آپریشن ’’مطلع الفجر‘‘
راوی: مولاداد رشیدیانتخاب: فریبا الماسی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
2025-02-25
دسمبر کے وسط میں، ملٹری بیس میں دوبارہ آپریشن کا ماحول تھا، طے پایا تھا کہ مغربی علاقے میں سپاہ اور آرمی کی فورسز نجف کیمپ اور آرمی کے فرنٹ کیمپ کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ایک مشترکہ آپریشن انجام دیں گی، ملٹری بیس میں آمد و رفت بہت بڑھ گئی تھی، آخرکار 11 دسمبر 1981(20 آذر 1360) کو مغربی گیلان اور سرپل ذہاب کے محور میں آپریشن شروع ہوگیا، صوبۂ کرمانشاہ کی سپاہ اور بسیج کی فورسز، تہران، رشت، مشہد اور ہمدان کی کچھ بٹالینز نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ بازی دراز کے محور میں موجود فورس کو بیک اپ دینا اور دشمن کی ممکنہ نقل و حرکت کا مقابلہ کرنے کے لیے فورسز کو تیار کرنا خاص طور پر کاسہ کبود کے دشت میں، کمانڈ کی طرف سے کوآرڈینیشن ہیڈکوارٹر کا مشن تھا، ایسے میں، میں نے حاجی بابا بھائی کو بتایا کہ آپریشن میں حصہ لینے کے لیے قبائلی بسیج تیار ہے لیکن انہوں نے اجازت نہیں دی اور دوبارہ فرنٹ لائن کی حفاظت اور فورسز کی تقویت پر زور دیا، اس کے ساتھ میں کسی بہانے کی تلاش میں تھا تاکہ میں آپریشن میں حصہ لے سکوں لیکن حالات پہلے سے بہت بدل چکے تھے اور مشکل صرف ہیڈکوارٹر کو سنبھالنا نہیں تھا بلکہ بازی دراز کے محور کے انچارج کے ساتھ تعاون کے متعلق کمانڈ کی توقعات نے مجھے بے بس کردیا تھا۔
میں کوآرڈینیٹ ہیڈکوارٹر کا انچارج تھا اور مجھ سے کہا گیا تھا کہ آپ اپنی فورسز کے ساتھ رہیں، کمانڈ کے حکم کی تعمیل کرنا فرض ہے، پہلے چونکہ میرے پاس کوئی ذمہ داری نہیں تھی اس لیے آپریشن میں حصہ لینا میرے لیے آسان تھا۔
آپریشن ’مطلع الفجر‘ کی رات آئی، میں بازی دراز گیا اور چوٹی 1100 پر تعینات قبائلی بسیج کے پاس جا کر ٹھہر گیا، خیر الہ۔۔۔ بھائی جو قبائلی بسیج کے جنگجو، آپریشن انٹیلیجنس فورسز کے رکن اور ہمدان سے تھے وہ سپاہ کے دو افراد کے ساتھ بازی دراز کی فرنٹ لائن پر آئے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: ’’ہم جنگی علاقے میں جا رہے ہیں! آپ نہیں آئیں گے؟‘‘ میں نے کہا: ’’میں نے حاجی بابا بھائی سے بات کی، انہوں نے کہا آپ مت آئیں اور اس علاقے کی حفاظت کریں!‘‘ بہرحال میں نے منع کردیا اور وہ لوگ آپریشن میں حصہ لینے کے لیے چلے گئے اور انہوں نے کہا: ’’اگر کل دوپہر تک عراقیوں نے آپ لوگوں پر جوابی حملہ نہ کیا تو آپ بے فکر ہو کر جنگی علاقے میں آسکتے ہیں!‘‘ آدھی رات کے بعد آپریشن شروع ہوا، جنگی علاقے کا آسمان شعلوں سے روشن تھا اور فائرنگ کی آوازیں اور مارٹر گولوں اور توپوں کی گھن گرج ایک لمحے کی لیے بھی تھم نہیں رہی تھی، ہم نے رات بہت مشکل اور پریشانی میں گزاری، فجر کی نماز کے بعد ہمارے ساتھی تیار تھے اور انہوں نے جنگی علاقے پر نظر رکھی ہوئی تھی، بازی دراز کے علاقے میں دشمن کی نقل و حرکت کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، صبح 10 بجے ابھی تک جنگی علاقے میں خاموشی تھی، میں نے کچھ ممتاز ساتھیوں کو ممکنہ صورتحال اور اس میں انہیں کیا اقدامات کرنے ہوں گے، کے بارے میں ہدایات دیں اور میں ’شیشہ راہ‘ گاؤں کی طرف چلا گیا، شیشہ راہ گاؤں میں قبائلی بسیج کی کچھ حفاظتی فورس تھی اور وہ آپریشن کے علاقے سے قریب تھی، پولکی بھائی اور کرمانشاہ کی کچھ فورسز وہاں موجود تھیں، کرمانشاہ کی حزب اللہ کے ساتھیوں کا ایک گروہ رضاکارانہ طور پر آپریشن میں حصہ لینے کے لیے آیا ہوا تھا، ساتھیوں سے ملی معلومات کی بنا پر میں آپریشن کے علاقے کی طرف چل پڑا، مجھے دشت دیرہ سے مغربی گیلان روڈ کی طرف جانا تھا، وادی کورک روڈ دائیں طرف تھا؛ روڈ کا کچھ حصہ پہاڑوں اور ٹیلوں کی وجہ سے دشمن کی نظروں سے دور تھا، میں نے ہیڈکوارٹر کی اکلوتی گاڑی کو ایک محفوظ مقام پر چھوڑ دیا اور روڈ پر پیدل چلنے لگا، دشمن روڈ پر ادھر ادھر حملے کر رہا تھا، کچھ آگے سپاہیوں کو بکتر بند عملہ بردار کے ذریعے فرنٹ لائن پر منتقل کیا جارہا تھا، میں وہاں پہنچا۔ حاجی بابا بھائی کچھ فورس کے ساتھ فرنٹ لائن پر جارہے تھے، ان کے چہرے سے پتہ چل رہا تھا کہ جنگی علاقے کے حالات اچھے نہیں ہیں، میں کچھ دیر رک گیا تاکہ وہ چلے جائیں اور میں اگلے دستے کے ساتھ فرنٹ لائن کی طرف چلا جاؤں؛ آخرکار میں اپنے کچھ جنگجو ساتھیوں کے ساتھ فرنٹ لائن کی طرف چل پڑا، ہم آخری قابل عبور جگہ پر اتر گئے، شہیدوں کے جنازے ٹیلوں کے بیچ زمین پر پڑے تھے اور مسلسل جاری فائرنگ کے بیچ انہیں اٹھا کر لے جانا ممکن نہیں تھا اور یہ ہمارے ساتھیوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بن چکا تھا؛ گزشتہ آپریشنز کے دوران ہم بہت تیزی سے شہداء کو لڑائی کی جگہ سے اٹھا کر لے جاتے تھے، کاش میرے پاس طاقت ہوتی اور میں ان تمام عزیزوں کو کندھے پر ڈال کر لے جاتا، جنگ آرگنائزیشن(سازمان رزم) کی طرف سے بھیجے جانے والے امدادی عملے کی تعداد، شہداء اور زخمیوں کے لیے کافی نہیں تھی، کچھ جگہوں پر تو ہمیں آگے بڑھنے کے لیے شہداء کے بیچ میں پیر رکھنے کی جگہ ڈھونڈنی پڑ رہی تھی، ایک جگہ تھی جس سے آگے نہیں جایا جاسکتا تھا اور اسنائپرز اور مختلف قسم کی فائرنگ نے راستہ بند کر رکھا تھا، ایک دو گھنٹے تک میں ان فورسز کے ساتھ رہا جنہیں میں جانتا نہیں تھا اور کچھ نہ کر پانے کی وجہ سے میں واپس پیچھے لوٹنے پر مجبور ہوگیا۔
آپریشن کرنے والی فورسز نے پہلی رات شیاکوہ کی پہاڑیوں اور وادی کورک کے کچھ حصے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا لیکن مجموعی طور پر پہلے دن تمام اہداف کو حاصل نہیں کیا جاسکا تھا، کرمانشاہ کی سپاہ کی فورسز کے وادی کورک کے کچھ حصے پر قبضے کے باوجود دشمن نے ان فورسز سے اوپر موجود پہاڑوں پر پڑاؤ ڈال کر اور بھاری گولہ باری کرکے ان کے لیے ہر قسم کی نقل و حرکت کو ناممکن بنادیا تھا، دشمن اس علاقے کی عسکری اہمیت کو جانتا تھا اور ایک بڑی شکست جس کے نتیجے میں اسے سرپل ذہاب اور مغربی گیلان جیسے بڑے علاقے سے پیچھے ہٹنا پڑتا، سے بچنے کے لیے اس نے اپنی پوری طاقت لگادی تھی۔
دوسرے مقامات پر آپریشن اسی طرح سے جاری تھا، جن علاقوں کو ہم نے حاصل کرلیا تھا دشمن انہیں حاصل کرنے کے لیے بے چین تھا؛ آپریشن شروع ہوئے کچھ دن گزر چکے تھے، شیشہ راہ گاؤں میں، میں نے دوبارہ پولکی صاحب سے ملاقات کی، کامران مولائی بھائی اور کرمانشاہ کی حزب اللہ کے کچھ ساتھی جنہوں نے آپریشن میں حصہ لیا تھا اور وہ علاقے کی مجموعی صورتحال سے ناخوش تھے، میرے ساتھ ابوذر بیس آگئے اور وہ کرمانشاہ واپس جانے کا ارادہ رکھتے تھے؛ ابھی تک آپریشن ’مطلع الفجر‘ جاری تھا، ایک رات حاجی قاسم محمد صالحی بیس آئے، نماز کے بعد ہم نے رات کا سادہ سا کھانا کھایا اور انہوں نے آپریشن کی صورتحال پوچھی، پہلے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صوبے کی بسیج کو چھوڑ دیا ہے اور حاجی خلیل کیانی کو بسیج کا انچارج بنادیا گیا ہے اور وہ آپریشن میں حصہ لینے آئے ہیں، میں نے جنگی علاقے کی پیچیدہ صورتحال سے انہیں آگاہ کیا اور کہا: ’’جناب! کاش ہم کمانڈ اینڈ کنٹرول جاکر حاجی بابا سے مل لیتے!‘‘ انہوں نے کہا: ’’دیکھتے ہیں خدا کیا چاہتا ہے، ابھی سوجاتے ہیں کل بات کریں گے!‘‘ اگلی صبح، نماز اور ناشتے کے بعد انہوں نے کہا: ’’مجھے جلدی جانا ہوگا تاکہ میں وقت پر جنگی علاقے پہنچ سکوں!‘‘ میں نے کہا: ’’آپ اسلحہ اور سازوسامان کچھ نہیں لے جارہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’نہیں، سب کچھ ہے! میں سپاہ کے ساتھیوں سے لے لوں گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’آپ کے جنگی علاقے میں جانے کے لیے مجھے کمانڈ سے رابطہ تو کرنے دیجیے!‘‘ انہوں نے کہا: ’’نہیں، اس کی ضرورت نہیں، میں وہاں بٹالینز کے کمانڈر سے رابطہ کرلوں گا!‘‘ انہوں نے اسلحہ اور سازوسامان بھی نہیں لیا، میں نے اصرار کرکے انہیں کچھ خشک میوے اور جنگی چاکلیٹس دیں اور ہم وادی کورک کے داخلی راستے کی طرف چل پڑے، مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا اور راستے میں، میں نے ان سے کہا کہ وہ واپس لوٹ جائیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، ہم گاڑی کے ذریعے جہاں تک دشمن کی نظر نہیں تھی، گئے اور وہاں اتر گئے، میں نے کہا: ’’میں عملہ بردار کے پاس تک آپ کے ساتھ آؤں گا!‘‘ انہوں نے مسکرا کر جوش کے ساتھ مصافحہ کیا اور کچھ دور جانے کے بعد انہوں نے کہا: ’’بھائی! آپ واپس چلے جائیں، میں آرام سے چلا جاؤں گا!‘‘ میں نہ چاہتے ہوئے بھی لوٹ آیا لیکن ان کا پرعزم اور نورانی چہرہ ایک پل کے لیے بھی میری نظروں سے اوجھل نہیں ہورہا تھا، کچھ دن بعد ان کے بھائی حاجی ناصر محمد صالحی، سپاہ کے ایک ساتھی کے ساتھ بیس آئے اور وہ اپنے بھائی کو تلاش کر رہے تھے، میں نے انہیں ان کے بھائی کی موجودگی کی تفصیلات اور آپریشن کے علاقے میں ان کے داخل ہونے کے مقام کے بارے میں بتایا اور ہم ساتھ میں کمانڈ آفس میں حاجی بابا کے پاس گئے، انہوں نے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا وعدہ کیا، حاجی ناصر بھی وادی کورک کے علاقے میں چلے گئے اور وہاں موجود فورسز سے اپنے بھائی کے بارے میں معلوم کیا لیکن بدقسمتی سے ان کے بارے میں صرف اتنا ہی پتہ چل سکا کہ وہ ایک بٹالین کے ساتھ تھے، اس کے علاوہ کچھ بھی معلوم نہ ہوسکا اور وہ آپریشن ’مطلع الفجر‘ کے جاوداں شہیدوں سے جا ملے۔ خدا ان کے درجات بلند فرمائے۔
یہ آپریشن قریب 17 دن تک جاری رہا، اس دوران کچھ علاقے کبھی دشمن کے پاس چلے جاتے تھے اور کبھی ہمارے پاس آجاتے تھے، جنگی علاقے سے آپریشن کے شہداء کے جنازوں کی منتقلی بھی صرف رات کی تاریکی میں ہی ممکن تھی اور بٹالینز نے اس کام کے لیے اپنی کچھ فورس مختص کردی تھی، اس آپریشن کا ایک اور تلخ واقعہ غلام علی پیچک بھائی کی شہادت تھی جو آپریشن ’مطلع الفجر‘ کے ان پہلے شہداء میں شامل تھے جنہوں نے لڑائی کے دوران شہادت پائی تھی۔[1]
تاریخ شفاهی :: عملیات مطلع الفجر (oral-history.ir)
.....................................................................................................................
[1]. 1حاتمی، حمیدرضا، هزار قلّه- تاریخ شفاهی سرهنگ پاسدار مولاداد رشیدی از سالهای دفاع مقدس، کرمانشاه، اداره کل حفظ آثار و نشر ارزشهای دفاع مقدس استان کرمانشاه، انتشارات مرصاد، چ اول، 1401، ص 165.
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 45
http://oral-history.ir/?page=post&id=12431