عراقی قیدی اور مسلط شدہ جنگ کے راز: ۱۳

مرتضی سرھنگی
ترجمہ:

2023-01-29


یہ بزدلانہ جنگ، سادی جنگ نہیں ہے اور اسکے مقاصد کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی دشمن کے اهداف کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے. وہ مقاصد جو اسلام کو مٹانے کے لیے ہیں اور اسلام کی طرف کسی بھی رجحان کو دبانے کے لیےاور مسلم اقوام اور دنیا کے پسماندہ لوگوں میں اس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ (انبساط) کو روکنے کے لیے ہیں. آپ جانتے ہیں کہ حذب بعث کہ جب انہوں نے محسوس کیا کہ انقلابِ اسلامی سے ان کے وجود کی بنیاد کو خطرہ ہے اور جلد یا بدیر یہ خطے کے بہت سے رجعتی حکمرانوں کے دامن میں پھیل جائے گا، اُنہوں نے (حذب بعث نے) جنگ کے شعلہ بھڑکا دیئے. بعث فوج کے دستے نقشوں، حسابات اور سابقہ   معلومات کے ساتھ آپ کے علاقے میں داخل ہوئے جو حذب بعث کو اپنے آقاؤں کی تمام جاسوسی ایجنسیوں سے ملی تھیں اور آپ کی زمینوں کے ایک قابل ذکر علاقے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے. عراقی فوج نے کئی شہروں پر قبضہ کر لیا۔آپ کے ملک کی صنعتی اور عسکری تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا اور ان جرائم کے متوازی صہیونی پروپیگنڈے نے صدام کے حق میں جھوٹ پھیلایا۔

اسی اثنا میں، دنیا کے باشعور اور آزاد لوگوں نے، جن میں سے زیادہ تر محروم اور مظلوم ہیں، آپ کے اسلامی انقلاب کا دفاع کیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جنگ کا اختتام صدام کی تباہی اور آپکی فتح پہ ہوگا اور یہ بات آپ سے بھی پوشیدہ نہیں ہے- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اس کی مدد کرے گا وہ (اللہ) اس کی مدد کرے گا۔  اس لیے قادسیہ کی جنگ صدام کے لیے آسان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اسلام کے خالص اصولوں اور  مبادیات کے خلاف ہے اور حضرت محمد (ص) کی آسمانی روایت کے خلاف ہے۔

اب خدا کی طرف سے دیے گئے اس وعدے کو دیکھیں کہ کیا کوئی عقلمند اس بات کو مانتا ہے کہ ظلم حق پر غالب آجاتا ہے؟ جب میں نے یہ وعدے دیکھے ہیں تو میں خدا کے حکم کا کیسے منکر ہو سکتا ہوں.

آپ صدام کو "کافر" کہتے ہیں، لیکن اسرائیل ریڈیو اور دیگر خبر رساں ادارے اسے "پرسیدنٹ (صدر) " کہتے ہیں، اور میری تشریح میں اس صدر کا مطلب صدرِ جرم، قتل و غارت، اور گھٹن و جھوٹے پروپیگنڈے کا بادشاہ ہے، ہم نے یہ سب اس کے لیے اچھے القابات پائے ہیں لیکن اس کے لیے لفظِ 'کافر' کافی اور جامع ہے۔

اس شخص نے بعثی فوج کے ساتھ مل کر محاذوں پر کفر اور فساد پھیلایا ہے۔ حذب بعث نے جنسی ویڈیوز نشر کرنے کے لیے محاذوں پر ایک ویڈیو ڈیوائس بھیجی ہے اور صدام کی کافر قادسیہ فوج کے بہت سے سپاہی بغیر کسی رکاوٹ کے شراب ایسے پیتے ہیں، جیسے ان کے حوصلے بڑھانے کا دوائی ہو۔ جو سپاہی شراب سے بھرے پیٹ کے ساتھ مارے گئے ہوں، انہیں شراب سے بھرے پیٹوں سے حساب دینا ہوگا۔

اب کافر صدام ان سپاہیوں کے ساتھ اسلام کا تختہ الٹنا چاہتا ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ ایسا کر سکتا ہے، وہ خود کبھی کبھی محاذ پر آ جاتا ہے۔ پچھلے سال کی شبِ قدر آیا تھا۔

ہماری افواج کرخه ندی کے قریب اور سوسنگرد ہائی وے پر تھیں۔ صدام کافر نے اپنی قادسیہ فوج کو حملہ کرنے کا حکم دیا اور تاکید کی کہ "اسلامی فوج کو تباہ کر دیا جائے"۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور خدائی طاقت کی مدد سے اسلامی فوج، عراقی فوج کے بوسیدہ جسم پر مہلک ضربیں لگانے میں کامیاب رہی- اس حملے میں دو لشکر مکمل طور پر تباہ ہو گئے- میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ کے تین جنگجو ہمارے بہت سے سپاہیوں کو پکڑنے اور ان کے ساتھ تمام گولہ بارود اور ہتھیاروں کو لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ فتح المبین آپریشن میں شوش-دزفول شاہراہ پر آپ کے فوجیوں نے موٹرسائیکلوں پر ٹینکوں کو تلاش کرنے کے لیے گشت کی اور انہیں صحیح و سالم اپنے ساتھ لے گئے۔


سوش میں ایک دن، بغداد سے سیاسی انٹیلیجنس کا ایک وفد اگلے مورچوں کا دورہ کرنے اور مسائل کو جاننے و اہلکاروں کی کمی کی تحقیقات کرنے آیا۔ میری یونٹ ان یونٹوں میں سے ایک تھی کہ جس کا اس وفد نے دورہ کرنا تھا۔ اتفاق سے ان کا دورہ نماز ظہر کے وقت ہوا۔ کچھ سپاہیوں اور عہدے داروں نے نماز پڑھنے کے لیے جماعت کی صف بنا رکھی تھی۔ نمازیوں کی صفوں نے آنے والے وفد کی توجہ مبذول کی۔ حالات دیکھ کر انکے رنگ اڑ گئے، اور ان میں سے ایک نے کہا: "یہ بہت خطرناک ہے، آپ کو کوئی حل سوچنا ہوگا۔"

اس طرح کے ردعمل، خاص طور پر کسی سیاسی اور انٹیلیجنس ادارے کی طرف سے، اس جنگ کے ارادوں اور مقاصد کو بیان کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ جنگ صرف اور صرف اسلام کو توڑنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جیسا کہ میں  پہلے ہی آپ کی خدمت میں عرض کر چکا ہوں کہ اسلام کے دشمنوں کا خوف مجھ سے اور آپ سے نہیں ہے. ان کا خوف سے اسلام ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ ظالموں اور کافروں کو ذلیل و رسوا کرے، ان کے گندے دلوں میں دہشت ڈالے، اور آپکے ان جانباز فوجیوں کو، جو اسلام کے جنگجو ہیں، کو فتح نصیب فرمائے۔ آمین


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 1127



http://oral-history.ir/?page=post&id=11020