سید ناصر حسینی کی قید کے دوران کی یادداشت
انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی
2025-12-08
جمعرات، 31 شهریور 1367 (22 ستمبر 1988) – تکریت – ملحق کیمپ
جعفر دولتی مقدم کے ساتھ میری رفاقت کو چند دن ہوچکے تھے۔ آج ہفتہ دفاعِ مقدس کا آغاز اور عراق کے بعثی رژیم کی طرف سے ہمارے وطن پر حملے کی سالگرہ تھی۔
چند دنوں سے جب میں ہوا خوری کے لیے باہر نکلتا، زیادہ وقت جعفر دولتی مقدم اور میثم سیرفر کے ساتھ گزرتا۔ حامد، جو عراقی نگہبان تھا، جعفر کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں رکھتا تھا۔
حامد عراق کے صوبہ الانبار کا رہنے والا اور بریگیڈیئر جنرل صلاح قاضی کا قریبی رشتہ دار تھا۔ وہ پست قد، سانولا، مغرور اور بدگمان آدمی تھا۔ سامی، جو ایک نیک دل عراقی نگہبان تھا، کہتا تھا کہ صلاح قاضی حامد کا چچا ہے۔ صلاح قاضی عراقی فوج میں، 16ویں پیادہ ڈویژن کا کمانڈر تھا۔ بیتالمقدس آپریشن میں جب ایران نے خرمشہر کو آزاد کیا، اس وقت صلاح قاضی نے اپنی فوج کو خرمشہر سے پسپائی کا حکم دیا تھا۔ خرمشہر کے سقوط کے بعد، صدام کے حکم پر صلاح قاضی کو پسپائی کا حکم دینے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
حامد اپنے چچا سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا: جنگ کے آغاز میں، ماہر عبدالرشید، هشام صباح الفخری اور حسین کامل کا رینک میرے چچا سے کم تھا۔ میرا چچا بریگیڈئیر جنرل تھا۔
اکثر جب حامد اپنے چچا کی بات کرتا، کہتا: میرا چچا ہمارے قبیلے کا سردار تھا۔
جب تک صدام کے غضب کا شکار نہیں ہوئے تھے، عراق میں ان کی بڑی حیثیت تھی۔ اس کے بقول صرف عراقی وزیر دفاع عدنان خیرالله، ان پر مہربان تھا۔ عدنان خیرالله نے بہت کوشش کی کہ صلاح قاضی کو پھانسی نہ دی جائے، مگر اس کی کوشش ناکام رہی۔
چند دن پہلے جعفر دولتی مقدم نے بچوں کو خرمشہر آپریشن کی یادیں سنائی تھیں، جو حامد کے کانوں تک پہنچیں۔ حامد کو ان سب لوگوں سے خاص دشمنی تھی جو بیتالمقدس آپریشن میں شریک تھے۔ خرمشہر کی آزادی حامد کے لیے اپنے چچا کی موت کی تلخ یادیں تازہ کر دیتی تھی۔ حامد ملحق کیمپ میں ہمیشہ جعفر کو تنگ کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا۔ وہ صدام کو اپنے چچا کے قتل کا ذمہ دار نہیں مانتا تھا؛ شاید اس لیے کہ صدام سے ڈرتا تھا۔
ایک دن حامد مجھے بلا کر نگہبانوں کے افسر کے کمرے میں لے گیا۔ اندر گیا تو کیپٹن قحطان، جو کیمپ کا ڈپٹی انچارج تھا، وہاں موجود تھا۔ کیپٹن قحطان عراق کے صوبہ دیالہ کا رہنے والا تھا۔ وہ بہت باتونی، سانولا، بڑے پیٹ کا اور ضدی آدمی تھا۔ اس کی شکل و صورت بدترکیب اور عجیب سی تھی۔
کافی عرصے بعد جب عراقی اخبارات نے اسیروں کی آزادی کی خبر دی، میں نے ایک دن اس سے کہا: سیدی! آپ کے خیال میں ہم کب آزاد ہوں گے؟ کیپٹن قحطان نے جواب دیا: جب دیکھو گے کہ کوئی مرد حاملہ ہوا ہے، تب تم بھی آزاد ہو جاؤ گے! بعد میں جب ایرانی اسیر وطن واپس جا رہے تھے، میں نے ڈاکٹر مؤید سے، جو قحطان سے اچھے تعلقات رکھتا تھا، کہا: کیپٹن قحطان سے کہو، دیکھا! بغیر اس کے کہ کوئی مرد حاملہ ہوا ہو، ہم آزاد ہو گئے!
قحطان چائے پی رہا تھا۔ وہ اور حامد جعفر سے اس کی عسکری حیثیت کے بارے میں کچھ بھی اگلوا نہیں پائے تھے۔ کیپٹن قحطان نے پوچھا: تم جعفر دولتی مقدم کے دوست ہو۔ کہتے ہیں تم دونوں ہمیشہ ساتھ رہتے ہو۔ اس نے تمہیں بتایا کہ محاذ پر کیا کرتا تھا؟
ـ میں نے اس سے نہیں پوچھا، اس نے بھی مجھے کچھ نہیں بتایا، لیکن کرمان کے جوان کہتے ہیں کہ وہ ڈویژن کے سپلائی یونٹ میں کام کرتا تھا۔
ـ یہ کیا بات ہے کہ جب بھی کسی ایرانی کے بارے میں پوچھتے ہیں، تم لوگ کہتے ہو کہ وہ سپلائی میں کام کرتا تھا؟
میں جانتا تھا کہ کیپٹن قحطان کس بات پر غصے میں بھرا ہوا ہے۔ حامد اپنے چچا کے کھو جانے کا غم برسوں بعد بھی نہیں بھولا تھا۔ بجائے اس کے کہ صدام سے نفرت کرے، جس نے اس کے چچا کو پھانسی دی تھی، وہ جعفر جیسے لوگوں سے نفرت کرتا تھا جو بیتالمقدس آپریشن میں شریک تھے۔ حامد نے کیپٹن قحطان کو بتایا تھا کہ جعفر کمانڈر ہے۔ اس کا اندازہ درست تھا۔ جعفر شلمچہ میں ایک آپریشنل محور کا کمانڈر تھا۔ اس دن تک کسی نے جعفر کا راز نہیں کھولا تھا، اگرچہ بعد میں یہ راز افشا ہو گیا۔
میں نے کیپٹن قحطان سے کہا:
میں نے قید میں اپنے ایک دوست کی نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھا، اس نے کہا تھا: جتنا کم ہم ایک دوسرے کی عسکری حیثیت کے بارے میں جانیں، اتنا بہتر ہے!
کیپٹن قحطان اچانک چیخنے لگا اور غصے سے بولا:
یعنی تم کہنا چاہتے ہو کہ تم لوگ محاذ پر اپنی سابقہ حیثیت کے بارے میں ایک دوسرے کو کچھ نہیں بتاتے؟
ـ ہاں، ضرورت نہیں ہے!
قحطان نے ولید سے کہا: اسے باہر لے جاؤ، اس ناصر خبری کو تیس کوڑے مارو!
قحطان کی گالیوں کے ساتھ میں باہر نکل آیا۔ ولید نے خوشی خوشی میرے دونوں ہاتھوں پر تیس کوڑے مارے۔ حکیم خلفیان، جو عرب زبان خوزستانی اسیر تھا، جتنا بھی ولید سے منت کرتا کہ مجھے نہ مارے، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جب بھی ولید مجھے مارتا، زیادہ تر بجلی کے کیبل سے میرے ہاتھوں پر ضرب لگاتا۔
آج میرے ہاتھ بہت درد کر رہے تھے۔ میں نے ولید سے کہا:
میرے ہاتھوں پر نہ مارو، میرے لیے ہاتھ پاؤں کی طرح ہیں، کمر پر مارو!
میرے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے۔ میں عصا کے ساتھ چل نہیں سکتا تھا۔ حکیم خلفیان نے ولید سے کہا:
سیدی! مجھے مارو، سید کو نہ مارو، وہ معذور ہے، اس پر ظلم نہ کرو!
حکیم خلفیان کی باتوں سے، جو میری مدد کے لیے ولید سے منت کر رہا تھا، مجھے رنج ہوا۔ اگرچہ اس کا مقصد خیر تھا، لیکن جب قیدی میرے بارے میں کہتے: قربان! یہ معذور ہے! یہ سید ہے! یہ کم عمر ہے! تو مجھے برا لگتا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری عزت اور غرور پامال ہو۔ نہ قیدیوں کی زبانِ خیر مجھے بھاتی تھی، نہ عراقیوں کی ترحم۔
جب میں نے واپس حراستی مرکز جانا چاہا، تو ہاتھوں کے شدید درد کی وجہ سے مشکل سے عصا کے سہارے وہاں پہنچا۔ جب بجلی کے کیبل سے ہاتھوں پر ضرب لگتی، چھالے پڑ جاتے اور پھر کئی دنوں تک میں اپنے ہاتھ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ بغیر عصا کے ایک پاؤں پر کودتا اور خود کو حرکت دیتا۔
اور جب عراقی میری عصا چھین لیتے، تو چونکہ میرے ہاتھ سلامت تھے، دو جوتے ہاتھوں میں پہن کر بیٹھے بیٹھے چلتا۔
ولید سے سخت مار کھانے کے بعد میں جعفر کے پاس گیا۔ حامد اور کیپٹن قحطان کی تفتیش کا واقعہ اسے بتایا۔ جعفر بہت رازدار آدمی تھا۔ کچھ ظاہر نہیں کرتا تھا۔ میں نے مذاق میں کہا:
جعفر! دیکھتے ہو کہ صرف اس لیے کہ میں عراقیوں کو نہیں بتاتا کہ تم کیا کرتے تھے، ولید نے میرے ساتھ کیا کیا؟
جعفر نے اپنی دلکش زابلی لہجے میں مذاق کرتے ہوئے کہا: سید!
ہر کہ در این بزم مقربتر است
جام بلا بیشترش میدهند
جو بھی اس بزم میں زیادہ مقرب ہے اسے جام بلا بھی زیادہ ہی پلائی جاتی ہے
میں نے ہنستے ہوئے کہا: جعفر، اگر ہم یہ جام بلا نہ چاہیں تو ہمیں قحطان کو دیکھنا ہوگا، حامد کو دیکھنا ہوگا یا تمہیں؟!
جب تک میں ملحق کیمپ میں تھا، عراقیوں کئی بار جعفر کو باز پرسی کے لیے نگہبانوں کے افسر کے کمرے میں لے گئے۔ ان تمام باز پرسیوں میں جعفر نے خود کو ایک سادہ بسیجی رضاکار کے طور پر متعارف کرایا۔
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 16
http://oral-history.ir/?page=post&id=12963
