۴۲ طیاروں کی ٹولی کے ایک پائلٹ کے واقعات

یادوں بھری رات کا۳۰۷ واں پروگرام – چوتھا حصہ

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2020-05-20


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۷  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴  اکتوبر ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں امیر حبیبی، محمد غلام حسینی اور عطاء اللہ محبی نامی پائلٹوں  نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا ۔

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کے ۳۰۷  ویں پروگرام کے میزبان داؤد صالِحی نے پروگرام کے تیسرے راوی کی گفتگو سے پہلے کہا کہ وہ اُن ۴۲ طیاروں کی ٹولی کے ایک پائلٹ ہیں جو تبریز سے صدامی افواج کی چھاؤنی میں حملہ کرنے کیلئے بھیجے گئے۔ پھر سیکنڈ بریگیڈیئر جنرل پائلٹ ریٹائر عطاء اللہ محبی نے کہا: "ہم کمانڈ اور اسٹاف کورس کی ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔ ہمیں تقریر سکھانے اور بیان کرنے کی مہارت سکھانے والے ایک استاد تھے۔ وہ کہا کرتے تھے: آپ کو پندرہ منٹ کی تقریر کے لیے ۲۰ گھنٹے مطالعہ کرنا چاہئیے اور جس دن آپ کو تقریر کرنے جانا ہوتا ہے،  اُس دن آپ ایمرجنسی اسٹاف سے ہم آہنگی کرلیا کریں کہ ہال کے باہر ایک ایمبولنس کھڑی ہو، تاکہ اگر آپ تقریر کرتے ہوئے غش  کھا جائے تو کوئی آپ کی مدد کرنے کے لئے موجود ہو۔"

جناب محبی نے اپنے واقعات کا آغاز اس طرح سے کیا: "پیر کا دن تھا اور میں تبریز بیس پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ء کو دوپہر کے ڈیڑھ یا دو بجے کا وقت تھا کہ طیاروں کے شور کی آواز آئی۔ میں نے کھڑکی میں سے دو عدد سوخو ۲۲ طیارے دیکھے۔ بمباری شروع ہوئی اور ہم اسٹاف کی طرف گئے کہ جاکر دیکھیں کیا ماجرا ہے۔ جیسا کہ عراق ہماری حکومت کے مخالف تھا تو تقریباً پہلے سے ہماری ڈیوٹیاں معین تھی۔ ہدف اور پرواز کا گروپ معین تھا۔ ہر تین سے چار مہینے بعد ایک نظر بھی ڈالی جاتی تھی کہ کوئی پائلٹ جا بجا یا کہیں منتقل تو نہیں ہوا ہے؟ کوئی نیا پلٹ آیا ہے اور لسٹوں میں تبدیلی ہوئی ہے؟ اور پائلٹوں کی رہنمائی کی جاتی۔

ہمارا ہدف موصل کی چھاؤنی تھی اور میں چار طیاروں کی ایک ٹولی میں دوسرے نمبر پر تھا۔ میجر جنرل پائلٹ  شہید اسد اللہ بربری ہمارے لیڈر  تھے  کہ امریکا کے عراق پر حملہ  کرنے کے بعد اور اسیروں اور گم ہوجانے والوں کی وضعیت سے مکمل آگاہی کے بعد اُن کا جنازہ بھی لایا گیا  اور اُن کے گھر والوں کے حوالہ کیا گیا۔ عراق نے دوپہر دو بجے حملہ کیا اور تقریباً ساڑے تین سے چار بجے ، تمام پروازوں کے گروپ طیارے کے پر کے نیچے حکم کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک عظیم شہید میجر جنرل پائلٹ شہید محمد حجتی نے طیارے کے  پر کے نیچے پوچھا:  دوستوں سگریٹ ہے؟ میں نے اپنے پائلٹ لباس کی جیب میں سے  بلند میلبرو کا پیکٹ نکالا کر انہیں دیا اور کہا:سلگاؤ کہ کل ہم اسیر ہوں گے، صدام ہمیں خاص اُشنو بھی نہیں دے گا!دوسرے گروپ کے لیڈر محمد دانش پور نے کہا: ہم آج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر ہم جانا چاہیں تو یہ خودکشی ہے۔ دفاعی پوزیشنیں آمادہ ہیں۔ جائیے، ہم آپ کو مطلع کردیں گے۔

صبح، تقریباً ساڑے تین یا پونے چار بجے  کا وقت تھا کہ کہا گیا: آجائیں۔ ہم ایک عمارت کے پانچویں طبقے میں تھے۔ عباس حجازی تیسرے طبقے پر تھے اور شہید اسد اللہ بربری پہلے طبقے پر تھے۔ جب ہم نیچے آئے تو میں نے دیکھا کہ اُن کی زوجہ نے تاریکی میں شمعیں جلائی ہوئی ہیں  اور ایک چھوٹا سا دستر خوان بچھایا ہوا ہے۔ سب کو پنیر اور روٹی  کا لقمہ دے رہی ہیں۔ اُس دن تبریز سے ۴۲ طیاروں کی ٹولی جو گئی تھی، اُس میں سے تین طیارے واپس نہیں آئے۔ میجر جنرل پائلٹ شہید غلام حسین افشین آذر، میجر جنرل پائلٹ شہید علی مراد جہان شاملو  اور بہت ہی افسوس کے ساتھ میجر جنرل پائلٹ محمد حجتی جو اُشنو تک بھی نہ پہنچے اور ایک دن پہلے صرف ملیبرو ہی پی سکے۔"

یادوں بھری رات کے ۳۰۷  ویں پروگرام کے تیسرے راوی نے مزید کہا: "معمولاً پرواز کا لیڈر، پرواز کرنے والے گروپ کا رہبر ہوتا ہے جو اپنے ساتھ دو یا چار طیارے لے جاتا ہے۔ وہ تین طیارے جو اُس کے پر کے ساتھ ہوتے ہیں، اُس کے بچوں کی طرح ہوتےہیں۔ اور اس کا پورا ہم و غم یہ ہوتا ہے کہ کسی کی ناک سے خون بھی نہ بہنے پائے اور وہ انہیں صحیح و سالم واپس لے جائے۔ جنگ کے پہلے دن ہمیں زیادہ تجربہ نہیں تھا۔ مسلط شدہ جنگ تھی اور ہمیں حتماً ڈٹ جانا تھا۔ پرواز سے قبل میٹنگ میں بتایا: جب ہم ہدف پر پہنچ جائیں گے  اور اپنے بمبوں کو گرا دیں گے، تو پھر ساٹھ درجے کی طرف مڑیں گے  اور جتنا ہوسکے گا اُتنا نیچے رہیں گے۔ آپ  لوگ جیسے ہی دریائے ارومیہ کو دیکھیں، اُس وقت آپ لوگ مطمئن ہوجائیں۔ پہلے اور دوسرا گروپ گیا۔  میں بھی جو پائلٹ بربری کے ساتھ پرواز کرنے والے تیسرے گروپ میں تھا، ہم بھی گئے۔ اُس وقت براہ راست بمباری اور نچلی سطح پر پرواز سے استفادہ نہیں کرتے تھے۔ ہم اوپر آتے اور تیس درجہ کے زاویہ سے ڈائیو لگانے کی صورت میں بمباری کرتے تھے۔ ہر طیارہ دوسرے طیارے سے پانچ سیکنڈ کے فاصلے پر، ہدف کے نقطہ پر مارتا۔ اگر پہلا نمبر جاتا، میں جو کہ دوسرا نمبر تھا، پانچ سیکنڈ کے فاصلے کے بعد  میں جاکر بم مارتا۔ اُس پرواز میں محمد حجازی اور فاضل بہمنی کا نمبر چار تھا۔ اور ہم نے بم مار دیئے اور بمباری کے بعد ہم نے جو چکر لگانے تھے اُن کے بعد کہ دفاعی پوزیشنیں ہمیں مار نہ سکیں۔ آنے کے لیے نکل پڑے۔ عام طور سے نچلی سطح پر، طیارے کے UHF ریڈیو کی رینج ایسی ہوتی ہے کہ آوازیں صحیح سے سنائی نہیں دیتی۔ اور علاقہ بھی کوہستانی تھا اور میں اکیلا دریائے ارومیہ کے نزدیک پہنچا۔ میری رفتار تقریباً ۸۵۰ سے ۹۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ میں نے تبریز بیس  کی طرف بڑھنے کے لیے طیارے کو اوپر اٹھایا۔ پائلٹ بربری کی آواز آئی: عطاء ۔۔۔ عطاء تم کہاں ہو؟ میں نے کہا: میں بیس سے ۸۰ میل دور ہوں۔ انھوں نے کہا: کیسے پہنچے؟ میں تو ابھی ۱۵۰ میل دورہوں۔ بہرحال میں نے طیارہ اتار  لیا اور پائلٹ بربری بھی لینڈ کرگئے ۔"

جناب محبی نے مزید کہا: "فاو آپریش تھا اور اُس دن میں اصفہان میں تھا۔ ہم سے اُمیدیہ جانے کو کہا، وہاں پر کوئی آپریشن ہونا ہے۔ ہم شام تک پہنچے تو کہا گیا کہ دیر ہوگئی ہے، کل صبح شروع کریں گے۔ خدا شہید مصطفی اردستانی کی مغفرت کرے، وہ اُس زمانے میں فضائی آپریشن انجام دینے والی پروازں کے گروپ لیڈر تھے۔ صبح سے آغاز کیا۔ خود اردستانی نے گیارہ پروازیں کی تھیں اور  میں نے پانچ پروازیں۔ میری پانچویں پرواز تھی اور میرے دوسرے نمبر پر کرنل پائلٹ حسین چگینی تھے۔ اس دفعہ ٹیکنک بدل گئی تھی۔ عراق نے کچھ دنوں پہلے کروٹال میزائل حاصل کئے تھے جو نچلی سطح پر بہت خطرناک تھے؛ یعنی اگر ذرا بھی ہمارا حواس نہیں ہوتا تو مار دیتے تھے۔ اسی وجہ سے میں زیادی بلندی پر تیزی سے جاتا تھا۔  ہم ہلکی سی فرصت ملتے ہی مارکر واپس آجاتاے تھے تاکہ کروٹال میزائل کے ریڈار  کو ہمیں پکڑنے کا موقع نہ ملے۔ میں واپس کے لئے چکر کاٹ ہی رہا تھا کہ مجھے لگا کوئی آواز آئی ہے۔ ایسا لگا جیسے آٹے کی طرح کی کوئی چیز بہت تیزی سےمیرے گردن پر لگی ہے۔ میں امیدیہ بیس پر اترا اور میں نے دیکھا کہ کوئی خاص حادثہ نہیں ہوا ہے اور تمام موٹریں صحیح ہیں، ہر چیز صحیح و سالم ہے۔ ٹکینیکل شخص نے آکر جہاز کو دیکھا۔ اُس نے کہا: آج بچ گئے، دنبہ قربانی کرو۔ میں نے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ اُس نے کہا: اپنے پیچھے دیکھو۔ میں نے دیکھا تو میرے پیچھے سات سے آٹھ سینٹی میٹر جتنا سوراخ ہوگیا ہے اور دونوں طرف بھی ٹکڑے لگے ہوئے تھے۔ گولی لگی تھی۔ یہ گولی میری کنپٹی سے ۳۵ سے ۴۰ سینٹی میٹر کے فاصلے پر تھی۔بعد میں بٹالین کی طرف سے مجھے بلایا گیا اور کہا کہ طیارے کے پاس پہنچو۔ میں نے جاکر دیکھا تو اُس گولی نے سیٹ کے پیچھے کی تمام تاروں کو اکھاڑ دیا تھا؛ یعنی اگر میں طیارے کو چھوڑنا چاہتا تھا، پرواز کرنے والی سیٹ کسی صورت میں کام نہیں کرتی۔"

عطاء اللہ محبی نے کہا: "جب جنگ شروع ہوئی  تھی اُس وقت میں ۲۷ سال کا تھا۔ اگر ہم تجربہ کار ہوتے اور ہمیں جنگ کا تجربہ ہوتا،  تو ہم سمجھ جاتے کہ کون سا دن ہمارا نہیں ہے  اور ممکن ہے کہ اس دن ہم واپس نہ پلٹیں۔ ایک دن میں اپنی پرواز والی بٹالین میں آیا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میری شکل پر مردے کی خاک چھڑک دی ہے۔  میں سوچ رہا تھا کہ میرا آخری دن ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ  میں ڈرا ہوا ہوں یا میرا حوصلہ نہیں ہے۔ سردار ہوشنگ آغاسی بیک فضائی افواج میں پائلٹوں کے ایک بہترین استاد  اور بہت ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے۔ جنگی مشنوں میں بریفنگ دیتے وقت ایسے ہوتے تھے کہ آپ کو لگے کہ آپ دو طیاروں کو تبریز سے تہران لانا چاہتے ہیں۔ ہم بہت پرسکون اور مطمئن انداز میں اُن کے ساتھ گئے۔ جب میں پہلے طیارے میں بیٹھا تو اُس میں کوئی مسئلہ تھا اور  میں اُس سے استفادہ نہیں کرسکتا تھا۔ میں ایک نمبر سے کہا: میرے طیارے میں مشکل ہے اور میں ریزرو طیارہ  لیکر جا رہا ہوں۔ زیادہ محفوظ رہنے اور جگہ کی تنگی کے باعث وہ طیارہ آشیانہ میں  تھا۔ آشیانہ میں دو طیاروں کی جگہ تھی لیکن اُس میں چار طیارے کھڑے کئے ہوئے تھے۔ اُن میں سے ایک طیارہ میرا تھا ۔ اُسے ہاتھ سے کھینچ کر باہر نکالنا تھا تاکہ میں اُسے اسٹارٹ کرکے پرواز کرسکوں۔ سب جمع ہوئے اور میں نے بھی مدد کی، طیارے کو باہر نکال لیا۔ میں  اُسے اسٹارٹ کرنے کے لیے آیا تو میں نے دیکھا اُس کی نوک مڑی ہوئی ہے۔ میں نے ٹیکنیشن کو بلایا اور کہا: دیکھیں اس میں کیا مسئلہ ہے۔ اُس نے کہا: ٹیڑھی ہوگئی ہے۔ شاید کسی نے دھکا دیتے وقت طیارے کو نوک پکڑ کر دھکا دیا تھا۔ میں نے اپنے ایک نمبر سے کہا: آفیسر!میرا پہلا اور ریزرو طیارہ دونوں خراب ہیں؛ تیسرے طیارے کے لئے جاتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نہیں! آج ہمارا دن نہیں ہے۔ ہم نے اپنے ٹارگٹ کو مارنے کا وقت بھی نکال دیا ہے اور بہت دیر ہوچکی ہے۔ آنے کی ضرورت نہیں۔ میں آتا ہوں اور گاڑی پر بیٹھ کر واپس چلتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں اگر یہ فیصلہ نہیں کیا جاتا تو شاید وہ دن، میرا آخری دن ہوتا اور میں کبھی واپس نہ آتا۔"

جناب محبی نے آخر میں کہا: "میں پائلٹوں کی زوجات کی قدر دانی کے لئے کہنا چاہوں گا کہ میں نے ۳۳ سال ڈیوٹی انجام دی ہے اور گیارہ بارہ دفعہ پوسٹنگ ہوگئی ہے ۔ جاپانی کہتے ہیں جو بھی دو مرتبہ گھر کا سامان اٹھائے، وہ ایسا ہے جیسا اُس کے گھر کو آگ لگ گئی ہو۔ میری ڈیوٹی کے دوران، میرے گھر کو چھ مرتبہ آگ لگی ہے۔ میری ایک بیٹی ہے جس نے پہلی کلاس شیراز میں پڑھی۔ اُس زمانے میں نرسری اور مانٹیسوری کا اتنا مسئلہ نہیں تھا۔ دوسری، تیسری، اور چوتھی کلاس دزفول میں پڑھی۔  پانچویں کلاس تہران میں۔ میں دافوس کی ٹریننگ کے لئے تہران آیا ہوتا تھا۔ تہران کے بعد ہم امیدیہ چلے گئے۔ جب تک گھر لیکر اُس میں شفٹ ہوتے، تعلیمی سال کا کچھ حصہ ختم ہوچکا تھا۔  بقیہ تعلیم امیدیہ میں حاصل کی۔ جب وہ سیکنڈری میں پہنچی تو ہم اصفہان آگئے۔ تین سال اصفہان میں رہے۔ میٹرک اصفہان میں کیا۔ جب وہ کالج  میں پہنچی تو ہم تبریز منتقل ہوگئے تھے۔ اُس کے فوراً بعد اُسے اردبیل یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور ہم بھی خوش تھے کہ وہ ہم سے نزدیک ہے۔ ہم نے اُس کے لئے گھر خریدا اور کہا کہ اُس سے ملنے کےلئے آیا جایا کریں گے۔ چھ مہینے نہیں ہوئے تھے  کہ میں تہران منتقل ہوگیا۔ ہم نے اپنی بیٹی کو اردبیل میں چھوڑا اور خود  تہران آگئے۔  میں نے چار سال تک امیدیہ چھاؤنی میں ڈٰیوٹی انجام دی۔ اُس کا سب سے آباد علاقہ خلف آباد نامی گاؤں تھا اُس جگہ کا نام رامشیر تھا۔ وہاں چھوٹی سے چھوٹی سرگرمی بھی نہیں تھی۔  میں صبح ساڑے چھ سے سات کے درمیان چلا جاتا، شام کو ساڑھے پانچ  سے چھ کے درمیان واپس آجاتا۔ گھر میں وقت گزارنے کے لئے خواتین کے پاس کوئی سرگرمی نہیں تھی۔ "

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۴ اکتوبر  ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۸ نومبر کو منعقد ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 58



http://oral-history.ir/?page=post&id=9224