یادوں کی تین سو چوبیسویں رات ۔3

"ہیلو مسٹر سید" کتاب کی رونمائی

ترجمہ: ابوزہرا

2021-07-28


یادوں بھری رات کا 324 واں پروگرام جمعرات 26 جون کو ، آرٹ سینٹر کی کھلی فضا میں  میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں انجینئر مہدی چمران، مسٹر بیژن کیانی اور حجة الاسلام محمد حسن ابوترابی نے اپنی یادوں کا اظہار کیا۔  داؤد صالحی اس پروگرام کے انچارج تھے۔

پروگرام کے تیسرے حصے میں ، کتاب "سلام آغا سید" کی نقاب کشائی کی گئی ، جو آزادہونے والے محترم و سرفرازفراد "علی رضا محمودی مظفر" کی خود نوشت ہے۔ اس کتاب کی رونماٸی سے قبل، محمودی مظفر نے اپنی قیدکے ایام  کی یادوں کو تازہ کیا۔ انہوں نے ان خواتین کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا جنہوں نے اپنے شوہروں کو محاذوں پر بھیجا: "میں نے بہت تکلیف برداشت کی ، لیکن ان تمام مشکلات کے مقابلہ میں یہ سب بہت کم تھیں جو بیویوں نے برداشت کی۔"  جنگجوؤں اور ان کی اہلیہ کی محبت کی سچی کہانی سننے اور سمجھنے کے لئے برائے مہربانی کتاب "شینا کی بیٹی"  پڑھیں۔

 انھوں نے مرحوم ابو ترابی فرد  کے والد(آیت اللہ سید عباس ابو ترابی فرد) کا بھی ذکر کیا اور کہا: مرحوم ابو ترابی نے بجنورد کے لوگوں سے بھی بہت پیار کیا تھا ۔

 اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے ، محمودی مظفر نے عراق میں تکریت 17 کیمپ کے ایام کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا: "اس کیمپ میں ٹارچرکرنے والوں میں سے  ایک کا نام ہاشم تھا، جس کاھیکل استخوانی اور چہرہ سیاہ تھا۔ اس نے ٹارچر سیل میں ہم سے کہاکہ تم لوگوں کے سرپھاڑنے کی زمہ داری میری ہے۔جس پر ہم نے ان کی سرزنش کی، لیکن کچھ ہی دن بعد ہی، اس نے ابو ترابی مرحوم کے بارے میں عاجزی کا اظہار کیااور کہا: "یہ ایک اچھا آدمی ہے هذا رجل طیب نفس" مرحوم ابو ترابی نے اس متشدد فرد پر اتنا اثر ڈالا کہ بعد میں ہم نے اسے مصلہ بغل میں دباٸےدیکھا وہ بڑا پرسکون ہوچکا تھا۔ میری رائے میں، یہ ابوترابی مرحوم کےاخلاق انکی دینداری کا نتیجہ تھا۔

مظفری نے جنگی قیدیوں کو کینوس سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ عراقیوں نے ان پر برش کے بجائے لاٹھیوں اور کیبلوں سے پینٹنگز کی تھی۔ 


 انہوں نے کہا: کسی نے بھی ان تصویروں میں آزادی اور ان کی بےحرمتی کے سوا کچھ  نا دیکھا۔  ان کے پیلے رنگ کے کپڑوں پر مفت کے خون سے پینٹنگز بنادی گئیں ، لیکن اس دوران میں صرف ایک ہی چیز جس نے ہمیں کھڑا رکھا ، وہ آیت "فَاستَقِم کَما أُمِرت» تھی اور ہم اس اعزاز کو تھوڑی سی قیمت پر فروخت نہیں کرسکتے تھے۔

 گفتگو جاری رکھتے ہوٸے کہا: اپنی قید کے دوران ، میں اپنے دوستوں کو سعدی کے اشعار میں سے یہ بیت  پڑھ کر سناتا تھا:

عزیزی و خواری تو بخشی و بس       عزیز تو خواری نبیند ز کس

 اس بیت کا معنی اور تصور یہ ہے کہ "میں آپ سے پیار کرتا ہوں اور آپ نے مجھے ذلیل کیا" [3]۔  مرحوم ابو ترابی نے اس عمدہ بیت کی ترجمانی کی۔  وہ اس عظیم تصور کا مقصد تھے جو ہم سب نے دیکھا۔


 محمودی مظفر گفتگو کوجاری رکھا: "جب میں انقلاب کے آغاز میں اپنی اہلیہ سے رشتہ  کرنے گیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں ایک انقلابی ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے ، میں پانچ سال تک گھر نہیں آسکتا ہوں۔"  اس نے قبول کیا ، اور یہ دلچسپ بات ہے کہ میری قید ٹھیک پانچ سال تک جاری رہی۔

 انہوں نے مزید کہا: "میرے والد نے بتایا کہ میری اسیری کے دوران ،  ایک دن بجنورد میں نماز جمعہ کے لئے گئے تھا، جب عراقی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو جمعہ کی نماز کے لئے لایا گیا تھا۔"  جب میرے والد نے انہیں دیکھا تو وہ مجھے یاد کرنے لگے اور پریشان ہوٸے ۔  چونکہ وہ مجھے بہت پیار کرتے تھے ، لہذا وہ محافظوں سے گزارش کرتے  کہ وہ اپنے اسیر بچے کے بجائے ان میں سے کسی ایک کو گلے لگائیں اور بوسہ دیں۔

 اپنی تقریر کے اختتام پر انھوں نےاسارت میں شہید ہونے والے مظلوم افراد زکر کیا۔اور ان  کے اہل خانہ اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا۔اور شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کتاب میں ان کی یادوں کو جمع کرنے میں ان کی مدد کی اور ان کے لئے دعا کی۔
 


ویب سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 297



http://oral-history.ir/?page=post&id=10008