بہبہان میں تقریر اور اُس کے بعد کا ماجرا

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-06-27


سن ۱۹۷۹ میں، مجھے اپنی سابقہ کارکردگی کی وجہ سے بھبھان شہر  کے علماء جیسے جناب مجتہدی، موسوی اور دعاوی – جو شہر کے سر فہرست علماء میں سے تھے – نے انقلاب کے مسائل کو صراحت سے بیان کرنے کیلئے دعوت دی۔

رمضان کا مہینہ تھا اور موسم بھی گرم۔ میں شہر کے مرکز میں موجود ایک بڑی مسجد جس کا نام "مسجد مصلی" تھا  ہر رات منبر پر جاتا اور دن بہ دن لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا؛ اس طرح سے کہ پانچ یا چھ راتوں بعد مسجد کا ہال اور پورا صحن بھر گیا اور بہت سارے لوگ باہر سڑکوں پر بیٹھے  ہوتے تھے اور میں انقلاب کے مسائل کے احکامات کو بیان کر رہا ہوتا تھا۔ ہر رات کو شاہ کے سپاہیوں کی طرف سے حملہ کا خدشہ موجود تھااور مسجد اور لوگوں کا  شورش کے خلاف استعمال ہونے والے تمام وسائل کے ساتھ  محاصرہ کیا جاتا تھا۔

مجھے اور جناب موسوی کو چند بار دھمکیاں ملی کہ اگر اس کام کو بندنہیں کیا گیا تو ہم حملہ کریں گے اور لوگوں کے خون کے ذمہ دار آپ  ہوں گے۔ جناب موسوی اور میں محکم انداز میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ میرے خیال سے رمضان کی ساتویں شب  تھی کہ میں نے منبر سے پہلوی خاندان کے جرائم اور ظلم و بربریت کے اوصاف بیان کیے۔ چونکہ میں جانتا تھا وہ مجھے بھبھان میں رہنے نہیں دیں گے، طے پایا آہستہ آہستہ مطالب کو آگے بڑھاؤں۔ اُس رات تو میں نے  چٹہ بھٹہ کھول دیا اور پہلوی حکومت کے جرائم کو بیان کیا۔ سڑکوں پر بھی ٹھاٹھی مارتی عوام موجود تھی اور علماء کرام اور طالب علم حضرات سب مسجد سے باہر، لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک پولیس اور کمانڈوز نے حملہ کردیا۔ چاروں طرف سے آنسو گیس پھینکی جانے لگی، اچھے خاصے لوگ زخمی اور کچھ سپاہی بھی زخمی ہوئے۔ پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق، ہم نے کہہ دیا تھا اگر حملہ ہو تو لائٹوں کو بند کر دیا جائے اور مجھے یہاں سے فرار کروا دیا جائے۔ اچانک لائٹیں بند ہوگئیں لوگوں کے شور و غوغا اور گولیوں اور آنسو گیس کی فائرنگ کی آواز  میں مجھے مسجد کے پیچھے سے فرار کروادیا اور شہر کے اطراف میں موجود ایک گھر میں لے گئے۔

علماء کرام "موسوی"، "مجتہدی" اور "دعاوی" صاحبان  جو سڑکوں پر تھے، گرفتار ہوگئے۔ سپاہیوں نے مسجد کے کچھ سامان کی توڑ پھوڑ کی، کچھ کتابوں اور قرآن کو پھاڑا اور بہت سے لوگوں کی ڈنڈوں سے پٹائی لگائی۔ وہ رات، بہت ہی عجیب رات تھی۔

اُس کے اگلے دن صبح، شہر پر آشوب اور نا امن تھا، دکانیں اور بازار بند تھے اور کرفیو نافذ ہوگیا تھا۔ وہ افواج جو اہواز اور دوسرے شہروں سے آئی ہوئی تھیں، وہ شہر کے تمام راستوں کو کنٹرول کر رہی تھیں اور اعلان کردیا تھا کہ جو کوئی بھی سید رضوی اردکانی کو زندہ یا مردہ پولیس کی تحویل میں دے گا، اُسے انعام دیا جائے گا۔ میں نے اُس پر امن گھر میں دوستوں کے مشورے سے فوراً ہی اپنا حلیہ تبدیل کرلیا۔ میرے سر کے بال جو پہلے سے بڑھے ہوئے تھے میں نے انھیں چھوٹا کیا اور بال بنوائے۔ اپنی داڑھی کو چھوٹا کیا اور آدھی آستین والی ایک لال رنگ کی شرٹ اور جناب مجتہدی کے بیٹے کی ایک جینز کی پینٹ پہن لی۔ میرا حلیہ بالکل ہی تبدیل ہوچکا تھا۔

جیسا کہ اب بھبھان میں میرا رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا، دوست احباب گھر کے دروازے پر ایک ٹرک لے کر آئے اور ڈرائیور سے کہہ دیا: "یہ صاحب ایک اسٹوڈنٹس ہیں اور خطرے میں ہیں۔ انھیں اہواز لے جاؤ"۔ میں بھی خدا پر توکل کرتے ہوئے ڈرائیور کے برابر میں بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کو نہیں پتہ تھا کہ میں کون ہوں۔ وہ مسلسل کہے جا رہا تھا: "شہر کے حالات نا امن ہیں۔ اللہ کرے وہ اُس سید کو پکڑ نہ سکیں وگرنہ پکڑتے ہی مار دیں گے" اور میں بھی اُس کی بات کی تائید  کر رہا تھا۔ شہر سے باہر نکلنے والے پہلی چیک پوسٹ پر حکومت کے سپاہیوں نے ٹرک کو روکا اور سب جگہ کی  تلاشی لیکر چلے گئے۔ دوسری جگہ جہاں روکا وہ شہر سے بالکل باہر نکلنے والی چیک پوسٹ تھی۔ پھر سپاہیوں نے تلاشی لی اور اُن کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حتی انھیں مجھ پر شک بھی نہیں ہوا  اور میں بھی دل ہی دل میں دعا پڑھ رہا تھا اور "وجعلنا من بین ایدیهم سداً " والی آیت کو دل ہی دل میں دھرا رہا تھا۔خلاصہ یہ کہ یہ خطرہ بھی خیریت سے ٹل گیا۔ ڈرائیور نے مجھے اہواز میں بڑی گاڑیوں کے اڈے پر اتار دیا اور ساتھیوں نے اُسے پہلے ہی کرایہ کے پیسے دیدیئے تھے۔

میں نے اسی شکل و حلیہ کے ساتھ ایک ٹیکسی پکڑی اور ریلوے  اسٹیشن چلا گیا۔ میں نے عارضی نام سے ٹکٹ لیا تھا میں نے کچھ دیر انتظار کیا یہاں تک کہ تہران والی ٹرین چل پڑی اور اُس کے اگلے دن میں قم پہنچ گیا۔

صبح سویرے کا وقت تھا کہ میں دعا کر رہا تھا کہ میرا کوئی پڑوسی مجھ نہ دیکھ لے۔ میں اپنے گھر کے دروازے  پر پہنچا جو دور شہر کی بند گلی میں تھا، میرے گھر کے دیوار سے ملے پڑوسی کی زوجہ نے اچانک اپنے گھر کا دروازہ کھولا اور مجھے پہچان لیا۔ اُس نے کہا: "جناب رضوی یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے"؟ میں نے کہا: "کچھ مت بولو میرا تعاقب ہو رہا ہے"۔ میری زوجہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا، وہ میرا حلیہ دیکھ کر سٹپٹا گئی، وہ زلفیں اور چھوٹی داڑھی ، وہ جینز کی پینٹ اور چھوٹی آستینوں والی لال رنگ کی شرٹ، اُس کو ہنسی بھی آئی۔ میں نے کہا جلدی سے مدد کرو۔ گھر میں جتنی بھی امام کی تصویریں، پوسٹر اور ممنوعہ کتابیں تھیں، ہم نے سب کو جمع کیا۔ میں نے انھیں ایک کاٹن میں چھپا دیا اور اپنے گھر والوں سے کہا: "ہوسکتا ہے کہ سپاہی میرا پیچھا کرتے ہوئے آئیں، آپ کہہ دیجئے گا کہ ہمیں اُس کے بارے میں خبر نہیں ہے۔" میں کاٹن لیکر اپنے ایک دوست کے گھر گیا اور ایک دو دن تک میں مخفی اور پوشیدہ طور پر رہا  اور پھر خداوند متعال کی مدد سے یہ خطر بھی ٹل گیا۔ اس معاملے میں بھبھان کے علماء (آیت اللہ مجتہدی، موسوی اور دعاوی) جیل چلے گئے اور سیاسی قیدیوں کی آزادی کے چند مہینوں بعد آزاد ہوئے۔


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 267



http://oral-history.ir/?page=post&id=8631