ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ نواں حصہ

وہ کوٹ پہن رہا تھا اسکی رپورٹ مکمل ہو چکی تھی اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور تو میں قرآن لئے دروازے پر آن کھڑی ہوئی

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2020-03-12


ہم نے جو پہلا گھر کرایہ پر لیا وہ ایک مستطیل کمرہ تھاجس کے درمیان میں پردہ ڈال کر ہم نے بیڈ روم اور مہمان خانہ بنا لیا تھا۔ چولھا اور فریج سیڑھیوں کے نیچے رکھ کر اس کو باورچی خانہ کی شکل دے دی تھی۔ گاو تکیے کمرے کے دیواروں کے ساتھ لگا دیئے تھے جب کہ بیڈ نے پردے کے پیچھے کا کمرہ پر کر دیا تھا۔ میں رات کا دسترخوان لگائے علی کی منتظر تھی، پردے کا کنارہ الٹائے صحن کا نظارہ کر رہی تھی۔ دروازے میں چابی گھومی اور علی مسکراتا ہوا گھر میں داخل ہو گیا۔ شادی کے معاملے میں جو کچھ ہم سہہ چکے تھے اس کے بعد ایک ساتھ رہنے کی قدر ہمارے لئے واضح تھِ۔

شادی کے بعد ہم نے پہلا سفر مشہد کا کیا۔ اس وقت ہنی مون کا رواج نہ تھا۔ علی کے چچا کے گھر والے زیارت پر مشہد جارہے تھے سو ہم بھی ان کے ہمراہ ہو لئے۔ یہ ایک گھریلو سفر تھا مگر ہمارے لئے ہنی مون کی حیثیت رکھتا تھا۔ بلاشبہ یہ سفر بہت ہی خوشگوار تھا  اور میری زندگی کے بہترین سفروں میں سے ایک۔ یہ علی کے ساتھ ہونے کی ہی برکت تھی کہ میں پہلی بار امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہو رہی تھی۔ نقاروں کی صدائیں تھیں جن سے سقہ خانے کی فضا معمور تھی۔علی زانو جھکائے تھا اور میں سونے کے گنبد اور سبز پرچم کے نظارے میں محو۔ دل چاہتا تھا وقت تھم جائے اور میں علی ساتھ ہمیشہ کے لئے اس آرام دہ وادی میں کھڑی رہوں۔

علی ایک خیراتی ادارے میں ملازم تھا۔ ہماری شادی کے دنوں میں ادارے والے اپنے ملازمین کو گھر دیا کرتے تھے مگر علی نے گھر کے سلسلے میں کوئِ اقدام نہ کیا اس کا کہنا تھا کہ ہم ابھی جوان ہیں اور ہمارے بچے بھی نہیں اپنا گھر کرنے کو ابھی بہت وقت پرا ہے، گھر کے لئے پہلا حق ان لوگوں کا ہے جو ہم سے بڑے ہیں اور عیال دار ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے سے پہلے دوسروں کے لئے چیزیں مانگتا تھا اور مجھے بھی اپنی دلیلوں سے قانع کر لیتا تھا۔ حتیٰ نوکری تبدیل کرنے کے معاملے میں  بھی میں اس کی دلیلیوں سے ہار کر راضی ہو جایا کرتی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کا مشغلہ ایسا ہو کہ جس میں اسے اطمینان ہو کہ وہ انقلاب کی خدمت کر رہا ہے۔ وہ اپنی تمام زندگی کو انقلابِ اسلامی کی دین سمجھتا تھا اور چاہتا تھا کہ اس قرضہ کو ادا کر دے۔ وہ جب بھی محسوس کرتا کہ انقلاب کی کما حقہ خدمت نہیں ہو رہی ہے وہ نوکری بدل لیتا اسی لئے اس نے کچھ عرصہ بعد خیراتی ادارہ کو خیر آباد کہہ دیا اور ثقافتی مرکز بعثت میں ملازمت اختیار کر لی اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اسکول میں PT ماسٹر بھی لگ گیا۔ میں بھی کونسا گھر بیٹھنے والوں میں سے تھی سو میں بھی مرکز جا پہنچی اور وہاں کے کتب خانہ کی انچارج بن گئی۔

 

انہی دنوں سید مہدی کے آنے کی خوشخبری ملی یعنی میں حاملہ تھی۔ علی خود اسپتال  رپورٹ لینے گیا اور واپسی پر مٹھائی کے ساتھ آیا۔ میری پیشانی پر بوسہ لیا اور مجھے مبارک باد دی۔ وہ بچوں کی طرح خوش تھا وہ بار بار بچے اور اس کے لئے کرنے والے کاموں کے بارے میں گفتگو کرتا۔ اس کی خوشی کا عالم یہ تھا کہ وہ ایک سانس بولے چلا جاتا۔ حمل کے آخری ایام میں علی کو ایک کام کے سلسلے میں پاکستان جانا پڑا میرا دل ڈوبنے لگا مجھے یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ علی بچہ کی ولادت پر میرے پاس نہ ہو تو دوسری طرف پاکستان کے بارے میں میرے خیالات کچھ اچھے نہ تھے۔ وہ ظاہراً پڑھائی کے سلسلے میں عازم سفر تھا مگر میں جانتی تھی کہ اس کا مقصد انقلاب کی تبلیغ کے لئے راہیں تلاش کرنا ہے۔

وہ کوٹ پہن رہا تھا اسکی رپورٹ مکمل ہو چکی تھی اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور تو میں قرآن لئے دروازے پر آن کھڑی ہوئی میں اس کوشش میں تھی کہ اپنی پریشان خاطری کو علی سے چھپائے رکھوں۔ وہ قرآن کے نیچے سے گذرا تو عطر کی بو سے میرا دماغ معطر ہوگیا۔ میں پانی کا کٹورا لئے اس کے پیچھے باہر آگئی۔ اس نے مجھے اپنا اور بچے کا خیال رکھنے کی تلقین کی میں ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جارہی تھی اور چاہتی تھی کہ اس کی تصویر کو اپنے ذہن کے پردے پر نقش کر لوں ، باپ کا روپ اس پر کتنا جچتا تھا۔ شڑاپ۔۔۔۔ پانی کے گرنے کی آواز پر میں چونکی وہ مڑا اور ہاتھ ہلا کر مجھے الوداع کیا رنج سے میرا گلا بند ہوا جاتا تھا میں گھر پلٹ آئی اور دروازہ بند کر لیا۔



 
صارفین کی تعداد: 168



http://oral-history.ir/?page=post&id=9127