ایام زندگی کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۱ واں پروگرام – دوسرا حصہ

مقالہ نویس : سیدہ پگاہ رضازادہ

مترجم : محسن ناصری

2020-10-17


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۱۱  واں پروگرام، دفاع مقدس میں خواتین کے کردار کو سراہنے کے لئے،  جمعرات کی شام، ۲۰ فروری ۲۰۲۰ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں محترمہ ترابی، سیدہ فوزیہ مدیح اور حاج مہدی زمردیان نے اپنے واقعات بیان کیے۔

یادوں بھری رات کے پروگرام کی دوسری راوی محترمہ فوزیہ مدیح ہیں جنہوں نے ۸ سالہ جنگ میں دیگر خواتین کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ۲۱ سالہ لڑکی جس نے جنگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خرم شہر کو عراقی فوج کے ہاتھوں  میں جاتا ہوا دیکھا اور نا چاہتے ہوئے بھی جنگ کا حصہ بن گئی۔  فوزیہ مدیح شہید منصور گُلی کی زوجہ تھیں جنہوں نے شوہر کی شہادت کے بعد ان کے بھائی مسعود گُلی سے شادی کرلی تھی۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ مسعود گُلی بھی صدام حسین کی فوج کی جانب سے کی جانے والی کیمیائی ہتھیاروں کی بمباری میں زخمی ہوگئے اور کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرین کی طویل فہرست میں شامل ہوگئے۔ محترمہ مدیح نے جنگ کے موقع پر امدادی سرگرمیاں بھی انجام دیں اور جنگ کو اپنے پورے وجود سے محسوس کیا ہےوہ " زندگی کے خوبصورت دن" نامی کتاب کی بھی مصنفہ ہیں۔

سیدہ فوزیہ مدیح نے چند اشعار کے ساتھ اپنی تقریر کا آغاز کیا اور تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں: " کتاب : زندگی کے خوبصورت دن" جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں ایران پر مسلط کردہ  جنگ اور خرم شہر پر حملے کے موقع پرخواتین اور ان کے اہل خانہ کے کردار کو پیش کیا گیا ہے۔ ان واقعات کو محترمہ شریف لو  روزی نے قلمبند کیا ہے۔ مصنف کہتی ہیں کہ میں واقعات کی تحریر کے دوران اس قدر متاثر ہوئی کہ لکھنے کے دوران کئی بار میرے آنسو تحریر میں رکاوٹ بن گئے۔

محترمہ مدیح  کہتی ہیں کہ میں خرم شہر میں پیدا ہوئی اور وہیں پرورش پائی اور میں نے خرم شہر کی جنگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں خرم شہر کے دفاع کے موقع پر موجود تھی اور آج بھی خرم شہر رفت و آمد جاری ہے۔ زندگی کے خوبصورت دن" تقریبا ۸۰۰ صفحات پر مشتمل کتاب ہے اور اس کی تکمیل میں تقریبا ۱۱ سال کا عرصہ لگا۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کتاب میں موجود کچھ واقعات کو آپ کے سامنے پیش کرو۔ جب میری شادی منصور گُلی سے ہوئی جو خرم شہر میں سپاہ پاسداران کے ممبر تھے اور ہم آبادان میں رہائش پذیر تھے۔ ہماری ازدواجی زندگی کا آغاز دشمن کے ساتھ پیش آنے والے جنگ بندی کے دوران ہوا۔ منصور اور میری ازدواجی زندگی کا دورانیہ ۶ ماہ سے زیادہ نہیں تھا۔ آبادان میں ہم مجبور تھے کہ متروکہ گھر میں زندگی گزاریں اور مجھے شہید کے ساتھ گزارے جانے والے ایک ایک لمحے پر فخر ہے اور شہید کے ساتھ گزارے جانے والا وقت، اس میں پیش آنے والی مشکلات پر مجھے فخر ہے۔ ہم غروب سے پہلے ہی اپنی ضرورت کی تمام چیزوں کو کمرے میں لے آیا کرتے تھے تاکہ کسی چیز کی ضرورت کے موقع پر باہر نہ جانا پڑے اور کمرے کی کھڑکیوں پر موٹے پردے ڈال دیا کرتے تھے تاکہ دشمن ہمارے گھروں کی نشاندہی نہ کرسکے۔ ایک رات میں مجبور ہوئی کہ  میں کچن میں جاکر کچھ لے آؤں  اور اس زمانے میں کچن گھر کے صحن میں ہوا کرتے تھے۔ کچن میں جاکر میں نے جیسے ہی کیبنٹ کھولا تو اس  میں ایک بڑا صحرائی چوہا موجود تھا، جو اچانک میری جانب کود پڑا جس نے مجھے خوفزدہ کردیا۔ چوہوں نے صحن میں ہی بِل بنا رکھا تھا اور چوہوں کا وہاں ہونا ایک عام سی بات تھی۔ میرے شوہر اس دوران گھر پر کم ہی رہا کرتے تھے اور دو تین دنوں میں ایک بار گھر آیا کرتے تھے۔ لیکن جب بھی گھر آیا کرتے تھے اور مجھے گھر کے کاموں میں دیکھتے تھے تو میرا ہاتھ بٹانے لگ جاتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر میں سبزی کاٹ رہی ہوتی تھی تو وہ اپنے فوجی لباس میں ہی میرے ہاتھوں سے لے کر خود ہی سبزی کاٹنا شروع کردیتے تھے یا برتن دھویا کرتے تھے اور میں اکثر ان لمحوں کو کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کرلیا کرتی تھی۔ منصور اکثر کہا کرتے تھے کہ " یہ تصویریں کھینچ رہی ہو تاکہ میری امی کو دکھاؤ۔ منصور کو مطالعے کا بہت شوق تھا اور وہ اپنے اکثر اوقات کتابیں پڑھنے میں گزارتے تھے۔ مختلف کتابیں جن میں شہید مطہری ، آیت اللہ دستغیب اور امام خمینی ؒ کی کتابیں شامل تھی۔ جن کتابوں کا یقین ہوتا تھا کہ مفید اور اچھی کتابیں ہیں تو ان کے چند نسخے خرید لیتے تھے اور دوستوں کو بھی تحفے میں دیا کرتے تھے۔ شہید دعائے کمیل کے عاشق تھے ان کے دوست کہتے ہیں کہ بعض اوقات دشمن کے حملے شدید ہوجاتے تھے اور یہاں تک کہ دشمن ہمارے بہت نزدیک پہنچ جاتا تھا۔ ہم منصور کو ڈھونڈا کرتے تو معلوم ہوتا کہ وہ دعائے کمیل پڑھنے میں محو ہیں۔ ان کے دوست مزید کہتے ہم نے منصور کو اہل بیت علیہم السلام سے متوسل ہوتے ہوئے دیکھا اور اس کا بخوبی مشاہدہ کیا ہے۔ منصور کا دوسرا بڑا شوق نماز شب پڑھنا تھا۔ منصور کے ساتھ گزرنے والے چھ مہینوں میں،  میں نے کبھی ان کی نماز شب قضا ہوتے نہیں دیکھی تھی یہاں تک جب ہم سفر پر ہوتے تو بھی ان کی نماز شب قضا نہیں ہوتی تھی۔ کہتے تھے اگر نماز قضا ہوجائے تو مجھے اچھا محسوس نہیں ہوتا۔ بعض اوقات نماز شب میں منصور کے رونے کی آواز سے میری آنکھ کھل جایا کرتی تھی  اور میرے لئے انتہائی دلنشین منظر ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ میں بھی ان کے ساتھ نماز شب میں ملحق ہوگئی اور کوشش کرتی تھی جب کبھی منصور گھر ہو تو میں ان کے ساتھ نماز جماعت کے ساتھ پڑھوں۔ منصور بیت المقدس کے آپریشن میں شہید ہوئے۔ جب آبادان آپریشن شروع ہوا تو دشمن نے شدید بمباری شروع کردی۔ وہاں موجود جن گھرانوں کے ساتھ رہتے تھے ہم ان کے ساتھ اھواز چلے گئے۔ منصور کی شہادت سے پہلے مجھے کچھ ایسا احساس ہو رہا  تھا کہ اب منصور واپس نہیں آئیں گے اور میں  نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ منصور کو شہید بہشتیؒ گلے لگا رہے ہیں۔ میں کہہ سکتی ہوں کہ منصور ہر اعتبار سے شہادت کے لیے آمادہ تھے۔ وہ آپریشن سے ایک دن پہلے گھر آئے اور جب واپس جانے لگے تو میرا دل بیٹھنے لگا اور میں نے شدید رونا شروع کردیا۔ منصور کہنے لگے : میرے حال پر مت رو، کیونکہ  میں صحیح و سالم تمہارے سامنے موجود ہوں ان شہیدوں پر گریہ کرو جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں اور ان کے جسد دشمن کے قبضے میں ہیں اور ہم ان کو ان کے گھر والوں تک نہیں پہنچا سکتے۔ ہم نے ایک طویل عرصہ آبادان میں گزارا۔  وہاں پر ایسا بہت ہی کم ہوتا تھا کہ مجاہدین کو گھر  میں کھانا نصیب ہو۔ وہ اکثر فوج کی جانب سے تیار کردہ کھانے کھایا کرتے تھے۔ ایک خاتون مجھ سے کہنے لگی : "سیدہ میرا دل چاہتا ہے کچھ مجاہدین کو اپنے گھر دعوت دوں اور ان کے لیے گھر کا کھانا بناؤں"۔ اگرچہ  وہاں بازار میں وسائل موجود نہیں تھے اور ضرورت کی چیزیں مشکل سے ملتی تھی لیکن پھر بھی سختی سے ضرورت کی چیزوں کو حاصل کرکے مجاہدین کے لیے کھانا تیار کیا کرتے تھے۔

اب میں اپنے ابتدائے کلام کی جانب پلٹتی ہوں جہاں سے میں نے بات کا آغاز کیا تھا۔ منصور کے ساتھ جہاد کرنے والے اکثر مجاہدین جو اُن کے ساتھ ہی شہید ہوگئے تھے میں ان کو پہچانتی ہوں۔ منصور ایک دن گھر واپس آئے، لیکن ان کے سر میں شدید درد تھا۔ درد اس قدر شدید تھا کہ تڑپ رہے تھے اور اسی دن ان کو صبح ۴ بجے واپس جانا تھا۔ میں آنسو بہا رہی تھی اس وقت کی حالت کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک دن ۱۵ دن بعد میدان جنگ سے واپس آئے۔ میں مچھلی پکانا چاہتی تھی جو ان کی پسندیدہ غذا تھی۔ لیکن میں نے مچھلی کو ایسے ہی رکھ دیا تھا جیسے ابھی صاف کرنا باقی تھا۔ منصور نے جب گھر میں آکر مچھی دیکھی تو اسی گندے پانی کے ساتھ چولہے پر چڑھا دیا۔ کچھ دیر بعد مچھلی کی بدبُو پورے گھر میں پھیل گئی۔ میں نے کہا " ہم کتنی مشکلوں سے شہر جاکر مچلی لائے تھے لیکن خراب ہوگئی"۔ منصور نے کہا تمہارا صدقہ ہے یہ مچلی۔ اور اس دن ہم نے پنیر روٹی  پر گزار اکیا۔

ایرانی تاریخ کی بیانگر ویب سائٹ کے مطابق، دفاع مقدس کی داستان کا ۳۱۱ واں پروگرام جمعرات کی شام،۲۰ فروری ۲۰۲۰ء کو  سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔اگلا پروگرام  ۲۳ اپریل ۲۰۲۰ء کو منعقد ہوگا۔


ویب سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 97



http://oral-history.ir/?page=post&id=9509