تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیئیسویں قسط

مجتبیٰ الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-05-20


محاذ پر چھائی ہوئی خاموشی کی وجہ سے میں زیاده تر اپنی خندق کے پاس مطالعہ کرتا رہتا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک گولی میرے اتنا قریب سے گزرے گی۔ ایک دن میں معمول کے مطابق مطالعے میں مشغول تھا کہ اچانک میری ناک سے کچھ سینٹی میٹر کے فاصلے سے ایک گولی گزری۔ میں گھبرا کر اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔ میں نے دیکھا کہ ایک فوجی نے مینا کو ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور اس کے شکار سے بہت خوش ہے۔ اس نے اس پرندے کا شکار کرنے کے ارادے سے گولی چلائی تھی خدا کا لطف و کرم نہ ہوتا تو قریب تھا کہ وہ میرا بھی شکار کر لیتا۔ بے چاره پرنده میرے سر کے پاس ایک ٹیلے پر کھڑا تھا اور میں اس فوجی کی نظروں سے دور اپنی پناه گاه کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میں چلایا: "احمق کیا کر رہے ہو؟ تم تو مجھے مارنے ہی والے تھے۔"

خوف سے وه اپنی جگہ پر ہی جم گیا۔ میں آگے بڑھا اور اس کا اسلحہ لے لیا۔ میں نے کہا: "ابھی تمہیں آپریشنل آفیسر کے پاس لے کر جاتا ہوں۔"

قریب تھا کہ اس بے چارے کا خوف سے دم نکل جاتا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔ راستے میں اس نے بڑی منت سماجت کی کیونکہ ہماری فوج کے قواعد کے مطابق اسے سخت سزا ملنے والی تھی۔ جب میں کمانڈ کیمپ کے نزدیک پہنچا تو پھر میں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: "وہ جان بوجھ کر مجھے نہیں مارنا چاہتا تھا۔ بلکہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔" میں نے رک کر اس سے کہا: "واپس چلے  جاؤ اور اس کے بعد زیاده محتاط رہنا!"

وہ خوشی کی وجہ سے رونے لگا اور اس نے میرے سر اور چہرے پر بوسوں کی بارش کردی۔ میں کیمپ میں داخل ہوا۔ سیکنڈ کرنل اسٹاف"عبد الکریم" نے میرا استقبال کیا اور پوچھا: "تمہارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟" میں نے اسے واقعہ سنایا۔ انھوں نے اصرار کیا کہ اس فوجی کا نام بتاؤں، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک آرڈر جاری کرکے پرندوں پر گولی چلانے پر پابندی لگا دیں۔ انہوں نے یہ بات مان لی اور اس سلسلے میں ایک آرڈر جاری کردیا۔

مختصر یہ کہ محاذ، محاذہے اور جب تک آپ کے سامنے کچھ مسلح افراد، صف بندی کیے ہوئے ہیں، میدان جنگ کبھی بھی پرسکون نہیں ہو سکتا چاہے آپ نسبی آسائش میں ہی کیوں نہ ہوں۔

میں کوئی نمایاں تبدیلی محسوس کیے بغیر وہی ایک جیسے دن گزار رہا تھا۔ صرف کبھی کبھار کچھ حادثات رونما ہوتے تھے ان میں سے لیفٹیننٹ کرنل اسٹاف"سردار" کے ساتھ ہوئی زبانی تکرار(منہ ماری) بیان کرتا ہوں۔

ایک شام حسب معمول میں کمانڈ کیمپ میں تھا، میں آپریشنل خندق کے پاس کھڑا تھا اور "نقیب" نامی شامی افسر سے بات کر رہا تھا، وه بظاہر مہمان کے طور پر بھیجا گیا تھا لیکن در حقیقت وہ اداره سیاسی جواز بغداد کی جانب سے محاذ کے حالات کے انسپکٹر اور نگران کے طور پر بھیجا گیا تھا۔ ہماری فوج میں حزب بعث کے شامی اور فلسطینی افسران خدمت کرتے ہیں اور قابل احترام اور اعتماد ہوتے ہیں۔ ذمہ داران، محاذ کے حالات کی نگرانی کے لئے عام طور پر حزب بعث کے افسروں کو بھیجتے ہیں کیونکہ وه دوسرے کمانڈروں پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اس دن دسویں ٹینک بٹالین کا کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل اسٹاف"سردار" ہم سے ملاقات کے لئے آیا اور اس نے کچھ گھنٹے  ہمارے ساتھ گزارے۔ وه ایک کردی افسر تھا اور صدام کے ہاتھوں سے ایک انعامی پستول ملنے کے بعد سے خود پر  بڑا ناز کرتا تھا۔ جاتے وقت وه وہاں موجود افراد میں سے میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: " اس بکتربند گاڑی کے پاس جاؤ اور اس کے ڈرائیور سے کہو کہ یہاں آئے۔"

بکتربند گاڑی ہم سے 30 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: "شاید اسے نہیں معلوم کہ میں ڈاکٹر ہوں۔ کیونکہ میرے رینک سے ایسا لگ رہا تھا کہ میں سپاہی ہوں۔ میں نے اس سے کہا: "معاف کیجیے جناب!  میں بریگیڈ ڈاکٹر ہوں۔"

اس نے غرور کے ساتھ جواب دیا: "بریگیڈ ڈاکٹر بھی ہو تو یہاں صرف ایک سپاہی ہو۔"

میں نے سخت لہجے میں کہا: "میں سپاہی ہوں تمہارا نوکر نہیں!  اس غرور و تکبر کا کیا مطلب؟

تم خود جاکر ڈرائیور کو بلا سکتے ہو۔"

اس نے غصے سے کہا: "میں لیفٹیننٹ کرنل ہوں اور تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جاؤ۔"

میں نے بھی جواب میں کہا: "میں نہیں جاؤں گا اور میں تمہیں بالکل نهیں جانتا!"

ہمارے درمیان جھگڑا بڑھتا گیا اور اگر وه شامی افسر اور لیفٹیننٹ کرنل اسٹاف" عبدالکریم" اپنی خندق سے باہر نہ آتے اور مداخلت نہ کرتے تو یقیناً ہم میں ہاتھا پائی ہوجاتی۔ میں اس بے ادب شخص کے لئے کینے  اور غصے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ وہاں سے چلا آیا جو علم اور دانش کے کسی بھی قسم کے احترام کا قائل نہیں تھا۔ اس میں کوئی تعجب کی  بات نہیں! عراقی فوج کے قوانین جو انگریزوں نے بنائے ہیں عام طور پر افسران کی کھوکھلی جاه طلبی کے ساتھ تربیت کرتے ہیں۔

اگلے دن کی صبح میں ناشتہ کرنے کے لئے آپریشنل آفیسرز کے پاس نہیں گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اسٹاف نے سرزنش آمیز لہجے میں مجھے فون کیا اور اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کے پاس آؤں۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے گزشتہ روز کے معاملے کی وجہ سے میری سرزنش کی۔  اس کے بعد میں نے انہیں سارا ماجرا سنایا، انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں معاملے کو صلح و صفائی کے ساتھ رفع دفع کروں گا تاکہ کوئی گنجائش نہ رہے، کیونکہ وه اصرار کر رہا ہے کہ تمہیں ملٹری کورٹ کے حوالے کردے۔ میں نے اللہ پر توکل کیا اور ان کی پیش کش کو قبول کرلیا۔ اسی دن شام کو لیفٹیننٹ کرنل اسٹاف"سردار" آیا اور صلح ہوگئی۔ پروردگار نے مجھے اس کے شر سے نجات دے دی۔

جب میں نے ایمبولنس ڈرائیور، وارنٹ آفیسر "ہامل" کے ساتھ قریبی گاؤں کے گھروں کا دورہ کیا تو میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میری روح کو جھنجھوڑ دیا۔ ان گھروں کی حالت بہت افسوس ناک تھی۔ چوہے، بلیوں اور کیڑے مکوڑوں کے علاوہ ان میں کوئی اور نہیں رہتا تھا۔ گھر کے سامان اور ذخیرہ شدہ کھانے پینے کی اشیاء جیسے گندم، جو اور کھجور پر دھول جمی ہوئی تھی۔ ایسے مناظر دیکھ کر میں بہت غمگین ہوا۔ مجھ میں ان گھروں میں قدم رکھنے کی طاقت نہیں تھی۔ میرے ذہن میں طرح طرح کے خیالات آرہے تھے۔ پروردگار ان گھروں میں رہنے والوں سے کون سا گناہ ہوگیا؟ کیوں یہ پریشانیاں اور آفات آنی تھیں؟

وہ بھی ہماری ہی طرح مسلمان ہیں۔ ہم کیوں ایک دوسرے کا خون بہائیں۔ خدا لعنت کرے استعماری قوتوں اور صدام جیسے ان کے نوکروں پر۔ میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ ایک زوردار آواز نے میرے خیالوں کی ڈور کو کاٹ دیا۔ میں اس آواز کی جانب بڑھا جو ایک گھر سے آرہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ "ہامل" نے گندم سے بھرے ڈرم کو زمین پر خالی کردیا۔

میں نے پوچھا: "کیا کر رہے ہو؟"

اس نے جواب دیا: "یہ ڈرم پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اچھا ہے۔"

میں نے کہا: "لیکن یہ ڈرم ہمارا نہیں ہے بلکہ اس گھر کے مسلمان رہائشیوں کا ہے۔"

 وہ اصرار کر رہا تھا کہ اس ڈرم کو اپنے ساتھ لے آئے۔  میں نے کہا: "اگر ایسا ہے تو وہ والے پانی کے ڈرم کو اٹھا لو!"

 اس نے جواب دیا : "وہ ڈرم چھوٹا اور گندا ہے لیکن یہ ڈرم بڑا اور صاف ہے۔"

 میں نے کہا: "میں اسے استعمال نہیں کروں گا میرے قریب مت لاؤ۔"

 وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا: " یہ صرف ایک ڈرم ہے اور کچھ نہیں،  اتنا ڈر کیوں رہے ہو ڈاکٹر؟"

کچھ لمحوں بعد میں اور "ہامل"  جو ڈرم کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھا کلینک لوٹ آئے۔ اس نے ڈرم کو خندق کے کنارے رکھا اور  ایک گھنٹے میں اسے پانی سے بھر دیا۔  میں اس وقت خندق میں بیٹھا ہوا تھا۔  ابھی اس ڈرم کو بھرے ہوئے دس منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک توپ کا گولہ ہمارے قریب آکر گرا۔  یہ پہلی بار تھا جب ہم  توپ کے گولی کی زد میں آئے۔  میں نے سر خندق سے باہر نکالا۔ میں نے دیکھا کہ ڈرم کو توپ کے گولے کے ٹکڑے لگنے کی وجہ سے پانی فوارے کی صورت میں نکل رہا ہے۔  اس پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں ہوا تھا۔  میں نے "ہامل" کو آواز دی وہ اپنی خندق سے نکلا۔  اس نے دیکھا کہ کیا ہوا ہے پھر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا: " ڈاکٹر  گویا یہ ہمارے نصیب میں ہی نہیں تھا۔"

 میں نے کہا: " خدا کی قسم ایسا ہی ہے۔"

 پھر میں نے حلال و حرام اور خدا کے غضب کے متعلق اس سے گفتگو کی۔  مجھے احساس ہوا کہ خدا کا خوف اس کے دل میں بیٹھ گیا ہے۔  اس نے فوراً ڈرم کو اٹھایا اور اسے اس کی پچھلی جگہ پر واپس رکھ دیا۔  دو دن بعد،  میں چھٹی لے کر اس علاقے سے نکل گیا۔  چھٹی ختم ہوئی تو میں گیارہوں فیلڈ میڈیکل یونٹ واپس آگیا۔  معمول کے مطابق میں ہر کام سے پہلے محاذ اور یونٹ کی خبریں معلوم کرنے لگا۔ انہوں نے بتایا:  "کوئی خاص مسئلہ پیش نہیں آیا ہے، صرف وارنٹ آفیسر"ہامل" کی ایمبولینس پلٹ گئی تھی اور ان کی کمر ٹوٹ گئی تھی۔ ابھی وہ بصرہ کے ملٹری ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں۔"

 میں نے اپنے آپ سے کہا: "سبحان اللہ ۔۔  یہ دنیا کی جزا ہے۔  خدا جانتا ہے کہ آخرت میں وہ کس عذاب کا مستحق ہوگا۔  کیا یہ ہر حد سے بڑھ جانے والے گنہگار کی جزا نہیں ہے؟!"

جاری ہے۔۔۔


سائیٹ: تاریخ شفاھی ایران
 
صارفین کی تعداد: 34



http://oral-history.ir/?page=post&id=9225