۳۲۵ ویں یادوں بھری رات حصہ دوم

سرحدی رجمنٹ میر جاوہ میں مجلس عزا کی یادیں

تدوین: ایران کی تاریخ شفاہی کی سائیٹ
ترجمہ: صائب جعفری

2021-12-09


یادوں  بھری رات کا ۳۲۵واں پروگرام  بروزجمعرات  ۲۴ جون ۲۰۲۱؁ء  حوزہ ہنری کے صحن میں منعقد ہوا۔ اس کی میزبانی کے فرائض محترم داؤد صالحی نے انجام دئیے۔  اس پروگرام کا موضوع، فوج کے سرحدی محافظ تھا۔ اس پروگرام میں بریگیڈئیر جنرل جلال ستارہ صاحب، کرنل ابوالقاسم خاتمی اور ناجا کے ثقافتی مشیر علی کاظم حسنی نے شرکت کی اور اپنے تاثرات اور تجربات بیان کئے۔

پروگرام کے  کے دوسرے حصہ  میں میزبان نے تصویری نمائش کے بعد اس پروگرام کے دوسرے راوی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: جس وقت میں کاسہ گران ، مغربی گیلان میں ایک سپاہی تھاوہاں  گیریسن کے ٹاور کی دیوار پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ جملہ تحریر تھا: راہ خدا میں ایک دن  پہرہ داری کرنا ان ہزار راتوں اور دنوں سے بہتر ہے جن میں رات میں عبادت کی گئی ہو اور دن میں روزہ رکھا گیا ہو۔ ہم جب یہ جملہ پڑھتے تھے تو ہماری آنکھوں سے نیند اڑ جایا کرتی تھی۔ میزبان نے اس مقدمہ سازی کے بعد کرنل ابوالقاسم خاتمی کو خطاب کی دعوت دی۔

کرنل خاتمی نے اپنے بیان کا آغاز ان جملوں سے کیا: میں پہلا واقعہ جو بیان کر رہا ہوں وہ اس  وجہ سے ہے کہ حال ہی میں ہم نے  عشرہ کرامت گذارا ہے سو یہ واقعہ زیادہ دلچسپ  معلوم ہوگا۔ جس وقت میں خراسان میں میں ملازمت کر رہا تھا میں اکثر دیکھا کرتا تھا کہ یہاں ملازمت کرنے والوں میں سے اکثر باوجود اس کے کہ جوار امام رضا علیہ السلام میں تھے، زیارت کرنے کے لئے وقت نہیں نکال پاتے تھے۔  میں نے  سرحدی کمانڈ سے بات چیت کی اور یہ فیصلہ ہوا کہ ان  سپاہیوں کو ڈھونڈا جائے جو ملازمت کی وجہ سے اب تک زیارت پر نہیں جاسکے۔ اس کے بعد   ہم ہر ہفتہ چند سپاہیوں کو امام رضا  علیہ السلام کی زیارت پر بھیجنے لگے۔

انہی سفروں میں جن میں سپاہی منی بس میں سوار ہوکر سرحدی رجمنٹ سے بیاد کے رستے مشہد کو عازم ہوتے تھے، میں ان کے ہمراہ ہوا کرتا تھا۔ہم نے آستان قدس رضوی کے ساتھ مل کر ان زائر سپاہیوں کے لئے کچھ پروگرامز بھی ترتیب دئیے تھے جن میں میوزیم  کی سیر، مقدس مقامات کی زیارت، ایک تربیتی کلاس، امام رضا کا دسترخوان اور تحائف شامل تھے۔ ایک دن ہم میوزیم میں تھے  اور اس دن ہم سب اپنے محافظین کے لباس میں تھے کہ ایک غیر ایرانی ہماری طرف آیا۔ میں سمجھا شاید ہم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہے لیکن ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے کچھ پوچھنے کے بجائے اپنے بچے کو ہماری گود میں ڈال دیا ہم بچے کو پیا کیا اور اس کو واپس کر دیا۔ ورطہ حیرت سے نکلنے کے لئے ہم نے اس سے اس کام کی وجہ پوچھی تو اس نے عربی میں کہا: میں لبنانی ہوں اور زیارت پر آیا ہوں۔جب میں نے آپ کے لباس کو دیکھا تو سمجھ  گیا کہ آپ امام خامنہ ای حفظ اللہ کے سپاہی، پیروے ولایت اور عالم اسلام کے خدمت گذار ہیں۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے بچے کو آپ کے لباس سے مس کرکے متبرک کیا جائے یوں میرے بچے کا بیمہ ہو جائے۔‘‘ ہمارے جملہ افتخارات میں سے ایک یہ ہے کہ ہم جہان اسلام کے ایک گوشہ کی خدمت پر مامور ہیں اب تک میں خود اور اپنے لوگوں کو اس حال میں دیکھتا تھا مگر آپ کو دیکھنا میرے لئے واقعی دلچسپ تھا۔ اس واقعہ سے میں نے جانا کہ دنیائے اسلام کی نظریں ہم پر ہیں اور ہمارا ملک ، اسلامی ممالک کے لئے ام القریٰ ہے ، یہ میرے لئے اور اس ملک کے تمام باشندوں کے لئے باعث افتخار ہے۔

راوی کا دوسرا واقعہ ان افواہوں کے بارے میں تھا جو بعض اوقات انٹرنیٹ پر منتشر ہوجاتی ہیں اور لوگ  مسلح افواج پر دنیائے مجازی میں حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ ۲۰۱۹ ؁ء میں جب کرونا دنیا میں ظاہر ہوا  تو انٹرنیٹ پر یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ بہت سے غیر ایرانیوں کو سرحدی افواج نے دریا میں ڈال دیا ہے۔ ہم نے اس کی تحقیقات کیں اور  انٹرنیٹ پر ہی ان افواہوں کا جواب دیا  اس کے لئے ہمیں کئی ایک نفسیاتی حربے استعمال کرنے پڑے۔ تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوا کہ نا صرف یہ افواہ جھوٹی ہے بلکہ جس طرح ہم لوگ ملک کے اندر مومنانہ مدد کے عنوان سے کام کر رہے ہیں ملک سے باہر پڑوسی ممالک کی اسی طرح مدد کر رہے ہیں۔ ہم نے اس کی ڈاکومنٹری اور تصاویر بنائیں جو گاہے بگاہے نشر کی جارہی ہیں۔

راوی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: رات کے کوئی ایک بجے ہونگے۔  ایک شخص سرحدی علاقہ  تایباد میں دو غاروں کی سرحد پر رجمنٹ کے سرحدی محافظوں کے پاس آیا اور کہا میرا بیٹا جل گیا ہے۔ اس کا تقریباً ستر فیصد جسم جھلس گیا ہے ہمارے ملک میں اس کا علاج ممکن نہیں ہے اس لئے میں آپ کے ملک کی جانب آیا ہوں کہ یہاں پناہ لوں اور میرے بیٹے کا علاج ہوجائے۔ میرے پاس نہ پاسپورٹ ہے نہ ہی اور کوئی سرٹیفکیٹ۔ میں صرف التجا کر سکتا ہوں کہ آپ جو بھی  کرسکتے ہیں خدا کے لئے کریں اور میرے بیٹے کو بچا لیں۔  ہمارے دوستوں نے  جلد ہی ادھر ادھر رابطے کئے اور راتوں رات  اس شخص کے بیٹے کو ایمبولینس میں سوار کرکے تایباد کے ایک ہسپتال  میں منتقل کر دیا۔

اسی طرح ایک اور موقع پر ہم نے ایک افغانی سپاہی کو اس بات کی اجازت دی کہ بغیر  ویزا اور پاسپورٹ کے ہو ایران میں آکر علاج کر وائے اور واپس اپنے ملک چلا جائے۔ یہ سب باتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی ہمدردی رکھتا ہے اور ہمیں اس پر افتخار ہونا چاہئے۔

خاتمی صاحب  نے مزید کہا کہ  ۲۰۱۶؁ء میں کچھ شریروں نے ہمارے سرحدی محافظوں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں تایباد کی رجمنٹ کو آپریشن کر نا پڑا۔  اس حملہ میں ہمارے دو انتہائی جانباز سپاہی شہید ہوگئے جن کے نام ٓرامش اور نامور تھے۔ ہم نے فوراً ہی میڈیا کی ایک ٹیم اپنے جوانوں کے ہمراہ جائے وقوعہ پر بھیج دی تاکہ وہ ایک ڈاکومنٹری تیار کر سکیں اور ہمارے لوگوں کے ایثار اور افتخار سے سب لوگ آگاہ ہوں۔  کچھ عرصہ بعد ایک پروگرام کے میزبان نے مجھے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد میرے ساتھ عجیب اتفاق ہوا۔

میں اس بات کی اجازت چاہوں گا کہ اس کے بعد کا واقعہ میں پروگرام کے میزبان  معین رضا فرخندہ صاحب کی زوجہ محترمہ زیارتی صاحبہ کی زبانی بیان کروں۔

وہ کہتی ہیں کہ: میرے شوہر فرخندہ صاحب نے مجھے بتایا کہ میں  سرحدی علاقہ میں جاکر ٹیلی ویژن کے لئے ایک رپورٹ بنا رہا ہوں ظہر تک واپس آجاؤں گا۔ لیکن جب وہ ظہر تک واپس نہ آئے تو میں نے انہیں فون کیا پتا چلا کہ سگنلز نہیں مل رہے۔ میں نے ادھر ادھر فون گھمانا شروع کئے۔ میں سخت پریشان تھی۔ میں اتنا پریشان تھی کہ رات کو اپنے والد کے گھر چلی گئی یہ اس وقت ہے کہ ہماری ابھی چند ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی۔  میں ان سے ناراض سی تھی کہ زندگی کے ابتدائی ایام ہیں اور ابھی سے انہوں نے فون کا رابطہ منقطع کیا ہوا ہے۔  میں اسی ناراضی اور پریشانی کے عالم قرآن پڑھنے لگی اسی عالم میں میری آنکھ لگ گئی۔ آدھی رات کے وقت میں نے دیکھا کہ میں ایک باغ میں ہوں اور ایک نورانی چہرہ والا شخص میرے  پاس آیا ہے۔ میں پوچھا  آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا میں ایک شہید ہوں۔ میری بہن زیادہ پریشان نہ ہوتمہارے شوہر کے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوا ہے میری اور آئمہ کی دعا تمہارے اور تمہارے شوہر کے ہمراہ ہے۔ آگے بھی اس کے ساتھ کچھ برا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ وہ ایک ایسے کام کے لئے گیا ہے کہ ان شاء مستقبل میں تمہارے لئے خیر و برکت کا باعث ہوگا۔  میں اور زیادہ ڈر گئی  اور سوچنے لگی شاید میرے شوہر شہید ہوگئے ہیں ۔ وہ شہید واپس جانے لگے۔ میں چاہا کہ ان کے پیچھے جاؤں لیکن کوشش کے باوجود بھی ان کے پیچھے نہ جاسکی۔ شہید نے کہا جس راستے پر میں جارہا ہوں تم اس پر نہیں چل سکتیں ۔ بس اتنا یاد رکھنا کہ میرا سلام میرے آقا امام علی ابن موسی رضا علیہم السلام کو پہنچا دینا۔

میں جب صبحدم بیدار ہوئی  تو میری والدہ نے مجھ سے پوچھا کہ میں رات کو خواب میں رو کیوں رہی تھی؟ میں نے ان کو قصہ نہیں سنایا۔ کچھ دیر بعد میرے میاں بھی پلٹ آئے اور کہا کہ ہمارا کام وہاں کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد ایک رات ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام دیکھتے ہوئے  میرے شوہر نے بتایا کہ یہ وہی رپورٹ ہے جو ہم نے سرحدی علاقے  میں جاکر ایک شہید پر بنائی تھی۔ میں نے جب شہید کی تصویر دیکھی تو مجھے  اپنا خواب یاد آگیا۔  میں نے سارا واقعہ اپنے شوہر سے کہہ ڈالا۔ میرے شوہر پر گریہ طاری ہوگیا۔ میں نے اس شہید کی زوجہ سے حرم امام رضا علیہ السلام میں ملاقات کے لئے درخواست کی  انہوں نے قبول کر لیا۔ میں اپنے شوہر کے ہمراہ امام رضا علیہ السلام کے حرم گئی اور امام رضا علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا: یا امامؑ اس شہید نے مجھ سے کہا تھا کہ اس کا سلام آپ کو پہنچا دوں سو یہ میری ذمہ داری تھی جو میں نے ادا کر دی ہے۔  میں نے شہید کی زوجہ سے کہا کہ میں نے آپ کے شوہر کو خواب میں دیکھا تھا ان کا چہرہ بے حد نورانی تھا۔

یہ سب عجائبات میں سے ہے۔ اگر انسان ان مسائل کے پس منظر کی جانب متوجہ ہو تو جان لے گا کہ یہ ایک افتخار ہے۔ امام سجاد علیہ السلام نے سرحدوں کے محافظوں کے لئے جو دعا فرمائی ہو بےشک بجا ہے۔ میں سرحدی محافظوں کے خاندانوں سے کہوں گی کہ اپنے شوہروں پر فخر کیجئے۔ آپ بھی ان کے کاموں میں بہت دخالت رکھتی ہیں حتی کہ ان کے ثواب میں بھی شریک ہیں۔  اپنی قدر و منزلت کو جانئیے۔ آپ کی زندگی میں بہت سے واقعات پیش آتے ہیں بہت سی بلائیں رد ہوجاتی ہیں اور آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ یہ وہی ثواب ہے جو آپ نے اپنے شوہر کے ذریعہ حاصل کیا ہے جو ان بلاؤں کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے۔

خاتمی صاحب نے  جو آخری واقعہ بیان کیا وہ میر جاوہ کی سرحد کا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ۱۹۹۶؁ء میں  میرجاوہ کی سرحدی رجمنٹ  میں، ۱۲۳ ویں بٹالین ، سید الشہداء میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس وقت میرجاوہ کی رجمنٹ،  شہری پولیس سے جدا نہیں ہوئی تھی اور ابھی اتک محافظوں کے دستہ پولیس کا حصہ ہی سمجھے جاتے تھے۔ اس رجمنٹ میں شیعوں کی ایک مسجد تھی دوسری مساجد کی اکثریت اہل سنت کی تھی۔  ہم نے اپنے پروگرام کے مطابق ، ۱۲۳ ویں بٹالین سید شہداء اور میر جاوہ کی سرحدی رجمنٹ کے ساتھ مل کر عزاداری کی مجالس کا انتظام کیا۔ ہماری ایک انجمن تھی سو ہم نے چندہ بھی اکھٹا کیا جس کی وجہ سے ہم مجلس کے اختتام پر دوپہر کا کھانا بھی تقسیم کیا کرتے  تھے۔ میں وہاں طبق معمول مجالس کی ویڈیو بنایا کرتا تھا۔ میرے لئے جو چیز سب سے زیادہ دلچسپ تھی وہ یہ کہ وہاں کے سنی افراد جن کی اکثریت کا تعلق ریگی قبیلہ سے تھا، ہم سے پوچھا کرتے تھے  حسینی مجلس کب ہوگی؟ وہ لوگ ہماری مجالس عزا کو حسینی مجلس کہا کرتے تھے۔ وہ بزرگ افراد خود تو نہیں آتے تھے مگر اپنے بچوں کو مجلس اور ماتم داری میں بھیج دیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس ایک لاؤڈ اسپیکر بھی تھاجس کو ہم نے لکڑی سے باندھ رکھا تھا تاکہ نوحہ خواں کی آواز لوگوں تک واضح پہنچ سکے۔ سنیوں کے بچے آتے تھے اور ہمارے مائیک کے پاس آکر کھڑے ہوجاتے تھے ۔ میں  ان کی تصاویر بنا لیا کرتا تھا۔

اس کے علاوہ وہ اپنے مریضوں کو بھی ہمارے ماتمیوں کے راستے میں لا ڈالتے تھے تاکہ وہ شفا حاصل کرلے۔ اس پر ایک کالی چادر ڈال دیا کرتے تھے تاکہ پہچانا نہ جائے۔ آپ نے دیکھا کہ اہل سنت وہ بھی میر جاوہ جیسے علاقہ میں بھی لوگ شفا حاصل کرنے کے لئے مریضوں کو مجالس  اور جلوس میں لاتے تھے۔ تمام شیعوں اور مسلمانوں کو ان مجالس عزاء پر فخر کرنا چاہئے۔ بالخصوص ہم سرحدی محافظوں اور فوجیوں کو اس پر فخڑ ہونا چاہئے کیونکہ ہم شہیدوں اور بالخصوص آٹھ سالہ جنگ کے شہیدوں  کے کام اور ان کی راہ کو جاری رکھنے   دعویدار ہیں۔

میں سرحدی محافظوں  سے ضرور کہوں گا کہ  خود پر افتخار کیجئے اور اپنے گھر والوں سے بھی کہئے کہ اس کام کو جاری رہنا ہے اور آپ کے بچوں کو ہی مستقبل میں اس کام کو آگے بڑھانا ہے۔

 

 

 

 


ویب سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 761



http://oral-history.ir/?page=post&id=10260