منصورہ قدیری نے بہجت افراز کے بارے میں بتایا

تمہیں ماں کا کردار بھی ادا کرنا ہے اور باپ کا بھی

راوی: منصورہ قدیری

مرتب: مریم رجبی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-05-15


میرے شوہر نے بہت زیادہ اسیری کاٹی ہے اور میں نے محترمہ بہجت افراز سے بہت زیادہ توانائی حاصل کی ہے۔میں ۲۸ سال کی تھی جب میرے شوہر لاپتہ ہوگئے اور جب پتہ چلا کہ وہ اسیرہیں، میں اُس وقت بہت سے کاموں میں مشغول تھی اور میں تمام اوقات میں مصروف تھی۔ اُس سپاہی کی طرح جو صبح جوتے پہنتا ہے اور کتاب یا رجسٹر پر سر رکھ کر اُسے نیند آجاتی ہے۔ میں شہید رجائی یونیورسٹی میں ٹیچر تھی اور میں وہاں سے علامہ امینی سیکنڈری اسکول میں نظارت کرنے جاتی، جب میں واپس آتی، مجھے اپنے ساتھ کام کرنے والے کے بچوں کو خاص طور سے ریاضی پڑھانی ہوتی تھی اور میں نے خدا کے علاوہ کسی سے کوئی صلہ نہیں چاہا۔

میرے شوہر اپنی اسیری کے اوائل میں بالکل لاپتہ تھے، کچھ عرصے بعد اُن کا ایک خط آیا، اُس کے بعد ایک سال ، ڈیڑھ سال یا دو سال کے عرصے تک ہمیں اُن کی طرف سے حتی ایک بھی خط نہیں ملا اور جب اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد میرے شوہر کی طرف سے ایک تین لائنوں والا خط آیا تو میرے والد نے خط کو پڑھا، حالانکہ اُس وقت وہ صرف ۵۷ سال کے تھے، اُنھیں رات کو دل کا دورہ پڑا اور صبح کو ہم نے انھیں دفنا دیا! میں ان تمام مشکلات کے باوجود حواس باختہ نہیں ہوئی۔ میں نے یا علی کہا اور خدا سے مدد مانگی۔

محترمہ افراز اسیر اور لاپتہ ہوجانے والے افراد کے گھر والوں کی بہت ہمت بندھاتی تھیں۔ کام کے اوقات کا مشخص ہونا اُن کیلئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا اور میں جب بھی کرج سے آتی تھی، وہ ہمیشہ کام میں مشغول ہوتی تھیں۔ میں نے نفسیاتی مشاورت میں تعلیمی ڈگری حاصل کی تھی اور میں جو کام انجام دے رہی تھی، شاید اُس میں دوسروں سے زیادہ ذمہ داری کا احساس کرتی تھی۔ ان موارد میں محترمہ افراز بھی کبھی کبھار مجھ سے راہ حل لے لیتی تھیں۔ مجھے یاد  ہے کہ ایک دن میں یونیورسٹی اور ہائی اسکول سے واپس آچکی تھی اور بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی۔ انھوں نے مجھے فون کرکے کہا کہ بس تم یہاں پہنچ جاؤ۔ میں پریشانی ہوگئی، میں نے پوچھا کہ کیا مرسل کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے؟انھوں نے کہا: نہیں، ایک اسیر کی زوجہ کے بارے میں بات کرنی ہے۔

جب میں پہنچی، میں نے وہاں ایک جوان خاتون کو بیٹھے ہوئے دیکھا، جس کے ہاتھوں میں اُس کے خوبصورت بچے کی تصویر ہے اور وہ خود کو جلانے کیلئے اپنے ساتھ پٹرول لائی ہے! ہماری محترمہ افراز جو اس قدر مشکلات کو حل کرنے والی تھیں، انھیں بھی اس خاتون کے بارے میں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں اُسے تھوڑا بہت اپنی مشکلات کے بارے میں بتاؤں تاکہ وہ پرسکون ہوجائے۔ میں نے کمرے کے اندر جاکر اُس سے بات کی۔ میں نے اُس کے سامنے قرآن رکھا اور بالآخر میں نے اُسے راضی کرلیا، میں نے اُس سے کہا کہ تمہارے خیال میں تمہارے خودکشی کرنے سے اس بچے کی مشکلات حل ہوجائیں گی؟ نہیں! تمہیں ماں کا کردار بھی ادا کرنا ہے اور باپ کا بھی۔

نوٹ: منصورہ قدیری، آزادی پانے والے میجر جنرل مرسل آہنگری کی زوجہ ہیں۔ اُن کے شوہر دس سال صدامی ا فواج کی  قید میں رہے۔ محترمہ قدیری ملک میں بہترین مشیر  کے عنوان سے منتخب ہوئیں اور اس کے علاوہ انھیں ۳۱ سال تعلیمی ادارے میں کام کرنے کا تجربہ ہے۔ شہید رجائی یونیورسٹی میں استاد، مختلف سیکنڈری اسکول میں انچارج اور ناظر، نیز دس سال سیکنڈری اور پرائمری اسکولوں میں نفسیاتی مشیر ہونا بھی اُن کی کارکردگی میں شامل ہے۔ منصورہ قدیری نے "اسیروں کی ماں، بہجت افراز کی یاد میں ہونے والے پروگرام: بانوی باران" میں تقریر کی جو بدھ کی شام، ۶ مارچ ۲۰۱۹ کوآرٹ گیلری کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔



 
صارفین کی تعداد: 123



http://oral-history.ir/?page=post&id=8547