حاجی احمد متوسلیان اور بیت مال کی ٹوپی

راوی: مجتبیٰ عسکری
مترجم: صائب جعفری

2023-04-29


امام  خمینیؒ کے فتوے کے مطابق مجھے اس کی اجازت نہیں کہ میں اس گاؤں کو بھاری اسلحہ سے تباہ کر دوں۔  تم لوگ اگر چاہوتو کیلیبر ۵۰ کے ساتھ صرف ان گھروں کو نشانہ بنا سکتے ہو جن سے تم پر فائرنگ ہو رہی ہے

پاوہ کے نزدیک ایک گاؤں ہے جس کا نام نجار ہے اس کی آبادی ۴۰ خاندانوں میں منقسم ۱۵۶ افراد پر مشتمل تھی۔ یہ پاوہ کے بعد پہلا گاؤں تھا جو نوسود کی جانب واقع تھا۔ فوجی اسٹراٹیجیک کے لحاظ سےاس کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔ لیکن ہمیں اس پر تصرف کرنا تھا  تاکہ ہم نوسود کی جانب سفر کر سکیں۔ ۱۹۷۹ کی سردیوں کی ایک صبح  ہم پاوہ کے رضا کار گارڈز اور غیر مقامی گارڈز کے ہمرا نوسود کی جانب روانہ ہوئے۔ انقلاب مخالف عناصر نے گاؤں نجار کے اندر سے

 مزاحمت شروع کی۔ جوانوں نے مشورہ دیا کہ ہم گاؤں پر بمباری کر دیتے ہیں۔

میں نے سنا کہ حانی احمد متوسلیان نے کہا: ’’ امام  خمینیؒ کے فتوے کے مطابق مجھے اس کی اجازت نہیں کہ میں اس گاؤں کو بھاری اسلحہ سے تباہ کر دوں۔  تم لوگ اگر چاہوتو کیلیبر ۵۰ کے ساتھ صرف ان گھروں کو نشانہ بنا سکتے ہو جن سے تم پر فائرنگ ہو رہی ہے۔  اگر ۱۶۰ بلیٹ سے گاؤں کو نشانہ بنایا گیا تو ہو سکتا ہے کہ بے گناہ افراد بھی نشانہ بن جائیں۔ اس لئے اس کام میں مصلحت نہیں۔‘‘

اس گاؤں میں انقلاب مخالف عناصر کی موجودگی کی وجہ  سے ہم اس وقت اس گاؤں کا کنٹرول حاصل نہ کر سکے۔ اس کی ایک اور وجہ شاید یہی تھی کہ اس وقت احمد متوسلیان کو شدید جھڑپ کی اجازت نہیں تھی۔

جس صبح سے ہم نے آپریشن کا آغاز کیا  تو ایک دو گھنٹہ ہی لگے ہونگے کہ ہم نے گاؤں کا محاصرہ کر لیا مگر شدید حملوں کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ہم گاؤں میں داخل نہ ہوسکے۔ اسی وجہ سے ہم نے  بہت ہی منصوبہ بندیوں اور جنگی چالوں کے ساتھ آپریشن کیا۔ میرے الٹے پاؤں گولی لگی اور میں زخمی ہوگیا۔ جوانوں کی مدد سے میں فرسٹ ایڈ کیمپ تک پہنچ گیا  جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں۔

حاجی احمد متوسلیان کی خصوصیت یہ تھی کہ عقب نشینی کے وقت گنتی ضرور کرتے تھے اور یہ دیکھتے تھے کہ تمام جوان واپس آگئے ہیں یا نہیں؟ وہ  اس بار جب یہ کام   انجام دے رہے تھے تو ان کے سر سے ان کی ٹوپی گر گئی اور پہاڑی سے لڑھکتی ہوئی کوئی ۴۰۔۵۰ میٹر نیچے آگئی اور کھائی میں جا پڑی۔ جاجی احمد متوسلیان نے اندازہ لگایا کہ اگر وہ نیچے جاکر اپنی ٹوپی اٹھا لاتے ہیں تو ان کی جان کو خطرہ نہ ہوگا۔

کام بڑا مشکل تھا مگر وہ نیچے اترے اور اپنی ٹوپی اٹھا لائے۔ جب وہ واپس پلٹے تو جوانوں نے پوچھا: ’’ ایک ٹوپی کے لئے خطرہ مول کیوں لیا۔؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’بھیا یہ بیت المال کا مال ہےیہ انقلاب مخالفوں کے ہاتھ نہیں لگنا چاہئے۔‘‘

 

مصدر: کتاب ’’ ایستادہ تا ہمیشہ‘‘،  تدوین: فاطمہ وفائی زادہ، ناشر: انتشارات ایران، ۲۰۲۲

 

 

 

 

 

 

 


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 920



http://oral-history.ir/?page=post&id=11192