یادوں بھری رات کا ۳۰۱ واں پروگرام

شہید محسن وزوائی کے بارے میں تین روایتیں

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2019-07-06


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۱  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۵ اپریل ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس یادوں بھری رات کا موضوع اور مرکزی شخصیت شہید محسن وزوائی تھے اور داؤد نوروزی، عبد الرضا وزوائی اور ابراہیم شفیعی نے پروگرام کے راویوں کے عنوان سے شہید کی جوانی اور نوجوانی کے زما نے  کے واقعات بیان کئے۔

ہمیشہ بہادر

۳۰۱ ویں یادوں بھری رات کے پروگرام میں پہلے راوی داؤد نوروزی تھے۔ انھوں نے کہا: "مجھے بالکل بھی اس بات کا علم نہیں ہے کہ میں شہید محسن  کے بارے میں کچھ کہنے کے قابل ہوں یا نہیں؟ ہم بچپن سے ایک ساتھ بڑے ہوئے، ایک ساتھ کھیلے، گھومے پھرے یہاں تک  وہ اپنی زندگی کے راستے پر ایک جگہ آکر مجھ سے بالکل جدا ہوگئے۔ میرا بالکل بھی یہ ارادہ نہیں ہے کہ چونکہ محسن شہید ہوگئے ہیں تو میں اُن کی تعریفوں کے پل باندھوں، لیکن وہ حقیقت میں ایک خاص انسان تھے۔ وہ فوٹبال اور پیلنٹی والے کھیل میں بہت ماہر تھے۔ وہ ایک مومن اور دیندار گھرانے میں پلے بڑھے۔ البتہ ہمارے محلے میں سب ہی دیندار اور مومن تھے۔ اُن کے والد  صاحب بجلی کے ادارے میں کام کرتے تھے۔ جس زمانے میں ہم بہت چھوٹے تھے اور ہمیں بالکل بھی اس بات کی فکر نہیں تھی کہ ہمیں روزہ رکھنا چاہیے، محسن کا روزہ ہوتا تھا۔ ہم سوئمنگ پول جاتے اور ہم اُن سے کہتے کہ پانی کے اندر چھلانگ لگاؤ تو وہ جواب میں کہتے کہ میرے سر کو پانی سے باہر رہنا چاہیے اور اگر میرا سر پانی میں ڈوب گیا تو میرا روزہ باطل ہوجائے گا۔ وہ ہمارے ساتھ ہر جگہ جاتے تھے، لیکن دینی معاملات کی پابندی کرتے۔ ہم ذہنی کھیل  کھیلتے جس میں وہ غیر معمولی تھے۔ ہم لوگ جو گلی میں کھیلتے تھے اور ایک ہی سن کے تھے ہم لوگ تقریباً پندرہ سولہ افراد تھے۔

سب سے پہلے میں نے شادی کی۔ میں تقریباً بیس سال کا تھا جب اکثر دوستوں سے جدا ہوگیا اور محسن نے بھی اُنہی سالوں میں یونیورسٹی  میں داخلہ لے لیا۔ یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ میں اور وہ ایک ہی سال پیدا ہوئے، لیکن وہ پڑھائی کے لحاظ سے مجھ سے ایک سال آگے تھے چونکہ میں خزاں میں پیدا ہوا تھا۔ میں اور وہ ایک ہی مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، لیکن وہ مجھ سے ایک سال آگے تھے۔ وہ اسکول میں بھی بہترین طالب علموں میں سے تھے۔ ہم شاہراہ شہید مدنی (تہران) میں رہتے ہیں جو نظام آباد سے مشہور تھا۔ اُس زمانے میں محسن کی والدہ کو نشستوں والی خاتون کہتے تھے وہ بلا ناغہ ہر جگہ قرآن پڑھانے جاتی تھیں۔ یہ خاندان واقعاً اپنے عقائد کا خاص پابند تھا۔ میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہر جگہ بہترین طالب علم تھے۔ وہ صنعتی شریف یونیورسٹی میں بھی پہلے نمبر کے طالب علموں میں سے تھے۔وہ یونیورسٹی کے رضاکار ادارے میں بہت کام کرتے تھے۔ جب وہ یونیورسٹی میں پڑھنے لگے تھے، ایک دن میری اُن سے ملاقات ہوئی۔ اُن کا اسٹائل اور لباس تبدیل ہوگیا تھا۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ تم کہاں ہو اور کیا کر رہے ہو؟ اُنھوں نے کہا: مجھے یونیورسٹی کے رضا کار ادارے کی طرف سے خرم آباد بھیجا گیا ہے۔ میری بھی اُسی وقت منگنی ہوئی تھی اور میں آبادان چلا گیا تھا  اور اُسی زمانے میں جنگ بھی شروع ہوئی۔ محسن نے مجھ سے کہا کہ جب تم آبادان جانا، میں جو خرم آباد میں ہوتا ہوں گزرتے ہوئے مجھ سے بھی مل لینا۔ میں نے پوچھا: تم وہاں کیا کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں علاقے کی صفائی کرنے والے اسٹاف میں کام  کر رہا ہوں۔ ستمبر سن ۱۹۸۰ کا زمانہ تھا، جس وقت میں آبادان کی طرف جا رہا تھا، میں خرم آباد بھی گیا۔ وہ نہیں تھے۔ بتایا گیا: انھیں فوری طور پر تہران بلالیا گیا۔ میں آبادان چلا گیا۔ تقریباً دس دنوں تک وہاں رہا۔ میری والدہ اور دوسرے افراد بھی میرے ساتھ تھےاور مجھے مجبورا واپس آنا پڑا۔ یہ قصہ رہنے دیں کہ ہم کتنی سختیوں سے واپس آئے۔ پٹرول نہیں تھا، رش تھا اور ۔۔۔

میں خرم آباد گیا اور محسن کے بارے میں پوچھا۔ ہمیں ایسے محلے میں لے گئے جہاں بالکل سکوت طاری تھا۔ وہاں محسن کے نام  پر ہماری بہت خاطر مدارات کی گئیں۔ اُن کے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا اُن سے کیا رشتہ ہے؟ میں نے کہا کہ ہم بہت گہرے دوست ہیں۔ اُس شخص نے کہا: یہاں محسن کے سر پر انعام رکھا گیا ہے! میں نے پوچھا: کس لئے؟ بتایا گیا: یہاں کے خان ایسے ہیں کہ جس عورت اور لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ دیں وہ اُن کی ہوجاتی ہے اور ایک طرف سے کہا: یہاں جتنے بھی انقلاب مخالف اور وڈیرے وغیرہ ہیں وہ عوام کے خون کو چوس رہے ہیں اور محسن نے کہا ہے کہ میں یہاں ان لوگوں سے مقابلہ کرنے آیا ہوں۔ اُنھی خانوں نے اُن  کا سر لانے کیلئے انعام رکھا ہو اتھا۔ وہ اپنے عقائد کے دائرہ کار میں اس طرح مقابلہ کر رہے تھے۔ میں کلی طور پر ایک ہنس مکھ آدمی ہوں؛ میں نے اُن سے کہا: محسن تم کیوں اتنے احمق ہو؟!میں نے اُن سے پوچھا: تمہیں اُن لوگوں سے کیا ربط؟ وہ جواب دیتے کہ ایک شخص کو ان لوگوں کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے اور وہ ایک شخص میں ہوں۔ اُس دن جب میں جا رہا تھا، جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔ محسن کو جنگی پیش بینیوں کیلئے بلا لیا گیا تھا اور دلچسپ  بات تھی کہ وہ کمسنی کے باوجوداُس معاشرے میں بہت کام والے تھے۔ میں اتنی آسانی سے محسن سے نہیں مل پاتا تھا لیکن وہ جب بھی چھٹی پر آتے، مجھ سے ملنے کیلئے آتے تھے۔ ایک دن وہ ایک جیپ پر آئے۔ امریکی جیب تھی جس کے چاروں طرف سوراخ ہی سوراخ تھے۔ میں نے پوچھا؛ تمہاری گاڑی پر کیوں اتنے سوراخ سوراخ ہیں؟ انھوں نے کہا: منافقین نے سڑک پر مجھ پر حملہ کردیا تھا اور ہم خوش قسمتی سے فرار کرنے میں کامیاب ہوگئے اور میں نے اپنا وہی برا جملا اُس سے کہا۔ (تم کیوں اتنے احمق ہو!) میں انھیں اوپر لے گیا اور وہ ایک دو گھنٹے تک میرے پاس رہے اور ہم نے ہر چیز کے بارے میں گفتگو کی؛ بہت عرصے پہلے کی بات ہے، مجھے اپنے درمیان ہونے والے گفتگو  یاد نہیں آرہی۔ وہ میرے پاس آتے اور ہم ایک ساتھ باہر جاتے۔ اُس کے پاس انھیں اسلحہ دیدیا گیا تھا  جسے وہ کمر پر باندھتے تھے۔ میں کبھی اُن کے اسلحہ کو لے لیتا۔ وہ کہتے: داؤد مذاق نہیں کرو، اس کی ذمہ داری ہے۔ تم کچھ بھی کرسکتے ہو اور ممکن ہے کہ تم ہوائی یا دوبدو فائر کر دو۔ اسی لیے وہ مجھے اسلحہ اُس کی گولیاں نکال کر  دیتے۔ (ہنستے ہوئے)

انقلاب کے زمانے میں ہم جوان تھے۔ جس زمانے میں سپاہ چوک کہ جو اُس زمانے میں عشرت آباد  چوک کے نام سے مشہور تھا، پر حملہ کیا اور ہم نے بہت سے اسلحوں کو دیکھا تھا، لیکن پھر بھی ایک جستجو تو ہوتی ہے۔ انھوں نے عشرت آباد چھاؤنی میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ میرے خیال سے ۸ فروری کو میری پھپھو کا  انتقال ہوا تھا اور میں گاؤں چلا گیا، البتہ میں انقلاب کی وجہ سے جلدی واپس آگیا تھا لیکن ۲۱ فروری  والے دن نہیں تھا۔ جیسا کہ عشرت آباد چھاؤنی ہمارے گھر کے نزدیک تھی، محسن نے وہاں بھی اپنی خاص کارکردگی انجام دی اور اُن کا وہاں پر نڈر ہونا بھی خاص تھا۔ جنگی اور دوسرے مسائل  کی وجہ سے وہ جب بھی چھٹی پر آتے، ہم سے بھی ملنے آتے۔  ہم ایک ہی سن و سال کے دس سے پندرہ لوگ تھے جنھوں نے جوانی کا زمانہ خوشحالی سے گزارا، لیکن اُس زمانے میں ان کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں۔ ایک دن ہمیں اطلاع ملی کہ محسن شہید ہو گئے ہیں۔ ہم نے چھان بین کی اور ہمیں پتہ چلا کہ الحمد اللہ وہ فرار کر گئے ہیں اور ہسپتال میں ہیں۔ میرے خیال سے فاطمی چوک پر واقع سجاد ہسپتال میں تھے ۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ وہ شروع میں بات نہیں  کر پارہے تھے کچھ وقت گزرا، چونکہ اُن کا جبڑا ٹوٹ گیا تھا۔ جب عراقی ٹینک سے اُن کا سامنا ہوا، انھیں ایک پتھر ملا وہ صرف اپنے آپ کو چھپا سکے۔ انھوں نے کہا کہ میں لیٹ گیا اور میں نے اپنے ہاتھ سر پر رکھ لئے۔ اُنھیں ٹینک کے گولے سے مارا تھا، توپ سے نہیں۔ ٹینکوں کے اوپر ایسی سٹین گنیں لگی ہوتی ہیں کہ اگر اُن کی گولی ایک گاڑی پر لگ جائے تو اسے نابود کردیتی ہے۔ انھوں نے کہا: میں لیٹ گیا اور جب گولی آئی، وہ میرے ہاتھ اور جبڑے کی نچلی ہڈی کو اکھاڑ کر لے گئی۔ میں گر پڑا اور سب یہی سوچ رہے تھے کہ میں شہید ہوگیا ہوں۔ افراد آئے اور میرے پیروں کو کھینچتے ہوئے مجھے لے گئے۔ انھوں نے کہا: سب کہہ رہے تھے میں شہید ہوگیا ہوں اور میری تصویریں بنا رہے تھے۔ اُن کے پاس وہ تصویریں تھیں، انھوں نے مجھے دیں، مجھے نہیں معلوم کہ میں نے اُن تصویریں کا کیا کیا۔ انھوں نے کہا کچھ وقت گزرنے کے بعد مجھے ہسپتال لے گئے۔ میرے خیال سے اُن کے ران کے گوشت، جلد اور ہڈی سے اُن کے جبڑے کیلئے استفادہ  کیا گیا  تھا ، اسی وجہ سے وہ بالکل بھی بات نہیں کر پا رہے تھے۔ انھیں ہسپتال سے گھر لے آئے اور میں دن کے کسی وقت اُن سے ملنے جاتا۔ میں صبح  اور شام دو شفٹوں میں کام کرتا تھا۔ جب میری رات کی شفٹ ہوتی تھی، میں دن میں محسن سے ملنے چلا جاتا۔

ایک دن میں نے اُن کی والدہ کو سلام کیا اُن سے خیریت دریافت کی اور پوچھا: محسن ہیں؟ انھوں نے کہا: سو رہا ہے، لیکن انھوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر چابی نکالی اور مجھے دیتے ہوئے کہا: اوپر چلے جاؤ۔ اُن کا گھر دو منزلہ تھا۔ میں آرام سے گیا ، دروازہ کھولا۔ اُن کی والدہ خریداری کرنے جا رہی تھیں۔ میں اُن کے سرہانے گیا اور اُن کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔ وہ نیند سے اٹھ گئے۔ اُن کے نعرے کو اُسی زمانے میں دیوار پر لکھ دیا تھا کہ انھوں نے کہا تھا: "میں جتنا زیادہ درد برداشت کرتا ہوں، خدا سے اتنا زیادہ قریب ہوتا ہوں۔"انھیں درد کم کرنے کیلئے مورفین دی تھی۔ انھیں بہت درد ہوتا تھا۔ آپ فرض کریں کہ ہڈی ٹوٹ جائے اور کسی اور حصے کی ہڈی لے جاکر وہاں پیوند لگادیں ۔۔۔ اُس نے ایسے درد اٹھائے کہ جب تک آپ کو وہ درد سہنے نہ پڑے آپ اس کو درک نہیں کرسکتے۔ وہ اتنے مغرور تھے کہ جب میں پہنچا، گھر کے ڈرائنگ روم میں اُن کے سامنے ایک پھلوں کی ٹرے تھی، میں اُن کے منہ میں انگور ڈالنا چاہ رہا تھا لیکن وہ نہیں مانے۔ باتیں نہیں کر رہے تھے، لیکن اُن کا مطلب یہ تھا کہ اس کو میں خود کھا لوں۔ وہ بہت دھیمے دھیمے بات کر رہے تھے، میں نے اُن کی بات کو سمجھنے کیلئے اپنے کانوں کو اُن کے منہ کے نزدیک کیا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے اُن سے کہا جب بھی درد ہو، تمہیں مورفین کا انجکشن لگا لینا چاہیے۔ وہ درد کی شدت سے  اپنے گھر کے ہال میں صبح سے شام تک  ٹہلتے رہتے، لیکن مورفین کا انجکشن نہیں لگاتے تھے اور یہ اُن کے غرور کا ایک نمونہ ہے۔ میں اُن سے پوچھتا کہ آپ کیوں یہ کام کر رہے ہیں؟ وہ کہتے: اگر میں اتنے زیادہ مورفین کے انجکشن لگاؤں  گا تو نشہ ای  ہوجاؤں گا، میرا درد تھوڑی کم ہوجائے گا، پھر وہی داستانیں ہیں ۔۔۔ وہ گلے کے آخر سے نکلتی آواز کے ساتھ مجھے اپنے آپریشن کے بارے میں بتاتے۔ ہڈی کو کہاں سے نکالا گیا اور کہاں پیوند لگایا گیا ہے اور اسی طرح اپنے ہاتھ کے  بارے میں کہ اُس کی کھال اور گوشت بالکل ختم ہوگئی اور ہاتھ ٹوٹ گیا، اُس پر پلاسٹر چڑھایا ہوا تھا۔

علاج معالجہ میں کچھ وقت لگا۔ میرے پاس ایک پیکان کار تھی۔ ہم لوگ ایک دفعہ اُسی ٹوٹے ہاتھ کے ساتھ باہر گئے۔ اُس گاڑی میں تقریباً سات یا آٹھ لوگ بیٹھے۔ محسن نے کہا کہ گاڑی میں چلاؤں گا اور یہ بھی اُس کی اکڑ کا نتیجہ تھا جو اس میں تھی۔ ہم ملت پارک گئے۔ ہم کھانے کے کسی ریسٹورنٹ کی تلاش میں تھے۔ ہم نے جاکر ایک ساتھ کھانا کھایا۔ انھوں نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے کچھ دنوں بعد مجھ سے کہا میں جنگی علاقے میں جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: اس درد اور ایسی صورت حال کے ساتھ جو تمہاری ہو رہی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہمارا وہاں جانا ہماری ذمہ داری ہے۔ وہ چلنے سے اور اپنی تکلیف پر غلبہ پاکر دوبارہ جنگی علاقے میں جانے پر کامیاب ہوئے۔ میں نے اُن سے بہت سی باتیں کی اور کہا: اچھا تمہیں جو پیوند لگا اُسے تو ٹھیک ہونے دو ، پھر چلے جانا، انھوں نے جواب میں کہا میں کم ازکم فکری مدد تو کرسکتا ہوں، مجھے علاقے میں موجود ہونا چاہیے۔ وہ چلے گئے اور ایک دن ہم نے سنا کہ وہ شہید ہوگئے ، اُن کے جنازے کو لایا گیا۔ جب وہ بہشت زہرا پہنچے، میں نے اُن کے تابوت کے دروازے کو کھولا۔ تابوت پر کیلیں لگی ہوئی تھیں اور میں اتنا افسردہ اور پریشان تھا کہ میں نے اُسے ہاتھ سے کھولنے کیلئے ناخن گھسا دیئے۔میں ایمبولنس میں اُن کے پاس بیٹھنا چاہتا تھا کہ مجھے روک لیا اور اجازت نہیں دی۔ اُن کے بھائی نے اُن سے کہا: یہ اُن کی نوجوانی سے اُن کا دوست ہے، ان سے کوئی سروکار نہیں رکھیں۔ میں ایمبولنس میں اُن کے پاس بیٹھا گیا۔ کچھ اور چاہنے والے بھی آگئے۔ بڑی گاڑی تھی۔ میں نے جب جنازے کو دیکھا، میں یہ دیکھ رہا تھا کہ اس جنازے پر کہاں گولی لگی ہے؟ وہ کیسے شہید ہوا ہے؟ ایک ساتھی نے بتایا کہ بازی دراز کی پہاڑیوں پر دھماکے کی لہر سے اُن کی شہادت ہوئی ہے۔ انھوں نے دوبارہ اپنے اندر موجود جرات کا اظہار کرتے ہوئے جبکہ وہ جانتے تھے کہ سامنے سے عراق گولے برسا رہا ہے، وہ اور کچھ لوگ آگے گئے اور پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے تھے۔ وہ ہمیشہ علاقے کی معلومات حاصل کرنے کیلئے آگے جاتے۔ اُن کی انہی جرات اور ایثار کی وجہ سے ہم نے انھیں کھو دیا۔ نوجوانی میں ہمارے ساتھ ایسا ہوا کہ ہم نماز نہ پڑھیں، روزہ نہ رکھیں، لیکن اگر فوٹبال میچ کے دوران بھی اذان کا وقت ہوجاتا، وہ غائب ہوجاتے اور جاکر نماز پڑھتے۔"

 

بھائی کے واقعات

محسن وزوائی کے بھائی عبد الرضا وزوائی، وہ سن ۱۹۷۰ میں پیدا ہوئے۔ وہ محسن سے دس سال چھوٹے ہیں۔ سن و سال کا یہ فرق ان دونوں کے ایک دوسرے سے دور ہونے کا باعث نہیں تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت نزدیک تھے اور عبد الرضا کو محسن کے بہت سے واقعات یاد ہیں۔ عبد الرضا اپنے دوسرے آٹھ بہن بھائیوں کی طرح پڑھنے والے ہیں اور انھوں نے محسن کی طرح کیمسٹری کے شعبے میں تعلیم حاصل کی ہے۔ اُن کی عمر اس وقت پچاس سال کے قریب ہے انھوں نے کیمسٹری میں PHD کرنے کے علاوہ  وکالت میں بھی PHD کی ہے۔ عبد الرضا وزوائی نے کہا: "محسن کا رویہ بہت اچھا اور دلچسپ تھا، یعنی اُن کے وجود میں ایک ایسی خوشبو تھی جو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ میرے والدین کے دو سال  کے فاصلے سے چھ فرزند تھے کہ جن میں سے آخری محسن تھے، اُس کے بعد اُن کے ہاں تقریباً آٹھ سال تک  کسی کی ولادت نہیں ہوئی پھر اُن کے ہاں تین اور فرزندوں  کی ولادت ہوئی؛ ایک میری بڑی بہن جو مجھ سے دو سال بڑی ہیں، اُس کے بعد میں پیدا ہوا اور میرے بعد بھی محمود جو مجھ سے دو سال چھوٹا ہے۔ ہم تینوں کو دوسری نسل کہا جاتا ہے۔ محسن اور میری عمر میں دس سال کا فاصلہ تھا، لیکن یہ فاصلہ ہمارے لیے دلچسپ اور اچھا تھا،  ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ جب وہ فوٹبال کھیلتے تھے، مجھے بھی زبردستی کھیل  میں شامل کرلیتے۔ جب وہ سوئمنگ پول جاتے تو وہاں بھی ایسا ہی کرتے۔ یہاں تک کہ ہم انقلاب کے زمانے میں پہنچتے ہیں۔ محسن نے تقریباً ستمبر ۱۹۷۸ سے زیادہ ترقی کی ہے۔ اُن سے پہلے محبوبہ اور حمید، میرے بہن اور بھائی، جولائی کے مہینے میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے امریکا چلے گئے تھے اور اُن کے بعد محسن کا جانا بھی طے تھا۔ محسن کا صنعتی شریف یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا تھا اور ستمبر کے مہینے سے انقلاب کی تحریک نے زور پکڑنا شروع کیا۔ محسن نے ابھی اپنے جانے کا پروگرام سو فیصد طور پر کینسل نہیں کیا تھااور وہ انقلاب کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے تھے۔ کچھ مہینے بعد انھوں نے اپنے جانے کا پروگرام ہی کینسل کر دیا۔ محسن نے اپنے سن و سال کی نسبت زیادہ رشد کیا۔ وہ اُس زمانے میں ۱۸ سال کے تھے اور میں تیسری کلاس میں پڑھتا تھا۔ ہم اسکول میں نعرے بازی کا پروگرام کرتے۔ ہم شاہ کے خلاف نعرے لگانے کیلئے بچوں کو جمع کرلیتے۔ محسن بھی انقلاب سے متعلق یونیورسٹی کے اندر اور یونیورسٹی کے باہر پروگرام منعقد کرتے تھے۔ جب انقلاب کے زمانے میں حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ لوگوں کا خون بہنے لگا، محسن مجھے اپنے ساتھ نہیں لے جاتے، چونکہ وہ خطرے کی جگہ پر ہوتے تھے اور میں بھی چھوٹا تھا۔

۲۸ جنوری ۱۹۷۹ کا دن تھا۔ میرے بہت زیادہ ضد کرنے کی وجہ سے محسن مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ ہم تہران یونیورسٹی گئے تھے۔ مختلف گروپس آئے ہوئے تھے اور بہت ہی زبردست مظاہرے ہو رہے تھے۔ امام خمینی کا ایران آنا طے تھا۔ اسی اثناء میں ہمیں اطلاع ملی آج کی شاہراہ انقلاب  کی طرف سے ، فوجی گاڑیاں مہر آباد ایئرپورٹ کی طرف جا رہی ہیں تاکہ اُس علاقے کو بند کردیں اور امام کے جہاز کو اترنے کی اجازت نہ دیں۔ محسن نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم شاہراہ انقلاب کی طرف گئے۔ سڑک کے دونوں طرف عوام کھڑی ہوئی تھی۔ فوج کی وائرلیس گاڑیاں، جس کے دونوں طرف ہاتھوں میں  اسلحہ پکڑے فوجی بیٹھے ہوئے  تھے ایئرپورٹ کی طرف جا رہی تھیں۔ لوگ نعرے لگا رہے تھے، بعض فوجی ہاتھ ہلا رہے تھے اور کچھ فوجی کچھ بھی نہیں کر رہے تھے۔ اچانک ایک گاڑی آئی اور اس میں سے ایک شخص نے سر باہر نکال کر کہا ہمارے پیچھے گارڈز ہیں اور وہ مارنا چاہتے ہیں۔ اُس نے جیسے ہی یہ بات کی تو میں نے دیکھا کہ محسن کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا۔ بیس سے تیس سیکنڈ نہیں گزرے ہوں گے  فائرنگ کی آواز آنے لگی۔ میں نے دیکھا اُن ہی گارڈز میں سے ایک شخص نے جی تھری بندوق سے میری  طرف فائر کیا۔ اُسی لمحے محسن نے مجھے گرایا اور خود میرے اوپر گر گئے۔ یہ تمام واقعات چند سیکنڈوں میں رونما ہوئے؛ اس طرح سے کہ مجھے اپنے کان کے پاس سے گولی گزرنے کا بھرپور احساس ہوا۔ عوام میں بھگدڑ  مچ گئی۔ محسن کچھ دیر تک میرے اوپر گرے رہے۔ سڑک کے کنارے باغیچہ میں  پودے لگانے کیلئے  گڑھے کھودے گئے تھے جس کی لمبائی ایک میٹر اور چوڑائی شاید ۷۰ سینٹی میٹر کی تھی۔ محسن نے پلک جھپکنے میں مجھے ایک گڑھے میں ڈال دیا اور خود بھی کسی ایک گڑھے میں جھک گئے۔ فائرنگ اور آہ و بکا کی آواز ابھی تک زیادہ تھی۔ کچھ لوگ شہید اور کچھ لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اُسی وقت کسی کمپنی یا دفتر کا دروازہ کھولا تاکہ لوگ اندر جاکر اُس میں پناہ لے لیں۔ محسن نے جلدی سے مجھے اٹھایا اور اس عمارت کے اندر لے گئے۔ مجھ سے کہا جب تک میں نہ آجاؤں یہاں سے ہلنا نہیں۔ میں ایک کمرے میں تھا۔ میں آٹھ سالہ بچہ تھا اوریہ فائرنگ اور خون بہنا وغیرہ میرے لئے نئی بات تھی۔ میرے اور محسن کے اندر شدید محبت تھی۔ جب وہ مجھ پر گرے ہوئے تھے اُس وقت اُن کے وجود کی گرمی نے مجھے اطراف میں ہونے والے واقعات کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیا۔ میرے اندر کسی ڈر اور خوف کا احساس پیدا نہیں ہوا تھا۔ میں اُسے کمرے میں ٹھہرا رہا اور محسن تقریباً چالیس منٹ بعد واپس آئے۔ فائرنگ رک گئی تھی۔ اُن کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا: ہم نے زخمیوں کو ایمبولنس اور ہسپتال تک پہنچا دیا ہے۔ تقریباً تین بجے کا وقت تھا۔ طے پایا کہ ہم اپنی والدہ کو کچھ نہیں بتائیں گے کہ کہیں پریشان نہ ہوجائیں اور میں نے بھی کچھ نہیں بتایا۔"

عبد الرضا وزائی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "۱۱ فروری [۱۹۷۹] کے قریب کے دنوں میں محسن کے پاس بالکل فرصت نہیں تھی۔ وہ ۸ فروری سے تین دنوں تک نہیں تھے۔ ہم لوگ پریشان تھے۔ جمشیدیہ چھاؤنی پر قبضہ کرنے والی بحث میں ملوث تھے۔ اُس چھاؤنی پر قبضہ کرنے میں وحید قادری محسن کے ساتھ تھے کہ طے پایا ہے کہ وہ ایک دن آکر گفتگو کریں۔ ۱۱ فروری کو مغرب کے وقت محسن بہت سارا اسلحہ لیکر گھر میں آئے۔ انھوں نے وہ اسلحہ چھاؤنی سے لیا تھا۔ یہ واقعہ گزرا یہاں تک کہ ہم جاسوسی کے اڈے (امریکی سفارتخانہ)کی تسخیر تک پہنچے۔ جس دن سے تسخیر کی باتیں شروع ہوئیں، ہمیں نہیں معلوم تھا اور وہاں کی معلومات کی سیکیورٹی اور امن  کی وجہ سے ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ انھوں نے دو دن بعد گھر فون کرکے قضیے کے بارے میں بتایا۔ بہت زیادہ جوش و ولولہ تھا۔ روزانہ مختلف گروپس جاسوسی کے اڈے کے سامنے جاتے  اور امام خمینی کے فداکار طالب علموں کی حمایت سے وہاں مظاہرے کرتے۔ میرا بھی ہفتے کے پانچ یا چھ دنوں میں یہ کام تھا کہ میں اسکول سے آتا، دوپہر کا کھانا کھاتا، جلدی جلدی اسکول کا کام کرتا اور اپنے گھر سے جو شاہراہ تخت طاووس [اس وقت: شاہراہ استاد مطہری] پر تھا، پیدل جاسوسی کے اڈے کی طرف جاتا۔ وہاں کبھی کبھار مجھے محسن نظر آجاتے تو میں انھیں ہاتھ ہلا دیتا۔ محسن کہتے کہ اُسے اندر آنے دو ، خلاصہ یہ کہ ہماری اُن کے ساتھ بہت اچھی گزرتی۔ میری والدہ کا ایک کام یہ تھا کہ وہ ہفتے میں چند مرتبہ کھانے میں آلو کے کباب بناتیں اور میں اُنہیں پتیلی میں رکھ کر لے جاتا اور اُن سے پچھلے دن کا برتن لے لیتا۔ محسن ہمارے والدین کی نسبت بہت مہربان تھے اور وہ اُن کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے، اس طرح سے کہ وہ کبھی بھی والدین سے آگے نہیں چلتے تھے۔ ہماری والدہ بہت مہربان، شوخ مزاج اور محبت والی تھیں، لیکن ایک طرح سے بہت راز تھیں۔ بہت سی باتوں کو انھوں نے محسن کی شہادت کے بعد بیان کیا  ہے۔ انھوں نے میری بہن محبوبہ کو جو خط امریکا بھیجے تھے، انھوں نے اپنے دل کے راز اُن سے بیان کئے تھے؛ مثلاً جس وقت محسن اپنی والدہ کے ساتھ باہر جاتے، اُن کا بہت زیادہ احترام کرتے، اُن کے آگے نہیں چلتے ، حتی میری والدہ کیلئے گاڑی کا دروازہ کھولتے۔ تشییع جنازہ کے وقت اس طرح ہوتا ہے کہ مرد حضرات جنازے کو ہاتھوں پر اٹھاتے ہیں اور خواتین مردوں کے پیچھے چلتی ہیں، لیکن محسن کی تشییع جنازہ میں دیکھا گیا کہ میری والدہ جنازے کے آگے چل رہی ہیں۔ ہمارے کچھ رشتہ داروں نے آکر کہا: محترمہ آپ پیچھے کیوں نہیں چلی جاتیں؟ میری والدہ نے کہا میں یہی پر چلنا چاہتی ہوں۔ جب اصرار کرنے لگے، میری والدہ نے کہا کہ محسن کو اپنی زندگی میں میرے پیچھے چلنا پسند تھا، مجھے پتہ ہے وہ اس وقت بھی میرے پیچھے چلنا چاہتا ہے۔ ایک دفعہ بازی دراز کی پہاڑی پرہونے والے دوسرے آپریشن کے پہلے دن، ۲۱ اپریل ۱۹۸۱ کو محسن کے گلے پر دو گولیاں لگیں۔ ایک گولی اُن کی شہ رگ کے پاس سے گزری اور دوسری کندھے کے اندر گھس گئی تھی کہ جب ہم ہاتھ لگاتے تھے تو ہمیں گولی کا احساس ہوتا تھا اور اُن کی شہادت کے وقت تک اُسے نکالا نہیں گیا تھا۔ خون بہتی حالتی میں اُن کی گردن پر پٹی باندھ دی گئی تھی تاکہ وہ آپریشن میں شرکت کرسکیں اور دوسری طرف سے جیسا کہ وہ وہاں کے کمانڈر تھے، اگر وہ پیچھے آجاتے تو فتح کا امکان بہت کم  ہوجاتا۔ اُن کے پیچھے جانے کیلئے لوگوں نے بہت اصرار کیا تھا لیکن وہ نہیں مانے تھے۔ وہ اُسی حالت میں تقریباً چار سے پانچ دنوں تک بازی دراز کی پہاڑیوں پر لڑتے رہے تھے اور آخر میں اُن پر غشی طاری ہوگئی تھی کہ پھر وہ واپس آئے اور آہستہ آہستہ اُن کی حالت بہتر ہوگئی۔ ۴ سمتبر ۱۹۸۱ء والے دن دوسرے آپریشن میں بھی اُن کو ٹینک کا گولہ لگا تھا۔ اتنی شدت سے لگا تھا کہ سب سمجھ رہے تھے کہ وہ شہید ہوجائیں گے، حتی شہادت سے قبل آخری لمحات کے عنوان سے اُن کی تصویر بھی  لے لی گئی تھی۔ وہ زندہ رہے۔ بہت بری حالت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اُن کی حالت میں کچھ بہتری آئی۔"

یادوں بھری رات کے ۳۰۱ ویں پروگرام میں دوسرے راوی نے اپنی بات جاری رکھی: "ہمارے ایک رشتہ دار جو اس وقت مرحوم ہوچکے ہیں، وہ انقلاب کے مخالف تھے، وہ محسن کو بہت پسند کرتے تھے۔ وہ خود بھی علمی اور میڈیکل حلقوں میں بہت مشہور تھے۔ وہ یورپ کے کسی ملک میں کسی با اعتبار میڈیکل سنٹر کے انچارج تھے۔ جب سے انقلاب آیا، وہ جب بھی ایران آتے، محسن سے یہی کہتے تم پر افسوس ہے، تمہیں حتماً ملک سے باہر جانا چاہیے، اگر تم یہاں رہے، تمہاری ذہانت اور صلاحیت ضائع ہوجائے گی اور محسن اپنے اُسی شوخ مزاجی  کے ساتھ ہنستے ہوئے انھیں جواب دیتا؛ انھوں نے اُس سے اپنے رابطہ کو اچھی طرح سے  برقرار رکھا ہوا تھا۔ ایک دفعہ اطلاع دی گئی کہ محسن بہت شدید زخمی ہوگیا ہے اور اُس کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں ہے۔ وہ شخص جو ہمارا رشتہ دار تھے، وہ فوراً ایران واپس آئے تھے۔ محسن سجاد ہسپتال میں ایڈمٹ تھے اور کچھ عرصے بعد اُن کی حالت تھوڑی بہتر ہوچکی تھی۔ کھانا نہیں کھاسکتے تھے، انھیں صرف ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ اُن کی حالت بہتر ہونے کے بعد، وہ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے ضروریات کو لکھ سکتے تھے۔ اسی اثناء میں یہ شخص محسن سے ملنے آئے اور جیسا کہ انھیں محسن کو اس حالت میں دیکھنے کی بالکل توقع نہیں تھی۔ محسن بہت لاغر ہوچکے تھے، سر گنجا تھا اور حالت بہت خراب ہوچکی تھی۔ اُس  شخص کی اچانک محسن سے محبت  اور انقلاب سے مخالفت رکھنے کی  وجہ سے حالت خراب ہوگئی اور انھوں نے کہا: محسن دیکھو یہ تم نے کیا کرلیا؟ یہ کیا حالت بنائی ہے؟ اس وقت کون آکر تمہاری حالت کو بہتر بنائے گا؟ میں نے تم سے کتنا کہا تھا کہ انقلاب کے معاملے میں نہیں پڑو؟ محسن بھی دیکھ رہے تھے اور صرف اُن کی  آنکھیں ہل رہی تھیں۔ انھوں نے مجھے اشارہ کیا، میں سمجھ گیا کہ وہ کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ میں کاغذ لایا اور اُنھوں نے بڑی مشکل سے لکھا کہ "چاہے ہم قتل کریں یا ہم قتل کردیئے جائیں، ہم کامیاب ہیں، کیونکہ دونوں صورتوں میں ہم نے اپنے وظیفے کو انجام دیا ہے۔" پھر مجھے اشارہ کیا کہ میں اُس کاغذ کو اُن کے سرہانے چپکا دوں اور اپنی آنکھوں سے اُس بندہ خدا کی طرف اشارہ کیا کہ اُس کو پڑھے۔ انھوں نے جب اُس تحریر کو پڑھا، وہ منقلب ہوگئے اور محسن سے کہا: تمہارے اندر کون سی روح آگئی ہے؟میں تمہاری عظمت کا قائل ہوگیا ہوں۔ کچھ عرصے بعد محسن ٹھیک ہوگئے تھے۔ وہ اُسی حالت میں دسمبر ۱۹۸۱ء میں مطلع الفجر آپریشن کیلئے گئے۔ فتح المبین آپریشن کیلئے بھی جانا چاہتے تھے جو مارچ ۱۹۸۲ء  میں ہوا تھا۔ میری والدہ محسن کے جانے پر کبھی رکاوٹ نہیں بنیں لیکن انھوں نے اُس دن اُن کے نہ جانے پر بہت اصرار کیا۔ وہ کہہ رہی تھیں: تم نے تو اپنا وظیفہ ادا کردیا ہے، تمہاری گردن پر اب کوئی قرض نہیں ہے۔ خدمت صرف محاذ پر تھوڑی ہوتی ہے، یہیں رہ کر خدمت انجام دو۔ تم زخمی ہوگئے ہو اور کسی کو تم سے توقع نہیں ہے۔ محسن نے کہا: امی جان آپ مجھ سے یہ بات نہ کریں۔ میں نے خدا سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک جنگ  ہوتی رہے گی میں محاذ پر رہوں گا۔ اگر جنگ ختم ہوگئی اور میں شہید نہیں ہوا، انشاء اللہ میں دوسرے مورچے میں چلا جاؤں گا۔ ماں نے کہا: تم تو اپنے ہاتھوں سے اسلحہ بھی نہیں اٹھا سکتے، تم میں بالکل بھی طاقت نہیں ہے۔ تمہارے ہاتھ کی فزیوتھراپی ہونی چاہیے۔ تم کس طرح جانا چاہتے ہو؟ محسن نے کہا: میں ریوالور کو بائیں ہاتھ سے پکڑ سکتا ہوں۔ والدہ کہتیں: اُس زمانے میں طے تھا وہ بریگیڈ کمانڈر کی حیثیت سے جائے اور اپنے ساتھ بہت سے فوجی لے  جائے۔ ماں نے کہا: تم تو کربلا کے اتنے عاشق ہو کہ اگر تم محاذ پر جاکر شہید ہوگئے تو پھر تم کربلا کو نہیں دیکھ سکو گے۔ محسن نے کہا: امی جان! ہمیں کربلا خود اپنے لئے نہیں چاہئیے، ہمیں کربلا بعد والی نسلوں کیلئے چاہئیے۔

یہاں تک کی ساری باتیں ہم خود جانتے تھے، لیکن ابھی حال ہی میں ایک خط ملا ہے جو میری بہن محبوبہ کے پاس رکھا ہوا تھا۔ اُس نے اُس خط کو اپنے خزانہ میں تیس سال  سے زیادہ عرصے سے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ میری والدہ نے اُس خط میں ایسی باتیں لکھی ہیں کہ جتنا ہم اُن کے بارے میں جانتے ہیں، ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ انھوں نے ایسی حالت میں ایسی باتیں کی ہوں۔ شاید اُسی دن جس دن اُن کی باتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور وہ محسن کو روکنے کیلئے راضی نہیں کرسکیں، انھوں نے خط میں لکھا میں نے آقا جان (محسن کے والد)  کو ایک گوشہ میں بلایا اور کہا: جس طرح بھی ہو آپ محسن کو جانے نہ دیں۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ محسن شہید ہونے جا رہا ہے۔ میں محسن کی دوری برداشت نہیں کرسکتی۔ آقا جان نے میری والدہ سے کہا: یہ وہ راستہ ہے جو اُس نے خود انتخاب کیا ہے اور ہمیں بھی صبر کرنا چاہیے۔ اُس کے بعد میری و الدہ جو بہت صابر اور محسن کے لئے حساس تھیں اور محسن کے جانے پر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی تھیں، انھوں نے آقا جان سے کہا: اگر آپ نے محسن کو جانے دیا تو پھر میں آپ سے پوچھوں گی۔ انھوں نے اُسی خط میں  لکھا ایک گھنٹے بعد جاکر میں نے اپنے خدا سے راز و نیاز کیا  اور کہا کہ مجھے چھوڑ دینا چاہیے۔ میں نے  آکر محسن سے کہا: جاؤ خدا تمہارا حامی و ناصر۔ محسن گئے اور شہید ہوگئے اور میری ماں کے دل کو قرار آگیا اور وہ صبر کرگئیں۔ شہادت کی خبر جمعہ والے دن ۳۰ اپریل[ ۱۹۸۲ء] کو ملی۔ ظہر کا وقت تھا اور ہم گھر میں تھے۔ دو لوگ آئے اور آقا جان سے ملنے اوپر والے فلور پر گئے۔ پہلے انھوں نے بتایا کہ وہ زخمی ہوگئے ہیں۔ بعد میں ہم اُن کی باتوں سے سمجھ گئے کہ وہ شہید ہوگئے ہیں کیونکہ وہ کہہ رہے تھے کہ ۹۰ فیصد شہادت کا امکان ہے۔ آقا جان نے آکر سب بہنوں اور بھائیوں کو بتادیا لیکن سب کہہ رہے تھے کہ والدہ کو کون بتائے؟ اُنھیں کس طرح بتائیں؟ جمعہ کی رات کو، اس بات کے مورد نظر کہ پانچ یا دس فیصد امکان موجود ہے کہ وہ شہید نہیں ہوئے ہوں، سارے رشتہ تقریباً ساٹھ سے ستر افراد، ہمارے گھر میں جمع ہوئے۔ ہمارے گھر میں دعائے توسل، مصائب اور گریہ شروع ہوا۔ رات کو تقریباً گیارہ ، بارہ بجے تک گھر میں دعائے توسل ہوتی رہی۔ اگلے دن ظہر کے وقت، یکم مئی والے دن اُن کی شہادت کی حتمی خبر آگئی اور بتایا گیا کہ محسن کا جنازہ معراج شہداء کی طرف آرہا ہے۔ آقا جان میرے بھائی رضا اور اگر میں بھولوں نہیں تو علی کے ساتھ جانا چاہتے تھے۔ خواتین کو جانے کی اجازت نہیں ملی۔ میں جانا چاہتا تھا کہ کہا گیا بچوں کو ساتھ نہ لے جائیں، لیکن میں نے اتنی ضد کی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ معراج شہداء میں ہم اُن کے تابوت کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ہر شہید کا نام اُس کے تابوت پر لکھا ہوا تھا۔ میں بچہ تھا اور مجھے فطری طور پر مردے سے ڈرنا چاہیے تھا، لیکن جب میں نے اپنے بھائی  کو دیکھا، مجھے بالکل بھی ڈر نہیں لگا۔ اُن کا چہرہ خوبصورت تھا اور اُن کے چہرے پر خاص سکون تھا۔ میں کچھ منٹوں کیلئے اُن کے پاس گیا اُن سے دل کی باتیں کی اور پرسکون ہوگیا۔"

عبد الرضا وزوائی نے آخر میں کہا: "مارچ سن ۱۹۸۲ء اور فتح المبین آپریشن کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ دفاع مقدس کے آٹھ سالوں میں واحد وہ آپریشن جو عید کی پہلی کو انجام پایا اور بہت کامیابی نصیب ہوئی، جس میں دشمن کے بہت سے قیدی پکڑے گئے تھے، وہ فتح المبین آپریشن تھا۔ مجھے یاد ہے کہ لوگ بہت خوش تھے۔ عید کے پہلے دن جب رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہیں، رشتہ داروں کے درمیان اسی آپریشن کی بات ہو رہی تھی۔ دو اپریل کا دن تھا اور ہم سب اپنے ماموں علی کے گھر جمع تھے کہ اچانک سے محسن آگئے۔ شاید وہ اپنے ساتھ چھ سو قیدیوں کی ٹرین لائے تھے۔ وہ گھر آئے تھے ، وہاں دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ انھوں نے میری خالہ کو فون کیا، انھوں نے بتایا کہ سب علی ماموں  کے گھر پر ہیں۔ وہ رشتہ داروں کو بہت پسند کرتے تھے اور وہ اُسی جنگی لباس میں آگئے تھے۔ سب خوشحال ہوگئے، صلوات بھیجنے لگے اور خوش ہوئے۔ انھوں فتح المبین آپریشن میں جو کارنامے انجام دیئے تھے، انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا اور ہمیں یہ ساری باتیں اُن کی شہادت کے بعد پتہ چلیں۔ وہ اگلے دن چلے گئے اور چند دنوں تک گھر نہیں آئے۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ منافقین کی لسٹ میں اُن کا نام ہے۔ وہ بہت ناراض تھے  اور انھوں نے میری والدہ اور کچھ اور لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے تہران میں منافقین کے ہاتھوں شہید ہونا بالکل بھی پسند نہیں ہے، میں محاذ پر شہید ہونا چاہتا ہوں۔ چونکہ وہ لوگ اُن کے تعاقب میں تھے، وہ گھر نہیں آتے تھے۔ ایک رات دوستوں نے اصرار کیا تھا: جاؤ اپنے گھر والوں کے ساتھ رہو۔ رات کا آخری پہر تھا اور ہم گھر کے ڈرائنگ روم میں تھے۔ محسن آئے ، ہم گلے ملے۔ ۱۰ اپریل کا دن آگیا۔ میں نے اُس سے پہلے بھی کئی مرتبہ محسن سے محاذ پر لے جانے کی ضد کی تھی، محسن مجھے لیکر نہیں جاتے۔ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا۔ فتح المبین آپریشن سے پہلے ایک مرتبہ انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہیں لے جاؤں گا اور اس فعہ ۱۰ اپریل کا دن تھا۔ وہ بہت پابند تھے ، ہر دفعہ جب بھی محاذ پر جانا چاہتے، اُن کا پورا لباس نیا ہوتا تھا۔ حمام جاکر غسل کرتے اور اچھی طرح سے تیار ہوکر جنگی علاقے میں جاتے۔ میں اُس دن ظہر کے وقت اسکول سے گھر پہنچا تو میری والدہ نے کہا: دیر سے پہنچے ہو، محسن جلدی میں گھر آیا تھا اور خدا حافظی کرکے محاذ پر چلا گیا۔ میں بہت ناراض ہوا اور میں نے کہا: مجھے کیوں نہیں بتایا؟ انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا! دس منٹ گزرے ہوں گے کہ محسن نے دروازہ بجایا، وہ چند لوگوں کے ساتھ آئے تھے۔ شاید کچھ بھول گئے تھے۔ میں خوش ہوگیا اور اُن کے گلے لگ گیا، میں نے کہا: کیا آ پ نے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟ انھوں نے کہا: اگلی دفعہ تمہیں حتماً لیکر جاؤں گا۔ میں نے انھیں چھوڑا نہیں۔ مسلسل ضد کرتا رہا۔ انھوں نے میری ضد کے بعد کہا: عبدی! اگر میں اس دفعہ واپس آیا تو اگلی دفعہ تمہیں حتماً اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ میں نے کہا : پکاوعدہ؟ انھوں نے کہا: ہاں، پکا وعدہ۔ ہم نے خدا حافظی کی اور تقریباً بیس دن بعد وہ شہید ہوگئے۔"

خصوصیات

پروگرام کے تیسرے راوی ابراہیم شفیعی تھے۔ انھوں نے کہا: "مجھ میں اور محسن  میں کچھ مشترکہ خصوصیات پائی جاتیں تھیں، لیکن وہ  نمایاں اور برجستہ خصوصیات رکھتے تھے کہ اُنہی خصوصیات کی وجہ سے مجھ سے بہت فاصلے پر یا سالوں آگے تھے۔ ہم نے نظام آباد میں کافی عرصے تک زندگی گزاری ۔ ہم دونوں کیمیکل انجینئرنگ میں پاس ہوئے ؛ وہ شریف یونیورسٹی میں چلے گئے اور میں خوارزمی یونیورسٹی میں گیا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ کیمیکل انجینئرنگ کیا ہوتی ہے؟ میں سوچتا تھا یعنی کیمسٹری میں بیچلر کرنا۔ اس کے باوجود کہ میری تمام مضامین میں پڑھائی اچھی تھی لیکن میں کیمسٹری میں اپنے آپ سے زیادہ خوش نہیں تھا۔ اسی وجہ سے میں نے پڑھائی کو جاری نہیں رکھا۔ بعد میں جب محاذ پر میری محسن سے جان پہچان ہوئی، میری سمجھ میں آیا کہ کیمیکل انجینئرنگ ، کیمسٹری سے بالکل مختلف ہوتی ہے اور یہ دو ایسے  موضوع ہیں جن کا ایک دوسرے سے کوئی ربط نہیں۔ اسی وجہ سے میں ڈاکٹریٹ  کے دورے  میں کیمیکل انجینئرنگ کی طرف گیا۔ پروگرام یہ تھا کہ جاسوسی کے اڈے پر قبضہ کرنے کیلئے میں خوارزمی یونیورسٹی سے پہنچوں کہ متاسفانہ یہ توفیق نصیب نہیں ہوئی اور میں زخمی ہوکر ہسپتال چلا گیا۔ اُس کے بعد ہم نے اڈے کے باہر کی حفاظت کی ذمہ داری لے لی۔ دوسری طرف سے جب میں نے انقلاب سے متعلق محسن کے واقعات اور اُن کی زندگی نامہ کو پڑھا، تو مجھے پتہ چلا کہ تقریباً بہت سی جگہیں جہاں محسن موجو دتھے، میں بھی موجود تھا، ایک دوسرے سے کوئی پہچان رکھے بغیر۔ انقلاب کے شروع میں خوزستان میں بہت بڑا سیلاب آیا۔ مجھے یاد ہے کہ عید نوروز کے ایام تھے  کہ ہم کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد  کیلئے خوزستان گئے تھے۔ بعد میں جب ایک سفر میں محسن کے ساتھ واپس آرہے تھے، انھوں نے کہا: لرستان کا بھی ایک چکر لگانا چاہیے۔ میں نے پوچھا: مگر کیا آپ لرستان کے بارے میں جانتے ہیں؟ وہاں کوئی کام پڑا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ جب شروع میں سیلاب آیا تھا تو میں شریف یونیورسٹی کی طرف سے سیلاب زدہ افراد کی مدد کیلئے گیا تھا۔ مجھے یا د ہے ایک دفعہ جب ہم محاذ سے آئے، انھوں نے کہا کہ رہبر معظم (آیت اللہ خامنہ ای) کی زیارت کیلئے تہران چلتے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا پہلے سے وقت لے لیا ہے؟ اُنھوں نے کہا نہیں؛ چلو چلتے ہیں، تم کوئی فکر نہیں کرو۔ رہبر معظم اُس زمانے میں زخمی تھے اور ہسپتال میں ایڈمٹ تھے۔ مجھے اور محسن کو اُن کے بیڈ کے کنارے ایک گھنٹہ بیٹھنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ انھوں نے بہت حوصلے کے ساتھ محاذوں کے حالات  کے بارے میں سوال کئے اور زیادہ تر سوالوں کے جوابات بھی محسن نے دیئے۔

محسن کے اندر ایسی خصوصیات تھی کہ جن کے بارے میں آج تک کم بیان ہوا ہے اور بہت سے تقریبات میں اچھی طرح سے بیان نہیں  ہوئی ہیں۔ شاید مجھ جیسے حقیر لوگوں کے بیان  میں کمزوری پائی جاتی ہے یا شاید ہماری طرف سے کوتاہی ہوئی ہے۔  وہ دفاع، جنگ اور حملہ کرنے کی صورت میں ہمیشہ بذات خود دشمن کے سینہ پر حملہ کرتے۔ یہ بات فوجی قوانین اور بین الاقوامی عرف  میں زیادہ رائج نہیں ہے۔ کیونکہ معمولاً کمانڈر اپنے فوجوں کی پیچھے سے رہنمائی کرتا ہے، یا گر وہ بہت ہی شجاع اور نڈر انسان ہو تو اپنے فوجیوں کے بیچ میں دکھائی دیتا ہے۔ لیکن محسن نے ہر آپریشن میں یا کم ازکم جن آپریشنوں میں، میں نے خود دیکھا ہے، ہمیشہ سامنے سے حملہ کرتے اور اپنے حملے سے دشمن کی صفوں کو چیر دیتے۔ یہ اُن کی ایک خصوصیت تھی۔ دوسری خصوصیت یہ کہ وہ بہت ہی ہوشیار انسان تھے۔ یعنی وہ کسی بھی لمحہ میں بڑے آرام سے جنگ کا تجزیہ و تحلیل کرلیتے اور اپنی بلند فکر اور عظیم سوچ سے جو اُن کے اندر تھی، حملہ کا ایک نیا راستہ بیان کرتے۔ دوسری بحث اُن کی بے نظیر شجاعت کی تھی۔ جیسا کہ دکھائی جانے والی فلم میں بھی اشارہ ہوا، پانچ افراد کے ساتھ دشمن کے قلب پر حملہ کیا جو شاید ایک لشکر کے قریب افراد تھے اور یہ بات جنگ کی تاریخ اور ادبیات میں قابل تصور اور قابل بیان نہیں ہے۔ ایک اور خصوصیت اُن کی بندگی تھی۔ میں جرائت کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اہل یقین تھے۔ وہ بہت ہی متواضع اور معاف کردینے والے انسان تھے۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود، کسی نے انھیں اپنی تعریف کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ اپنے والدین کے احترام کا بہت خیال رکھتے تھے  اور میں نے اس احترام کو نزدیک سے دیکھا تھا۔ وہ چھوٹے بھائیوں کو گود میں لیتے اور پیروں پر بٹھاتے۔ میرے لئے بہت تعجب کی بات ہوتی کہ ہم ایک ساتھ ہی محاذ سے آئے ہوتے تھے، ابھی راستے کی تھکن اُتری نہیں ہوتی، وہ چھوٹے بچوں کو اپنی گود میں بٹھالیتے اور اُن سے کتنی محبت  سے پیش آتے۔ اگر ہم یہ کہنا چاہیں کہ کون سی شخصیت ہمارے آج کے جوانوں کیلئے بہت ہی مناسب آئیڈیل بن سکتی ہے تو میں کہوں گا ان جوانوں کیلے محسن بہترین اور اعلی ترین آئیڈیل ہے۔"

جناب شفیعی نے اپنے بات جاری رکھتے ہوئے، محسن وزوائی سے اپنی آشنائی کے بارے میں بتایا: "ہم بہت سی جگہوں پر اتفاقی طور پر ایک دوسرے سے ملے تھے لیکن ایک دوسرے کو قریب سے نہیں جانتے تھے۔ ہم نے اکتوبر[۱۹۸۰]  کے آخر میں بازی دراز کی پہاڑیوں پر ایک آپریشن انجام دیا جس میں شکست ہوئی، ہم نے دوسرا آپریشن نومبر کے وسط میں انجام دیا کہ جس میں ہم صرف ایک قلعہ کو فتح کرسکے اور اس میں بھی کامیاب نہیں تھے۔ ہم جب ملک کے مغربی علاقے میں داخل ہوئے، وہ جنگ کے ابتدائی ایام تھے۔ فوج کے کمانڈروں کے ساتھ جو مشترکہ میٹنگز ہوتی تھیں، اُس میں اُن کا تکیہ کلام ہوتا تھا کہ اگر صدام نے کہا میں تہران کو فتح کرنا چاہتا ہوں، تہران کو فتح کرنے کا راستہ، مغربی علاقہ، سرپل ذھاب یا قصر شیرین ہے؛ نتیجہ میں دشمن کو اس راستے سے گزرنے کی جرائت نہیں ہونی چاہیے اور اس کیلئے ضروری ہے بازی دراز پہاڑیوں کی بلندیوں پر کہ جو بہت صعب العبور، چٹانی، بلند اور نا ہموار بلندیاں ہیں اور جہاں سے اُس علاقے میں داخل ہوا جاسکتا ہے ہم اُس کو اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ انھوں نے کہا اگر ہم نے ان بلندیوں کو اپنے اسٹراٹیجک مطالعات کی بنیاد پر اپنے قبضے میں لے لیا تو صدام تہران پر قبضہ کرنے کا خیال اپنے سر سے نکال دے گا ۔ اسی وجہ سے ہم نے ان بلندیوں کی آزادی پر زیادہ زور لگایا۔ لیکن ہم نے اذیت اور مشکل کے ساتھ ایک دو آپریشن انجام دیئے جو زیادہ کامیاب نہیں تھے۔ ایک مرتبہ صدامی افواج نے اپنی پوری قدرت کے ساتھ ہم پر حملہ کیا کہ تمام چوٹیوں کو ہم سے واپس لے لیں، الحمد للہ وہاں پر انہیں بہت ہی سنگین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ۱۹۸۱ء کی عید نوروز سے پہلے، کمانڈروں کے درمیان ایک میٹنگ تھی۔ شہید غلام علی پیچک جو بہت ہی لائق اور شائستہ افراد میں سے اور جوہری توانائی کے طالب علم تھے۔ وہ بہت عظیم انسان ہیں کہ اُن کے حق میں بھی زیادتی ہوئی ہے۔ شاید کافی حد تک اُن کے واقعات بیان نہیں ہوئے ہیں۔ انھوں نے اُس میٹنگ میں مجھے ایک کونے میں کھینچا اور کہا: ہمیں اس دفعہ بازی دراز کے اتفاعات کو آزاد کرالینا چاہیے۔ میں نے کہا ماہر، قوی اور توانا فورس کی ضرورت ہے، اگر آپ ایسی فورس کا بندوبست کرسکتے ہیں تو یہ کام قطعی طور پر امکان پذیر ہے۔ انھوں نے کہا: میں فورس کا بندوبست کرنے جاتا ہوں اور آپ بھی ایک بڑے اور وسیع آپریشن کیلئے منصوبہ بندی اور علاقہ کی چھان بین کیلئے جائیں۔ ایک دن دوپہر دو بجے کا وقت تھا کہ انھوں نے مجھ سے وائرلیس پر رابطہ کیا اور کہا: الحمد للہ آپ کو جو فورس اور وسائل مطلوب تھے، اُن کا بندوبست ہوگیا ہے۔ میں نے پوچھا: کیسے؟ انھوں نے کہا: سپاہ نے ایک نئی بٹالین کو ٹریننگ دی ہے جو جنگ کیلئے تیار ہیں۔ میں نے اُن کی مہارتوں کو دیکھا ہے؛ بہت ہی بہترین اور متقی فوجی ہیں۔ میں اس بٹالین کو آپ کیلئے بھیج رہا ہوں اور آپ کوشش کریں کہ اس فورس کے ساتھ آپریشن مکمل ہوجائے۔

دوپہر کے چار یا ساڑھے چار بجے کا وقت تھا کہ میں نے دیکھا محسن نویں بٹالین کے دو گروپس کے ساتھ ایک جیپ پر بیٹھ کر سرپل ذھاب اور بازی دراز پہاڑی کے نچلے علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔ ہم نے اُن کے ساتھ ایک ابتدائی میٹنگ رکھی اور وہ جیسا کہ میں نے بتایا، بہت متواضع تھے۔ میں وہاں پہنچا اور میں نے اُن سے پوچھا کہ برادر محسن آپ ہی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ۔ انھوں نے بھی پوچھا: جناب شفیعی؟ میں نے کہا: جی۔ انھوں نے مذاق میں کہا: کیسے ہیں حاجی شفیعی؟ میں نے کہا: میں حاجی نہیں ہوں۔ انھوں نے جواب دیا: میری نظر میں تو آپ حاجی صاحب ہیں۔ اُس کے کچھ عرصے بعد تک وہ مجھے حاجی کہتے رہے۔ میں اُن سے کہتا کہ مجھے حاجی نہ کہا کریں، چونکہ میں حاجی نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا: آپ حاجی بن جائیں گے۔ یہ ہماری ابتدائی آشنائی تھی اور اُس کے بعد ہم نے ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ منصوبہ بندی کرنا شروع کردی؛ ۲۴ اگست جب تک ہم بازی دراز آپریشن کو اُس عظمت کے ساتھ انجام دے سکے۔ بازی دراز آپریشن اپنے زمانے میں خود بہت ہی خاص قسم کی خصوصیات کا حامل تھا۔ اُس وقت تک ہماری بڑی کامیابیوں والا  آپریشن تھا۔ ہم نے فوجیوں کی کم تعداد کے ساتھ دشمن کے قلب پر حملہ کیا۔ عراقیوں کے ۷۴۰ قیدی پکڑنے کے علاوہ، اُن کے ہزار سے زیادہ فوجی مارے جا چکے تھے کہ جن کے جنازے چٹانوں پر پڑے ہوئے تھے۔ عراق کا ایک قدرتمند ڈویژن کہ جسے خرم شہر پر مکمل تسلط حاصل کرنے کیلئے تیار کیا گیا تھا، واپسی کے راستے میں، ہماری افواج سے ہونے والی جھڑپوں میں نیست و نابود ہوگیا۔ یہ آپریشن وہ پہلا آپریشن تھا کہ فوج نے آپریشن کے کمانڈ کی ذمہ داری سپاہ کیلئے تجویز کی تھی۔ اُس دن تک آپریشنوں کی کمانڈ فوج کے ہاتھ میں تھی اور ہماری زیادہ تر کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہم فوج  کی خدمت میں رہیں۔ فوج نے کہا: ہم اپنی افواج کو آپ کے اختیار میں دیدیں گے؛ فضائی حمایت، ہیلی کوپٹر سروسز کی حمایت، توپخانوں کی حمایت۔ یہ آپریشن ہماری افواج کیلئے بھی اور عراقی افواج کیلئے بھی بہت وسیع اور غیر قابل تصور تھا۔ ہمارا سات محوروں سے عمل کرنا طے تھا۔ سخت ترین راستہ، وہ راستہ تھا کہ جسے میں، برادر محسن، برادر علی رضا موحد دانش اور برادر حسین خالقی نے ایک ساتھ عبور کرنا تھا۔ ہم بالکل چوٹیوں کے اوپر تھے۔ رات کے ڈھائی بجے شہید پیچک نے وائرلیس پر بتایا کہ اُن دوسرے سات محوروں پر کہ جن کا عمل کرنا طے تھا، وہاں کوئی مشکل پیش آگئی ہے  کہ وہ مقصد تک نہیں پہنچ سکتے؛ آپ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یا آپ لوگ فوراً جلدی سے واپس آجائیں تاکہ آپ لوگوں کا قتل عام نہ ہوجائے یا تحقیق کریں کہ اگر آپ اپنی ذمہ داری پر عمل کرسکتے ہیں، تو مجھے خبر دیں۔ رات تین بجے کا وقت تھا کہ برادر محسن اور برادر موحد کے ساتھ رات کے اندھیرے اور ایک چٹان کے نیچے، عراقیوں سے دس یا پندرہ میٹر کے فاصلے پر ہم نے ایک میٹنگ رکھی۔طے تھا ہمیں دونوں طرف سے کور کیا جائے۔ طے تھا کہ دونوں طرف سے فوجی آئیں اور ہیلی کاپٹر سے فوجیوں کو لے جانا طے تھا۔ ہیلی کاپٹر سے لے جانے والے تمام فوجی اسیر ہوگئے۔ طے تھا شہید جعفر جنگروی کی کمانڈ میں فوجیں ٹینکوں کا شکار کرنے جائیں  اور نہیں کرسکے۔ ایک بٹالین کا شہید برادر صاحب الزمانی کی کمانڈ میں بازی دراز کی پچھلی سمت  سے علاقے کی اُس طرف جانا طے تھا کہ وہ لوگ بھی نہیں پہنچے۔ طے تھا شہید محسن حاج بابا کی کمانڈ میں دو بٹالین  بازی دراز کے پیچھے سے آئیں اور وہ لوگ بھی نہیں آسکے۔ میں نے ان شرائط میں دوسرے لوگوں کی رائے پوچھی۔ محسن نے اپنے سر کو  آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر میری طرف دیکھا۔ کوئی فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا۔ محاذ پر افراد کی جان کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہلکی سی غلطی سے بہت سے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ محسن نے منہ ہی منہ میں کوئی دعا پڑھی اور کہا کہ میں تیار ہوں، تمہاری رائے کیا ہے؟ میں نے کہا: میں بھی تیار ہوں۔

ہم نے یاحسین (ع) کے کوڈ کے ساتھ آپریشن شروع کیا۔ محسن اور موحد نے ایک ساتھ مل کر قلب دشمن پر حملہ کیا اور اُنہی ابتدائی ثانیوں میں وہ عراقیوں کے ۶۴ افراد کو مارنے میں کامیاب ہوگئے۔ اگر میں آپ لوگوں کو پوری داستان سنانا چاہوں تو بہت وقت لگ جائے گا۔ آپریشن ہوئے کچھ گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ایک شخص نے کہا: محسن زخمی ہوگئے ہیں۔ میں جلدی سے محسن کے نزدیک پہنچا، میں نے دیکھا کہ اُس کے گلے میں دو گولیاں لگی ہیں۔ میں نے ہاتھ لگایا اور گولیوں کو محسوس کیا۔ میں نے پوچھا تم جانا نہیں چاہتے اور کیا تم ہسپتال جانا چاہو گے؟ شاید تمہارے ساتھ کوئی مشکل پیش آجائے؟ انھوں نے کہا: میں آخر تک ڈٹا ہوا ہوں ، میں دو گولیاں لگنے سے میدان سے بھاگنے والا نہیں ہوں۔ آپ بھی برائے مہربانی ضد نہ کریں۔ مجھے یہاں رکنا چاہیے تاکہ ہم تمام قلوں کو ایک کے بعد ایک آزاد کرائیں۔ برادر حاج علی موحد دانش کے ساتھ آپریشن والے راستے پر گامزن رہے اور ۱۱۰۰ ویں چوٹی جو بہت بلند ترین چوٹی تھی، تک گئے اور ہم نیچے موجود تھے۔ ہم نے ۹ دفعہ اس چوٹی پر حملہ کیا اور ہر بار شکست کا سامنا ہوا۔ نویں دفعہ محسن نے کہا کہ آخری دفعہ حملہ کرتے ہیں۔ حملہ کیا اور اس دفعہ مکمل کامیابی کے ساتھ گئے اور چوٹی کو اپنے اختیار میں لے لیا۔ آپریشن کے بعد برادر محسن نے اس حملہ کے بارے میں گفتگو کی اور کہا کہ نویں حملہ میں، امام زمانہ (عج) ہماری مدد کرنے آئے اور یہ بات جناب بنی صدر [اُس وقت کا صدر] کے عزل کا باعث بھی بنی۔ سپاہ کے افراد بنی صدر کو ملک کے مغربی محاذوں پر آنے نہیں دیتے تھے، اسی وجہ سے وہ سپاہ کے فوجیوں سے بری طرح غصہ میں تھا  اور اُسی زمانے میں ایک حکم صادر کیا کہ فوج سپاہ کو کسی طرح کے وسائل فراہم نہ کرے۔ بنی صدر نے کہا: اگر آپ لوگ سچ  کہہ رہے ہیں تو حقیقت بیان کریں۔ حقیقت  سے اُس کی مراد وہی فوجی تھے جو ہم نے ہیلی کاپٹر سے منتقل کئے تھے اور وہ اسیر ہوگئے  تھے۔ یہ بات برادر محسن کے ذریعے امام خمینی تک پہنچی۔ امام نے اپنے ایک بیان میں فرمایا کہ جو لوگ محاذوں پر امام زمانہ (عج) کی موجودگی پر ایمان نہیں رکھتے، وہ کافر ہیں!"

یادوں بھری رات کے ۳۰۱ ویں پروگرام میں تیسرے راوی نے اپنے آخری واقعہ کو اس طرح بیان کیا: "بازی دراز آپریشن اور یکم ستمبر [۱۹۸۱] کی رات تھی۔ رات کو میں نے  اور محسن نے لوگوں سے تقریر کی۔ لوگوں نے غسل کیا۔ وصیتیں لکھیں۔ ہم جانتے تھے کہ بہت ہی سخت اور دشوار جنگ ہے اور بہت سے افراد کے شہید ہونے کا احتمال تھا۔ محسن نے مجھ سے کہا: افراد بہت نورانی ہو رہے ہیں۔ ان میں سے جو لوگ شہید ہوں گے کیا میں تمہیں اُن کے نام بتاؤں؟ بہت نورانی ہوگئے ہیں۔ میں ہنسا اور مذاق میں کہا کہ تمہیں علم غیب بھی  آگیا ہے؟ انھوں نے کہا: علم غیب کی ضرورت نہیں، چہروں سے صاف پتہ چل رہا ہے۔ میں نے کہا: بتاؤ۔ انھوں نے کہا: "سب سے پہلا شخص جعفر جواہری ہے۔ وہ آپریشن میں محسن کا جانشین اور میرا پھوپھی زاد بھائی تھا۔ اُس کی والدہ نے مجھے اُس کا خیال رکھنے  کی بہت تاکید کی تھی۔ پھر کہا: دوسرا شخص بھی یہی علی طاہری ہے جو یہاں بیٹھا  ہوا ہے۔ اُس کے بعد والا شخص محمود غفاری  اور ۔۔۔ آپریشن والے دن صبح میں جعفر کے پاس گیا اور کہا: بہت خیال رکھنا۔ تم محسن کے ساتھ بالکل  حملے کی نوک پر اور ہر طرف سے دشمن کی فائرنگ کی زد میں ہو۔ جعفر نے مسکراتے ہوئے کہا: تم یہاں رکنے کی فکر کر رہے ہو اور ہم جانے کی۔ تم دعا کرو ہم شہید ہوجائیں، ہمارے یہاں رکنے کی فکر نہیں کرو۔ مجھ پر اس بات کا بہت اثر ہوا اور مجھے اپنے حال پر افسوس ہوا۔ ہماری بات ہوئے ابھی پندرہ منٹ نہیں گزرے تھے کہ محسن نے کہا: جعفر شہید ہوگیا ہے۔ دوسرا شخص علی طاہری تھا۔ میں نے محسن سے پوچھا کہ  میں اُس کو بتادوں کہ وہ آپریشن میں شہید ہوجائے گا؟ انھوں نے کہا: وہ ہلکا آدمی نہیں ہے ، باتوں میں نہیں آئے گا۔ اُس کو بتادو۔ میں نے علی طاہری کو بتا دیا اور وہ ہنسا کہ میں؟ میں اور شہادت کی توفیق؟ یہ باتیں مجھے زیب نہیں دیتیں۔ اگر تم کہو ان میں سے ایک ایک فرد شہید ہوجائے گا، میں یقین کرلوں گا، لیکن مجھے شہادت کی توفیق نصیب ہونے میں ابھی بہت وقت درکار ہے۔ علی جنگ کے پہلے دن کہہ رہا تھا کہ علی سے کہو میں زندہ ہوں۔ دوسرا، تیسرا اور چوتھا دن گزر گیا اور پانچواں دن تھا کہ محسن زخمی ہوگیا اور تقریباً اُس کا پورا چہرا زخمی تھا، اُس کا ہاتھ بھی تقریباً مفلوج ہوگیا تھا۔ اس حادثے کے بعد علی نے میرے پاس آکر کہا: ایسا لگ رہا ہے  میری جگہ محسن جانے والا ہے! وہ ہنسا اور چلا گیا۔

میں ہسپتال میں محسن سے ملنے گیا اور اُسے علی کی بات بتائی۔ انھوں نے ہاتھ سے یوں لکھا: "علی شہید ہو جائے گا"۔ ساتویں دن علی طاہری بھی شدید زخمی ہوگیا اور اُسے ہسپتال منتقل کردیا۔ علی کے پٹی باندھ دی گئی۔ شہید پیچک نے کہا کہ علی کی والدہ بہت پریشان ہیں۔ انھوں نے علی کو ایک گاڑی دی اور کہا: آپ اپنی والدہ سے ملنے جائیں۔ جب وہ مغربی اسلام آباد سے   گزر گئے تو انھوں نے فون کرکے کہا: محسن وزوائی سے کہنا علی زندہ ہے، مجھے شہادت کی توفیق نہیں ملی۔ میں تہران جا رہا ہوں اور اس وقت تہران کے راستے میں ہوں۔ میں نے کہا: خدا کا شکر ہے۔ ہم نے ایک یا دو چوٹی پر قبضہ کرنے کیلئے آپریشن کی نویں رات کا پروگرام بنایا ہوا تھا۔ اچانک دیکھا کہ توپخانہ کے فائر سیٹنگ خراب ہوگئی ہے۔ مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے فون پر رابطہ کرکے پوچھا: کس نے یہ کام کیا ہے؟ بتایا کہ نگہبان نے ۔ میں نے پوچھا نگہبان کون ہے؟ بتایا: علی طاہری۔ میں نے کہا: وہ تو تہران میں ہیں! کہا: نہیں! وہ چوٹی پر ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ چوٹی پر کیا کر رہا ہیں؟ انھوں نے کہا: ہمیں بھی نہیں پتہ۔ میں نے انھیں ڈھونڈا اور پوچھا:آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ تو تہران نہیں چلے گئے تھے؟ انھوں نے کہا: کرمانشاہ کے قریب مجھے یاد آیا کہ میں اپنا کیمرہ چھوڑ آیا ہوں۔ جس راستے سے میں آرہا تھا، میں نے وہاں دیکھا کہ چند عراقی بٹالین آپ کو چکر دینے کیلئے پیچھے سے آگئیں ہیں اور میں اس توپخانہ کی سیٹنگ کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوگیا جسے آپ نے آپریشن کیلئے سیٹ کرکے رکھا ہوا تھا۔ میں نے توپخانہ سے فائر کرکے اُن چند بٹالین کو بھگا دیا ہے۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ اس وقت زخمی ہیں، یہاں سے چلے جائیں۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انھوں نے کہا: مگر محسن نے نہیں کہا تھا کہ میں شہید ہوں گا؟ میں نے کہامیں التماس کرتا ہوں؛ اس زخمی حالت میں آپ کیلئے یہاں رکنا بہتر نہیں ہے۔ انھوں نے ایک نگاہ ڈالی اور کہا: اب آپ اتنا اصرار کر رہے ہیں تو میں جا رہا ہوں۔ انھوں نے اپنی کلاشنکوف اور کیمرے کو اپنے کندھے پر ڈالا۔ اُن کے ہاتھ پر پلاسٹر چڑھا ہوا تھا اور سینہ بھی زخمی تھا۔ انھوں نے ایک نگاہ ڈالی اور چلے گئے۔ ہماری بات چیت ہوئے دس منٹ نہیں گزرے تھے کہ بتایا گیا: علی شہید ہوگیا! میں نے پوچھا: کہاں؟ وہ تو چلے گئے! انھوں نے کہا: راستے میں جاتے ہوئے، ایک عراقی بٹالین ہمیں گھیرنا چاہ رہی تھی، وہ تک و تنہا اُن کے ساتھ لڑے اور وہیں پر شہید ہوگئے۔

آخری شخص محمود غفاری تھے۔ وہ برجستہ اور جلیل القدر مولانا اور کسی وقت میں کردستان کے ۸۱ ویں ڈویژن کے مذہبی – سیاسی یونٹ کے انچارج تھے۔ جس دن ہماری اُن سے ملاقات ہوئی، انھوں نے کہا:میں چاہتا ہوں عبا اور عمامہ  کو ایک طرف رکھ دوں اور میری خواہش اور آرزو یہ ہے کہ میں ایک بسیجی کی طرح آپ کے شانہ بہ شانہ جنگ لڑوں۔ میں نے کہا کہ آپ کی ذمہ داری جدا ہے، لیکن وہ نہیں مانے۔ وہ ہمارے ساتھ قدم بہ قدم آئے اور جیسا کہ محسن نے کہا ہوا تھا کہ اُن کی شہادت کا احتمال زیادہ ہے، میں اُن کا بہت خیال رکھتا تھا۔ وہ فوج کے توپخانے کے نگہبان تھے اور ہماری مدد بھی کرتے تھے۔ ایک شام، ہم نے ایک دوسرے سے جر و بحث کی کہ کیا رات کو نیا حملہ کریں یا نہیں؟ یہ موضوع بہت طولانی ہے اور میں اسے چھوڑ رہا ہوں۔ میں نے اُن سے کہا کہ اپنا خیال رکھنا۔ بہرحال آپ ایک مولانا صاحب ہیں۔ انھوں نے کہا: کیا میرا خون آپ کے خون سے زیادہ رنگین ہے؟ میرے لئے محسن کی بات تقریباً ثابت ہوچکی تھی، لیکن جیسا کہ وہ میرے ساتھ ساتھ باہر آنا چاہتے تھے، میں نے کہا میں آپ سے التماس کرتا ہوں کہ آپ مورچے میں رہیں۔ انھوں نے کہا: پس میں نماز شب پڑھ لیتا ہوں۔ میں نے کہا: گیارہ رکعت نماز ہے، آدھی رات تک نماز نہ پڑھیں! انھوں نے کہا: آپ خود مجھے اپنے پاس بیٹھنے نہیں دے رہے!ہم نے ضد کرکے انھیں مورچے کے اندر بھیجا اور ہم چوکنے تھے۔ ہر طرف سے گولیاں اور بم کے ٹکڑے آرہے تھے۔ میں مورچے سے باہر وہاں پر موجود فوجیوں سے بات کر رہا تھا کہ اچانک عراقی توپخانہ سے ایک گولہ آیا  اور بالکل میرے پاس آکر گرا۔ میں نے ایک کونے میں چھلانگ لگائی۔ شاید اُس کے گیارہ یا بارہ ٹکڑے مجھے لگے تھے۔ میں نے پوچھا کہ حاجی محمود کیسے ہیں؟ انھوں نے بتایا: نماز شب پڑھنے میں مشغول ہیں۔ وہ سجدوں میں دیر تک گریہ کرتے تھے، اتنی دیر تک کہ واقعاً میں تنگ آجاتا تھا۔ میں نے کہا: اُن کے گریہ کی آواز نہیں آرہی! میں مورچے کے اندر گیا، میں نے دیکھا کہ اُن کے سر پر ایک ٹکڑا لگا تھا اور وہ اُسی سجدے کی حالت میں شہید ہوگئے تھے۔ "


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 65



http://oral-history.ir/?page=post&id=8643