میانہ میں نو محرم والے دن ریلی

مترجم: سید ابو میرآب زیدی

2019-10-13


نو محرم [سن ۱۹۷۸ء]والے دن تہران کے دینی مدارس کی طرف سے پورے ایران میں ریلی نکالنے کا اعلان ہوا تھا۔ ہم نے بھی چند دن پہلے، اپنی آمادگی کا اعلان کر دیا تھا اور اور اطراف کے تمام دیہاتوں میں پیغام پہنچا دیا اور اُن لوگوں کو شہر  آنے کی دعوت دی اور اُن سے کہا کہ اس تاریخی ریلی میں شرکت کریں۔ تمام دیہاتوں سے لوگ، ایک ساتھ مل کر، عزاداری کے جلوس کی صورت میں شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ البتہ جب انھوں نے ہماری گرفتاری کے بارے میں سنا، اُن کے مذہبی جذبے اور احساسات میں شدت آگئی اور کثیر تعداد کے ساتھ میانہ میں داخل ہوئے۔ عوام کے جمع ہونے اور ریلی شروع ہونے کی جگہ کیلئے مدرسہ علمیہ جعفریہ کا اعلان ہوا تھا۔ بندہ حقیر صبح سویرے جب وہاں پہنچا تو آنے والے لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ میں نے بہت مشکل سے خود  کو مدرسہ تک پہنچایا۔ اطراف کے تمام گلی کوچوں میں لوگوں کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر  تھا۔ شہر کے تمام علماء اور بزرگ حضرات بھی حاضر تھے۔ مرحوم جناب احمدی [آیت اللہ علی احمدی میانجی] بھی آئے ہوئے تھے، لیکن اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی  اور پچھلی رات  کو [ساواک کے توسط سے] مار کھانے کی وجہ سے اُن کے کندھے اور کمر میں درد ہو رہا تھا، لہذا وہ ٹھہر نہیں سکے اور انھوں نے لوگوں سے معذرت خواہی  کی اور اپنے گھر چلے گئے۔

میری بھی [ان کی طرح] حالت اطمینان بخش نہیں تھی؛ میرے جسم کی تمام ہڈیوں میں چبھن کے ساتھ درد ہو رہا تھا، جس وقت سپاہیوں نے میرے گھر پر دھاوا بولا تھا میں اُن سے لڑ پڑا اسی وجہ سے مجھے جناب احمدی سے زیادہ مار کھانی پڑی  اور میرا ہاتھ اور سر ٹوٹ گیا۔ لیکن اس کے باوجود میں خدا کو گواہ بناتا ہوں جب میں نے مدرسہ علمیہ کے اطراف میں لوگوں کے اس عظیم الشان رش کو دیکھا تو مجھ میں دوبارہ جان آگئی  اور میں نے پچھلی رات سہنے والے تمام جسمی اور روحی شکنجوں اور اذیتوں کو لاشعوری طور پر فراموش کردیا۔ میں جوش مارتی ہوئی عوام جو سمندر کی بپھری ہوئی موجودں کی طرح آگے بڑھ رہی تھی  سے جا ملا۔ میانہ شہر کی تاریخ میں ایسی ریلی کی مثال بہت کم ملتی تھی۔ ہم انقلابی اور حماسی نعرے لگاتے ہوئے شہر کی اصلی سڑکوں سے سے گزرے  اور اُس کے آخر میں بڑے پارک کے چوک پر پہنچے جو سولماز ہوٹل کے سامنے تھا۔ وہاں ایک وسیع اور پھیلا ہوا علاقہ تھا اور اُس کے ایک طرف (تہران – تبریز) موٹر وے موجود تھا۔ اب اُس کے اطراف میں، بہت زیادہ عمارتیں بن چکی ہیں جو اُس زمانے میں  نہیں تھیں  اور ایک وسیع اور کھلا علاقہ تھا۔ عوام آرہی تھی اور علاقے اور اُس کے اطراف کی تمام زمینیں، لوگوں سے بھر گئیں۔ اس چیز کا وقت تھا کہ کوئی ایک عالم دین تقریر کرے اور ریلی کی قرار داد کو پڑھا جائے۔  میں نے ایک ایک شخص کے سامنے یہ تجویز رکھی سب کہنے لگے حق تو یہ ہے کہ آپ خود تقریر کریں  اور اس عظیم ریلی کا حق صرف آپ کی تقریر سے ادا ہوگا۔

بہرحال دوستوں  اور لوگوں کے اصرار  کرنے  پر میں منی بس کے اوپر گیا اور اوپر جاکر وہاں پر حاضر لوگوں کے سامنے تقریر کی۔ اس تقریر میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا اور اس کا لہجہ بھی آہستہ آہستہ  میری گزری ہوئی کل کی باتوں  سے عام فہم اور تیز تھا اور ضروری جگہوں پر وہاں پر موجود لوگوں کی تکبیر سے ان باتوں کی تائید اور تاکید ہو رہی تھی۔ اُس دن کی تقریر کا خلاصہ یہ  تھا کہ ہم ایرانی قوم استقلال اور آزادی چاہتے ہیں، ہم اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اجنبی لوگ ہماری تقدیر کے فیصلے میں کوئی دخالت کریں، ہم نہیں چاہتے کہ ایک امریکی سارجنٹ ہمارے  جنرلوں، لیفٹیننٹوں اور میجر جنرلوں پر حکم چلائے اور یہ لوگ اُس کی نوکری کریں۔  ہم اسلامی حکومت چاہتے ہیں  کہ جس کے قوانین کو قرآن اور حدیث سے بنایا گیا ہو۔ میں نے اس کے بعد کہا، جو اپنے ملک اور لوگوں کی آزادی چاہتا ہے اُس نے کیا گناہ کیا ہے کہ شاہ کے ایجنٹ، رات کو اُس کے گھر پر دھاوا بولتے ہیں  اور اُس کے بیوی بچوں کے سامنے اُس کی توہین کرتے ہیں اور ۔۔۔ میں نے کل رات ہونے والے وحشت ناک واقعہ کی طرف اشارہ کیا اور ۔۔۔ اس پروگرام میں راستے بھر جب لوگ میرے حلیہ اور میری حالت کو دیکھ رہے تھے تو رونا شروع کردیتے تھے اور آکر مجھ سے محبت کا اظہار کرنے لگتے تھے۔

اس تاریخی دن میں، وہ تمام افراد جو اطراف کے دیہاتوں سے شہر آئے ہوئے تھے دوپہر کے کھانے کے وقت مساجد اور امام بارگاہوں میں اُن کی اچھی طرح پذیرائی کی گئی، اُن میں سے اچھی خاص تعداد کو لوگ اپنے ساتھ اجتماعی اور انفرادی صورت میں اپنے  گھروں میں لئے گئے  اور بہت اچھے طریقے سے اُن کی خاطر مدارات کیں۔ دیہات سے آئے مہمان، رات کو شہر میں رہے  تاکہ اگلے دن عاشورا کو جس دن بھی اسی ترتیب سے ریلی نکلنا طے تھا، اُس میں شرکت کریں اور اسی طرح ہوا بھی۔ عاشورا والے دن نکلنے والی ریلی نو محرم کی ریلی سے زیادہ عظیم الشان تھی۔


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 161



http://oral-history.ir/?page=post&id=8833