شہید طالبعلم کی مجلس ترحیم کے بعد گرفتاریاں اور جیل

مترجم: یوشع ظفر حیاتی

2025-07-31


اپریل 1978 کو قم کے طالبعلموں نے شاہی رجیم کی مخلافت اور بے گناہ عوام کے قتل عام کے خلاف آیت اللہ شریعتمداری کے گھر کے سامنے دھرنا دیا۔ اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ شاہی رجیم کے کارندوں نے بعض افراد کو کس طرح فائرنگ کرکے شہید کیا یا کتنے افراد شہید ہوئے۔ اس زمانے میں عام طور پر مرحوم شریعتمداری کی ھرمت کا پاس کیا جاتا تھا خاص طور پر سن 78 میں ان کی عزت کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔

شہیدوں میں سے ایک طالبعلم کا تعلق شمیران سے تھا۔ شمیرانات کی "جامعہ روحانیت مبارز" نے فیصلہ کیا کہ اس شہید کے لئے عظیم الشان مجلس کا انعقاد کیا جائے۔ اس زمانے میں جب کبھی ایسی مجلس کا انعقاد کیا جاتا تو سماجی، ثقافتی شخصیات سمیت تاجر برادری اور علماء کی بڑی تعداد جمع ہوجاتی تھی اور کوشش کرتے کہ تقریر کرنے کے لئے کسی ایسے کا انتخاب کریں کہ جو حق مطلب بھی ادا کرے اور تقریر کے بعد کی صورتحال کے لئے بھی تیار ہو۔ اس وجہ سے جب یہ دکیھا کہ بعض مقررین جیلوں میں ہیں یا بعض کے لئے یہ مشکل ہے کہ وہ تقریر کرنا قبول کریں، تو وہ میرے پاس آئے۔ جناب ملکی صاحب اور جامعہ روحانیت شمیرانات کی بعض شخصیات نے فیصلہ کیا کہ شہید کے مکان پر ہی مجلس کا انعقاد کیا جائے اور مقرر کے عنوان سے بھی متفقہ فیصلہ ہوا کہ میں تقریر کروں گا۔ انہوں نے میرے توسط سے حجت الاسلام شیخ علی حیدری چیذری کے نام پیغام بھیجا۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے مشاہدہ کیا کہ مسجد کو چاروں طرف سے سیکیورٹی اہلکاروں نے گھیرا ہوا ہے۔ عام طور پر عام مجلسوں میں اہلکار نہیں آتے تھے یا یہ کہ دو تین افراد آجاتے تھے، لیکن اس پروگرام میں بہت زیادہ اہلکار موجود تھے اور انہیں اس بات کی پریشانی لاحق تھی کہ کہیں کوئی حرکت یا شاہی حکومت کے خلاف مظاہرے نہ شروع ہوجائیں، حالانکہ ہمارے مظاہرے کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا، میں نے اس دن تقریر سے پہلے جہاد، دفاع اور اس موضوع پر آیات و روایات کو دہرا کر آیا تھا۔ مجلس میں بھی میں جہاد کے موضوع پر گفتگو کی کہ راہ خدا میں جہاد اور اسلام کا دفاع اسلام کے اہم واجبات میں سے ایک ہے۔ اور ایک عظیم عبادت ہے اور اسلام جہاد اور دفاع کے منصوبے کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ اگر مسلمان اسلام کے تمام احکامات پر عمل کرتا ہو لیکن وہ اس پر توجہ نہ دے تو وہ کامل مسلمان نہیں ہے۔ اسی حوالے سے جہاد اور شہداء کے مقام و فضیلت پر آیات اور روایات اور شہید کی فضیلت پر گفتگو کی۔

تقریبا 45 منٹ یا ایک گھنٹہ گفتگو کی اور اسکے بعد میں شاہی حکومت پر تنقید کرنا شروع کی اور بتایا کہ یہ شہید کون تھا کیوں شہید کیا گیا اور اس کو کس گناہ کی بنا پر شہید کیا گیا؟ وہ اسلام کے دفاع، حوزہ علمیہ کے دفاع اور مظلوموں کے خون کے دفاع کی وجہ سے شہید ہوا اور میں نے شاہی حکومت کے اس فاشسٹ اور ظالمانہ اقدام کی شدید مذمت کی۔ آخر میں دعا کے بعد میں منبر سے نیچے اترا۔ لوگ آہستہ آہستہ جانے لگے اور میں بھی باہر نکلنے لگا۔ دوستوں نے تجویز دی کہ مسجد کے ہال کے مردانہ حصے سے خواتین کی طرف جاکر اپنا عبا عمامہ وغیرہ اتاروں اور کوٹ پینٹ پہن کر باہر نکل جاؤں اور وہ مجھے خواتین والے حصے سے ہی باہر نکالنا چاہ رہے تھے تاکہ مجھے گرفتار نہ کیا جاسکے۔

لیکن مجھے معلوم تھا کہ مسجد کے دروازوں پر اہلکار تعینات ہیں اور دوسری طرف بعض اہلکار سادہ لباس میں مسجد کے شیشے والے دروازے سے مسلسل مجھے نظر میں رکھے ہوئے تھے اس لئے میں خواتین والے حصے میں نہیں جاسکتا تھا۔ اس لئے مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگ یہ کہیں کہ میں نے مبر سے اترتے ہی ڈر اور خوف کی وجہ سے کوٹ پینٹ پہن لیا تھا پھر بھی پکڑا گیا میرے خیال میں یہ عمل خود بھی ایک طرح کی کمزوری کا مظاہرہ تھا۔ مسجد میں سو لوگ بھی نہیں تھے کہ میں مسجد سے باہر نکل کر اسکے صحن میں آگیا اور اسی وقت مجھے اہلکاروں نے گھیر لیا اور میری گاڑٰی کو قلہک پولیس اسٹیشن لے گئے۔


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 35



http://oral-history.ir/?page=post&id=12703