تنہائی والے سال – دسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد دریچہ کھلا اور ایک ناشپاتی اور ایک جلی ہوئی سگریٹ میرے ہاتھ میں تھما دی۔ یعنی مجھے سمجھ لینا چاہئیے تھا کہ ماچس بالکل ممنوع ہے۔

سن 1974ء سے مربوط آیت اللہ غلام علی نعیم آبادی کے واقعات

زندان میں میری کوٹھڑی ایسی تھی!

آیت اللہ غلام علی نعیم آبادی سن 1944 ء میں دامغان کے نعیم آباد علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ پہلوی حکومت کے دوران شہنشاہی حکومت کی مخالفت کے جرم میں کئی بار گرفتار ہوئے اور بالآخر مشترکہ کمیٹی کے جیل میں آٹھ مہینے اور زندان قصر میں 30 مہینے قید اور کوڑوں کا مزہ چکھا

فصل کی خبریں؛ خزاں 2017ء

زبانی تاریخ؛ مجازی ورکشاپ سے لیکر تمام موضوعات میں کردار ادا کرنا

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، "فصل کی خبریں" (سیشن نیوز) اس سائٹ پر ایک سلسلے کی رپورٹ پیش کرنا کا عنوان ہے۔ اس رپورٹ میں مکتوب اور مجازی ذرائع ابلاغ میں سائٹ کے موضوع سے متعلق خبروں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جس میں آپ خزاں 2017ء کی خبروں کو پڑھیں گے۔

"دلدادہ" نامی کتاب کے بارے میں زہرا سبزہ علی سے گفتگو

یادوں کا قلمبند کرنا، معاشرتی تاثیر کیلئے

شہید علی رضا ماہینی کی ایک چھوٹی سی تصویر دیکھنا زہرا سبزہ علی (شاہ بابائی) کیلئے ایک چنگاری ثابت ہوا کہ وہ اس بوشہری شہید جو غیر منظم جنگوں کے گروپ کمانڈر تھے، کی یادوں کو جمع کریں

زبانی تاریخ کی تالیف کے بارے میں

سوالوں کے ساتھ یا بغیر سوالوں کے، یہ نکات ضروری ہیں

یاد داشتوں کی تالیف اور متن کی حتمی ترتیب،بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور زبانی تاریخ کے محقق کو چاہئیے اس کام کی ظرافت پر توجہ رکھے اور اُسے ذمہ داری کے ساتھ انجام دے۔ موضوع کو واضح کرنے کیلئے مندرجہ ذیل نکات ذکر کئے جا رہے ہیں

ہفتہ تحقیق کی مناسبت سے نشست

واقعات کی تحقیق اور یادوں کو قلمبند کرنا

ہم نے اپنے معاشرے اور ثقافت اور حتی دوسرے معاشروں میں ان واقعات لکھنے کی تاثیر کے بارے میں بحث نہیں کی ہے/ ہفتہ تحقیق اور ہنر انقلاب اسلامی کی مناسبت سے ایک خصوصی تحقیقاتی نشست

"مؤرخین اور میدان جنگ میں موجود راویان" کے مجموعہ کی چوتھی کتاب

پڑھائی بھی، محاذ بھی، نقل داستان بھی

اس 912 صفحات پر مشتمل کتاب کی چھ فصلیں ہیں اور ہر فصل اُس انٹرویو دینے والے سے مخصوص ہے جس نے اُس فصل کے موضوع کی مناسبت سے اپنے مشاہدات کو بیان کیا ہے

بڑے پیمانے پر کئے جانے والے پہلے آپریشن کے بارے میں بریگیڈ کمانڈر علی صدیق زادہ کی یادوں کے ساتھ

تیسرا حربہ اور وقت پر اصلی غفلت

25 دسمبر 1981ء کو یونٹوں نے اپنی آمادگی کا اعلان کیا۔ 25 دسمبر کی شام کو آپریشن کا پلان بریگیڈ کے یونٹوں تک پہنچا جنہوں نے پلان کو شروع کرنا تھا۔ یعنی پلان، شروع ہونے کیلئے حکم میں تبدیل ہوگیا۔ ڈویژن کی کمانڈ کی طرف سے مہر بستہ لفافے بریگیڈ کیلئے بھیجے گئے۔ بریگیڈ کے کمانڈرز بہت مطمئن تھے، کیونکہ یونٹوں کو اچھی طرح تیار کیا ہوا تھا۔

انصار بٹالین کے سپاہیوں کی سالانہ نشست میں یادوں کا بیان

جنگ کے مصنف کی روایت کے مطابق محاذ کی مزاحیہ باتیں

پرانے سپاہیوں میں سے دو افراد، امیر ہوشنگ فتوحی اور محمد خوش طینت ہمارے ساتھ تھے۔ امیر ہوشنگ کو امیر گاندھی کہا جاتا تھا۔ وہ دبلے پتلے اور لمبے بھی تھے اور وہ اپنی پیشانی پر ایک تل بھی لگا لیتے۔ ایک رات ہم گئے تو ہم نے دیکھا کہ امیر ہوشنگ، سید مہدی کے ساتھ رات کو ہونے والے اس مسئلے پر بحث کر رہے ہیں

ماشاء اللہ آخوندی، مرتضی سرہنگی اور مسعود دہ نمکی کی یادیں

چیتوں کا مورچہ اور ہمیشہ نظر آنے والے استثنائات

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا ۲۸6 واں پروگرام، ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی اور مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،23 نومبر ۲۰۱۷ء کو آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔