ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ گیارہواں حصہ

اس وقت تک میں کبھی ایران سے باہر نہ گئی تھی۔ کوئی اور زبان مجھے آتی نہ تھی

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2020-05-20


صاحب خانہ ایک بزرگ خاتون تھیں جن کو نہ مہمانوں کی آمد و رفت پسند تھی نہ ہی ان کو بچے بھاتے تھے۔ مہدی اب کچھ کچھ بڑا ہو رہا تھا کمروں میں کہاں ٹک کر بیٹھتا تھا صبح آنکھ کھلتے ہی اس کو صحن میں ادھم مچانا ہوتا تھااور وہ بڑی بی مہدی کو ڈانٹ پھٹکار کرتیں کہ کیا صبح ہی صبح شور مچانا شروع کر دیا؟ یہ وہ چیز تھی جو مجھ سے برداشت نہ ہوتی تھی۔ میں نے بارہا علی سے کہا کہ اس گھر سے نکل چلو چاہے ہمیں اس عالم مجبوری میں تمہاری امی کے گھر ہی پناہ لینی پڑے کوئی حرج نہیں کم از کم مہدی کو کوئی ڈانٹنے والا تو نہ ہوگا۔ بہت اصرار پر علی بھی راضی ہوگیا اور ہم نے یوں ایک بار پھر اپنے چار ٹکڑے سمیٹے اور گاڑی پر  لاد کر چل دیئے۔ علی کی امی کا گھر بھی کوئی بڑا نہ تھا بلکہ وہ تو ایک خاندان کے لئے بھی نا کافی تھا چہ جائیکہ دو خاندان ایک ساتھ رہیں۔ گھر بھی جنوبی[1] تھا۔ برابر برابر کے دو کمرے، حمام اور بیت الخلاء صحن کے ایک کونے میں ۔ انہوں نے ایک کمرہ ہمارے لئے خالی کر دیا تھا ۔ گھر میں دیور کی موجودگی کی وجہ سے مجھے سارا دن چادر اوڑھ کر رکھنی پڑتی تھی اس پر مہدی کی شرارتیں اپنے عروج پر تھِں۔ ابھی ہمیں اس تنگ گھر میں رہنے کی عادت بھی نہ ہو پائی تھی کہ ایک اور ننھے مہمان کی آمد کا نقارہ بج گیا۔ میں نے اپنی حاملگی کا ذکر  اپنی ساس سے کیا۔ رات کو جب علی گھر واپس آیا تو  اس کے لباس تبدیل کرنے سے بھی پہلے ہی میری ساس نے تالیاں بجا بجا کر اہوازی لہجہ میں نغمہ سرائی شروع کردی

-پھر سے بابا بنے ہو۔

وہ ہم سے زیادہ خوش تھیں اور بس گائے جاتی تھیں اور مسکرائے جاتی تھیں۔

۱۲ تیر ۱۳۶۳ [2]ھ۔ش  ٹھیک عید الفطر کے اگلے دن، فہیمہ سادات کی ولادت ہوئی۔ علی کی امی کے بقول بہت اچھی صابرہ بچی ہے  سارا ماہ رمضان المبارک صبر کیا کہ ہم روزہ رکھ لیں اس کے بعد شہزادی دنیا میں آئے۔ بیٹی کے ملنے کی خوشی پر ہم خدا کے شکر کے ساتھ خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے بیٹی وہ بھی فہیمہ جیسی گل اندام۔ وہ اپنے  جھولے میں لیٹی اپنی سیاہ آنکھوں سے اطراف کو تکتی  جب کہ میں اور علی اس کو دیکھ دیکھ کر سیر نہ ہوتے۔ اس چھوٹے سے گھر میں، جس میں لوگوں کا آنا جانا بہت تھا، دو چھوٹے بچوں اور علی کہ کبھی گھر پر ہوتا بھی نہ ہوتا، کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے یادگار دن گذارے۔ فہیمہ ابھی ایک سال کی بھی نہ ہوئی تھی کہ علی نے تحصیل علم کے لئے ہندوستان جانے کا فیصلہ کیا۔ تعلیم کا حصول تو ایک بہانہ تھا میں جانتی تھی کہ وہ تبلیغِ اسلام و انقلاب کی فکر میں ہے نہ کہ حصول علم۔

اس وقت تک میں کبھی ایران سے باہر نہ گئی تھی۔ کوئی اور زبان مجھے آتی نہ تھی۔ دو بچوں کا ساتھ، غیر ملک، میں کیا کروں گی؟ یہ بات مجھے ہلکان کئے دے رہی تھی تو دوسری طرف علی کا ذوق و شوق دیکھ کر دل نہ مانتا تھا کہ میں جانے سے صاف انکار کردوں۔ غیر ملکی سفر کے لئے پیسہ درکار ہوتا ہے اور پیسہ ہمارے پاس کہاں تھا؟ میں نے دبے سبے الفاظ میں مخالفت بھی کی مگر میری حیل حجت علی کے دلائل کے آگے بے سود ہوئے اور میں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ علی نے نوکری سے بغیر تنخواہ کی چھٹی لے لی۔ جو کچھ بھی ہمارے پاس تھا اس کو بیچ کر ہم اسفند ۱۳۶۳ [3]میں عازم ہندوستان ہوئے۔

 

[1] جیسے ہمارے پاکستان میں east open گھر ہوتے ہیں

[2] ۳ جولائی ۱۹۸۴

[3] فروری ، مارچ ۱۹۸۵



 
صارفین کی تعداد: 66



http://oral-history.ir/?page=post&id=9229