ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

لکھاری کا تبصرہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2019-07-22


میں نے کتاب رسول مولتان پڑھی جو میری اور شہید سید محمد علی رحیمی کی اس  زندگی کا خلاصہ ہے جب ہم ایک ساتھ ہوتے تھے، اس کے بعد ہم ، میں علی اور بچوں میں بدل گئے پھر پلک جھپکنے میں ، میں اور بچے رہ گئے اور علی ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کی جگہ ہمارے درمیان ایسے خالی ہوئی کہ پھر کسی بھی وقت پر نہ ہوسکی۔ میں نے اس کتاب کے صفحات کے درمیان علی کو دوبارہ اپنے پاس پایا۔ وہ اپنی اسی مہربان طبیعت کے ساتھ ہمارے ساتھ تھے  مہدی اور محمد ان کے ساتھ کھیل رہے تھے اور فہیمہ ان کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی ۔ رات کےوقت ان کے دفتر میں ان کے لئے چائے لے گئے اور نصف شب تک ہم بات چیت کرتے رہے۔ انہوں نے اس رات مجھ سے شیعوں اور ان کی مظلومیت کے بارے میں گفتگو کی اور کاموں کے بارے میں بتایا جو وہ شیعوں کے لئے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

میں خوش ہوں کہ اس کتاب کے ذریعے علی کا ہدف اس تاریخِ آب و خاک کے سینہ پر ثبت ہوجائے گا وہ ہدف جس کے لئے میری خواہش ہے کہ سب پہلے میری مادرِ وطن کے نوجوانوں کے لئے واضح ہو اور میرے وطن کے نوجوان اس کو پڑھیں اور جانیں  تاکہ دفاع شیعیت کی راہ میں خطرات کی سختی اور غریب الوطنی کو سہنے کے معنی کو جان سکیں۔ ایسا ہدف جس کو میرے فرزند ارجمند نے اپنے باپ کی مثل اپنی زندگی کا نصب العین بنایا ہے۔ ان دنوں لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں : " کس طرح تم نے اجازت دے دی کہ مہدی اپنے والد کی مانند خطرات کی وادی میں قدم رکھے؟" میں ان سب عزیزوں کو بتانا چاہتی ہوں  کہ یہ کام کسی جرات کا متقاضی نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری کا تقاضہ کرتا ہے، وہ احساس ذمہ داری جو علی میں تھا ، انقلاب ایران اور ولایت فقیہ کے باب میں ذمہ داری کا احساس۔ خدا کا ہزاروں ہزار شکر ہے ان چند صبحوں پر جو میں نے علی کے ساتھ گذاریں اور باقی ان صبحوں پر جو ان کی یادگاروں کو پروان چڑھانے میں صرف کر رہی ہوں۔میں امید کرتی ہوں کہ وہ قرض جو علی اور ان جیسے لوگوں کا میرے کندھوں پر ہے اس کو ادا کر سکوں کیوں کہ کل بروز قیامت اس قرض کو ادا کرنے کا وقت نہ ہوگا۔ آخر میں  میں محترمہ عرفانیان کہ جنہوں نےصبر اور مہربانی کے ساتھ میرے واقعات کو سنا اور لکھا، کی صمیم قلب سے شکر گذار ہوں اور ان کے لئے خدا سے بہترین اجر کی تمنائی ہوں۔

مریم قاسمی زہد

۹/۱۰/۱۳۹۳[1]

 

 

[1] ۳۰ دسمبر ۲۰۱۴

 

 


پہلے حصے کا لنک
 
صارفین کی تعداد: 301



http://oral-history.ir/?page=post&id=8685