سردار سید رحیم صفوی کی یادیں ( جنگ کے ابتدائی دن)

انتخاب فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: صائب جعفری

2021-11-21


میں اکتوبر ۱۹۸۰ کے تیسرے عشرے تک کردستان میں سپاہ کی کمانڈ کر تا رہا۔  جنگ شروع ہونے کے بعد حالات نازک ہونا شروع ہوئے اور بالخصوص خوزستان کے علاقے میں صورت حال زیادہ کشیدہ ہوگئی۔ جنگ شروع ہوئے ۳۴  روز گذر گئے تھے کہ ہم قائم مقام کمانڈر انچیف شہید یوسف کلاہ دوز کے حکم پر سو سے کچھ زیادہ افراد کے ہمراہ  نسبتاً کم وزن  جنگی سازو سامان کے ساتھ راہی خوزستان ہوئے۔ اس موقع پر محترم رسول یاحی کو کردستان میں کمانڈر تعینات کردیا گیا۔ میرے ساتھ جو  دوست احباب اہواز تشریف لائے تھے  ان میں سردار شہید حسین خرازی، برئگیڈئیر  سید علی بنی لوح، سردار اصغر صبوری، شہیدردانی پور اور سردار علی زاہدی  شامل تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم سے جیسے ہی اہواز کی چہار شیر چورنگی پر پہنچے تو کئی ایک گولوں نے ہمارا استقبال کیا۔ گولے ہمارے آس پا گرے۔ تمام لڑکے گاڑیوں سے اتر کر ادھر ادھر محفوظ جگہوں پر جا بیٹھے۔ اس زمانے میں سپاہ کے پاس جنگی گاڑیوں کے عنوان سے  سیمرغ پک اپ وینز ہوا کرتی تھیں اور ابھی ٹویوٹا پک اپ کو جنگی گاڑیوں کا درجہ نہیں ملا تھا۔   میں اسی اطراف میں اپنی فوج  کے قیام کے لئے ایک  اسکول ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا۔  اس کے بعد میں نے سپاہ پاسداران سے  ان کی چھاؤنی میں ملاقات کی اور جنگ کے حالات کی ضروری خبریں اکٹھا کیں۔ ہم پہلی نومبر ۱۹۸۰  کو اہواز پہنچے تھے۔

ہم اہواز میں ہی تھے کہ ہمیں سقوط خرم شہر کی خبر ملی۔  یہ بھی خبر ملی کہ آبادان ۲۷۰ ڈگری پر محاصرہ ہوچکا ہےاور عراقی فوج دریائے کارون کو عبور کرتے ہوئے اہواز کی آبادان اور ماہ شہر کو ملانے والی شاہراہ اور آبادان پر قبضہ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سو سنگر اور بستان پر بھی عراق کا قبضہ ہو چکا  تھا۔ صرف بھمن شیر کا دریا وہ مقام تھا جہاں دشمن کی فوج کو پسپائی کا سامنا کر نا پڑا ۔ وہاں کی عوامی طاقتوں نے فوج کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک بڑی شکست سے دوچار کیا تھا۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی دشمن کی فوجوں نے بین الاقوامی سرحدوں کو عبور کرکے اور اونچے مورچوں پر قبضہ کرکے سومار، سرپل زہاب، نفت شہر قصر شیرین پر قبضہ کر لیا تھا۔ جس کے سبب وہ قدم بہ قدم خاک ایران می داخل ہو رہے تھے۔

جنگی  کی کیفیت اور حالت  پر مطلع ہونے کے بعد میں اپنے جنگی ساتھیوں کے ہمراہ دارخوین کی جانب عازم ہوا۔ دار خوین ، شادگان کے بالمقابل واقع ہے اور آبادان سے تقریبا ۴۰ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہم نے وہاں نخلستانوں میں مورچہ بندی تو کر لی  مگر وہاں ہماری ابتدائی بڑی مشکل اس محور  میں ٹھہری فوجوں کو امداد رسانی کے کام انجام دینا تھا ۔ ہمارے پاس اپنے  جوانوں کے آرام کرنے کے لئے بھی جگہ نہ تھی۔ ہم صبح سے رات تک رات سے صبح تک مچھروں اور کیڑوں مکوڑوں کے ساتھ ہم درختوں کے نیچے ہی پڑے رہتے تھے۔ اس سے بھی بدتر فوج کے لئے کھانے کا انتظام تھا۔  شادگان کی چھاؤنی کی مددہم بہت مشکل سے دو وقت کا کھانا تیار کرپاتے تھے کیونکہ سپاہ شادگان مالی  اعتبار اور دیگر وسائل کے اعتبار سے خود بہت مستحکم نہیں تھی۔ لیکن خدا کا شکر ہے وسائل کی کمی کے باوجود بھی مختصر سہی مگر دو وقت کی روٹی کا انتظام ہو ہی جاتا تھا سے فوج میں تقسیم کر دیا جاتا۔

اس بعد ایک اور مشکل جس نے ہمیں پریشان کیا وہ  حمام، لباس اور صفائی ستھرائی کے مسائل تھے۔جیسا کہ پہلے بھی کہا جنگ کے ابتدائی دنوں میں مورچوں پر کوئی بہت زیادہ امکانات اور وسائل مہیا نہیں تھے۔ جنگی لوجیسٹک نظام بہت کمزور بلکہ نہ ہونے کے برابر تھا۔  جب ہمارا لباس میلا ہوجاتا وہیں نزدیک کی ایک نہر میں ہم اسے دھو لیتے  کبھی اس کو گیلا ہی پہن لیتے تھے اور کبھی جسم پر کوئی اور کپڑا لپیٹ کر اس کے سوکھنے کا انتظار کرتےتھے۔  آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہمارا دو لباس بھی نہیں تھے ایک ہی لباس تھا اسی کو دھو کر پہنتے تھے ۔ لیکن ان سب مشکلات کے باوجود بھی جوانوں نے کسی قسم کی کمزوری کا اظہار نہیں کیا  بلکہ محاذ پر ڈٹے رہے انہی فوجوں کے عزم کا نتیجہ تھا کہ دشمن ابھی تک  دارخوین کے علاقے میں داخل نہیں ہوسکا۔

مگر ایک دن ہمارے  اسکاؤٹس نے ہمیں اطلاع دی  دو چار عراقی ٹینک دریائے کارون کے غربی جانب سے آگے بڑھے ہیں اور ژاندر مری کے گارڈ اسٹیشن کی بلڈنگ پر براہ راست گولے داغے ہیں جس کے بعد ژاندر مری کی فوجیں کچھ دیر مزاحمت کے بعد پسپا ہوگئیں اور علاقہ کو خالی کر دیا ہے۔ کچھ دن تک ہم  نے گارڈ اسٹیشن پر نظر رکھی مگر  ژاندر مری کت فوجیوں کا کچھ پتا نہیں چلا۔

میں نے

چند دوستوں کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا کہ   ہم نزدیک سے جاکر گارڈ اسٹیشن کی بلڈنگ کا جائزہ لیں۔ ہم جس وقت گارڈ اسٹیشن کی بلڈنگ میں داخل ہوئے تو ہم حیران رہ  گئے کہ کیا خوب صورت جگہ ہے۔(۱) وہاں کے کمرے، بیت الخلاء، حمام سبھی  صحیح و سالم تھے یہاں تک کہ وہاں کے باورچی خانے میں غذائی اجناس بھی موجود تھیں اور اسلحہ خانے میں پرانے ماڈل کے ہتھیار بھی موجود تھے۔

ہم ایک عرصہ سے کسی ایسی ہی جگہ کی تلاش میں تھے سو ہم نے فیصلہ کیا کہ نخلستان سے اپنی تمام فوج کو اس گارڈ اسٹیشن میں منتقل کیا جائے۔ یوں بالآخر ایک ماہ بعد ہمیں رہنے کو چھت میسر آئی۔  عرصہ نہ گذرا تھا کہ یہی گارڈ اسٹیشن، دارخوین میں سپاہ کی اگلی چھاؤنی اور مورچہ میں تبدیل ہوگیا۔ جنگ کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ  اور ہماری فوجوں کے آگے بڑھنے کے ساتھ یہی چھا ؤنی دارخوین میں لوجیسٹک اور دیگر امدادی کاموں کی فراہمی اور سپاہ کی جانب سے تعینات ہونے والے فوجیوں کے کے لئے ہیلتھ کیئر سینٹر کی  شکل اختیار کر گئی۔(۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ یہ گارڈ اسٹیشن قلعہ کی طرز پر بنایا گیا تھا۔

۲۔ نجف پور، مجید،  سردار سید رحیم صفوی کی یادیں، جنوبی لبنان سے جنوبی ایران تک۔ مرکز اسناد انقلاب اسلامی، تہران، ۲۰۰۴، جلد اول۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 


ویب سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 679



http://oral-history.ir/?page=post&id=10226