خضر
انتخاب: تاریخ شفاہی ویب سائیٹ
مترجم: یوشع ظفر حیاتی
2025-07-30
سال کے آخری ایام تھے، کربلا کمیٹی کی طرف سے خبر ملی کہ جتنا جلدی ہوسکے تمام تر امکانات کو جمع کرکے مغربی علاقوں کی طرف حرکت کریں۔ یہ ایک غیر معمولی خبر تھی۔ پہلا پڑاؤ اھواز تھا اور ہمیں وہاں سے درس حاصل کرنا چاہئے تھا۔ اس ذمہ داری کو انجام دینے کے لئے پہلے کاروان کی ذمہ داری برادر"جوکار" اور بقیہ کی ذمہ داری مجھے قبول کرنی تھی۔ سر انجام مقدمات فراہم کرنے کے بعد ہم نے جنوبی علاقوں سے مغربی علاقوں کی جانب سفر شروع کیا اور اہواز، اسلام آباد کا فاصلہ طے کرنے کے بعد نجف ہیڈکوارٹر سے مورد نظر علاقے کا پتہ معلوم کیا۔ میں دیگر دو ساتھیوں راستی اور کشکولی کے ہمراہ دوسرے افراد سے پہلے لینڈ کروزر میں سوار ہوکر اس علاقے کی جانب روانہ ہوا۔ گیلان غرب کا علاقہ عبور کرنے کے بعد ہمیں کچے اور پہاڑی رستوں سے گذرتے ہوئے شیخ صالح کے علاقے میں پہنچنا تھا اور ہم چند گھنٹے کی تھکاوٹ اور بھوک و پیاس کے بعد بالآخر شیخ صالح پہنچ گئے۔ حالات سے ایسا لگ رہا تھا کہ بہت جلد کوئی آپریشن شروع ہونے والا ہے۔ اسی وجہ سے ہم بہت زیادہ جوش اور جذبات میں تھے اور جتنا زیادہ آگے بڑھتے جارہے تھے ہماری خوشی میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔ بالآخر معین شدہ پتے پر پہنچ گئے جو کہ ایک گیریژن تھا۔ کافی دیر سخت کوہستانی رستے پر چلنے کے بعد اچانک میری نگاہ ایک سائن بورڈ پر پڑی جس پر "دوآب" تککا فاصلہ معین کیا گیا تھا اور ہم کچھ دیر بعد دوآب دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ اس علاقے میں لوگ آپریشن کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ اب مجھے تقریبا اطمئنان حاصل ہوچکا تھا کہ بہت جلد آپریشن ہونے والا ہے۔ جب ہم اپنے ان بھائیوں سے ملے جو ہم سے پہلے نکل کر یہاں پہنچ چکے تھے تو انہیں دیکھ کر خوشی کی انتہا نہیں رہی۔ کچھ دیر آرام اور کھانا کھانے کے بعد ہمیں خبر ملی کہ گذشتہ رات مجاہدین دشمن کے ایک محورت کو عبور کرکے آگے بڑھ چکے ہیں۔ کچھ دیر بعد ہمیں یہ ذمہ داری دی گئی کہ ہم بندیجان ڈیم پر دو عدد خضر[1] انسٹال کریں۔ بہت مشکل کام تھا۔ پانی کا تیز بہاؤ کام میں شدید رکاوٹ تھا اور دوسری طرف دشمن کے ہوائی جہاز دن میں کئی مرتبہ ہمارے ٹھکانوں پر بمباری کررہے تھے۔ لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود ہمارے جوانوں کے حوصلے اور ارادے بہت بلند تھے۔ کام کے مقدمات فراہم کئے گئے لیکن ہمیں دو دن انتظار کرنا تھا تاکہ وہ سڑک جو ہمارے تعمیری جہاد کے جوان بنا رہے تھے پل ترمیر کرنے کی جگہ تک مکمل ہوجائے۔ بے کار نہ بیٹھنے کے لئے ہم نے ان دو دنوں میں سپاہ کے دوستوں کا ساز سامان منتقل کرنے میں انکی مدد کرنا شروع کردی۔ یہ پل نجف آباد ڈویژن کے عبور کرنے کے لئے بنائے جارہے تھے۔ سڑک آہستہ آہستہ نزدیک آرہی تھی۔ میں نجف اشرف ڈویژن کے کمانڈر کے ساتھ مل کر پل نصب کرنے کی جگہ کی شناسائی کرنے کے لئے کشتی کے زریے اس علاقے تک جاتا۔ جگہ کا تعین ہوا لیکن دو خطرے اب بھی ہمارے لئے موجود تھے، پانی کا تیز بہاؤ اور دشمن کے ہوائی جہازوں کی بمباری۔ لیکن چارہ نہیں تھا، ہمیں یہ کام انجام دینا تھا۔ پل کے ساز و سامان کو منتقل کرنے کے دوران دمشن نے کئی مرتبہ ہمیں اپنے راکٹوں اور بموں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن پھر بھی ہمارے جوان اپنے ارادوں میں مصمم تھے۔ عید نوروز 1988 کی رات کو ہم نے جس طرح بھی ممکن ہوا پل کے کچھ حصوں کو پانی کی سطح پر جوڑ کر رکھ دیا اور پھر ٹو ٹرک کے ڈرائیور کی مدد سے پانی کا کچھ حصہ طے کیا۔ سارے جوان کا میں مشغول تھے حتیٰ ایک لمحے کے لئے بھی آرام نہیں کررہے تھے۔ بعض افراد جنگی ساز و سامان منتقل کررہے تھے تو بعض دیگر قیدیوں کو اور بعض آزاد شدہ علاقوں کے عشائر کو محاذ کے پیچھے والے حصے کی جانب بھیج رہے تھے۔
آکری مرتبہ میں نے اس خیمے کو دیکھا جسے ہم اپنی پناہ گاہ اور مورچے کے طور پر استعمال کررہے تھے۔ اسی دوران میں متوجہ ہوا کہ میرے چاروں طرف دھواں پھیل گیا ہے۔ اب مجھ میں کھڑا رہنے یا کسی بھی قسم کی حرکت کرنے کی تاب نہیں تھی۔ میرا پورا بدن جل رہا تھا اور اس میں سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں زمین گیر ہوچکا ہوں۔ خدا کے سوا کوئی نہیں تھا جو میری مدد کرتا۔ میں نے دیکھنا شروع کیا، میں نے دیکھا میرے آس پاس کوئی بھی موجود ہیں تھا۔ میں نے اپنے آپ کو شہادت کے لئے آمادہ کیا اور شہادتین پڑھنا شروع کی، میری بیشتر توجہ اس جانب تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو زندگی کے ان آخری لمحات میں میری توجہ کسی اور طرف مبذول ہوجائے اور میں یاد خدا سے غافل ہوجاؤں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ درد اور زخموں کی شدت مجھے خدا کی یاد سے غافل کردے۔
ناقابل برداشت درد نے میرے پورے وجود کو گھیر لیا تھا۔ میں زبان میں گفتگو کی طاقت نہیں تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا چکا تھا۔ پل کے گوشے سے میں نے ایک اور ساتھی کو دیکھا جو زخمی ہوچکا تھا۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ پل ناکارہ ہوچکا ہے اور پانی کا بہاؤ ہمیں دشمن کی جانب لے جارہا ہے۔ بہت سخت لمحات تھے۔ آہستہ آہستہ میرے اوسان بحال ہوئے۔ بم کے کچھ ٹکڑے میرے پہلو میں گھس کر میرے پیٹ کی کھال میں گھس چکے تھے اور کچھ میرے سیدھے پیر میں گھسے ہوئے تھے۔ اچانک میری نظر ہیڈکوارٹر اور جوانوں پر پڑی۔ کچھ جوان گوشہ وکنار میں زخمی ہو کر گرے ہوئے تھے اور ہاتھ پیر مار رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ اب میں کچھ بھی نہیں کرسکتا اور مجھ میں کسی بھی قسم کے کام اور سرگرمی کی طاقت باقی نہیں ہے۔ اگر میں زرا سا بھی ہلا تو کشتی ڈوب جائے گی اور ڈوبنے کا قوی امکان تھا۔ آہستہ آہستہ کشتی دشمن کے نزدیک جارہی تھی۔ ہر لمحہ موت میری آنکھوں کے سامنے مجسم ہوری تھی۔ حالانکہ شہادت کا تصور میرے لئے شیریں تھا۔ اچانک میں نے آواز سنی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو متوجہ ہوا کہ ایک کشتی میری طرف آرہی ہے۔ جب وہ نزدیک آئے تو میں نے دیکھا کہ دو بسیجی جوان ہیں۔ ان میں سے ایک ہماری کشتی میں آیا اور ہر طرح کے جتن کرنے کے بعد مجھے اور ایک اور زخمی کو اپنی کشتی میں اٹھا کر لے آیا اور ہم ساحل کی جانب بڑھ گئے۔ خشکی پر پہنچنے کے بعد مجھے ڈویژن کے ایمرجنسی اسپتال لے جایا گیا۔ مختلف نشیب و فراز سے لبریز راستے اور پہاڑوں کے پیچ و خم سے ہوتے ہوئے مجھے صحرائی اسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں نے میرا معائنہ کرنے کے بعد مجھے ہیلی کاپٹر کے زریعے باختران منتقل کرنے کا حکم دیا، لیکن علی الظاہر ہیلی کاپٹر میں جگہ نہیں تھی اور مجبورا مجھے اسی ایمبولنس کے زریعے باختران منتقل کیا گیا۔ اس کوہستانی ناہموار راستے میں، تشنگی اور درد کی شدت اور خون ریزی کے باوجود تقریبا دو گھنٹے پہاڑوں اور وادیوں کو عبور کرتے ہوئے ہم بالآخر باختران کے امام حسین علیہ السلام اسپتال پہنچ گئے۔
میں جب ہوش میں آٰیا تو اپنے آپ کو اسپتال کے بستر پر پایا۔ چند نلکیاں میرے جسم میں وصل تھیں اور میرا پورا پیٹ اور ایک پیر پر مکمل طور پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ مجھے اس وقت تک معلوم ہی نہیں تھا کہ بم کے ٹکرے کہاں کہاں لگے ہیں۔ بعد میں داکٹر نے بتایا کہ بم کے ٹکڑے میرے جگر کے ایک حصے، پھیپھڑے اور اپرچر میں گھسے ہیں اور گال بلیڈر سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوں اور کمر کے دو مہرے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
میرے جاننے والوں میں سے کسی کو بھی میری خبر نہیں تھی اور جب میں پل پر زخمی ہوا تو دوست یہی سمجھے کہ میں شہید ہوچکا ہوں اور میرا جنازہ ڈھونڈنے کے لئے دریا میں تلاش جاری تھی۔ عید نوروز کے پہلے دن جب تحویل سال کے مراسم ریڈیو سے نشر ہورہے تھے تو میرے گھر والوں میں سے کسی کو بھی خبر نہیں تھی کہ میں کس حال میں ہوں۔ تین د کے بعد مجھے فوجی ہوائی جہاز کے زریعے اصفہان منتقل کیا گیا اور شہید چمران اسپتال میں میرا علاج شروع ہوا۔ چند دن کے معالجے کے بعد مجھے میری ہی درخواست پر شیراز کے شہید فقیہی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ کافی عرصے کے بعد اور کچھ بہتری آنے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہو کر دوبارہ محاذ جنگ کی جانب روانہ ہوگیا۔
[1] ایک طرح کا تیرنے والا پل جو تاروں کی مدد سے پانی پر تیرتا ہے اور اسکے زریعے بھاری سامان منتقل کیا جاسکتا ہے
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 83
http://oral-history.ir/?page=post&id=12702