سید یحیی صفوی کی داستان

سنندج سے خرم شہر تک

دفاع مقدس کی زبانی تاریخ

یہ کتاب دفاع مقدس کے دوران سید یحیی(رحیم) صفوی کے واقعات کی بیان گر ہے۔ یہ کتاب ۲۸نشستوں میں سردار یحیی صفوی کے ساتھ ہونی والی گفتگو کا حاصل ہے جس میں ان کی ابتدائی زندگی سے لے کر بیت المقدس آپریشن اور خرم شہر کی آزادی تک کے حالات کو قلم بند کیا گیا ہے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ستائیسویں قسط

جب ایرانی فورسز نے مٹی کے بندوں پر قبضہ کیا تو ٹینک، آر پی جی کے گولوں کا ٹارگٹ بننے کے ڈر سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایرانی چاہتے تھے کے ٹی این ٹی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کے بند کو مختلف جگہوں سے اڑا دیں، لیکن ٹینکوں کی فائرنگ کے ساتھ ہماری فورسز کے حملے نے پریشانی میں مبتلا ایرانی فورسز کو مہلت نہ دی

یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام – پہلا حصہ

اُس نے اپنی جان انقلاب، اسلام اور ایرانی عوام پر نثار کردی

حاج قاسم نے اپنے وصیت نامہ میں لکھا: "خداوند! میرا تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے اپنے صالح بندہ عزیز از جان خمینی کے بعد، اپنے ایک اور صالح بندہ کی راہ پر گامزن رکھا کہ جس کی مظلومیت بہت زیادہ ہے، ایسا انسان جو آج اسلام، تشیع، ایران اور اسلام کی سیاسی دنیا کا حکیم و دانا ہے، ہر دل عزیز خامنہ ای، کہ میری جان اُن پر قربان ہوجائے۔ میرے محترم ایرانی بہن بھائیوں! میری اور مجھ جیسی ہزاروں جانیں آپ پر قربان ہوجائیں؛ جیسا کہ آپ نے اسلام اور ایران پر سینکڑوں جانیں نچھاور کیں۔

سالہائے جنگ کی روٹیاں

" سالہائے جنگ کی روٹیاں" یہ کتاب دفاع مقدس کے زمانے میں سبزوار کے ایک گاوں صدخرو کی خواتین کے کردار پر ایک نظر ہے۔ یہ کتاب " محمد اصغرزادہ" کی جانب سے ۲۴ گھنٹے کے انٹرویو کا حاصل ہے جو انہوں نے صدخَرو کی خواتین سے کیے اور "محمود شم آبادی" نے اس کو قلمبند کیا ہے۔ صدخرو گاوں کی خواتین کی جانب سے جنگ کی حمایت اور ان کے کردار سے متعلق داستان ۱۶ فصلوں اور ۱۲۶ عنوانات پر بیان کی گئی ہے۔ کتاب کی آخری دوفصلیں ان دلیر خواتین اور اس گاؤں کی شہداء کی تصویروں پر مشتمل ہے۔

ریڈیو کی وہ داستان جو آبادان کی استقامت کی آواز بنا

صابری نے اس کتاب میں دفاع مقدس کے ابتدائی سالوں میں اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ اس کام کے لیے انھوں نے اور عبداللہ نعیم زادہ نے ۱۰۰ سے زائد انٹرویو کیے ہیں

حادثہ فیضیہ کی یاد میں ہونے والی مجلس

۲۵ شوال والے دن، شہداء مدرسہ فیضیہ کی یاد منانے والا چوتھا سال تھا۔ جیسا کہ میں خود اُس دن کا مشاہدہ کرچکا تھا میرا دل ٹوٹا ہوا تھا۔ اُس سے پہلے تین سالوں میں شہداء کی یاد میں مجالس منعقد ہوئی تھیں؛ لیکن چوتھے سال شام چار بجے تک اس کام کی اجازت نہیں دی گئی اور ساواک اور پولیس کے افراد، مدرسہ کو مکمل طور پر کنٹرول کر رہے تھے۔ لیکن اس کے بعد، چوتھی مجلس کا پروگرام بہت ہی شاندار انداز میں منعقد ہوا۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھبیسویں قسط

اس منحوس رات میں ایک پیرامیڈکس نے مجھے دو پین کلر انجکشن لگائے۔ اگلے دن صبح میں نڈھال بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر "یعقوب" یونٹ کمانڈر کے پاس گئے اور اسے میری حالت سے آگاہ کیا۔ انھون نے مشورہ دیا کہ مجھے علاج اور آرام کے لئے ہسپتال بھیجا جائے۔ لیکن اس نے منع کردیا اور کہا: "اسے یہیں رہنے دو اور اس کا علاج ہونا چاہیے۔ آخرکار وہ ایک ڈاکٹر ہے!"

یادوں بھری رات کا ۳۰۹ واں پروگرام – تیسرا حصہ

کربلائے چار آپریشن کا راز فاش ہونے میں منافقین کا اہم کردار

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۶ دسمبر ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں عبد الرحیم فرخ سہراب، سید یحیی رحیم صفوی اور فتح اللہ جعفری نے اپنی تقاریر میں اپنی اسیری کے زمانے، فاو اور کربلائے ۵ آپریشن کے بارے میں بیان کیا۔

ایران کے عام لوگوں کے ذہن میں شاہ کی تصویر

ایک دن صبح کے وقت بی بی جان ہانپتے ہوئے بالائی منزل سے سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئیں اور اُونو صاحب سے اپنے خواب کو بیان کرنے لگیں جو انہوں نے صبح کے نزدیک دیکھا تھا۔ اس خواب میں بی بی جان نے "اعلی حضرت شہنشاہ" سے ملاقات کی اور ان سے مکالمے کا شرف حاصل کیا۔

یادوں بھری رات کا ۳۰۹ واں پروگرام – دوسرا حصہ

کربلائے پانچ آپریشن عراقیوں کے لئے غیر قابل تصور تھا

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۶ دسمبر ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں عبد الرحیم فرخ سہراب، سید یحیی رحیم صفوی اور فتح اللہ جعفری نے اپنی تقاریر میں اپنی اسیری کے زمانے، فاو اور کربلائے ۵ آپریشن کے بارے میں بیان کیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بارہواں حصہ

ہندوستان دہلی میں گذارے ہوئے آٹھ سال

فہیمہ میری گود میں تھی اور مہدی کھڑکی سے باہر تک رہا تھا۔ دہلی کے ہوائی اڈے سے خانہ فرہنگ تک میں نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ گرم لو میرے چہرے کو جھلسا رہی تھی۔ فہیمہ کے بال پسینہ میں بھیگے اس کے سر سے چپکے پڑے تھے۔ اس شہر کی ہر چیز مہدی کے لئے ایک سوال تھی۔ اس ٹرافک سے جو ایک گائے کے سڑک عبور کرنے کے انتظار میں رکی ہوئی تھی سے لے کرلوگوں کی وضع قطع اور لباس تک ہر چیز۔ میں سر گاڑی کی سیٹ سے لگائے تھی سفید گلابی پھول جگہ جگہ تھےجو مجھے علی کی امی کے شمع دانوں کی یاد دلا

یادوں بھری رات کا۳۰۹ واں پروگرام – پہلا حصہ

موصل چھاؤنی کے واقعات

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۶ دسمبر ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں عبد الرحیم فرخ سہراب، سید یحیی رحیم صفوی اور فتح اللہ جعفری نے اپنی تقاریر میں اپنی اسیری کے زمانے، فاو اور کربلائے ۵ آپریشن کے بارے میں بیان کیا۔
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھبیسویں قسط

اس منحوس رات میں ایک پیرامیڈکس نے مجھے دو پین کلر انجکشن لگائے۔ اگلے دن صبح میں نڈھال بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر "یعقوب" یونٹ کمانڈر کے پاس گئے اور اسے میری حالت سے آگاہ کیا۔ انھون نے مشورہ دیا کہ مجھے علاج اور آرام کے لئے ہسپتال بھیجا جائے۔ لیکن اس نے منع کردیا اور کہا: "اسے یہیں رہنے دو اور اس کا علاج ہونا چاہیے۔ آخرکار وہ ایک ڈاکٹر ہے!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔