خراسان کے راویوں کے واقعات

"۱۷۶ ویں غوطہ خور" اور "شرح آسمان"


محمد علی فاطمی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-07-22


امام رضا علیہ السلام کے شہر، خراسان میں ستارہ ھا پرنٹنگ پریس جو مرکزی اہمیت کا حامل ہے، حال ہی میں اس کی دو کتابیں ایرانی زبانی تاریخ کے دفتر پہنچیں۔ اس ناشر نے آخری چند سالوں میں دوبارہ سے قدرت پکڑی اور اُس کی کتاب کے ٹائٹل اور تحریر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ زبانی تاریخ اور دفاع مقدس کے واقعات کے دائرہ کار میں بہترین آثار  کی تولید کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

 

خاص لمحات

ستارہ ھا پبلیکیشنز کی کتابوں میں "کمانڈروں اور دلاوروں کی زبانی تاریخ" کے عنوان سے ایک مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔ اس مجموعہ کی چھٹی کتاب کی پہلی اشاعت "۱۷۶ ویں غوطہ خور" کے عنوان اور محمد رضا یزدیان کے واقعات کے ساتھ، ۲۰۱۹ کے موسم بہار میں شائع ہوئی۔

یہ کتاب چار فصلوں اور ۳۳۴ صفحات پر مشتمل ہے کہ ناشر نے اس کتاب میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس راوی کے واقعات کے اہم ہونے کی وجہ کیا ہے؛ چونکہ "وہ کربلائے چار آپریشن کے اسیروں اور غوطہ خوروں کے زندہ دفن ہونے کےگواہ اور باقی بچ جانے والے واحد شخص" ہیں۔ "۱۷۵ غوطہ خور شہیدوں کے لاشے کربلائے چار آپریشن کے ۲۹ سال بعد ملے  اور جون ۲۰۱۵ میں ان کی عظیم الشان تشییع جنازہ ہوئی" اور اب "۱۷۶ ویں غوطہ خور " نے اُن کے بارے میں بھی اور اسیری کے سالوں کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔

کتاب کے آخری تیس صفحات پر جو تصویریں موجود ہیں، وہ پڑھنے والے کو واقعات پر یقین دلانے کیلئے موثر ہیں، لیکن اثر ڈالنے والی اصلی چیز کتاب کے اندر موجود تحریر ہے۔ گویا راوی نے شروع سے ہی دو کرداروں پر یقین کے ساتھ روایت کو بیان کیا ہے؛ اُن شخصیات کا کردار جو اُس کی روایت میں موجود ہیں اور اُن واقعات کا کردار کہ اگر وہ اس راوی اور ان شخصیات کی روایت کے متعلق نہ ہوں تو پڑھنے والے کے ذہن میں باقی نہیں رہیں گے اور وہ اسے جلدی بھول جائے گا۔ اسی وجہ سے راوی نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جنگ، اسیری اور جدوجہد پر خاص  تاکید کی ہے اور ذیلی باتوں سے پرہیز کیا جو اُس کے واقعات کے حجم کو بڑھا سکتے تھے۔

"۱۷۶ ویں غوطہ خور" نے نئے اسیر ہونے والے قیدیوں اور کربلائے چار آپریشن کے غوطہ خوروں کے ساتھ صدامی افواج کے ناجوانمردانہ اور انسانیت سے خالی خاص مناظر کو دیکھا ہے۔ اسی طرح دفاع مقدس میں آزاد ہونے والوں کے واقعات کی ایک کتاب ہے کہ راوی نے پوری حد تک کوشش کی ہے کہ وہ اُن واقعات کو نہ لکھے جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں اور وہ صرف اسیری کے خاص لمحات پر توجہ دے۔

 

زندگی اور واقعات

ستارہ ھا پرنٹنگ پریس کی ایک اور کتاب جو ۲۰۱۹ء  کے اوائل میں شائع ہوئی اُس کا نام "شرح آسمان: پائلٹ شہید ابراہیم فخرائی کی زندگی اور واقعات" ہے۔

واقعات اور داستان نویس محمد خسروی راد نے اس کتاب کو پانچ فصلوں اور ۳۹۹ صفحات سے مزین کیا ہے۔ جیسا کہ اُن کی گذشتہ کتابوں میں اُن کا واقعات کو مناسب جگہ پر قرار دینا دکھائی دیتا ہے، اس کتاب میں بھی ایسا ہی ہے۔ ایسی لذت کا انکار ناممکن ہے جو پڑھنے والا چھوٹے حصوں کے مطالعہ سے حاصل کرتا ہے لیکن وہ کتاب سے جڑا رہتا ہے؛ایک ایسی چیز کہ "شرح آسمان" نامی کتاب کے پڑھنے والے بھی اُس کا تجربہ کرسکتے ہیں۔

اس کتاب میں مؤلف کا پہلا کلام؛ کتاب کے بارے میں وہ نکات ہیں جو تحریر کا تعارف کرانے کیلئے مناسب ہیں؛ جیسا کہ اُن میں سے ایک یہ ہے: "اُس کا تصور بھی سخت اور دشوار ہے؛ شاہ کے زمانے میں ۔۔۔ شہنشاہی فوج اور ایوی ایشن ادارے میں ۔۔۔ پائلٹ کی ٹریننگ حاصل کرنے والا ایک ایرانی اسٹوڈنٹ ایک امریکی پائلٹ استاد کے منہ پر تھپڑ مار دے ۔۔۔ ایک زور دار طمانچہ کہ جس کی آواز سب جگہ سنی گئی! تھپڑ مارنے کی وجہ امریکی استاد کا اُس کے ساتھ ٹریننگ کرنے والے ایک ایرانی اسٹوڈنٹ کی توہین کرنا تھی! ایک ایسا انسان ایک منفرد شخصیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟! ابراہیم (حجت) فخرائی، دفاع مقدس کے ایک برجستہ شہید۔ پائلٹ ٹریننگ کورس کے دوران صرف اور صرف یہی ایک حرکت، ایک لکھاری کیلئے اس قدر جذابیت اور کشش رکھ سکتی ہے  کہ وہ مجبور ہوجائے کہ ایسی شخصیت کی خصوصیات اور مختلف پہلوؤں کی طرف قدم بڑھائے تاکہ وہ اُس کو بھی اچھی طرح سمجھ لے اور یہ بھی کوشش کرے کہ دوسرے بھی ایسی شخصیت کو پہچانیں اور اُس سے نزدیک ہوں ۔۔۔ مختلف موضوعات جیسے ابراہیم کی جوانمردی اور بہادری کی بے مثال حکایتیں، دوسرے کی ناموس کا دفاع، کام کے وقت جسارت اور شجاعت اور سیکھنے کے وقت  سخت محنت و کوشش، کم بلندی پر پرواز کرنے میں اُن کی خاص مہارت اور  خاصیت اور نزدیک ترین جگہ سے دشمن پر حملہ کرنا جو ظاہراً ممکن نہیں، اُن کے جان سے گزر جانے والی مثالیں، یہ سب کے سب وہ نکات ہیں کہ جن کے نمونے، امکان کی حد تک، آپ اس کتاب میں دیکھیں گے ۔


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 93



http://oral-history.ir/?page=post&id=8681