مسلط کردہ جنگ کی پہلی طبی معاون خاتون سے گفتگو

گفتگو: سارا رشادی زادہ
ترجمہ: سید محمد جون عابدی

2015-11-24


اشارہ: عراق کی طرف سے ایران پر تحمیل کی ہوئی جنگ کے دوران بہت سی خواتین مردوں کے قدم سےقدم ملاکر محاذ پر گئی تھیں۔اور نرس کا کام کرنا،ایمبلنس چلانا،فوجی بنکر لڑنا،فوج کی پشتپناہی کرنا اور فوجی سازو سامان ان تک پہونچانے جیسے کام کرکے اپنے ملک کا دفاع کرتی تھیں۔ ایران ترابی ایسی خاتون ہیں جو۲۴سال کی عمرمیں سب سے پہلی طبی امداد پہونچانے کی غرض سے پاوہ اورسوسنگرد گئی تھیں۔انہوں نے وہاں کےحالات کے سلسلہ میں ہم سے گفتگوکی۔

 

آپ کی کتاب کے عنوان سے گفتگو شروع کرتے ہیں۔آپنےاپنی جنگ کی یادداشت کو ’’خاطرات ایران‘‘کتاب کی صورت میں شائع کیاہے؛ہم کوبتائیے کیسے آپ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اپنی جنگ کی یادداشت کو شائع کیا جانا چاہئے؟

میں اپنی یادوں کوشائع کرنے کی فکر میں نہیں تھیں بلکہ یہ محترمہ اعظم حسینی اورانکے دوستوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے آکر مجھسے ملاقات کی اورمکرر گفتگو کرتے ہوئے مجھے یادداشت کوکتابی صورت میں شائع کروانےکی تشویق دلائی۔

میں ان یاددشتوں کو شائع کرکے اپنے آپ کو پہچنوانا نہیں چاہتی تھی۔میں اس کام کےکوصرف آخرت کے لئے ذخیرہ کرنا چاہتی تھی۔ان تمام وجوہات کےباوجود محترمہ حسینی نے مجھ سے کہا:’’اگرآپ اپنی یادداشت کو بیان نہیں  کریں گی اورنہیں بتائیں گی کہ دفاع مقدس کےان آٹھ سالوں میں آپ پر کیا گذری تھی،تو یہ تمام واقعات مبہم رہ جائیں گے۔اورہماری آنے والی نسل کو معلوم ہی نہ ہوپائےگا کہ جنگ میں کیا ہوا تھا۔آپ وہاں رونما ہونے والے واقعات کو بیان کریں اورانہیں تحریر کردیں تاکہ آئیندہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔‘‘

ان کی باتوں نے مجھے قانع کردیا اورمیں نےکتاب لکھنا شروع کردی۔اس کتاب’’خاطرات ایران‘‘کو آمادہ کرنے میں دو تین سال کا وقت لگ گیا۔

 

ترابی صاحبہ آپ ہمیں جنگ کے ابتدائی ایام کے بارے میں کچھ بتائیں؛اس وقت آپکی کی کیا عمر تھی؟اوران دنوں کی کونسی باتیں آپ کو یاد ہیں؟ہم مکمل طور پر جاننا چاہتےکہ جیسے ہی جنگ کا اعلان ہواوریہ خبرلوگوں میں پھیلی تو لوگوں کےکیا تاثرات تھے؟

ایران اور عراق کی جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی ہم ملک کےاندرایک جنگ کرچکے تھے۔اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی دشمنان اسلام خاموش نہ بیٹھےتھےاورمنظم طور پر ہمارے خلاف فعالیت کررہے تھے۔

اوران سازشوں میں سےایک کردستان،خوزستان اور صحرائےترکمن کوایران سےجدا کرنے کی کوششیں تھیں۔

پاوہ کا محاصرہ بھی انہیں فعالیتوں کا ایک نمونہ تھاکہ اس کے رد عمل میں امام خمینی رہ نے فرمایا تھا:’’۲۴ گھنٹے کے اندر پاوہ آزاد ہوجانا چاہئے۔‘‘

ہم نے تہران کی شہید بہشتی یونیورسٹی میں ایک چھوٹا سا گروپ بنایا اور پاوہ کو آزاداکرانے کا عزم لیکر نکل پڑے۔

وہاں ہماری ملاقات ڈاکٹر چمران سے ہوئی۔اب یہ بتانے کا موقع نہیں ہے کہ کس مشکل اورمشقتوں سے ہم کو پاوہ میں داخل ہونےکی اجازت ملی۔اس زمانےمیں شہر پاوہ کو انقلاب مخالف عناصر نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔اور اس وقت ہم اپنا فرض ہی یہ سمجھ رہے تھے کہ وہاں پر رہکر محاصرہ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لئے اپنی پوری کوششیں اورتدبیریں لگادیں۔اور پروردگار کے لطف وکرم سے پاوہ کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوگئے اوراس کی آزادی تک ہم نے وہاں کے زخمیوں کی خدمت کے فرائض انجام دئے۔

 

جس گروپ کےساتھ آپ پاوہ گئی تھیں کیا اس میں آپ کے علاوہ دیگر خواتین بھی موجود تھیں ؟

میں اکیلی عورت تھی جو اس گروہ کے ساتھ پاوہ گئی تھی،اگرچہ وہاں کرمان کے باختر سے بھی کچھ دوسری خواتین آکر ہم سے ملحق ہوگئی تھیں۔لیکن موسم اور ماحول کے سخت ہونے کی وجہ سےان میں سے اکثر 48 گھنٹوں سے زیادہ وہاں نہ ٹک سکیں اور وہاں سے چلی گئیں۔

 

کیا آپ طبی خدمات انجام دینےکےلئے فوج کے عنوان سے پاوہ گئی تھیں؟

میں بیہوش کرنے والے ٹیکنیشین کے عنوان سے وہاں طبی خدمات انجام دینے گئی تھی۔اور خوش قسمتی سے وہاں پر ہماری موجودگی بہت مفید ثابت ہوئی۔خدا کا شکر ہے کہ ان حالات میں بھی ہم خدمات انجام دینے میں کامیاب ہوگئے۔

 

پاوہ میں آپنے جو سب سے پہلا منظر دیکھا تھا اس کے بارے میں کچھ بتائیے۔

جب ہم پاوہ پہونچے تو دیکھا کہ کچھ زخمی لوگ گھروں میں تھے اور کچھ کی حالت بہت خراب تھی۔ جیسا کہ آپنے سنا ہوگا کہ اسپتال کے بہت سے زخمیوں اورمریضوں کو انقلاب مخالف فوج نے شہید کردیا تھا۔

جس وقت پاوہ کا اسپتال آزاد ہوا اور ہم وہاں پہونچے تو ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں نے مریضوں کو بہت بری طرح سے مارا تھا۔   

اس سے پہلے تک ہم اسپتال تک دسترسی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں اورزخمیوں کوعلاج کے خاطر وہیں فوجی ٹھکانے پر لایا کرتے تھے اور اسے اسپتال کی شکل دی ہوئی تھی۔

اس وقت میں نے سوچا کہ اگر یہ علاج کی جگہ بھی انقلاب مخالف کے ہاتھوں میں چلی گئی تونئی مصیبت آجائے گی۔اسی لئے ہم  نے خواتین کو جمع کیا اور انہیں کم مدت میں طبی خدمات کی ایک ٹریننگ دی تاکہ سخت حالات میں اور ضرورت  پڑنے پر وہ زخمیوں کے لئے کچھ کام کرسکیں۔

 

محترمہ ترابی صاحبہ اس بات کے پیش نظرکہ اس وقت آپ پاوہ میں تنہا طبی خدمات پہونچانے والی خاتون تھیں اورطرح سے آپ کا کام بہت ہی سخت تھا تواس سلسلہ میں آپ کے گھر والوں اورآپ کے گروپ کے افراد کا کیا نظریہ تھا؟ کیا انہوں نے آپ کی بات کو آسانی سے قبول کرلیا تھا یا آپ کومشقت کا سامنا کرنا پڑا تھا؟

نہیں،ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ان لوگوں نے بہت ہی آسانی سے مجھے جانے دیا اور میری بات مان لی۔ہمارے گروہ کے سرپرست ڈاکٹر زرکش تھےجو کہ آرتھوپیڈسٹ تھے۔ہم دونوں آپریشن تھیئٹر میں ایک ساتھ کام کرتے تھے۔انہوں نے ہی تمام کاموں کو انجام دیا تھا اور بہت ہی بہترین انداز میں ہمارے اس مسئلہ کا استقبال کیا تھا۔ہم پہلے تہران سے کرمانشاہ کے طالقانی ہسپتال گئے اورپھر وہاں سے پاوہ گئےاوردونوں ہی شہروں میں ہمارا بہت زبردست استقبال ہوا۔

 

آپ کے پاس موجود طبی وسائل کس طرح کے تھے؟

وہاں جانے سے پہے چونکہ میں خود طبی میدان سے تعلق رکھتی تھی اور ان چیزوں کے بارے میں  جانتی تھی لھٰذا جو وسائل پاوہ میں مہیا نہیں تھے جیسے شکر اور نمک کے گلوکوز اوردیگر دوایئں وغیرہ تو انہیں میں ڈاکٹر زرکش کی مدد سے آپریشن تھئیٹراوریونیورسٹی سے ہی اپنے ساتھ لیکر گئی تھی۔

جب کرمانشاہ پہونچے تو بینڈ،اسٹریل گیس، اورضروری دوائیاں وہیں طالقانی ہسپتال سے حاصل کرلیں۔اورسارے سامان کے ساتھ وہاں سے پاوہ چلے گئے۔اگر گھراؤ کی مدت طولانی ہوجاتی تو ہمیں وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا۔محاصرہ ٹوٹتے ہی فوج زمینی راستہ سے شہرمیں داخل ہوگئی اور ہوائی راستہ بھی کھل گیا۔اسی وجہ سے دوائیوں اوروسائل کی کمی کا زیادہ اثر نہیں ہوا۔

 

اس دوران یقینا آپ کےلئے شہید ہوجانے یا اسیر ہوجانے کا خطرہ بنا یوا تھا،توان حالات سامنا آپنے کیسے کیا تھا؟

سو فیصد۔جب ہم ہیلی کاپٹرکے ذریعہ پاوہ جارہے تھے تو انقلاب مخلاف فوج مسلسل ہمیں نشانہ بنارہی تھی لیکن پائیلٹوں نے اپنی مہارت کےذریعہ ہمیں صحیح و سالم پاوہ میں اتاردیا۔یہاں تک جب ہم اتر گئے اس وقت تک مسلسل ہماری طرف گولیاں  چلائی جا رہی تھیں۔ بہر حال خدا نے نہیں چاہا کہ ہمیں  گولی لگے کیوں کہ اگر ایک آر جی پی بھی ہیلی کاپٹر پر لگ جاتی تو ہمارا کام تمام تھا۔ہم یہ سب جانتے تھے ۔ ہمیں معلوم تھا کہ شاید واپس نہ لوٹ پائیں۔ ہمیں پتہ تھا کہ ہماری شہادت کا امکان ۹۰ فیصد اوربچنے کا صرف ۱۰ فیصد ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنےہوش وحواس میں گئےتھے۔

حقیقت بھی یہی ہےکہ اگر کوئی ان مسائل میں وارد ہونا چاہتا ہے تواس میں ہمت اورجذبہ ہونا چاہئے۔اسے یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ حتما صحیح وسالم واپس ہی آجائیں گے۔ بہر حال اس قسم کے حالات میں آپ کے سامنے تین باتیں ہوتی ہیں۔یا آپ شہید ہوجائیں  گے یا زخمی ہوجایئں گے یا پھر اسیر ہوجایئں گے۔اگرچہ چوتھا احتمال زندہ اورصحیح وسالم بچنےکا بھی ہے۔ لیکن ہم نے پہلےشہادت،پھرزخمی اوراسیر ہونے کا احتمال دیا تھا۔خدا نے چاہا اور ہم صحیح وسالم واپس آگئے۔

 

آپ کو قید یوجانے سے ڈرنہیں لگتا تھا؟

نہیں اصلا ڈر نہیں لگتا تھا۔ میرا سارا ہم وغم یہ تھا کہ کسی طرح سے مدد پہونچ جائے۔  ہم نےواقعہ عاشورا کو بارہا مجلسوں میں سن رکھا تھا وہاں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھاکہ ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘۔

ہم اگر یاحسین ،یا ،زینب کہتے تھے تو اسی بات کو بتانا چاہتے تھے۔صرف میں ہی نہیں بلکہ تمام سپاہی اس مسئلہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔وہاں کسی خوف اور ڈر کا سوال ہی نہیں تھا۔سب کو خدمت کی فکر تھی اور سب یہی چاہتے تھے اس خدمت میں شامل ہوجائیں۔

میں نے وہاں ایک شخص بھی ایسا نہ پایا جو خوفزدہ ہو۔اگرچہ توپ اورٹینک کی آوازوں میں دباؤ اورذہنی تشویش فطری سی بات ہے۔لیکن تشویش اور خوٖف میں بہت فرق ہوتا ہے۔

 

ترابی صاحبہ اپنے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں؛یہ بتائیں کہ جب آپ پہلی بار جنگی علاقہ میں پہونچی اور آپ کو پتہ چل گیا کہ یہی  جنگی علاقہ ہے تو آپ نے سب سے پہلے کیسے مناظر مشاہدہ فرمائے؟

ہم راستہ میں تھے اوراندمشک سے اہواز جارہے تھے اوریہ دیکھتے جارہے تھےکہ کہاں ہماری ضرورت ہے۔

راستے بھر ہم یہی دیکھ رہے تھےکہ دشمن گاڑیوں کو نشانہ بنارہے تھےاور لوگ آج کی طرح جیسے شام میں ہورہا ہے گاڑیوں میں سوار ہوکر دوسرے شہروں کی طرف پناہ لینے جارہے تھے۔ ہم،لوگوں اور گاڑیوں کو جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ان کی چیخ پکار سن رہےتھے۔یہ مناظر ہمارے لئے بہت سخت تھے۔لیکن ہمیں جلدی پہونچنا تھا اور ہم رک نہیں سکتے۔

جب ہم اہواز میں داخل ہوئے تو پہلا منظر یہ دیکھا کہ ایک باپ اپنے بچےکا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے چلا جارہا تھا کہ ایک راکٹ اچانک آکر باپ کے سر پر گرا اور اس کا سر تن سے جدا ہوگیا اورمجھے اب بھی وہ منظر یاد ہے کہ بے سرکا دھڑ بچے کا ہاتھ پکڑ کر کافی آگے تک چلا گیا تھا۔

اس طرح کے مناظر اور گاڑیوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھنا میرے لئے بہت سخت تھا۔

رات کو ہم اہواز میں ساواک کی بلڈنگ میں رکے۔بہت وحشتناک عمارت تھی وہاں ہمیں اچھا نہیں لگا؛رات بہت خراب گذری اور صبح نماز کے بعد ہم سوسنگرد کی جانب چل دئے۔

جب ہم اہواز پہونچے تو شہید چمران وہیں ہلال احمر (ریڈ کریسنٹ)میں مقیم تھے۔وہ وہیں سے فوج کو جمع کرکے ٹریننگ دیتے تھے۔وہ ہم  لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اور کہا’’آپ لوگوں کو صرف سوسنگرد جانا چاہئے وہاں پانچ محاذ ہیں۔ وہ مریض اور زخمی افراد جنہیں کہیں جگہ نہیں مل رہی ہے بہتر ہے کہ انکا سوسنگرد کے اسپتال میں علاج کیا جائے۔‘‘

 

جس گروپ کے ساتھ آپ سوسنگرد گئیں تھیں کیا یہ وہی گروپ تھا جو آپ کے ساتھ پاوہ میں تھا؟

نہیں ،ہمارے گروہ میں کوئی فرق نہیں تھا۔وہاں  ہمارے ذمہ دار ڈاکٹر حسین الیاسی تھے اوریونہی ڈاکٹرتورپیان تھےجو اگرچہ مذہبی اقلیت میں سے تھے لیکن بہت ہی جذبہ سے کام کرتے تھے۔اور اسی طرح آرتھوپیڈسٹ ڈاکٹر منتظری جیسے افراد بھی ہمارے ساتھ تھے۔

ہمارے گروپ کو تہران کی جہاد سازندگی (سماجی تنظیم) جو اس وقت سمیہ روڈ پر واقع ہے،کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔اور میں جہادی برادران کی طرف سےاس علاقہ میں گئ تھی۔اور ہر ضروری چیزہم  تہران سے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

سوسنگرد کے محاصرے کے دوران ہم وہیں پرتھے۔اور حالات بہت خراب وحشتناک تھے۔

 

آپ کس سال میں پاوہ میں تھیں اورکب آپ جنوبی علاقہ کے محاذ پر پہونچی؟

ہم مرداد۱۳۵۸ کو  پاوہ میں تھے اورمہر۱۳۵۹میں ہم جنوب گئے تھے۔

 

آپ ایک عورت تھیں اسقدر دردناک مناظر کودیکھتی تھیں،کیا آپ کے نسوانی احساسات نے آپ کو وہاں سے واپس آنے کے لئے نہیں کہا؟

نہیں اصلا نہیں؛پروردگار نے ہمیں بہت ہی مضبوط ارادہ دیا تھا۔ کبھی کبھی میں کام کی وجہ سے تین تین دن اور راتوں تک سو نہیں پاتی تھی۔ خدا نے امدادی ٹیم اورفوج کے ارادہ کو بہت قوی بنا دیا تھا۔اوریہ امر اس بات کا سبب بنا کہ ہم نے اپنے آپ کو ہی فراموش کردیا تھا۔

ان دنوں ہم اسقدر مصروف تھے اور دوسروں کی جان بچانا ہمارے لئےاتنا اہم تھا کہ ہمیں اپنی فکر ہی نہیں تھی۔ ہاں کبھی کبھی بھوک ،پیاس اورکمزوری ہم کو ہماری یاد دلاتی تھی تو کچھ کھا پی لیا کرتے تھے تاکہ دوبارہ کام  کر سکیں۔

ان دنوں کے حالات کا موازنہ آج کےحالات سے نہیں کیا جاسکتاہے آج سب کو اپنی فکر ہے۔اگرچہ آج بہت سے اچھے افراد موجود ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر اس زمانہ اوراس زمانہ کی کوئی برابری نہیں ہے۔ سارے فوجیوں کو فقط دین،زمین اورعزت کی فکر تھی۔اور اس راہ میں اگر گولی بھی لگ جاتی تھی تو احساس نہ ہوتا تھا۔وہاں ہمارے سامنے ایک زخمی تھا جس کا پیر کٹ گیا تھا لیکن وہ اسقدر مشغول تھا کہ اسے خبرہی نہیں تھی کہ اس کا ایک پیر کٹ گیا ہے وہ بار بار کھڑا ہوتا تھا اور گر پڑتا تھا۔

 

محاذ پر موجودہ فوجیوں میں سےکچھ خواتین بھی تھیں جو مردوں کے قدم سے قدم ملاکر جنگ کررہی تھیں۔ کیا آپ نے بھی وہاں ایسی خواتین کو دیکھا تھا؟

شہر آبادان کو محاصرے سے آزاد کرانے میں خواتین کا بہت بڑا کردارہے وہاں فوجی خواتین سے صرف ایک پل آگے تھے۔

خواتین ٹھکانوں کے پیچھے بیٹھ کر بندوق صاف کیا کرتی تھیں اورفوجیوں کو دیا کرتی تھیں۔بعض مواقع پر خواتین کو بھی قید کرلیا جاتا تھا۔

مثلا ایلام میں آپریشن مرصاد کے دوران خواتین نے ہی شہرکی حفاظت کا کام انجام دیا تھا۔اس وقت مرد جنگ کے لئے اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔خواتین نے بندوقوں کوسنبھال لیا تھا اورکمربند باندھ کرشہر کی حفاظت کرنے لگیں تھیں۔

افسوس کی بات یہ ہےکہ جنگ کی روایت میں تین قسم کے گروہوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ پہلا مورد خواتین کا ہے جن کے بارے میں امام خمینی رہ نے فرمایا تھا:’’اگر خواتین نہ ہوتیں توہم جنگ میں کامیاب نہ ہو پاتے۔‘‘اگرچہ اب حالات بہتر ہوگئے ہیں۔ دفاع مقدس کے دوران خواتین کے کردار پر پہلے سے زدیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ دوسرا گروہ قیدیوں کا ہے جنہوں نے بہت زیادہ استقامت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اور انمیں سے بہت سے افراد کو مظلمومی کے عالم میں شہید بھی کردیا گیا تھا؛لیکن ان کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو نہیں کیجاتی ہے۔اور بہت زیادہ انکا تعارف نہیں کرایا گیا ہے۔اور تیسرا گروہ ان افراد کا ہے جو فوجی ٹھکانے تیار کیا کرتے تھے۔ جہاد سازندگی کے وہ افراد جنہوں نے پل بنائے،اونچی دیواریں بنائیں،فوجی ٹھکانے بنائے اورحملہ کی جگہیں تیار کیں:

میں نے سوسنگرد میں خود اس بات کا مشاہدہ کیا تھا کہ ۵۔۶ افراد جو بولڈوزروں کے ڈرائیور تھے وہ شہر کی حفاظت کے لئے مٹی کو سمیٹ کر اونچی دیواریں بنا رہے تھے۔ اور اسی دوران ان کی شہادت واقع ہوگئی۔اور اگر انمیں سے کوئی شہید ہوجاتا تو فورا دوسرا ڈرائیور جاکر اس کی جگہ لے لیتا تاکہ کام رکنے نہ پائے۔

دفاع مقدس کے سلسلہ میں یہ تین گروہ واقعی مظلوم واقع ہوئے ہیں۔خواتین میں بہت سی میری طرح طبی امور انجام دیتی تھیں،بہت سی خواتین اسلحہ صاف کرتی تھیں اوردیگرمتعدد خواتین رائیفل کی میگزین لوڈ کرتی تھیں اورآمادہ اسلحہ بھائیوں کے ہاتھوں تک پہونچاتی تھیں۔ بہت سی خواتین امبولنس چلاتی تھیں اورزخمیوں کو لیجاتی تھیں۔

متعدد دفعہ میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ وہ خواتین جو مراکزاورتنظیموں میں کام کرتی تھیں وہ اپنے بچوں کو محاذ پر بھیج دیتی تھیں اور خود ان مراکز میں کام کرتی تھیں اورفوجی سازوسامان کے سلسلہ میں  فعالتیں انجام دیتی تھیں۔ البتہ میں بتادوں کہ۸۰فیصد فوجی سازوسامان کا کام خواتین انجام دیتی تھیں۔وہ لوگ جیم ،میوے،ترش اشیا اور کین وغیرہ کو پیک کرتی تھیں اورمحاذ پر بھیجتی تھیں۔ جس زمانہ میں ہم سوسنگرد میں تھے اورجب کھانا ہم تک نہیں پہونچ پاتا تھا تو ہم انہیں چیزوں کو کھاتے تھے۔

یا مثال کے طور پر دوسرے موارد میں بہت سی خواتین فوجیوں کے لئے سردی اورگرمی کے کپڑے تیار کرتی تھیں یا انکے گندے لباسوں کو دھوکر دوبارہ جنگی علاقوں میں بھیج دیا کرتی تھیں۔اور بعض علاقوں مثلا خرمشہر وغیرہ میں توخود ہی یہ خواتین ان سامانوں کو فوجیوں تک پہونچادیا کرتی تیں۔تاکہ انہیں خود اطمینان ہوجائے کہ سامان پہونچ گیا ہےکیونکہ انکے لئے یہ بات بہت اہمیت رکھتی تھی۔

بہت سے دیگر مقامات پر مثلا تہران،خرمشہر،آبادان اوردوسرے بہت سے شہروں کے بہشت زہرا ص(قبرستان)میں خواتین اپنے ہاتھوں میں پھاوڑ اور بیلچا لیکر قبر کھودنے کا کام کیا کرتی تھیں۔جنازوں کو دھوتی تھیں اورانہیں دفن کردیا کرتی تھیں۔

 

آپکی نگاہ میں کیا وجہ ہوسکتی کہ وہ خواتین جو محاذ پر موجود تھیں ان کی یادداشتیں مردوں سےکم ہیں۔ جبکہ بہت سے عورتیں ایسی تھیں جنہوں نے محاذ پر صف اول میں جاکر جنگ کی تھی؟

اس  مسئلہ کا تعلق ذرائع ابلاغ سے ہے۔مصنفین،فلم ساز اور کلی طور پرمیڈیا کے افراد نے اس مسئلہ میں زیادہ کام ہی نہیں کیا۔ یا یہ تین گروہ فراموش کردئے گئے اب آپ صحافی حضرات کی ذمہ داری ہے کہ کوشش کیجئے اس کام کو نتیجہ تک پہونچائیے۔

اگر میڈیا جنگ کے ابتدائی ایام سے ہی توجہ دیتی توایسا ہرگز نہ ہوتا۔مثلا پاوہ کا قضیہ بالکل ہی غیرمعروف ہے۔اس سلسلہ میں صرف اسپتال کی ایک فلم لی گئی تھی۔اوراس میں مجھ سے انٹرویو لیا گیا تھا۔اس انٹرویو پرمیں نے تنقید کی تھی کہ کیوں ان حالات کا مناسب طور پر تجزیہ نہیں کیا جارہاہےاورعوام کو کیوں نہیں بتایا جارہاہے  تاکہ سب دیکھیں اورسبکو معلوم ہو کہ کس بے رحمی سے پاوہ کی عوام اورجوانوں کو شہید کیا گیاہے۔

اس انٹرویو کے بعد یعنی اگلے سال ہم نےدیکھا کہ میڈیا والے پاوہ گئےتھے اوروہاں کی عوام سے گفتگو کی اوراس کی ڈاکیومنٹری بنائی۔ایک ڈاکیومنٹری ہمارے ساتھ بھی بنائی اورلوگوں کو بتایا کہ وہاں کیا ہوا تھا۔اب بھی جنگ کی بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بیان نہیں ہوئی ہیں۔میری طرح اب بھی بہت سے ایسے فوجی ہیں جن کی باتیں اب تک نہیں کہی جا سکیں ہیں۔ انہیں لکھا جانا چاہئیے تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہوکہ ان پر کیا بیتی تھی۔

 

ان سالوں میں بہت سی خواتین آپ کے پاس علاج کےلئے آئی ہونگی کیا ان میں سے کوئی ایسی تھیں جن کی یاد اب تک آپ کے ذہن میں موجود ہو؟

ہم لوگوں کا زیادہ تر کام آپریشن تھئیٹر میں تھا۔ ہم مریضوں کا آپریشن کرنے کے بعد انہیں فورا باہر بھیج دیا کرتے تھے۔وارڈ میں ہم ان کےساتھ نہیں ہوتے تھےکہ انکے بارے میں پوچھ پاتے۔ لیکن جب ہم تہران واپس آگئے اورامام حسین ع ہسپتال اور ۱۷شہریور ہسپتال میں کام کرنے لگے تو اس دوران اہواز کی ایک خاتون اور کرمانشاہ کے باختران کی کچھ عورتوں کو وہاں لایا گیا تھا جن کی یادیں اب بھی میرے ذہن میں موجود ہیں۔

ان دنوں اسپتال میں میرا کام مریضوں سے متعلق وسائل تہیہ کرنا تھا اورمیں اسوقت کم ہوئی چیزوں کا حساب کتاب کررہی تھی۔ وہ خاتون جو اہواز سے آئی تھیں ان کا نام فوزیہ سلیمانی تھا۔ جس وقت اہواز پر بمباری ہورہی تھی وہ حاملہ تھی اور اپنے دو بچوں کےساتھ گھرمیں تھی۔ بمباری میں اس کےدو بچے شہید ہوگئےاوراس کا پیر بھی زخمی ہوگیا تھا اوراسی وجہ سے اس کو علاج کے خاطر تہران لایا گیا تھا۔ اورہمارے اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔ ہم اسپتال میں فوزیہ کے بطن میں پانچ مہینہ کے بچےکو بچانے کی کوشش میں لگے تھےاور انہیں ہلکے ڈوز کی بیہوشی والی دوا دے رہےتھے۔ لیکن اتنی دیکھ ریکھ کے باوجود بچہ نہیں بچ سکا اورساقط ہوگیا۔ اورفوزیہ کو تین تین بچوں کا داغ اپنے سینہ پر برداشت کرنا پڑا۔ اور دوسری جانب سے اس کے ایک بیٹےکو گاؤں بھیج دیا گیا تھا تاکہ وہ جنگ سے دور رہے۔ لیکن جب اس کا شوہر جو خود فوجی تھا اورمحاذ پر جنگ کررہا تھا،اپنے بچے کو دیکھنے کے لئےگاؤں گیا تواس نے بہت دلخراش منظر دیکھا اس کا بچہ کھیلتے ہوئے پیڑ سے گرا اور وہیں جاں بحق ہوگیا۔ لیکن چار بچوں کےدنیا سے جانے کے باوجود اس کے جذبہ میں کمی نہیں آئی تھی۔کیوں کہ کام ختم ہونے کے بعد جب ہم اورکرمانشاہ سے آئی ہوئی خواتین اس کے پاس بیٹھتے تھےتو اپنی داستان سناتی تھی اوراس کی باتوں کو سننے کے بعد ہمارے جذبہ میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔

جس زمانہ میں دزفول پر حملہ ہوا اور گولیاں چل رہی تھیں اورہر روز ہمارے پاس متعدد زخمیوں اورشہیدوں کو لایا جاتا تھا اس وقت بھی خواتین نے شہر کو نہیں چھوڑا تھا اورپوری استقامت کے ساتھ شہر کی حفاظت کی۔اوراسی لئےاس کا نام’’شہر مقاومت‘‘پڑگیا۔

 

ترابی صاحبہ آپ کن سالوں میں محاذ پر تھیں اورکن آپریشنوں اورعلاقوں میں موجود تھیں؟

میں ابتدائی تین سالوں میں بہت شدید ضرورت پڑنے کی وجہ سے مسلسل آیا جایا کرتی تھی۔ جنگ کے ابتدائی ایام میں سوسنگرد میں تھی اوراس کے بعد آُپریشن والفجر ۳ اور۴ میں موجود تھی۔ دزفول میں مغربی اورجنوبی مغربی محاذوں کے درمیان،شہید کلانتری اسپتال میں اورآپریشن کربلا4 کے دوران موجود رہی تھی۔آبادان کے محاصرہ کو توڑنے کے آپریشن میں اوراس کے بعد شوش میں اورآپریشن فتح المبین میں بھی موجود تھی۔ میں والفجر 8میں بھی موجود تھی تہران اسپتال میں وسائل کے کاموں کے لئے تین چار افراد کو اپنی جگہ چھوڑ کرمیں آپریشن کے علاقہ کی طرف چلی گئی تھی۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ کچھ ڈاکٹروں اورڈاکٹر نوری صاحب نے کہا تھا:’’آپ کوجانے کا حق نہیں ہے یہاں آپ کی سخت ضرورت ہے۔ کیوںکہ زخمیوں کے امورکو آپ کے علاوہ کوئی انجام نہیں دے سکتا ہے۔‘‘میں آپریشن مرصاد کے شروع ہونےسے پہلےتک تہران میں رکی رہی اورآپریشن شروع ہوتے ہی اس علاقہ میں چلی گئی۔اوراس علاقہ کی آزادی تک ایلام اوراسلام آباد کے درمیان واقع شہید سلیمی اسپتال میں رہی۔اس اسپتال میں ہم ٹھیک دشمن کے بیچ میں تھے چاروں طرف سے گھرے ہوئےتھے۔خدا کے لطف وکرم سے آپریشن انجام پایا اورہم آزاد ہوگئے۔

 

اگر پھر سے جنگ چھڑ جائے اور پھر ویسے ہی حالات پیدا ہوجائیں تو کیا آپ ان تمام دباؤ اورخوف کے باوجود ایک عورت کے عنوان سے محاذ پردوبارہ جانےکو راضی ہوجائیں گی؟

سوفیصد میں دوبارہ محاذ کی پہلی صف میں حاضر رہوں گی؛کیوں آج  ہمارے پاس جو کچھ ہےاسلام کی دین ہے اورامام رہ کی باتیں اب بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ہماری جان چلی جائے لیکن ہم ہمیشہ ولایت کی پشتیبانی کریں گے۔ہماررے خون کے قطرےکی کوی اہمیت نہیں۔جب بھی آقا(رہبر انقلاب آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دامت براکاتہ)کا حکم ہوگا۔ہم ان کےحکم کواپنی پلکوں پررکھیں گے اوراپنے فرض کو انجام دیں گے۔آج اگرچہ ہماراجسم اس طرح صحیح و سالم نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جو انکا حکم ہوگا اس پر عمل پیرا ہو جائیںگے۔ہمارے لئے ان سب باتوں کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔جہاں اسلام سے جنگ ہوگی ہم صف اول میں کھڑے نظر آئیں گے۔

 

محترمہ ترابی صاحبہ جنگ کے دوران آپ زخمی ہوئی تھیں اس بارے میں  ہمیں بھی کچھ بتایئے۔

آپریشن والفجر 8کے دوران میں زخمیوں کی خدمات میں مصروف تھی اورانہیں زخمیوں میں شیمیائی مریض تھے،اسی دوران میرے گردے میں انفیکشن ہوگیا تھا اورتب سے میں بھی شیمیائی مریض ہوں۔

 

یعنی زخمیوں کےعلاج کےاثر کی وجہ سے یہ بیماری آپ کولاحق ہوئی؟

جی ہاں؛ہم نے ایک ایمرجنسی وارڈ بنایا تھا اورجن مریضوں کی حالت بہت خراب ہوا کرتی تھی ان کو ہم وہیں رکھتے تھے۔ تقریبا۱۵۰۰ زخمی مریضوں کو وہاں رکھا گیا تھا۔جس کا اثر مجھ پر بھی ہوا اوردو راتوں کے بعد اس کا اثر 40 درجہ تک پہونچ گیا تھا۔مجھے ڈریپ لگایئ گئی تیز اثر والی اینٹی اکسیڈ کا انجیکشن لگایا۔اس وقت کسی کو اپنی فکر نہیں سب دوسروں کوبچانے کی فکر میں تھے،مجھے نھی نہیں معلوم تھااورمیں بھی بیماری میں مبتلا ہوگئی۔  

 

آپ کو کب پتہ چلا کہ آپ شیمیائی مریض ہوگئی ہیں اور کون سی علامتوں کی وجہ سے آپ متوجہ ہوئیں؟

مجھے ہرچیزسےالرجی ہوگئی تھی۔ میرےگردےمیں بھی تلخ اورخراب  چیزیں مخلوط ہوگئی تھیں جو اس میں سے نکل رہی تھیں۔میرے منھ میں زخم ہوگیا تھااورمیری آوازبیٹھ گئی تھی۔

 

چونکہ آپ محاذ پرموجود تھیں لھٰذا آپ سے آپ کی یادداشت کےسلسلہ میں  بہت سے سوال ہوچھے جاتے ہیں تو اگر میں آپسے پوچھوں کہ آپ کی سب سے اہم  یاد کیاہے توکون سی یاد کا تذکرہ کریںگی؟وہ کون سی چیز ہے جوآپ کےذہن میں نقش کرگئی ہےاورہمیشہ آپ کو جنگ کی یاد دلاتی رہتی ہے۔اورآپ کوان ایام کی طرف پلٹادیتی ہے؟

۳۱شہریور ۱۳۵۹کو جب ائیرپورٹ پر حملہ کیا گیا اور وہ خبر ہم نے سنی اوراس کے بعد ایک بعد مغرب اورجنوب سے دشمن نےحملہ کرکے ہماری ایک بعد ایک چھاؤنی کو چھین لیا۔وہ میری سب سے خراب یادداشت ہے۔دوسرا تلخ واقعہ اس رات کا ہے جب ملک کے وزیر برائے پٹرلویم جناب محمد جواد تندگویان کو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ہم سب سوسنگرد میں جمع ہوئے تھے اوروہ شب ہمارے لئے بھت سخت اورسنگین تھی۔

اگرچہ اس دورکا ایک بہت بہترین واقعہ بھی ہے اور وہ آپریشن فتح المبین میں شہر شوش کی آزادی تھی۔میں پھولے نہیں سمارہی تھی۔شہر کا اچھا خاصہ حصہ آزاد کرالیا گیا تھااورتقریبا ۱۵ہزارعراقی  فوجیوں کواسیر کرلیا گیا تھا۔جب ان کولایا گیا تو ان کی حالت بہت خراب تھی ان میں بعض کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ہم اس وقت بہت خوش تھے کیوں کہ عید نوروز کا دوسرا دن بھی تھا۔ان تمام زحمتوں اورسختیوں کے بدلے خدا نے ہمیں بہت اچھی عید عطا فرمائی تھی۔

 

جب عراقی زخمیوں کا علاج کررہی تھیں توآپ کی کیا کیفیت تھی؟

ہمارا کام ایسا ہے کہ ہمیں سب کی خدمت کرنی ہوتی ہے۔ کوئی ان کی اہانت یا بےاحترامی کرتا ایسا قطعی نہیں تھا۔دل سے ہم ان سے ناراض تھے۔اوروہ لوگ ہمیں بہت برے لگ رہے تھے۔لیکن اس کے باوجود ہم سے جو ہوسکا ہم نے انجام دیا۔ہمارے فوجیوں کے مقابلہ ،عراقی فوجیوں کاجذبہ بہت کم تھا اوروہ بہت ڈر رہے تھے۔

 

آخری بات کے عنوان سے کچھ کہنا چاہتی ہیں؟

آخری بات کےعنوان سےمیں حکومتی افراد سے بس یہی کہنا چاہتی ہوں کو شہدا کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھیں اور فاسد کلچر اوربد حجابی اوربے اخلاقی کو اس معاشرے سے ختم کریں۔شہدا اور ہمارے جیسے لوگ جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کے خاطر اس قدر زحمتیں اورسختیاں  برداشت کی ہیں،اورنقصانات جھیلیے ہیں،اس قسم کی حالت سے راضی نہیں ہیں۔وہ لوگ اپنے پورے وصیت نامہ میں صرف دو باتوں پر تاکید کرتے تھے۔ایک یہ کہ ولایت کے تابع اورپشت پناہ بنے رہیں اوردوسرے یہ کہ ’’اے میری بہن تمہاری کالی چادرکا رنگ میرے خون سے کہیں زیادہ روشن ہے‘‘۔آپ سے تقاضہ کرتے ہیں کہ ان باتوں کو لکھ لیں تاکہ ذمہ داران کے کانوں تک یہ بات پہونچ جائے۔

 


حوالہ: سائٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 2336



http://oral-history.ir/?page=post&id=5954