ایرانیوں کی پولینڈ کے پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی خوبصورت یادیں


2015-11-07


خسرو سینائی نے "30سال پہلے " گم شدہ مرثیہ " کے عنوان سے اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے ایک  فلم بنائی اس فلم میں انہوں نے مختلف دستاویزات کو جمع کرنے میں 12سال صرف کئے ،سینائی نے  اس فلم کو بنانے میں ،دوسری جنگ عظیم کی تصاویر کو استعمال کی اور اس طرح ان افراد سے رابطہ کیا جو اس جنگ کے عینی شاہد تھے یا اس جنگ کے بارے میں اپنے عزیزوں سے سن چکے  تھے یہ فلم گم شدہ مرثیہ سن 1386 میں ریلیز ہوئی اور 13 اکتوبر 2007 کو پہلی دفعہ پولینڈ کے ہیومینٹیز یونیورسٹی میں دکھائی گئی اور سینیائی کو خوب پزیرائی ملی،اس سے ٹھیک ایک سال کے  بعد ،یعنی 21 ستمبر 2008 کو گدنیا میں پولینڈ کے فلم فیسٹیول کے آخر میں ،پولینڈ کے صدر لخ کا  کا چینسکی کی طرف سے خسروسینیائی کو ایوارڈ "صلیب لیاقت" سے نوازا گیا۔ ایران میں اتحادیوں کے آنے اورپولینڈ کے لوگوں کی جبری نقل مکانی کرانے کے بعد ہمارے ملک کی صورتحال کیسی تھی اور عوام کا رویہ ،یہودی تارکین وطن کے ساتھ کیسا تھا؟

پولینڈ کے تارکین وطن کی تعداد کے بارے میں ایران میں اکثر غلط اعداد و شمار ہی دیا گیا، بعض نے  کہا دو ہزار پانچ سو یعنی ڈھائی ہزار تارکین وطن ایران میں داخل ہوۓ، جبکہ بعض نے اس کو  36، ہزار بتایا جبکہ صحیح اعداد وشمار ان دونوں کے برعکس یعنی ایک لاکھ بیس ہزار تھا جو 1941 میلادی سے سن 1942 تک ایران میں داخل ہوئے،دوسری عالم جنگ کے ساتھ ہی 1318  شمسی (1939 میلادی ) میں پولینڈ ایک طرف سے جرمنی اور دوسری طرف سے سوویت (روس)  کے حملے کا شکار ہوگیا اور دوحصوں میں تقسیم ہوگیا زیادہ تر قیدی روس لے جائے گئے اور کیمپوں میں رکھے بہت سوں کو پھانسی دے دی گئی دو سال بعد جرمنی پر سوویت یونین کے حملے  کے بعد اسٹالین مجبور ہوگیا کہ پولینڈ کے جلاوطن باسیوں کے وسیلے سے ،اسکی حکومت کے آگے  دوستی کا ہاتھ بڑہائے اور جرمنی سے مقابلہ کرنے کیلئے پولینڈ کو اپنے ساتھ شریک کرکے،ان کے ساتھ مل کر جرمنی کے خلاف محاذ آرائی کرے،یہ معاملہ کچھ اسطرح انجام پایا کہ فوجی اہلکاروں کے علاوہ ،قیدی اور کیمپوں میں مقیم افراد بھی ایران کے راستے سے فلسطین اور افریقا ہجرت کریں گے یہ عمل ایران کی غیر جانبداری کی خلاف ورزی اور ایران میں انگریزوں اور روسی قوتوں کی طرف سے 3 شہریور 1320 کو ممکن ہوا۔

پولینڈ کی تقسیم کے بعد ،پولینڈ کا کچھ حصّہ ،اُس زمانے کے سوویت یونین میں شامل ہوگیا تھا جوکہ  سائبیریا اور کیمپوں میں جبری مشقت کررہاتھا۔ سن 1941 میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کردیا،یہ اسوقت کی بات ہے جب جرمنی نے سوویت پر  حملہ کیا تو فوج کا ایک رستہ آزاد پولینڈ کے فوجی دستے کی حیثیت سے جنرل آندرس نے بنالیااور  یہ طے پایا کہ وہ پولینڈ کی عوام جو مشرق سے سائبیریا منتقل ہوئی تھی ان کو سوویت سے جو کہ ابھی جنگ کی حالت میں دریائے خزر کے شمال سے انزالی بندرگاہ لے کر آیا جائے گا۔ جب پولینڈ کے یہ لوگ،انژالی بندرگاہ ایران میں داخل ہوئے تو نہ صرف اقتصادی طور پر جسمانی طور پر بہت سی مشکلات اپنے ساتھ لائے اور ٹائفائڈ ،ٹیوبر کلوسس اور ٹائفس جیسی بیماریاں ان  مہاجرین میں پھوٹ پڑیں ،ان کے علاج کیلئے ڈاکٹروں کی ٹیم کو بندرگاہ روانہ کیا گیا۔


اکثر مہاجرین کے کپڑے جوؤں سے بھرے ہوئے تھے

زیادہ تر مہاجرین کے کپڑے جوؤں سے بھرے ہوئے تھے ایرانیوں نے ان کے دوسرے کپڑے دیئے  اور ان کے کپڑوں کو جلادیا اور پھر ان کو تہران منتقل کردیا اسکے علاوہ پانچ کیمپ بھی ،دولاب ،یوسف آباد،قلعہ مرغی اور تہران میں بنائے گئے،آنے والے مہاجرین ان کیمپوں میں گزر بسر کرنے لگے وہ مرد اور خواتین جو جنگ میں شرکت کے خواہش مند تھے اور صحت مند تھے انہیں محاذ پربھیج دیا گیا.


یتیم بچوں کو اصفہان کے دارلامان بھیج دیا گیا

یتیم بچوں کو اصفہان میں بنے ہوئے دارالامان میں بھیج دیا گیا اور 1945 تک ان بچوں کو بمبئی کے  راستے ،زلاندنو بھیج دیا گیا کہ جب سن 1357 میلادی میں پولینڈ گیا تو وہاں زلاندنو میں ان دنوں، وہاں کی عوام اپنی واپسی کے دن کی سالگرہ پر جشن منارہے تھے اور یہ جشن باعث بنا کہ تاریخی فلم " گم شدہ لوگوں کا مرثیہ " بنی جوکہ پولینڈکے ان لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ فلم جمہوری ریاست پولینڈ کی طرف سے "شوالیہ میڈل " اور " باعث فخر آرٹسٹ " کے  میڈل کی حقدار پائی اور یہ دونوں ایوارڈ خسروسینائی کے حصّے میں آئے۔ ان ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں میں سے صرف تقریباً 200 لوگ ہی ایران میں بچے تھے جنہوں نے ( اسوقت شادیاں کرلیں تھیں )مگر ان میں سے بھی اب کافی لوگ مرچکے ہیں مجھے صرف دو لوگ ایسے ملے جو ابھی بھی زندہ ہیں۔ بہرحال ان سالوں میں ایران بھی اس جنگ کے اثرات میں گھرا ہواتھا،کتاب " آبادان میں سفید دم " لکھی گئی جسمیں ان اثرات کا بخوبی احاطہ کیاگیا ہے،ایرانیوں نے ان مہاجرین کو قبول کیااور ان کو عزت دی اور اسکا احساس مجھے اسوقت ہوا جب میں خود زلاندنو گیا وہاں کے لوگوں نے مجھے ایک ایرانی کی حیثیت سے بہت زیادہ عزت دی اور محبت سے پیش آئے، پولینڈ میں بحثیت ایرانی میری مہمان نوازی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ ایرانیوں کیلئے اپنے دل میں محبت رکھتے تھے اور یہ ایرانیوں کی مہمان نوازی کا نتیجہ تھا۔

کیا ایرانیوں کی مہمان نوازی کی وجہ یہ تھی کہ پولینڈ کے لوگ بھی ان کی طرح دوسری جنگ عظیم میں مظلوم تھے ؟اور ان دونوں نے کبھی قابض فوجوں کو قبول نہیں کیا تھا بلکہ ان کے ٹرکوں اور  گاڑیوں پر پتھراؤ کیا تھا؟

سب سے پہلے میں یہ بتادوں کہ پتھراؤ کرنے کے وہ سین جو میں اپنی فلم میں دکھائے ہیں وہ سلوک ایرانیوں کا صرف فوجیوں کے ساتھ ہی تھا نہ کہ مہاجرین کے ساتھ اورجب میری گفتگو پولینڈ کے ایک مہاجر سے ہوئی تواس نے بتایا کہ جب ہم قزوین سے تہران ٹرکوں میں بھر کر لائے جارہے تھے تو ٹرکوں پر اچانک وہاں کے لوگوں نے کچھ باندھ باندھ کر پھینکنا شروع کردیا،   پہلے توہم یہ سمجھے یہ ایرانی ہمیں ماررہے ہیں اور ہمارے یہاں آنے سے خوش نہیں ہیں بعد میں دیکھا تووہ کپڑے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تھے جن میں مٹھائی اور کھانے کی چیزیں تھیں ۔ میں چالیس سال سے اس موضوع پر کام کررہا ہوں مگر افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کے بعض فلمیں اور باتیں جو میڈیا سے ،ایران اور پولینڈ کے مہاجرین کے آپس کے تعلقات اور سلوک کیلئے بنائی گئی اور بیان کی گئی ہیں بالکل غلط ہیں اور یہ پروپیگنڈہ ہے۔ ابھی بھی اہواز شہر میں ایک علاقہ ہے جسکا نام ہی " کمپلوت " ہے جو کہ پہلے کمپلوس تھا یعنی پولینڈ کے مہاجرین کا کیمپ اور اسی طرح پولینڈ کی کرسی اور میزیں جو پہلے بھی ایران میں مشہور تھیں آج بھی اسی طرح گھروں کی زینت ہیں اس زمانے میں کچھ پولینڈ کے مہاجرین اپنی  اقتصادی حالت کی وجہ سے ایرانیوں کے گھروں میں کام کیا کرتے تھے اور بعض تہران میں کنسرٹ اور موسیقی کی محافلیں سجایا کرتے تھے تھے اور کچھ صنعت سے وابستہ ہوگئے اور  مخصوص لیمپ وغیرہ بنایا کرتے تھے۔


پولینڈ کے مہاجرین کی ایران میں موجودگی ایک تاریخی واقعہ ہے

ایران میں پولینڈ کے مہاجرین کی موجودگی اور آمد ،پولینڈ کی عوام کیلئے بھی ایک تاریخی واقعے کی حیثیت رکھتی ہے میں ایک سال ماہ بہمن میں پولینڈ کی دعوت پر اپنی فلم کی وجہ سے وہاں پہنچا،جسوقت وہ فلم ریلیز ہوئی میں وہاں موجود تھا کہ دو جوان جنکی عمر 17 سے 18 سال تھی  میرے پاس آئے اور میرا بہت بہت شکریہ ادا کرنے لگے کہ آپ نے اس فلم کے توسط سے ہمیں  پولینڈ کی اس تاریخ آشنا کردیا جو ہم جیسے جوانوں سے بالکل پوشیدہ تھی مگر آج کے بعد یہ تاریخ  ہمیں بھی نہیں بھولے گی البتہ میں نے ایک فلم اورلکھی ہے امید ہے کہ جلد وہ بھی بن جائے گی، ایک دلچسپ واقعہ جومہاجرین نے مجھے سنایا تھا کہ پولینڈ کے بچوں کو مختلف لوگوں نے اپنے  گھروں میں پناہ دی تھی انہی میں ایک نام صارم الدولہ جو کہ ضل سلطان کا بیٹا تھا اسکا بھی شامل تھا جب صارم کے بیٹے کی شادی ہونا طے پائی تو لوگوں نے ان بچوں کیلئے جو کہ خود شادی کیلئے نئے لباس نہیں خرید سکتے تھے،نئے کپڑے خریدے اور بنائے تاکہ وہ سب بچے نئے لباس  میں شادی میں شریک ہوسکیں۔ میں اسوقت پولینڈ میں ہی تھا جب ایک خاتون ڈاکٹر میرے پاس آئیں جو کہ فارسی زبان اور ادبیات میں  پی ایچ ڈی کر چکیں تھیں انہوں نے ایک مقالے کو ترجمہ کرکے مجھے سنایا جسمیں لکھا تھا کہ اسکول کی ٹیچر نے سب بچوں کو بتایاکہ وہ انہیں شادی میں سلطاب کے حرم لے جانا چاہتی ہیں توایک لڑکی نے شرارت میں سب بچیوں سے کہ دیا کہ وہ سب بچیوں (لڑکیوں)کو حرم میں ہی چھوڑ  آئیں گی اس بات کے پھیلتے ہی سب بچیوں نے رونا شروع کردیا اور سب کہنے لگیں کہ وہ اس شادی  میں جانا ہی نہیں چاہتیں ،بعد میں جب ہماری ٹیچر کو ہمارا سارا معاملہ معلوم چلا تو انہوں نے بہت پیار سے سب کو سمجھایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے ہم شادی میں شرکت کیلئے جارہے ہیں جہاں آپ سب کو بہت مزہ آنے والا ہے۔

ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ فلم پولینڈ کی گم شدہ تاریخ کی عکاسی کرتی ہے،توکیا کمیونسٹ حکومت  اس تاریخ کی حقیقت کوبیان کرنے میں رکاوٹ ڈالتی رہی ہے ؟

یہ مکمل طور پر واضح ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پولینڈ مشرقی حصّے چلا گیا ہے اور اسی  وجہ سے کمیونسٹ حکومت نے پولینڈ کی اس تاریخ اور مہاجرین کے موضوع کو بالکل اہمیت نہیں  دی ہے اور نظر انداز کردیا ہے اور اسکو واضح نہیں ہونے دیا ہے اور قابل بیان نکتہ یہ ہے کہ جنگ کے زمانے میں ایسا طے نہیں کیاگیا تھا کہ ایساکچھ ہوگا جبکہ وہاں کی آزاد فوج ان کوششوں میں تھی کہ پولینڈ مشرق کا حصّہ نہ بننے پائے اور فوج کی اسی کوششوں کے دوران ہی ان کے کمانڈر کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا کہ کہاجاتا فنی خرابی کیوجہ سے ایسا ہوا ،مگر میری نظر میں یہ ایک مشکوک واقعہ ہے۔

رحمت رمضانی


حوالہ: سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 1832



http://oral-history.ir/?page=post&id=5875