسط میں، ہماری سرزمین پر ایک الگ ہی کیفیت طاری ہے۔ دھماکوں کی گونج اور پے در پے حملوں و تباہی کی خبروں نے اس روایتی جوش و خروش کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی ہے۔ ان دنوں میں جب ملک ایک سنگین اورشدید جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور ابھی کوئی نہیں جانتا کہ یہ بحران کب تک جاری رہے گا، بہار کی بات کرنا ناگزیر طور پر ایک نیا رنگ ڈہنگ اختیار کر گیا ہے۔

ان دنوں کی تلخ خبروں کے درمیان کچھ واقعات اتنے سنگین ہیں کہ وہ برسوں تک عوام کے شعور اور حافظے میں نقش رہیں گے۔ رہبرِ انقلاب کی شہادت، میناب میں بچیوں کے پرائمری اسکول پر حملہ، بے گناہ انسانوں کا قتل اور ہسپتالوں و شہری آبادیوں کو پہنچنے والا نقصان؛ یہ وہ واقعات ہیں جو محض میڈیا کی سرسری خبریں نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر واقعہ ایک معاشرے کے جیتے جاگتے تجربات کا حصہ ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جاتے ہیں اور بعد میں روایتوں اور یادوں کی صورت میں بیان کیے جائیں گے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں "زبانی تاریخ" (Oral History) کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ "زبانی تاریخ" محض ماضیِ بعید کی یادوں کو جمع کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ تاریخ کے فیصلہ کن لمحات میں انسانی تجربات کو محفوظ کرنے کا عمل ہے۔ آج جب ہمارا معاشرہ مشکل اور بحرانی حالات سے دوچار ہے، تو ہزاروں کہانیاں جنم لے رہی ہیں۔ ان میں ان خاندانوں کی داستانیں شامل ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، ان امدادی کارکنوں کی روداد ہے جو ملبے کے ڈھیر تلے زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں، ان اساتذہ اور طلبہ کی داستان ہے جن کے اسکول اور کلاسیں اچانک ایک اور ہی منظر نامے میں بدل گئیں، اور ان عام لوگوں کے قصے ہیں جن کی روزمرہ زندگی جنگ کے سائے تلے بھی رواں دواں ہے۔

یہ وقت اگرچہ رنج اور تشویش کا ہے، لیکن یہی دن ہماری تاریخی یادداشت کا حصہ بن جائیں گے۔ برسوں بعد، وہ نسلیں جنہوں نے یہ دن نہیں دیکھے، یہ جاننا چاہیں گی کہ اس سرزمین کے لوگ ان حالات میں کیسے جیے، انہوں نے کیا محسوس کیا اور اپنے دکھوں اور امیدوں کا سامنا کس طرح کیا۔ ایسے بہت سے سوالات کے جوابات انھی روایتوں میں پوشیدہ ہیں جو آج قلمبند کی جا رہی ہیں۔

امسال بہار کا آغاز شاید بے چینی اور غم کے ساتھ ہو، لیکن انہی کٹھن دنوں میں جینے والے انسان  بھی مسلسل زندگی کی کہانیاں رقم کر رہے ہیں۔ " زبانی تاریخ " (Oral History) ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اعداد و شمار اور سرکاری رپورٹوں کے ہجوم میں جس چیز کی قدر و قیمت سب سے زیادہ ہے، وہ انسانی تجربات ہیں؛ یعنی ان لوگوں کی آواز جو ان ایام میں جی رہے ہیں۔

شاید امسال کی بہار ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اس حقیقت کا ادراک کرائے کہ کسی قوم کا حافظہ صرف سرکاری دستاویزات سے مرتب نہیں ہوتا، بلکہ یہ عام لوگوں کی یادوں، مختصر قصوں اور ان جیتے جاگتے تجربات سے بنتا ہے جو اگر محفوظ نہ کیے گئے تو بآسانی ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے دنوں میں " زبانی تاریخ " کا فریضہ محض ماضی کی یاد دہانی نہیں، بلکہ "حال" کا دیانتدارانہ اندراج ہے؛ وہ حال جو ایک دن خود تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔

ان مشکل ایام میں، بلاشبہ ہماری اندرونی استقامت کے باطن سے امید کی کرن جگمگا رہی ہے؛ وہی باطن جس نے ایران کی بے مثال تاریخ میں بارہا ظالم اور سنگدل دشمنوں کے خلاف شجاعت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج بھی ہم اس کٹھن راستے کو بہادری سے عبور کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ماضی میں کثیر خطرات کے مقابلے میں تاریخ ہمیں دکھا چکی ہے، ایران اور ایرانی آخر کار فاتح اور سرخرو ہوں گے اور ہمارے دشمن آخر کار فنا ہو جائیں گے۔ اس دوران ہماری تاریخ کے قلب میں طاقت، امن اور روشن تقدیر کی یادگاریں باقی رہ جائیں گی۔

دعا ہے کہ آنے والا سال جلد از جلد جنگ کے سائے سے نکل آئے اور بہار ایک بار پھر اس سرزمین کے لوگوں کی زندگی میں اپنے حقیقی معنی پا سکے۔

 


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 12



http://oral-history.ir/?page=post&id=13257