مطبوعات کا مطالعہ کرنا اور اُن کی خبریں امام خمینی تک پہنچانا

آیت‌الله محمدعلی گرامی

2019-08-25


آزادی کے فوراً بعد انہی شروع کی راتوں میں، میں نے ایک رات امام خمینی کو ایک بات بتائی۔ مرحوم [آیت اللہ] جناب مصطفی خمینی بھی برابر میں بیٹھے ہوئے تھے اور سن رہے تھے۔ اچانک جناب مصطفی نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور کہا: جناب، اس ذمہ داری کیلئے یہ صاحب سب سے بہترین ہیں۔

امام خمینی نے بھی میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: آپ میری طرف سے مطبوعات کا مطالعہ کرنے اور  مجھے اُس سے آگاہ کرنے کے انچارج ہیں اور آپ کو مطبوعات خریدنے کے پیسے مجھ سے لینے پڑیں گے۔

میں نے کہا: وہ تو کچھ بھی نہیں بنتے۔

انھوں نے کہا: جتنے بھی ہوں۔

لہذا میں اُن مطبوعات کے مطالب انھیں بیان کرتا۔ بعض دوست احباب نے مذاق میں مجھے آغا کے مطبوعاتی مشاور کا لقب دیدیا تھا۔ جناب مصطفی خمینی نے مجھ سے کہا: ایک صاحب کے پاس کوئی تجویز ہے، بہتر ہوگا کہ آپ اُن کی رائے سن لیں۔

اُن صاحب کی تجویز جو تہران کے پیش نمازوں میں سے ایک تھے یہ تھی کہ میں جب اخباروں اور مجلوں کو پڑھ رہا ہوں تو حساس مطالب کے گرد ایک لال رنگ کی لکیر لگا دوں اور اس کام سے، امام خود اخباروں کے جملات کو پڑھ لیں گے تاکہ اگر ضرورت پڑے تو وہ کہہ سکیں کہ میں نے اس بات کو اخبار میں دیکھا ہے۔ میں نے بھی اس تجویز پر عمل کیا۔

میں ہر رات کو ان کے پاس ہوتا اور حالانکہ دوسرے افراد بھی بیٹھے ہوتے تھے، میں مطبوعات کے مطالب امام خمینی تک منتقل کیا کرتا۔ میرے ایک دوست جو ایک مرجع عالیقدر کے داماد تھے اور اب انتقال کرچکے ہیں، انھوں نے مجھ سے کہا: آپ کے کام کا یہ طریقہ کچھ بھڑکانے والا ہے، چونکہ ہمارے لباس میں کچھ افراد ایسے ہیں جو بعض مخصوص روابط کی نسبت حساسیت رکھتے ہیں؛ اس بناء پر ممکن ہے وہ فتنہ بپا کریں۔

وہ کہتے: جس وقت آپ امام خمینی کے کانوں میں بات کر ہرے ہوتے ہیں، میں دیکھتا ہوں یہاں پر بیٹھے کچھ افراد   کی حالت تبدیل ہوجاتی ہے، آپ کوشش کریں کہ لوگوں کے سامنے امام خمینی سے خصوصی باتیں نہ کریں!

البتہ خود امام خمینی نے کچھ نہیں کہا، چونکہ بعض اوقات جب میں آہستہ بات کرتا تھا، امام خمینی بلند آواز میں جواب دیتے تھے، لیکن حقیقت میں، وہ افراد جو کمرے  میں بیٹھے ہوئے تھے، ہماری باتوں کو خصوصی باتیں سمجھتے تھے۔ میں اُن دوست کی تجویز سننے کے بعد، صبح کے اوقات میں اندر چلا جاتا اور امام خمینی کی خدمات میں مطالب بیان کردیتا اور کبھی کبھار جب مطالب مختصر اور کم ہوتے تھے، امام خمینی کے اندر والے کمرے سے عمومی کمرے تک آنے والے راستے میں، ہم  کچھ دیر دروازے کے پیچھے کھڑے ہوکر باتیں کرلیتے۔

ایک رات میں نے امام خمینی سے عرض کیا کہ اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس جدہ میں منعقد ہونا طے پایا ہے اور میں نے مشورہ دیا کہ امام خمینی اپنی نمائندگی میں کسی کو وہاں بھیجیں یا کوئی پیغام بھیج دیں۔ انھوں نے کہا نمائندہ بھیجوں گا، لیکن پیغام بھیجوں گا؛ آپ خود پیغام تیار کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں۔

میں نے جناب محمد گیلانی، حاج شیخ نعمت اللہ صالِحی نجف آبادی اور جناب سید محسن (مرحوم جناب سید شرف الدین جبل عاملی کے فرزند) اور کچھ اور صاحبان کو اطلاع دیکر میٹنگ رکھ لی، ہم سب مل کر امام خمینی کی خدمت میں پہنچے تاکہ امام خمینی جو مطالب بیان کریں ہم انھیں تحریر کی صورت میں لے آئیں۔ مجھے یاد ہے کہ انھوں نے ایک مطلب بیان کیا اور بعد میں حکم دیا کہ اس بات کو اس طرح لکھیں، کیونکہ ہم مقدسین  میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ اب ان دنوں کو گزرے سالوں بیت گئے اور مجھے یاد نہیں کہ وہ کیا مطلب تھا۔ ہم نے پیغام تیار کرنے کے بعد اُسے امام خمینی کی خدمت میں پیش کیا اور امام خمینی نے اُسے جناب سلطانی – جو مکہ مشرف ہونا چاہتے تھے – کے ذریعے  مرحوم لواسانی (مرحوم جناب سید صادق لواسانی کے بھتیجے) – جو مدینہ میں مقیم تھے – تک پہنچایا۔ گویا میں نے بعد میں جناب مصطفی سے سنا تھا کہ امام خمینی کے پیغام کو وہاں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ بہرحال، امام خمینی اس حد تک ہوشیار تھے اور وہ اُن حالات سے استفادہ کرنا چاہتے تھے۔

میں شائع ہونے والے اخبارات کے علاوہ بعض مجلوں کو بھی دیکھتا تھا؛ ان میں مطالب کا کچھ حصہ شاہ کے خلاف ہوتا۔ مثلاً، ایک مجلے میں – کہ مجھے نہیں معلوم اُس کا انچارج کون تھا – شاہ کی تصویر کو کسی کلب میں جنسی بے راہ روی کا شکار ایک گروپ کے ساتھ، چاپ کیا تھا، البتہ تصویر کو کسی غیر ملکی مجلے سے اٹھایا تھا۔ اسی طرح، بعض مجلوں میں کچھ باتیں ایسی ہوتیں جنہیں ہم امام خمینی کی خدمت میں پیش کرتے۔ بعض دوسرے افراد امام خمینی کی خدمت میں ریڈیو سے نشر ہونے والی خبروں کی رپورٹ بھی پیش کرتے تھے۔ ان قضیوں سے پہلے، ایک دوست نے کسی مورد میں جمال عبد الناصر کی باتیں جو ریڈیو سے نشر ہوئی تھیں، ریکارڈ کرکے امام خمینی کی خدمت میں پیش کیا تھا۔


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 173



http://oral-history.ir/?page=post&id=8752