اس آدمی کا پیچھے کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟
مترجم: ضمیر علی رضوی
2024-11-11
اسی سال(1964/1343) کے نصف شعبان کو ضلع گرمی میں امام زمانہ (عج) کی ولادت کی مناسبت سے، میں منبر پر گیا. مجھے یاد ہے کہ میں نے منبر پر امام(خمینی رہ) کی سلامتی کے لیے صلوات پڑھوائی. عین وہی جملہ مجھے یاد ہے، میں نے کہا: " ایرانی قوم کے جلا وطن رہبر اور ایرانی قوم کے گمشدہ یوسف، آیت اللہ العظمی خمینی صاحب کی سلامتی کے لیے صلوات". میں نے دیکھا کہ پولیس چیف، بارڈر پولیس چیف اور جینڈر میری کا کمانڈر وہاں میٹنگ کر رہے ہیں. جیسے ہی میں منبر سے اترا، انہوں نے مجھے(حجت الاسلام ابوذر بیدار) گرفتارکر لیا. میں نے دیکھا کہ وہ میری رپورٹ تیار کر رہے ہیں اور ایک ایک کر کے افسران اس پر دستخط کر رہے ہیں. گرمی(ضلع) پولیس کے چیف جن کا نام کیپٹن اختران تھا، مجھے بارڈر پولیس اسٹیشن لے گئے. انہوں نے رپورٹ تیار کی کہ میں نے بارڈر پر لوگوں کو بادشاہی نظام(نظام سلطنت) کے خلاف اکسایا ہے. ہم گرمی(ضلع) میں حاجی سید حسین نعمتی کے گھر میں تھے، انہوں نے میری رہائی کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ نہیں مانے. جینڈر میری کے چھ اہلکار مجھے راتوں رات اردبیل لے آئے، سخت سردیاں تھیں. اردبیل سیکیورٹی ایجنسی کے چیف، کرنل نبی پور نے مجھے میری فائل کے ساتھ تبریز بھیج دیا. اس وقت آذربائیجان(صوبہ) سیکیورٹی ایجنسی کے چیف، بریگیڈیئر جنرل مہرداد تھے. اگلے دن مجھے ان کے پاس لے جایا گیا. حاجی علیلو نامی-جسے بعد میں پھانسی دے دی گئی تھی - جو آذربائیجان کی ساواک کا ڈپٹی تھا، مجھے بریگیڈیئر جنرل مہرداد کے پاس لے گیا. اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا: "تم لوگ کیوں اس آدمی کا پیچھا نہیں چھوڑ دیتے، وہ غدار ہے!". میں نے کہا: "(اس آدمی سے) آپ کا مطلب کون ہے کھل کر بتائیں گے. آپ کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟' اس نے کہا: "میرا مطلب...". اس نے بہت بد تمیزی سے مرحوم امام کا نام لیا – البتہ آپ جانتے ہوں گے کہ اسے اسکے کیے کی سزا مل گئی. شیراز میں ایک شخص نے اسے قتل(اعدام انقلابی) کر دیا تھا قریب سن 1968-1964 تھا – اس نے امام کی توہین کی. میں نے کہا: "تمیز سے بات کریں آپ جو اتنی تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں، آپ کے خیال میں وہ غدار ہو سکتے ہیں؟! وہ ہمارے استاد ہیں، ہمارے ملک کے مذہبی رہنما ہیں، ہمارے مرجع تقلید ہیں، مرجع تقلید کبھی بھی غداری نہیں کرتا."
میرے خلاف ایک کیس تیار کیا گیا اور مجھے ملٹری کورٹ بھیج دیا گیا. میرا تفتیشی افسر، ابیوردی نامی، ایک کرنل تھا. دو مہینے کی تفتیش اور جیل کے بعد مجھے رہا کر دیا گیا ہے.
منبع: باقری، علی، خاطرات ۱۵ خرداد تبریز، ماجرای آغاز انقلاب اسلامی در تبریز، ج ۳، تهران، حوزه هنری، 1375(1996)، ص 80-79.
15khordad42.ir
صارفین کی تعداد: 31
http://oral-history.ir/?page=post&id=12206