پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 56

مصنف: علی رستمی

ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2026-01-11


پہلوی حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کا آغاز(پانچواں حصہ)

ایک طرف علماء، مراجع تقلید، مذہبی اور سیاسی شخصیات کی حمایت اور رائے عامہ کا دباؤ اور دوسری طرف پورے ملک میں ہونے والے قیام سے شہنشاہی نظام میں تزلزل، پاوہ میں سالار اور اس کے حواریوں کے اس شرمناک عمل کی مذمت کا باعث بنا؛ یہاں تک کہ قومی اسمبلی سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں اور تبریز کے نمائندے، احمد بنی احمد نے ایک دھواں دھار تقریر میں اس جرم کو کرنے والوں اور اس کے احکامات جاری کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی اور سالارجاف کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ قومی اسمبلی میں تبریز کی عوام کے نمائندے، احمد بنی احمد صاحب نے اپنی تقریر میں کہا: ’’وہ اس اسمبلی میں نہیں رہ سکتے جس میں غیر ایرانی سالارجاف ممبر ہو اور وہ اپنی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔‘‘

بنی احمد کے استعفیٰ کے بعد، پاوہ کی عوام نے انہیں ایک ٹیلی گرام بھیجا اور ان کی حمایت کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ، ان سے اپنا استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی۔ یہاں تک کہ قادری اور نقشبندی طریقت کے بہت سے علماء و مشائخ اور رہنما بھی کھل کر میدان میں آگئے اور پاوہ کے مظلوم عوام کے حامیوں کی صف میں شامل ہوگئے۔

پورے ملک سے انقلابیوں کے پیغامات، ٹیلی گرامز اور حمایت نے پاوہ کی عوام کو جوش دلایا اور شاہ کی حکومت کے خلاف اسلامی تحریک کو جاری رکھنے میں ان کے اتحاد کا باعث بنے اور پاوہ کا نام مشہور ہوگیا۔ کرمانشاہ کے گورنر احمد نظامی نے سالار کو پاوہ کے واقعے کا قصوروار اور مجرم قرار دیا اور اس کے اقدامات پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل پالیزبان[1] گورنر بنے، لیکن کرمانشاہ کے فوجی گورنر پالیزبان کی فوجی طاقت بھی انقلابی تحریک کا راستہ نہ روک سکی۔ اس واقعے میں حکومت کی حماقت، قریب اور دور کے شہروں اور دیہاتوں کے عوام کی ہوشیاری کا باعث بنی۔ اسی طرح، شخصیات کے تعاون اور دوسرے شہروں اور دیہاتوں کے عوام کی حمایت، ہماری حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔

1 نومبر(10 آبان) کے روز، نوسود سے خبر آئی کہ نوسود اور نودشہ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نوسود کے ضلعی دفتر کے سامنے جمع ہوگئی ہے اور وہ لوگ پاوہ کی عوام کی حمایت کی غرض سے پاوہ کی جانب ریلی نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم نے آپس میں مشورہ کیا، ہماری نظر میں ان کا آنا ایک بڑی زحمت اور شاید خطرناک بھی تھا۔ ہم نے پاوہ سے پانچ نمائندوں کو نوسود بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہم، شہر کے انقلابیوں کا شکریہ کا پیغام ان تک پہنچائیں۔ سید راغب احمدی، عبدالحمید سابقی، حاجی حسین احمدی، محمد رشید حسامی اور مدرسۂ قرآن کی طرف سے حقیر، ہم سب نوسود چلے گئے۔

نوسود ایک چھوٹا سا شہر ہے جو پاوہ کے مغربی علاقے میں ختم ہونے والا ایک دامن کوہ ہے اور عراقی کُردستان کی سرحد کے پاس واقع ہے۔ ان لوگوں کو ہمارے آنے کی خبر مل چکی تھی اور وہ ضلعی دفتر کے سامنے ہمارے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ہمارے وہاں پہنچنے پر نوسود اور نودشہ کی عوام نے زوردار انقلابی نعرے لگا کر پاوہ کے لوگوں کی حمایت اور سالار اور اس کے فریب خوردہ لوگوں سے اپنی شدید نفرت و بیزاری کا اظہار کیا۔ سب جانتے تھے کہ سالار کی مخالفت در حقیقت حکومت کی مخالفت ہے اور سالار پر حملہ کرنے کا منصوبہ شاہ کی مخالفت کا سب سے آسان بہانا تھا۔ میں نے اس اجتماع میں تقریر کی اور ان لوگوں کے اظہار ہمدردی کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ، انہیں پاوہ کے واقعات سے بھی آگاہ کیا اور میں نے واضح طور پر بلند آواز سے اعلان کیا کہ عوام کے ساتھ برتاؤ میں حکومت سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے اور اب عوام پر دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہونے والا۔ اسی جیسی ایک تحریک ثلاث باباجانی میں بھی اٹھی تھی۔ ان لوگوں کا تعلق جاف قبیلے سے تھا لیکن اس کے باوجود ان کی نظر میں سالار کا عمل، کُرد برادری پر ایک شرمناک دھبہ تھا اور سالار کی قیادت میں اس کے  پاوہ کے مخالفین کی سرکوبی پر احتجاج کرتے ہوئے وہ لوگ اِزگِلہ کے ضلعی دفتر میں جمع ہوئے تھے اور انہوں نے وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھا تھا اور حکومت سے سالار کے لیے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

عوامی حمایت کے دوران، آیت اللہ صدوقی[2] نے ایک اعلامیے[3] میں یزد کی عوام کو مخاطب کرکے ان سے شہر پاوہ کے تخریب کارعناصر کے ناپسندیدہ اور غیر انسانی اقدامات کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کو کہا۔ اس طرح کی خبریں سن کر ہمارے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ انہیں یقین ہوگیا کہ ان کی آواز پورے ملک میں گونج چکی ہے۔

اسلامی تحریک کا راستہ روکنے کے لیے ساواک کا ایک حربہ، علاقے کے بااثر افراد اور مولاناؤں کو لالچ دینا تھا۔ ساواک نے حکومت سے وابستہ ایک مولانا کی تجویز پر مولاناؤں، آئمہ جماعت اور آئمہ جمعہ کو مالی امداد فراہم کرنے کے بہانے، گاؤں کے سرداروں کے ذریعے ان سب کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگ کسی جگہ جمع ہوجائیں یا جس طرح بھی وہ بہتر سمجھیں، حکومت کی مالی امداد حاصل کرلیں۔ مدرسۂ قرآن کے مولانا جن میں حقیر، ملا ناصر سبحانی اور ملا عبدالرحمٰن یعقوبی شامل تھے، ہماری عمریں تیس سال کی بھی نہیں تھیں اور ہمارے معاشی حالات بھی اچھے نہیں تھے، لیکن ہم ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اس سازش کے خطرے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ ساواک اس کام کے ذریعے مولاناؤں بالخصوص جوان طبقے کو اپنا نمک خوار بنا کر ان کے لبوں پر مہر خاموشی لگانا چاہتی تھی۔

یہ خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پاوہ میں حکومت کے ملازمین اور اساتذہ کے ایک گروہ نے ملاقات کرکے یا پیغام بھیج کر علماء برادری کو اس مسئلے سے آگاہ کیا اور دوسری بار ہم سے مطالبہ کیا کہ ہم ایسا نہ کریں۔ ان لوگوں نے کہا کہ پاوہ کے کچھ لوگ مالی مشکلات کے شکار مولاناؤں کی ساواک کی رقم سے زیادہ مالی مدد کرنے کو تیار ہیں تاکہ وہ انہیں ساواک کے حق السکوت اور رشوت خوری سے بچا سکیں۔ الحمد للہ بہت واضح اور روشن تھا کہ اپنی دعوت سے عوام کو شہنشاہی نظام کے ظلم و ستم اور سختیوں سے نجات دلانے کے خواہشمند کسی بھی جوان اور انقلابی مولانا نے ساواک کی پیشکش کو کوئی اہمیت نہیں دی، نہ ہی اس حرام کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی ساواک کے نمک خوار بنے۔

نوریاب گاؤں کے ایک استاد فریدون میتران[4] صاحب کے لیے یہ بہت اہم مسئلہ تھا۔ وہ پاوہ اور نوریاب کے کچھ جوانوں کے ساتھ ہمارے گھر آئے اور انقلابی اساتذہ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے مولاناؤں کو صبر کرنے اور تسلیم نہ ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ ہم تمام مولاناؤں کی تنخواہوں کا انتظام کرنے کو تیار ہیں۔

نومبر کی پانچویں(آذر کی دوسری) جمعرات کو کرمانشاہ کا گورنر پالیزبان اور جینڈرمیری کا صوبائی کمانڈر سالاری، صوبے کے کچھ دیگر عہدیداروں کے ساتھ حسن آباد، تازہ آباد سریاس، شمشیر، خانقاہ اور نوریاب گاؤں کی بجلی کے افتتاح کے موقع پر پاوہ آئے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے تین گاؤں حسن آباد، تازہ آباد سریاس اور شمشیر کی بجلی کا افتتاح کیا اور نوریاب اور خانقاہ گاؤں کی بجلی کے افتتاح کو ملتوی کردیا۔ اگرچہ انہوں نے ریلی نکالی اور شہنشاہی حکومت کی خدمات کے بارے میں بات کی اور حکومت کے مخالفین کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا لیکن انقلابی عوام، فیصلہ کر چکی تھی اور انہوں نے ان ریلیوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اب پچھتائے کی ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

 

 


[1]  عزیز اللہ پالیزبان سن 1919(1298) میں کرمانشاہ میں پیدا ہوئے، وہ سن 1939(1318) میں ملٹری افسر اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہوئے، وہ فوج اور ساواک کی ایک اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت تھے اور ان کا مہاآباد میں ڈیموکریٹس کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار تھا۔ ان کا آخری عہدہ، پہلوی حکومت کے اواخر میں کرمانشاہ کے گورنر کا تھا۔

[2]  محمد صدوقی سن 1327 ہجری قمری میں پیدا ہوئے۔ آپ قم کے مدرسۂ فیضیہ کے 5 جون 1961(15 خرداد 1342) کے قیام میں شامل اور فعال علماء میں سے تھے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آپ یزد میں امام خمینی کے نمائندے اور امام جمعہ مقرر ہوئے اور 2 جولائی 1982(11 تیر 1361) کے دن، روزے کی حالت میں منافقین کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

[3]  آیت اللہ صدوقی کا پاوہ کے واقعے سے متعلق عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اعلامیہ:

بسمہ تعالیٰ

اس کے نام سے جس نے ہمیں سوچنا سکھایا

ہمارے مذہبی، قومی اور ثقافتی قیام اور تحریک کے مقدر پر حساس اور فیصلہ کن وقت آچکا ہے اور ملی ہوئی صفیں اور متحد افکار مختلف پہلوؤں(ایمان اور عمل) سے مختلف مناظر کو دیکھ رہی ہیں اور ان حالات میں پیش آنے والے حادث و واقعات کا جائزہ لے رہی ہیں، بہت سے مواقع پر عوام نے تخریب کار عناصر کے ناپسندیدہ اور غیر انسانی کاموں کی شدید مذمت کی ہے، انہی عناصر کا کُرستان کے علاقے میں ہمارے مسلمان بھائیوں پر تشدد اور ان کے قتل کا حالیہ واقعہ بھی انہی کاموں میں شامل ہے۔ یزد کے تمام عوام علماء، اساتذہ، تاجر، مزدور، اسکول اور یونیورسٹی طلباء تمام مرد و خواتین، طاغوتی حکومت اور اس سے وابستہ عناصر بالخصوص دین اور انسانیت کے معروف دشمن اور کُردستانی کارندے(سالارجاف) کے برے کاموں اور بری حرکتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ایک بڑی، عظیم الشان اور پرامن ریلی نکال کر ایک بار پھر، اپنی وفاداری اور فرمانبرداری سے نائب امام، خمینی دام ظلہ العالی کی تحریک کی حمایت کا اعلان کریں۔ نظم اور رہبر کے فرامین کی رعایت کرتے ہوئے آپ کی شرکت اس تحریک کی تائید ہوگی۔

محمد الصدوقی 14/8/1357(1978/11/5) بمطابق 4/ ذی الحجہ / 1398

[4]  فریدون میتران جو کُردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے، پارٹی سے علیحدگی کے بعد جرمنی چلے گئے۔



 
صارفین کی تعداد: 10



http://oral-history.ir/?page=post&id=13023