ساواک کی تجویز کا جواب

یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھنے سے انکار،

سید ہادی خامنہ ای
ترجمہ: محب رضا

2023-01-30


جب تہران میں، (جیل سے رہائی کے بعد) [آبان 1351] میری ملاقات جناب بہشتی سے ہوئی تو انہوں نے، مشہد یونیورسٹی میں میری پڑھائی کو ذھن میں رکھتے ہوئے، ہماری ایک گفتگو کے دوران پوچھا: "اچھا! تم یونیورسٹی کے سلسلے میں کیا کرناچاہتے ہو؟ کیا پڑھائی جاری رکھنے کا ارادہ نہیں ہے؟" میں نے کہا: "میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب یونیورسٹی میں مزید پڑھائی نہ کروں۔ یہ میرے لئے مشکل ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ جاری رکھنے کا کوئی فائدہ بھی نہ ہو۔"

انہوں نے سختی سے تاکید کی اور اصرار کرتے ہوئے کہا: ’’نہیں! تمہیں یونیورسٹی میں اپنی پڑھائی ضرور جاری رکھنی چاہیے، یہ افسوس کی بات ہے۔ تم نے دو تین سال محنت کی ہے۔" یہی وجہ بنی اور مجھے حوصلہ ملا کہ مشہد واپسی پر اپنی یونیورسٹی کی ادھوری تعلیم کے سلسلے میں کچھ کروں۔

ایک سال کی غیر حاضری کے بعد، ہم جماعتوں اور طلباء کے لیے رد عمل ظاہر کرنا فطری تھا۔ میں ایک سال سے غیر حاضر تھا اور حالات کافی تبدیل ہو چکے تھے۔ اس سے قبل، میرے دوست سیاسی معاملات سے لاتعلق رہتے تھے لیکن اس بار وہ بہت جوش اور احترام سے میرے استقبال کو آئے۔ میں اس صورتحال میں یونیورسٹی گیا اور اپنے ڈیپارٹمنٹ پہنچ کر ایڈمیشن کی کوشش شروع کی۔ پہلے انہوں نے کہا: "ابھی رجسٹریشن کروا لو، کوئی مشکل نہیں ہے۔ عام طور پر، جو سٹوڈنٹ گرفتار ہوتے ہیں اور قید کیے جاتے ہیں، رجسٹریشن کرواتے ہیں، کچھ عرصہ ساواک انہیں تنگ کرتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور وہ کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتے، اور درحقیقت تمہارے جیسے سٹوڈنٹ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔" ان باتوں کی بنیاد پر میں نے جا کر رجسٹریشن کروا لی۔ مجھ پر پہلے سے یونیورسٹی کا قرض تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے زیر استعمال لیبارٹری کا سامان یا تو خراب ہو گیا تھا یا ٹوٹ چکا تھا، میں نے سب حساب بے باق کیا اور نئے سمسٹر سے کلاس میں بیٹھ گیا۔

کلاسز کو شروع ہوئے کچھ عرصہ گزر گیا، پروفیسر صاحب، جو ہمیں پڑھاتے تھے اور شومئی قسمت سے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی تھے، ایک دن چپکے سے مجھے ایک طرف لے گئے اور بولے: "کیا تمہیں بتایا گیا ہے کہ ایک اوپر کا چکر لگانا ہے؟" اوپر سے مراد ساواک تھی۔ میں نے کہا "نہیں!" انہوں نے کہا: "پھر تم ساواک کے پاس جاؤ اور اپنا تعارف کرواؤ۔" میں بھی ایک دو دن بعد چلا گیا۔ پہلے تو انہوں نے مجھے بڑے احترام سے دھمکیاں دیں! پھر کہنے لگے: ’’تمہاری فائل ابھی بھی کھلی ہوئی ہے اور ہم تمہارا لحاظ کر رہے ہیں، ورنہ تمہارے بارے میں ایسی رپورٹیں آئی ہیں کہ ہم تمہیں دوبارہ گرفتار کرکے قید کر سکتے ہیں۔‘‘ پھر انہوں نے مجھ سے کچھ تصویریں اور شناختی کاغذات مانگے اور آخر میں ایک فارم میرے سامنے رکھا جس پر مجھے دستخط کرنے تھے۔ فارم کے مطابق مجھ سے یہ تقاضا کیا گیا تھا کہ اگر میں اپنے دوستوں کے بارے میں کوئی خاص معلومات رکھتا ہوں یا حاصل کروں تو ساواک کو مطلع کروں۔ درحقیقت، انہوں نے واضح طور پر مجھے، اپنے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بلایا تھا اور یہ ایک نئے ماجرے کا آغاز تھا۔

میں نے اس کاغذ پر دستخط نہیں کیے اور بولا: "میں نہ تو اس کاغذ پر دستخط کروں گا اور نہ ہی اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتا ہوں!" کہنے لگے: کیوں؟ افسوس ہے! تم نے اتنی بہت محنت کی ہے۔" میں نے کہا: "سچ تو یہ ہے کہ مجھے پہلےہی یونیورسٹی میں پڑھنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔" درحقیقت، میں اس طرح مسئلہ ختم  کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ایسا نہ ہوا! انہوں نے مزید دھمکانا شروع کر دیا اور بولے: "تم چاہے یونیورسٹی میں پڑھو یا نہیں، اس فارم پر لازماً دستخط کرنا ہوں گے۔" میں نے کہا: "اب یہ کرنا ہی ہے تو مجھے اپنی تصویریں اور دستاویزات مکمل کرنے کا موقع دیں، جب اگلی بار آؤں گا، تو فارم پر دستخط بھی کر دوں گا۔"انہوں نے بھی سختی نہیں کی اس طرح میں یہ چال چل کر وہاں باہر آ گیا اور پھر کبھی واپس نہیں گیا۔ کچھ عرصہ گزر گیا، یہاں تک کہ امتحانات شروع ہونے سے ایک یا دو روز قبل میں نے اپنے کچھ دوستوں کو بتایا کہ کیا واقعہ ہوا ہے اور میں اب امتحانات میں نہیں بیٹھوں گا۔ امتحان کے دن جب میں نہیں گیا تو میرے تمام دوستوں اور ہم جماعتوں کو معلوم ہو گیا کہ کوئی مسئلہ ہو گیا ہے اور میری پڑھائی پر پابندی لگا دی گئی ہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ میں نے خود، پڑھائی کو جاری نہیں رکھا تھا کیونکہ ساواک سے تعاون کے فارم پر دستخط کرنے سے میں نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ ایسے طلباء جنہوں نے اس فارم پر دستخط کیے وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے تھے، مگر ساواک کے ساتھ اسی تعاون کی شرط کے ساتھ۔ میں نے فارم پر دستخط نہیں کیے اور اپنا فیصلہ قطعی کر دیا، لیکن پڑھائی چھوڑنے اور یونیورسٹی نہ جانے کے میرے فیصلے سے ساواک شک میں پڑ گئی کہ: میرا کیا کرنے کا ارادہ ہے جو میں نے یونیورسٹی میں پڑھنا چھوڑ دیا ہے؟

 

منبع: قبادی، محمدی، یادستان دوران: خاطرات حجت‌الاسلام والمسلمین سیدهادی خامنه‌ای، تهران، سوره مهر، 1399، ص 318 - 320.

 


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 1296



http://oral-history.ir/?page=post&id=11025