کمانڈوز آپریشن کے بارے میں"پہلی بٹالین کے کمانڈر" کا بیان

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-05-15


"پہلی بٹالین کے کمانڈر: بحری افواج کے افسر اکبر پیرپور کے واقعات"ایسی کتاب کا عنوان ہے جو صوبہ بوشہر کے آرٹ شعبہ میں تیار ہوئی ہے۔ اس کتاب کو سید قاسم حسینی نے ۲۷۲ صفحات میں لکھ کر تالیف کیا اور مزاحمتی ادب و ثقافت کے صوبائی تحقیقاتی مرکز اور مطبوعات سورہ مہر کے توسط سے یہ کتاب سن ۲۰۱۹ میں منظر عام پر آئی۔

کتاب کے "پیش گفتار" اور"مقدمہ" میں ہمیں اس بات کے بارے میں معلوم ہوگا کہ اکبر پیرپور، اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری افواج کے ایک کمانڈو اور خرم شہر کے سقوط سے پہلے ۳۴ روزہ مقاومت و جدوجہد میں حاضر ہونے والے کمانڈوز میں سے ایک ہیں۔ جناب حسینی نے بھی کتاب میں موجود اپنے مقدمے میں انٹرویو کی ضروری تفصیلات اور کتاب کے تالیف اور تدوین کی کیفیت کے بارے میں لکھا ہے۔

"پہلی بٹالین کے کمانڈر" میں دس فصلیں، تصویری البم اور فہرست ہے۔ کتاب کی پانچ فصلیں راوی کے بچپن سے لیکر کمانڈو بننے تک کے حالات پر مشتمل ہے۔ چھٹی اور ساتویں فصل میں انقلاب اسلامی کی جدوجہد کے عروج سے لیکر عراق کی اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ جنگ اور اور ان سالوں میں راوی کے حالات سے مخصوص ہے۔ آٹھویں فصل، اس  فصل کو راوی کے خرم شہر میں حاضر ہونے سے مخصوص رکھا گیا ہے؛ وہ خرم شہر جو جدوجہد و مقاومت کر رہا تھا تاکہ صدامی افواج کے قبضہ میں نہ آسکے۔ نویں اور دسویں فصل میں راوی کے نومبر ۱۹۸۰ سے جب خرم شہر سقوط کر گیا، اب تک کے حالات موجود ہیں۔

بحریہ کے افسر اکبر پیرپور نے کتاب کی اُس خاص فصل میں خرم شہر کی مقاومت (آٹھویں فصل: کمانڈوز کا آپریشن)کے بارے میں بیان کیا ہے: "چند ہفتوں تک ہمارا کام یہ تھا کہ ہم صبح ہی سویرے، تقریباً چار یا پانچ بجے اٹھ جاتے۔۔۔ ناشتہ کرکے یا بغیر ناشتہ کیئے آبادان میں اپنے ہاسٹل سے خرم شہر آجاتے اور ہم میں جتنی بھی ہمت اور حوصلہ ہوتا ہم شہر کے مختلف علاقوں میں ظہر تک عراقیوں سے  جنگ کرتے۔ مغرب کے وقت جب عراقی  پیچھے ہٹ جاتے تو ہمارا کام بھی ختم ہوجاتا اور ہم آبادان واپس آجاتے اور اپنے آپ کو کل کی جنگ کیلئے تیار کرنے لگتے۔ کبھی دن کے وقت جنگ کے دوران ہماری گولیاں اور جنگی سامان ختم ہوجاتے ایسے میں ہم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوجاتے۔

خرم شہر میں ہمارے پاس کوئی حکمت عملی، کوئی خاص جنگی پروگرام اور جنگ کیلئے پہلے سے  طے شدہ کوئی پرواگرام نہیں تھا۔ ہمیں جس جگہ کے بارے میں بھی اطلاع ملتی کہ دشمن کی فوجیں وہاں پہنچ گئی ہیں اور رخنہ اندازی کر رہی ہیں، بغیر کسی تاخیر کے ایک گروپ وہاں جاتا اور دشمن کے نفوذ کرجانے والوں سے مقابلہ کرنا شروع کردیتا۔ البتہ ہمارے ساتھ علاقائی اور غیر علاقائی رضا کار جوان بھی تھے۔ ۔۔

عراقی رات کو خرم شہر میں رکنے سے ڈرتے تھے۔ ہمارے کمانڈوز اور شہر کے افراد رات کو جاتے اور ٹینک شکار کرکے لاتے تھے اور اس طرح اُنہیں نقصان پہنچاتے تھے۔ عراق سوچ رہا تھا کہ خرم شہر میں پورا ایک ڈویژن مستقر ہے! اسی ڈر و خوف کی وجہ سے شروع کے دو تین ہفتے تک وہ راتوں کو شہر  میں نہیں رکتے تھے۔

ہم راتوں کو آبادان میں محلہ بریم میں پٹرولیم کمپنی  کے گھروں میں سوتے تھے۔ عراق رات سے صبح تک ہمارے اوپر گولے برساتے۔ ہم لوگ اس قدر تھکے ہوئے ہوتے تھے کہ حتی دھماکے کی آواز سے بھی ہمیں بیدار نہیں کر پاتی تھی۔۔۔"


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 3226



http://oral-history.ir/?page=post&id=8548