پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 63

مصنف: علی رستمی

ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2026-04-03


پاوہ میں کمیونزم کی موت

پاوہ کی کمیونسٹ اور تودہ پارٹی کے سرگرم کارکنوں کی تعداد چار تھی جو خفیہ طور پر اطلاع ناموں اور اعلامیوں کے ذریعے پارٹیوں کا پرچار اور جوانوں کی رکن سازی میں مشغول تھے۔ 14 مارچ کو ہمیں خبر ملی کہ ان چاروں میں سے ایک آدمی نے پاوہ کے مولوی چوک پر عوام کی ثقافت، اخلاق اور دین کی توہین کی ہے اور وہ، لوگوں کی کوششوں اور جہاد سے حاصل ہونے والی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے دن رات، عوام میں کمیونسٹ نظریات اور طریقوں کے پرچار میں مصروف ہے۔ اس کی جرأت اتنی بڑھ گئی تھی کہ وہ ایک لائبریری قائم کر کے مارکسسٹ نظریات کی ترویج میں اپنی سرگرمیوں کو آشکار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ یہ خبر ہمارے لیے بہت ناگوار تھی۔ باقی پارٹیاں بھی کُردوں کی قومی ثقافت کی تقویت اور خودمختاری کے عنوان سے شہر میں آزادانہ طور پر اعلامیے تقسیم کرتی تھی جو اکثر و بیشتر عوام کے دین اور آئین کے خلاف ہوتے تھے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ اور تودہ پارٹی کے ان چند لوگوں کے عمل کے باعث لوگوں کا خون کھول اٹھا اور لوگ رضاکارانہ طور پر مولوی چوک پر جمع ہوگئے۔

پہلے لوگ اس توہین پر احتجاج کے ارادے سے درہ باسام گراؤنڈ میں جمع ہوئے۔ سب لوگ اپنی سیاسی اور قومی وابستگیوں کو چھوڑ کر میدان میں اتر آئے تھے۔ پاوہ کے درویش، لوگوں کے آگے آگے دف بجا رہے تھے اور ترانوں اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے لوگوں کو ایک عجیب جوش دلا رہے تھے۔ اس اجتماع میں دو واقعات رونما ہوئے؛ ایک تو مولوی چوک پر سابقہ پہلوی فلیگ پول پر ’لا اله الا اللہ‘ کے پرچم کی تنصیب اور دوسرا، عوام کے سامنے توہین کرنے والے شخص کی توبہ۔

بلند ترین شاہی فلیگ پول، جس پر انقلاب کی کامیابی کے ایک ماہ بعد بھی کوئی پرچم نصب نہیں کیا گیا تھا، ’لا اله الا اللہ‘ کے سبز عَلم اور پرچم کو لہرانے کے لیے مناسب جگہ قرار پایا اور عوام کے مذہبی جذبات اس بات کا باعث بنے کہ مذکورہ شخص بغیر اس کے کہ کوئی اسے مجبور کرتا، عوام کے بیچ آکر معافی مانگنے پر مجبور ہوگیا۔ وہ احتجاجی ہجوم کے درمیان آیا، فائر فائٹنگ ٹرک پر چڑھا، اور ٹرک کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اس نے بلند آواز سے زبان پر شہادتین جاری کیں: ’’ أشھَدُ أن لا اله اللہ و اشھد انَّ محمّداً رسول اللہ‘‘۔ ’’اے پاوہ کے لوگو! میں اسلام مخالف نہیں ہوں، میں مسلمان مخالف نہیں ہوں۔ میں مسلمان ہوں، مجھے معاف کردیں۔‘‘

مدرسۂ قرآن اور انقلاب اسلامی کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ ایک قرارداد کے پڑھے جانے کے بعد وہاں موجود لوگ، مولوی چوک سے منتشر ہوگئے۔

کُردستان میں ڈیموکریٹک پارٹی، عوام کو اس حکومت سے خودمختاری کے تقاضے کے بہانے اشتعال دلا رہی تھی کہ جو ابھی صحیح سے تشکیل بھی نہیں پائی تھی، ڈیموکریٹک پارٹی کی اس طرح کی تحریکیں، ایسی کشیدگی اور افراتفری کا باعث بنیں کہ جس کا طویل عرصے تک پورا کُردستان اور کُرد علاقے شکار بنے رہے۔ جھوٹ اور افواہوں کا بازار گرم تھا۔ ان میں سے ایک اہم افواہ، مارچ 1979 کے وسط میں، عبوری حکومت کی جانب سے سنندج کے عوام کی نسل کشی اور قتل عام کی افواہ تھی جو تمام کُرد علاقوں کی عوام کے مشتعل ہونے کا باعث بنی، یہاں تک کہ پاوہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کا ایک گروہ کھانے پینے کے سامان اور کپڑے وغیرہ جمع کرکے اور دوسرا گروہ اسلحہ اور گولہ بارود لے کر سنندج کی جانب روانہ ہوا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی، سنندج میں دو روز کے قیام اور پارٹی کی میٹنگز اور پروگرامز میں شرکت کے بعد واپس لوٹ آئے اور پاوہ میں داخل ہوتے وقت، انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں ایک مسلح ریلی نکالی۔ طاقت کے مظاہرے کے طور پر اور انقلاب اسلامی کے حامیوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے انہوں نے خوشی میں ادھر ادھر ہوائی فائرنگ شروع کردی، ایک فائرنگ کرنے والے نے سہل انگاری اور لاپرواہی کے باعث ایک گولی، مولوی چوک پر موجود لوگوں کی جانب چلا دی اور پاوہ کا ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ یہ قتل، شہر میں تفرقے، گروہ بندی اور ہنگامے کا باعث بنا۔ پھر چند روز بعد دوبارہ شہر میں امن لو



 
صارفین کی تعداد: 66



http://oral-history.ir/?page=post&id=13171